چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور”سچائی کا کوریڈور”منفی پروپیگنڈے کا مؤثر توڑ

(اصغر علی مبارک )
پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت جہاں سڑکیں اور بندرگاہیں پاکستان کے مادی ڈھانچے کو بدل رہی ہیں، وہاں انفارمیشن کوریڈور محض ڈیٹا کی منتقلی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک “سچائی کا کوریڈور” بن چکا ہے جو عالمی سطح پر اس عظیم منصوبے کے خلاف کیے جانے والے منفی پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دے رہا ہے۔ حالیہ سٹریٹجک پیش رفت کے مطابق، یہ معلوماتی اور ڈیجیٹل نیٹ ورک سچائی پر مبنی معلومات کو فروغ دینے کا سب سے مضبوط ستون ہے۔
سی پیک فیز-2 کے خلاف بین الاقوامی میڈیا میں پھیلائی جانے والی جعلی خبروں اور “قرضوں کے جال” جیسے من گھڑت نظریات کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں ممالک نے مشترکہ حکمت عملی اپنائی ہے۔ انفارمیشن کوریڈور کے ذریعے سی پیک کے تحت مکمل ہونے والے توانائی، بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے منصوبوں کے درست اعداد و شمار اور سچی کہانیاں براہ راست عوام اور عالمی برادری کے سامنے لائی جا رہی ہیں ,
چین پاکستان انفارمیشن کوریڈوردونوں ممالک کےعوام کے دل،دماغ جوڑنے کا پل بنے گا، سی پیک پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی،انفارمیشن کوریڈور سچائی کاکوریڈور ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے پر چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا باضابطہ آغاز کر دیا گیاہے, چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ذرائع ابلاغ کے تعاون کو فروغ دینا، معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانا اور غلط خبروں و گمراہ کن معلومات کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور, پاکستان اور چین کے عوام کے درمیان رابطے کا پل ثابت اور میڈیا، معلومات کے تبادلے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے میں مدد دے گا۔ پاک چین دوستی ہر آزمائش میں مضبوط بن کر ابھری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان آہنی بھائی چارہ دوستی کی ایک منفرد مثال ہے اس دوستی کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمزکے ذریعے مزید مضبوط بنانا ہے، سی پیک نے توانائی منصوبوں کے ذریعے ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں۔ پاک چین سفارتی تعلقات کے75سال مکمل ہونادوستی کےتاریخی سفرکااہم سنگ میل ہے، پاک چین دوستی ہرآزمائش میں مزید مضبوط ہو کرابھری ہے، پاک چین دوستی آہنی بھائی چارےکی منفردمثال ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ اور دیگر اعلیٰ حکام نے تقریب میں شرکت کی , چینی سفیر جیانگ زیڈونگ نے چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کے آغاز پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے اور ایک دوسرے کی ثقافت و روایات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے خلاف گمراہ کن معلومات کا مقابلہ کرنے اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔خنجراب سے اسلام آباد اور آگے گوادر و کراچی تک بچھائی جانے والی کراس بارڈر آپٹک فائبر کیبل اس کوریڈور کی شہ رگ ہے۔ یہ نیٹ ورک پاکستان کو محفوظ اور تیز ترین انٹرنیٹ ڈیٹا روٹ فراہم کرتا ہے۔ یہ معلوماتی شاہراہ پاکستان میں آئی ٹی کی صنعت، ای-کامرس، 5G ٹیکنالوجی کی آمد، اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے فروغ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاک چین میڈیا کونسورشیم اور دونوں ممالک کے مابین خبروں کے تبادلے کے معاہدوں کی بدولت، سی پیک کی معاشی کامیابیوں کو سچی صحافت کے اصولوں کے تحت اجاگر کیا جا رہا ہے۔
انفارمیشن کوریڈور کے تحت پاکستانی میڈیا ورکرز، آئی ٹی پروفیشنلز اور نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سمارٹ جرنلزم کی چینی مہارتوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت حال ہی میں فعال کیے جانے والے چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور کے پس منظر میں دونوں ممالک کے میڈیا ہاؤسز اور صحافتی وفود کے مابین انتہائی سٹریٹجک نوعیت کے فیصلے سامنے آئے ہیں جن کا بنیادی محرک سی پیک فیز ٹو اور پاک چین معاشی شراکت داری کے خلاف بین الاقوامی سطح پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں اور منفی پروپیگنڈے کا مؤثر اور سائنسی انداز میں توڑ کرنا ہے۔ جہاں سی پیک کے پہلے فیز نے سڑکوں اور مادی بنیادی ڈھانچے کے ذریعے دونوں ممالک کو جوڑا، وہیں حالیہ صحافتی فیصلوں کا محور انفارمیشن کوریڈور کو ایک سچائی کا کوریڈور بنانا ہے تاکہ عوامی اور فکری سطح پر روابط کو مضبوط کیا جا سکے۔
ان فیصلوں کے تحت پاکستان اور چین کے اٹھارہ بڑے میڈیا ہاؤسز، جن میں سرکاری براڈکاسٹرز، نجی ٹی وی چینلز اور چین کے معروف ادارے سنہوا، سی ایم جی اور پیپلز ڈیلی ، پر مشتمل ایک مشترکہ نیوز ایکسچینج ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے تاکہ باقاعدگی سے تصدیق شدہ خبروں اور حقائق کا تبادلہ کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی افواہوں اور من گھڑت بیانیوں کا فوری سراغ لگانے کے لیے ایک جدید فیکٹ چیکنگ میکانزم بھی وضع کیا گیا ہے، جبکہ معلومات کے فوری اور وسیع تبادلے کے لیے اس انفارمیشن کوریڈور کا پہلا علاقائی دفتر کراچی میں قائم کر دیا گیا ہے۔
میڈیا وفود نے معاشی امور کے ساتھ ساتھ عوامی اور ثقافتی رابطوں کو جدید ترین میڈیا ٹولز کے ذریعے فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کے تحت ایک خصوصی پوڈ کاسٹ سیریز کا آغاز کیا جا رہا ہے جس میں دونوں ممالک میں مقیم تاجروں اور عام شہریوں کی حقیقی کامیابیوں کی کہانیاں دنیا کے سامنے لائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کی سربراہی میں تھنک ٹینکس کے مابین مشترکہ ریسرچ اور مکالمے کو بڑھایا جا رہا ہے جبکہ سنکیانگ اور گلگت بلتستان کے مابین ٹورازم کوریڈور کو میڈیا کے ذریعے بھرپور انداز میں اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ چینی سیاحوں کو پاکستان کی طرف راغب کیا جا سکے۔ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد ایک ایسی معلوماتی شاہراہ کی تعمیر ہے جو محض ڈیٹا شیئرنگ تک محدود نہ ہو بلکہ سچی اور تعمیری صحافت کے ذریعے دونوں ممالک کے باہمی اعتماد کو مزید جلا بخشے۔مستقبل کے پروگراموں کے تحت دونوں ممالک کے نوجوان اور سینئر صحافیوں کے لیے باقاعدہ فیلڈ دوروں اور ایکسچینج پروگرامز کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس میں پاکستانی صحافتی وفود چین کے بڑے صنعتی زونز، زرعی فارمز اور ہائی ٹیک سمارٹ شہروں کا دورہ کر کے سی پیک کے دوسرے فیز کے ماڈل کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور اس پر سچی رپورٹنگ کریں گے۔ اسی طرح چینی میڈیا پروفیشنلز بھی پاکستان کے مختلف اقتصادی زونز اور بالخصوص گوادر کا دورہ کریں گے تاکہ وہ یہاں کی حقیقی معاشی ترقی کو چینی عوام کے سامنے پیش کر سکیں۔ تکنیکی مہارتوں کو بڑھانے کے لیے جدید ترین میڈیا ٹریننگ ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا جن کا بنیادی فوکس فیکٹ چیکنگ ٹولز، ڈیٹا جرنلزم، اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے صحافت میں تعمیری استعمال پر ہوگا، تاکہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی من گھڑت خبروں کی سائنسی بنیادوں پر فوری نشاندہی اور سدِباب کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، ڈیجیٹل میڈیا اور پوڈ کاسٹنگ کے شعبے میں نوجوان صحافیوں کو تربیت دینے کے لیے بیجنگ اور اسلام آباد کی بڑی میڈیا یونیورسٹیوں کے مابین تعلیمی شراکت داری قائم کی جا رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے میڈیا سٹوڈنٹس کے لیے شارٹ کورسز اور فیلو شپس متعارف کروائی جائیں گی۔ اس معلوماتی اور تربیتی کوریڈور کا طویل مدتی ہدف ایک ایسے ہنر مند صحافتی نیٹ ورک کو تیار کرنا ہے جو روایتی رپورٹنگ سے ہٹ کر سمارٹ میڈیا ٹولز کے ذریعے پاک چین اقتصادی اور ثقافتی حقائق کو دنیا بھر میں پوری شفافیت کے ساتھ اجاگر کر سکے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت حال ہی میں فعال کیے جانے والے چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور کے پس منظر میں دونوں ممالک کے میڈیا ہاؤسز اور صحافتی وفود کے مابین انتہائی سٹریٹجک نوعیت کے فیصلے سامنے آئے ہیں جن کا بنیادی محرک سی پیک فیز ٹو اور پاک چین معاشی شراکت داری کے خلاف بین الاقوامی سطح پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں اور منفی پروپیگنڈے کا مؤثر اور سائنسی انداز میں توڑ کرنا ہے۔ جہاں سی پیک کے پہلے فیز نے سڑکوں اور مادی بنیادی ڈھانچے کے ذریعے دونوں ممالک کو جوڑا، وہیں حالیہ صحافتی فیصلوں کا محور انفارمیشن کوریڈور کو ایک سچائی کا کوریڈور بنانا ہے تاکہ عوامی اور فکری سطح پر روابط کو مضبوط کیا جا سکے۔
ان فیصلوں کے تحت پاکستان اور چین کے اٹھارہ بڑے میڈیا ہاؤسز، جن میں سرکاری براڈکاسٹرز، نجی ٹی وی چینلز اور چین کے معروف ادارے سنہوا، سی ایم جی اور پیپلز ڈیلی شامل ہیں، پر مشتمل ایک مشترکہ نیوز ایکسچینج ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے تاکہ باقاعدگی سے تصدیق شدہ خبروں اور حقائق کا تبادلہ کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی افواہوں اور من گھڑت بیانیوں کا فوری سراغ لگانے کے لیے ایک جدید فیکٹ چیکنگ میکانزم بھی وضع کیا گیا ہے، جبکہ معلومات کے فوری اور وسیع تبادلے کے لیے اس انفارمیشن کوریڈور کا پہلا علاقائی دفتر کراچی میں قائم کر دیا گیا ہے۔
میڈیا وفود نے معاشی امور کے ساتھ ساتھ عوامی اور ثقافتی رابطوں کو جدید ترین میڈیا ٹولز کے ذریعے فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کے تحت ایک خصوصی پوڈ کاسٹ سیریز کا آغاز کیا جا رہا ہے جس میں دونوں ممالک میں مقیم تاجروں اور عام شہریوں کی حقیقی کامیابیوں کی کہانیاں دنیا کے سامنے لائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کی سربراہی میں تھنک ٹینکس کے مابین مشترکہ ریسرچ اور مکالمے کو بڑھایا جا رہا ہے جبکہ سنکیانگ اور گلگت بلتستان کے مابین ٹورازم کوریڈور کو میڈیا کے ذریعے بھرپور انداز میں اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ چینی سیاحوں کو پاکستان کی طرف راغب کیا جا سکے۔ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد ایک ایسی معلوماتی شاہراہ کی تعمیر ہے جو محض ڈیٹا شیئرنگ تک محدود نہ ہو بلکہ سچی اور تعمیری صحافت کے ذریعے دونوں ممالک کے باہمی اعتماد کو مزید جلا بخشےحالیہ سفارتی اور معاشی پیش رفت کے مطابق، سی پیک کا فیز-2 اب صنعت کاری، زراعت، اور آئی ٹی پر مرکوز ہو چکا ہے۔ سی پیک کے معاشی اثرات اور حالیہ پیش رفت کا جامع جائزہ درج ذیل ہے:
….; انفارمیشن کوریڈور اور ڈیجیٹل ہائی وے;..
- سچائی کا کوریڈور: سی پیک کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کیے جانے والے منفی پروپیگنڈے اور جعلی خبروں کو ناکام بنانے کے لیے پاک چین میڈیا اور انفارمیشن کوریڈور فعال کیا گیا ہے، تاکہ اس منصوبے کے حقیقی معاشی فوائد کو شفافیت کے ساتھ دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔
- کراس بارڈر آپٹک فائبر; چین اور پاکستان کے درمیان آپٹک فائبر نیٹ ورک کی توسیع کی جا رہی ہے، جو پاکستان میں 5G ٹیکنالوجی کی بنیاد فراہم کرنے اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
…; معاشی اور صنعتی زونز (SEZs);..
کراچی اور دھابیجی اکنامک زون: کراچی کے قریب دھابیجی اسپیشل اکنامک زون سی پیک فیز-2 کا سب سے بڑا صنعتی مرکز بن کر ابھرا ہے، جہاں مینوفیکچرنگ اور برآمدی صنعتوں کو خصوصی مراعات دی جا رہی ہیں۔
صنعتی منتقلی: چین سے ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، اور الیکٹرانکس کی صنعتوں کو پاکستان منتقل کرنے کے عمل میں تیزی آئی ہے، جس سے مقامی مینوفیکچرنگ اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
…; معاشی اشاریے اور ایس آئی ایف سی ;..
- تجارتی حجم میں ریکارڈ اضافہ: چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا بنیادی منبع برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حکومت کے مالیاتی ڈسپلن اور ترسیلاتِ زر کی بدولت پاکستان کے غیر ملکی ذخائر میں بھی استحکام دیکھا گیا ہے۔
…; SIFC کی سہولت کاری: اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) نے سی پیک کے تحت زرعی ٹیکنالوجی، معدنیات (جیسے ریکوڈک سے منسلک انفراسٹرکچر)، اور گوادر پورٹ کے فری زون میں سرمایہ کاری کے عمل کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے تیز ترین بنا دیا ہے۔
سی پیک ; انفارمیشن کوریڈور سچائی کاکوریڈور ;,,
سی پیک پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی،انفارمیشن کوریڈور سچائی کاکوریڈور ہے,معاشی استحکام کو پائیدار ترقی اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنا پاکستان کا سب سے بڑا موجودہ ہدف ہے، جس کے لیے حکومت کلی معیشت کے حاصل شدہ استحکام کو نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے جوڑ رہی ہے۔ معاشی ماہرین اور حکومتی حکام کے مطابق، افراطِ زر (مہنگائی) میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری جیسے اقدامات صرف بنیادی گنجائش فراہم کرتے ہیں، لیکن جب تک ان اعداد و شمار کو نئی صنعتوں کے قیام اور روزگار کی فراہمی میں نہیں بدلا جاتا، عام آدمی تک اس کے ثمرات نہیں پہنچ سکتے۔
اس مقصد کو حاصل کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے درج ذیل کلیدی حکمتِ عملیوں پر کام کیا جا رہا ہے:
ملکی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے “اُڑان پاکستان” پروگرام کے تحت زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT)، اور مائنز و منرلز جیسے شعبوں میں نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا رہا ہے، کیونکہ سرکاری شعبے کے بجائے نجی شعبہ ہی روزگار کے پائیدار مواقع فراہم کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ آئی ٹی کے شعبے میں “ای پاکستان” (E-Pakistan) فریم ورک کے ذریعے لاکھوں نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں اور فری لانسنگ کی تربیت دی جا رہی ہے پاک چین انفارمیشن کوریڈور کے تحت مستقبل کے تربیتی اور صحافتی پروگراموں میں پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز، وی لاگرز اور یوٹیوبرز کو پہلی بار ایک باقاعدہ سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سب ہیڈنگز کے بغیر اس نئی پالیسی کے اہم ترین خدوخال درج ذیل ہیں:
روایتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ اب موبائل جرنلزم اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے نامور اور ابھرتے ہوئے یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل انفلوئنسرز کو پاک چین سفارتی و معاشی تعلقات کی کوریج کے لیے خصوصی طور پر شامل کیا جائے گا۔ اس اقدام کے تحت ڈیجیٹل کانٹینٹ کریٹرز کے لیے خصوصی تربیتی ورکشاپس منعقد کی جائیں گی جن میں انہیں جدید ترین ویڈیو پروڈکشن، سمارٹ فون جرنلزم، اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رپورٹنگ کی تکنیکی مہارتیں سکھائی جائیں گی تاکہ وہ بین الاقوامی معیار کا مواد تیار کر سکیں۔ ان وی لاگرز اور انفلوئنسرز کے لیے چین کے مختصر اور طویل مدتی دوروں کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے جہاں وہ چین کی جدید ٹیکنالوجی، ثقافت، اور ای-کامرس کے نظام کا براہ راست مشاہدہ کر کے اپنے یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کو حقیقت پر مبنی معلومات فراہم کریں گے۔ اس شمولیت کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ سی پیک کے دوسرے فیز، بالخصوص زراعت، صنعتی زونز اور ڈیجیٹل کوریڈور کے ثمرات کو عام نوجوانوں کی زبان میں آسان اور دلچسپ انداز میں پیش کیا جائے تاکہ سوشل میڈیا پر اس منصوبے کے خلاف بنے منفی بیانیے کو سچے اور مثبت وی لاگز کے ذریعے ختم کیا جا سکے۔ طویل مدتی منصوبے کے طور پر، پاکستانی اور چینی یوٹیوبرز کے درمیان مشترکہ کانٹینٹ پروڈکشن کے معاہدے بھی کیے جا رہے ہیں جس کے تحت دونوں ممالک کے انفلوئنسرز مل کر دستاویزی فلمیں اور پوڈ کاسٹ سیریز تیار کریں گے جو پاک چین دوستی کی حقیقی اور عوامی سچائیوں کو دنیا بھر کی سکرینوں پر نمایاں کریں گی۔پاک چین انفارمیشن کوریڈور کے تحت پاکستانی ڈیجیٹل کریٹرز اور چینی کانٹینٹ کریٹرز کے مابین مشترکہ ورکشاپس کا ایک جدید اور باقاعدہ فریم ورک تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے سوشل میڈیا ماہرین کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ سب ہیڈنگز کے بغیر اس تربیتی اشتراک کی اہم ترین تفصیلات درج ذیل ہیں:
ان مشترکہ ورکشاپس کا بنیادی محور دونوں ممالک کے پبلشنگ کلچر اور ڈیجیٹل مارکیٹ کی سمجھ بوجھ کو بڑھانا ہے، جس کے تحت پاکستانی یوٹیوبرز اور چینی کانٹینٹ کریٹرز بیجنگ، شنگھائی اور اسلام آباد میں منعقد ہونے والے سیشنز میں آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ ان ورکشاپس میں خاص طور پر شارٹ ویڈیو فارمیٹس، ایڈوانسڈ تھری ڈی اینیمیشن، موبائل فلم میکنگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے ویڈیو پروڈکشن کی جدید ترین چینی تکنیکیں شیئر کی جائیں گی۔ اس اشتراک کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستانی کریٹرز کو چین کے بند اور منفرد ڈیجیٹل ایکو سسٹم، جیسے کہ ڈوئین (Douyin)، بلی بلی (Bilibili) اور وی چیٹ (WeChat) کے الگورتھم کو سمجھنے کا موقع ملے گا، جس سے وہ اپنا مواد چینی صارفین کی پسند کے مطابق ڈھال سکیں گے۔ ورکشاپس کے دوران دونوں ممالک کے کریٹرز کو ملا کر مشترکہ ٹیمیں بنائی جائیں گی جو سی پیک فیز ٹو کے منصوبوں، جیسے زراعت اور انڈسٹریل زونز پر موقع پر جاکر دستاویزی وی لاگز اور پوڈ کاسٹس ریکارڈ کریں گی، تاکہ زبان کے فرق کو مٹا کر ایک ایسا مواد تیار کیا جائے جو چین اور پاکستان دونوں ملکوں کے عوام میں یکساں مقبول ہو۔ طویل مدتی بنیادوں پر، ان ورکشاپس کے ذریعے ایک مستقل پاک چین ڈیجیٹل کریٹرز نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے جو مستقبل میں بھی آن لائن سیشنز کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑا رہے گا اور سوشل میڈیا پر سچائی کے اس کوریڈور کو عالمی سطح پر مضبوط کرے گا۔پاک چین انفارمیشن کوریڈور کے تحت ڈیجیٹل کریٹرز اور یوٹیوبرز کے مابین زبان کے فرق کو ختم کرنے کے لیے دونوں ممالک کی حکومتوں اور میڈیا اداروں نے جدید ترین سائنسی و انسانی اقدامات اٹھائے ہیں۔لسانی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر مبنی ریئل ٹائم ٹرانسلیشن سافٹ ویئرز اور سمارٹ ایپس کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کی بدولت ورکشاپس کے دوران اور فیلڈ کوریج کے وقت کریٹرز ایک دوسرے کی بات کا فوری ترجمہ اپنی مادری زبان (اردو اور چینی) میں سن اور دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز (NUML) اور بیجنگ کی بڑی میڈیا یونیورسٹیوں کے باہمی تعاون سے ایک خصوصی “تکنیکی میڈیا لغت” تیار کی گئی ہے، جو کانٹینٹ کریٹرز کو ویڈیو گرافی، ایڈیٹنگ اور جرنلزم میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کا آسان ترجمہ فراہم کرتی ہے۔ مشترکہ ورکشاپس اور فیلڈ ٹورز کے دوران چینی اور اردو زبان کے ماہر اور پروفیشنل مترجمین (Interpreters) کی ٹیمیں مستقل طور پر ڈیجیٹل کریٹرز کے ساتھ موجود رہتی ہیں تاکہ کسی بھی پیچیدہ موضوع پر گفتگو کے دوران ابہام پیدا نہ ہو۔ طویل مدتی بنیادوں پر، دونوں ممالک کے منتخب انفلوئنسرز کے لیے شارٹ کریش کورسز بھی شروع کیے جا رہے ہیں جن میں پاکستانی یوٹیوبرز کو روزمرہ کی بنیادی چینی زبان اور چینی کریٹرز کو بنیادی اردو الفاظ سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ براہ راست عوامی سطح پر ایک دوسرے سے جڑ سکیں۔ سب سے اہم اقدام یہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں تیار ہونے والے تمام مشترکہ وی لاگز، پوڈ کاسٹس اور دستاویزی فلموں کے لیے آٹو سب ٹائٹلنگ اور وائس اوور (Dubbing) کے مشترکہ فنڈز قائم کیے گئے ہیں، جس سے پاکستانی مواد چینی سوشل میڈیا پر اور چینی مواد پاکستانی عوام کے لیے سیکنڈوں میں قابل فہم بن جاتا ہے۔پاکستان اور چین کے مابین انفارمیشن کوریڈور (CPIC) کے تحت پہلے تاریخی مشترکہ میڈیا اور ڈیجیٹل کوریڈور دورے کے لیے اصولی طور پر نومبر اور دسمبر 2026 کے درمیانی ہفتوں کا انتخاب کیا گیا ہے
اس سٹریٹجک دورے کا باقاعدہ آغاز نومبر 2026 کے آخری ہفتے میں اسلام آباد سے ہوگا، جہاں منتخب پاکستانی یوٹیوبرز، وی لاگرز اور ڈیجیٹل جرنلسٹس کا پہلا گروپ چینی میڈیا ماہرین اور سفارتی حکام کے ساتھ مشترکہ سیشنز کا حصہ بنے گا۔ اس کے فوری بعد، دسمبر 2026 کے اوائل میں اس دورے کا سب سے اہم فیلڈ فیز شروع ہوگا، جس کے تحت یہ مشترکہ وفد سب سے پہلے گوادر پورٹ اور کراچی اسپیشل اکنامک زون (دھابیجی) کا دورہ کرے گا تاکہ وہاں جاری سی پیک فیز ٹو کے صنعتی اور مینوفیکچرنگ منصوبوں کی براہ راست ڈیجیٹل کوریج کی جا سکے۔ اس پہلے فیز کی تکمیل کے بعد، دسمبر کے وسط میں یہ پاکستانی ڈیجیٹل سفیر چین کے اہم ترین سمارٹ شہروں، جیسے کہ بیجنگ اور شنگھائی کا رخ کریں گے، جہاں وہ چینی کانٹینٹ کریٹرز کے ہمراہ وہاں کی ہائی ٹیک زراعت اور ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ زونز پر وی لاگز کی مشترکہ سیریز فلمبند کریں گے۔ اس پورے شیڈول کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ سال 2026 کے اختتام سے پہلے پہلے دونوں ممالک کے انفلوئنسرز کی مشترکہ ویڈیوز اور پوڈ کاسٹ اقساط کو پاکستان اور چین کے تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بیک وقت لائیو کر دیا جائے، جو اس انفارمیشن کوریڈور کی پہلی عملی اور عوامی کامیابی کے طور پر دنیا کے سامنے آئیں گی,چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور (CPIC) کے تحت پہلے مشترکہ میڈیا اور ڈیجیٹل کوریڈور کے سٹریٹجک وفد میں دونوں ممالک کے مجموعی طور پر اٹھارہ بڑے اور نامور میڈیا ہاؤسز کو نیوز ایکسچینج ورکنگ گروپ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ چین کی جانب سے اس وفد میں وہاں کی آفیشل اور سب سے بڑی ریاستی نیوز ایجنسی سنہوا (Xinhua)، چین کا مرکزی پبلک براڈکاسٹنگ نیٹ ورک چائنا میڈیا گروپ (CMG) جو سی سی ٹی وی اور چائنا ریڈیو انٹرنیشنل کا نگران ہے، وہاں کا سب سے بااثر اخبار پیپلز ڈیلی (People’s Daily) اور سی پیک کے معاشی منصوبوں کی خصوصی کاروباری کوریج کرنے والا چائنا اکنامک نیٹ (CEN) شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے اس حتمی فہرست میں سرکاری سطح پر پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (PTV News)، ریڈیو پاکستان (PBC) اور قومی سرکاری نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP) کو شامل کیا گیا ہے۔ نجی شعبے سے پاکستان کے بڑے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز جن میں جنگ گروپ آف نیوز پیپرز اور جیو نیوز، انگریزی صحافت کا معتبر پبلشنگ نیٹ ورک ڈان میڈیا گروپ، اور انڈیپینڈنٹ نیوز پاکستان (INP) جیسی معروف نجی نیوز ایجنسیاں شامل ہیں، اس کے ساتھ ہی پاکستان کے صفِ اول کے دیگر نجی ٹی وی چینلز جیسے کہ اے آر وائی، ایکسپریس، اور ہم نیٹ ورک کو بھی اس معلوماتی نیٹ ورک میں شامل کیا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل اور سی پیک فیز ٹو کے معلوماتی بہاؤ کو باقاعدہ فیکٹ چیکنگ کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔ ان تمام روایتی میڈیا ہاؤسز کے ساتھ ساتھ ان کے آفیشل ڈیجیٹل ونگز اور منتخب کانٹینٹ کریٹرز کی ٹیمیں بھی نومبر اور دسمبر 2026 میں ہونے والے اس پہلے تاریخی دورے کے دوران دونوں ممالک کے اقتصادی زونز کی مشترکہ کوریج کو جدید ترین فارمیٹس میں دنیا کے سامنے پیش کریں گی۔




