آغاشورش کشمیری کی 51 ویں برسی؛ 28 اکتوبر کو نیشنل پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا جائے گا
اسلام آباد (. اصغر علی مبارک) : برصغیر پاک و ہند کے نامور صحافی، دانشور، ادیب اور منفرد لب و لہجے کے حامل شاعر آغا شورش کشمیری کی 51 ویں برسی کے موقع پر ایک خصوصی تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ یہ تقریب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) دستور اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) دستور کے زیرِ اہتمام منعقد ہوگی۔ یہ تعزیتی ریفرنس بدھ 28 اکتوبر 2026ء کو سہ پہر 3 بجے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا جس میں صحافتی و ادبی شخصیات سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔ پروگرام کے منتظمین صدر پی ایف یو جے دستور محمد نواز رضا اور صدر آر آئی یو جے دستور رانا کوثر علی کی جانب سے تمام متعلقہ افراد اور عوام الناس کو اس تقریب میں شرکت کی مخلصانہ دعوت دی گئی ہے۔ پروگرام کے حوالے سے کسی بھی قسم کی معلومات یا رابطے کے لیے موبائل نمبر 5115858-0321 جاری کیا گیا ہے، جہاں رابطہ کر کے تفصیلات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس تعزیتی ریفرنس میں آغا شورش کشمیری کی صحافتی خدمات، جرأتِ رندانہ اور اردو ادب کے لیے ان کی گراں قدر قربانیوں اور جدوجہد کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔ آغا شورش کشمیری برصغیر پاک و ہند کے بلند پایہ خطیب، حق گو سیاست دان، بے باک صحافی، مایہ ناز ادیب اور قادر الکلام انقلابی شاعر تھے۔ ان کا اصل نام عبد الکریم تھا اور وہ 14 اگست 1917ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی حق اور سچ کی آواز بلند کرنے، آزادیِ اظہارِ رائے کے تحفظ اور تعمیرِ پاکستان کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے یکم جنوری 1949ء کو لاہور سے اپنا مشہور علمی، ادبی اور سیاسی ہفت روزہ جریدہ “چٹان” جاری کیا۔ اپنے کاٹ دار اداریوں، بے خوف تجزیوں اور حکمرانوں کی غلط پالیسیوں پر کڑی تنقید کے باعث یہ پرچہ ہمیشہ جبر کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوا، جس کی پاداش میں انہیں کئی بار پریس کی تالا بندی اور سنسرشپ کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنے دور کے بے تاج بادشاہ اور سحر انگیز خطیب مانے جاتے تھے اور ان کی تقریر سننے کے لیے ہزاروں کا مجمع اکٹھا ہو جاتا تھا۔ انہوں نے تحریکِ آزادی اور قیامِ پاکستان کے بعد مختلف جمہوری تحریکوں میں بھرپور حصہ لیا۔ اپنی سیاسی نظریات اور اصول پسندی کی وجہ سے انہوں نے زندگی کے قیمتی ساڑھے بارہ سال قید و بند کی صعوبتوں میں گزارے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دورِ حکومت میں انہوں نے جیل کے اندر 45 دن کی طویل اور تاریخی بھوک ہڑتال بھی کی۔ اس کے ساتھ ہی عقیدہ ختمِ نبوت کا تحفظ ان کی زندگی کا ایک عظیم اثاثہ تھا۔ انہوں نے مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل کے طور پر اور بعد میں 1974ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں صفِ اول کا مجاہد بن کر تاریخی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ وہ ایک بہترین نثر نگار اور مصنف بھی تھے جنہوں نے تقریباً 27 کتابیں تحریر کیں جن میں ان کی سوانح حیات اور جیل کی روداد پر مبنی کتب “پسِ دیوارِ زنداں”، “موت سے واپسی”، “قیدِ فرنگ” کے علاوہ “چہرے”، “قلمی چہرے”، “فنِ خطابت” اور “اقبال اور قادیانیت” نمایاں طور پر شامل ہیں۔ یہ عظیم مجاہدِ ملت اور صحافت کا درخشندہ ستارہ 25 اکتوبر 1975ء کو 58 برس کی عمر میں لاہور میں خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ ان کی نمازِ جنازہ مفتی محمود نے پڑھائی اور انہیں لاہور کے تاریخی قبرستان میانی صاحب میں سپردِ خاک کیا گیا۔ نیشنل پریس کلب میں ہونے والا تعزیتی ریفرنس ان کی انہی بے مثال خدمات کی یاد میں منعقد کیا جا رہا ہے