پاکستان میں ایمرجنسی کی تاریخ۔
دسمبر 1971ء میں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا، تو ملک شدید بحران کا شکار تھا۔ انہوں نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے ایمرجنسی کے وسیع اختیارات کا استعمال کیا۔


- بھٹو نے ابتدائی طور پر ملک کے پہلے سویلین “چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر” کے طور پر حکومت کی اور 1971ء کی جنگ کے وقت سے نافذ ملک گیر ایمرجنسی کو برقرار رکھا۔
- ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو موجودہ 1973ء کا متفقہ آئین دیا۔ آئین کے نفاذ کے ساتھ ہی پرانی ایمرجنسی تو ختم ہو گئی، لیکن سیکیورٹی حالات کا حوالہ دے کر بھٹو نے فوری طور پر نئی ایمرجنسی پر دستخط کر دیے۔میں بھٹو نے بلوچستان کی منتخب صوبائی حکومت کو برطرف کر کے وہاں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی، جس کے بعد صوبے میں شورش پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہوا۔ 1977ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اپوزیشن نے ملک گیر تحریک چلائی۔ پرتشدد احتجاج کو روکنے کے لیے بھٹو نے مخصوص شہروں میں ایمرجنسی اور سلیکٹو مارشل لا نافذ کیا۔ یہ بحران اسی سال 5 جولائی کو جنرل ضیاء الحق کے فوجی بغاوت (کوپ) پر ختم ہوا، جنہوں نے آئین ہی معطل کر دیا۔
2۔ آصف علی زرداری (2008ء تا 2013ء، 2024ء تا حال): صدر کے اختیارات کا خاتمہ
آصف علی زرداری کا ایمرجنسی قوانین کی تاریخ میں سب سے بڑا کردار یہ ہے کہ انہوں نے صدرِ مملکت سے ایمرجنسی اور گورنر راج کے یکطرفہ اختیارات واپس لے کر پارلیمنٹ کو دیے۔
- ء آصف زرداری کے اقتدار میں آنے سے پہلے، جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007ء کو ملک میں بدنامِ زمانہ ایمرجنسی نافذ کی تھی، جس میں آئین معطل، ججز کو نظربند اور وکلاء کو گرفتار کیا گیا۔ اسی سیاسی عدم استحکام کے دوران محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا۔
- ء کے انتخابات کے بعد آصف علی زرداری صدر بنے۔ انہیں ماضی کے آمروں (ضیاء الحق اور مشرف) کا بنایا ہوا وہ آئینی نظام ورثے میں ملا جہاں صدر جب چاہے اسمبلی توڑ سکتا تھا یا ایمرجنسی لگا سکتا تھا۔
- آصف زرداری نے ان آمرانہ اختیارات کو اپنے پاس رکھنے کے بجائے رضا کارانہ طور پر ختم کرنے کی منظوری دی۔ 2010ء میں انہوں نے 18ویں ترمیم پر دستخط کیے، جس کے تحت اب صدرِ مملکت صوبائی اسمبلی کی مرضی اور وفاقی پارلیمنٹ (قومی اسمبلی و سینیٹ) کی منظوری کے بغیر یکطرفہ طور پر ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہیں کر سکتا۔
پاکستان میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) اور گورنر راج کا نفاذ ہمیشہ سے سیاسی بحرانوں، آئینی تعطل اور مارشل لا کے ادوار سے جڑا رہا ہے۔ یہ قوانین بنیادی طور پر برطانوی نوآبادیاتی دور کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 سے لیے گئے تھے، جن کا مقصد مرکز (وفاق) کو صوبوں یا پورے ملک پر مطلق العنان اختیارات دینا تھا۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 سے 237 تک ایمرجنسی کی مختلف اقسام (جنگ، داخلی انتشار، یا معاشی بحران) کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ذیل میں پاکستان کی تاریخ میں لگنے والی اہم ترین ایمرجنسیز کا تفصیلی ذکر ہے
1۔ گورنر جنرل غلام محمد (1954ء – 1955ء)
پاکستان میں پہلی بڑی “آئینی ایمرجنسی” اکتوبر 1954ء میں لگی جب گورنر جنرل غلام محمد نے پہلی دستور ساز اسمبلی کو برطرف کر دیا۔ انہوں نے اپریل 1955ء میں ایمرجنسی آرڈیننس جاری کر کے خود کو آئین بنانے کے وسیع اختیارات دے دیے، جس نے ملک کو ایک گہرے آئینی بحران میں دھکیل دیا۔ ]
2۔ ذوالفقار علی بھٹو (1971ء – 1977ء)
ذوالفقار علی بھٹو کا دورِ حکومت ایمرجنسی کے قوانین کے بھرپور استعمال کے لیے جانا جاتا ہے:
- وراثت میں ملی ایمرجنسی: دسمبر 1971ء میں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بھٹو نے ملک کے پہلے سویلین “چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر” کے طور پر حلف لیا اور پرانی ایمرجنسی کو جاری رکھا۔
- 1973ء کا آئین اور دوبارہ نفاذ: بھٹو نے ملک کو 1973ء کا متفقہ آئین دیا۔ لیکن آئین پاس ہونے کے فوراً بعد ہی انہوں نے ملک میں نئی ایمرجنسی نافذ کر دی، جس کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق معطل رہے۔
- بلوچستان میں گورنر راج (1973ء): بھٹو نے بلوچستان کی منتخب صوبائی حکومت کو معطل کر کے وہاں ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا اور صوبے میں شورش کے خاتمے کے لیے فوج تعینات کی۔
3۔ میاں نواز شریف (1998ء)
- ایٹمی دھماکوں کے بعد ایمرجنسی: 28 مئی 1998ء کو پاکستان کی جانب سے چاغی میں ایٹمی دھماکے کرنے کے فوراً بعد، صدر رفیق تارڑ نے وزیرِ اعظم نواز شریف کی ایڈوائس پر ملک گیر ایمرجنسی نافذ کر دی تھی تاکہ متوقع بین الاقوامی پابندیوں اور معاشی دباؤ سے نمٹا جا سکے۔ اس دوران شہریوں کے بنیادی حقوق اور فارن کرنسی اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے تھے۔
4۔ جنرل پرویز مشرف (2007ء)
- 3 نومبر 2007ء کی ایمرجنسی: جنرل پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف ملک میں آخری بار ملک گیر ایمرجنسی نافذ کی۔ انہوں نے آئین کو معطل کر کے پروویژنل کانسٹی ٹیوشنل آرڈر (PCO) جاری کیا۔ اس دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے 60 سے زائد ججوں کو نظر بند کیا گیا اور میڈیا چینلز پر پابندیاں لگائی گئیں۔ [1, 2]
5۔ آصف علی زرداری اور 18ویں ترمیم (2010ء)
آصف علی زرداری کے دورِ صدارت کا سب سے بڑا کارنامہ 18ویں آئینی ترمیم (2010ء) کی منظوری تھا، جس نے ایمرجنسی کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔
- ماضی میں صدور یا فوجی آمر یکطرفہ طور پر ایمرجنسی لگا دیتے تھے۔
- 18ویں ترمیم کے بعد ترمیم شدہ آرٹیکل 232 کے تحت اب اگر صدرِ مملکت داخلی انتشار کی بنیاد پر کسی صوبے میں ایمرجنسی لگانا چاہیں، تو اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد لازمی ہے۔ اگر صدر خود ایسا قدم اٹھائیں تو 10 روز کے اندر پارلیمنٹ (قومی اسمبلی اور سینیٹ) سے اس کی منظوری لینا آئینی طور پر لازم ہے۔ [1, 2, 3]
پاکستان کی تاریخ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا خلاصہ (ٹائم لائن)
| سال / دور | نافذ کرنے والی اتھارٹی | نوعیت اور بنیادی وجہ |
|---|---|---|
| 1954ء | گورنر جنرل غلام محمد | دستور ساز اسمبلی کی تحلیل اور سیاسی بحران۔ |
| 1958ء | صدر اسکندر مرزا / جنرل ایوب خان | ملک کا پہلا باقاعدہ مارشل لا، آئین کی منسوخی۔ |
| 1965ء اور 1971ء | فیلڈ مارشل ایوب خان / جنرل یحییٰ خان | بھارت کے ساتھ جنگوں کے باعث لگائی جانے والی روایتی مرکز پرست ایمرجنسی۔ |
| 1973ء تا 1977ء | ذوالفقار علی بھٹو / فضل الٰہی چوہدری | اندرونی خطرات اور صوبائی حکومتوں (خصوصاً بلوچستان) سے تناؤ۔ |
| 1998ء | صدر رفیق تارڑ (وزیرِ اعظم نواز شریف) | چاغی ایٹمی دھماکوں کے بعد پیدا ہونے والی ممکنہ معاشی اور سکیورٹی صورتِ حال۔ |
| 1999ء | جنرل پرویز مشرف | نواز شریف حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد “ایمرجنسی پلس” اور چیف ایگزیکٹو کا عہدہ۔ |
| 2007ء | جنرل پرویز مشرف | عدلیہ کے ساتھ تصادم کو دبانے کے لیے ججوں کی معطلی اور آئین کی جزوی منسوخی۔ |
| حالیہ (2026ء) | صدر آصف علی زرداری (وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت) | امن و امان کی ابتر صورتِ حال اور سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر خیبر پختونخوا کے اضلاع میں ایمرجنسی/گورنر راج لگانے کا حالیہ اتفاق۔ |



