ملکی سیاسی و آئینی صورتحال پر صدرِ مملکت اور وزیراعظم میں اتفاقِ
(اصغر علی مبارک)
ملک کی موجودہ سیاسی اور آئینی صورتحال کے پیشِ نظر حکومتی سطح پر حتمی فیصلوں کا عمل اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔اس پوری سیاسی و آئینی پیش رفت میں صدرِ مملکت اور وزیراعظم کے درمیان تمام اہم ترین فیصلوں پر کامل اتفاقِ رائےہے اور دونوں اعلیٰ ترین آئینی عہدیداروں میں فیصلہ سازی کے پورے عمل پر مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔خیبرپختونخوا کی صورتحال پر ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی صدارت میں اہم اجلاس ہوا۔ جس میں وزیراعظم، اہم وفاقی وزراء اور سکیورٹی حکام نے شرکت کی جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر اور شیری رحمان بھی ایوان صدر میں موجود تھے۔ اجلاس میں قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ ضم شدہ اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ خیبرپختونخوا میں عوام کے تحفظ کے لیے وفاق کے اہم اختیارات استعمال کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا جبکہ آئین کے آرٹیکل 232 سے 234 کے تحت مختلف آپشنز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا سے متعلق اہم فیصلوں کئے گئے ہیں۔ شہباز شریف ایوان صدر سے واپس وزیراعظم ہاؤس چلے گئے، وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ صدرِ مملکت اور وزیراعظم کے درمیان ملک کی موجودہ سیاسی و آئینی صورتحال پر اہم فیصلوں کے لیے کامل اتفاقِ رائے اور مکمل ہم آہنگی ہے۔ سینئر صحافی اصغر علی مبارک کی رپورٹ کے مطابق، حکومتی سطح پر کیے جانے والے اہم اور حتمی فیصلے اب اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ صدر اور وزیراعظم کے درمیان طے پانے والے تمام اہم ترین فیصلوں پر وفاقی حکومت بہت جلد عملدرآمد کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سیاسی تناؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنی خصوصی مشاورتی ٹیم کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان پسِ پردہ مشاورت کی اندرونی تفصیلات میں ملک میں امن و امان اور سیاسی تناؤ کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر سیکیورٹی کے محاذ پر درج ذیل حتمی فیصلے کیے گئے ہیں:
خیبر پختونخوا اور پنجاب کی درمیانی سرحدوں پر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ پرتشدد احتجاج یا لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کو روکا جا سکے۔اگرچہ اپوزیشن کی طرف سے گورنر راج کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم صدر اور وزیراعظم کے درمیان اتفاق ہوا ہے کہ انتہائی قدم اٹھانے کے بجائے سیکیورٹی اداروں کو متحرک کیا جائے گا اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC) کی اضافی نفری کو حساس مقامات پر برقرار رکھا جائے گا۔بریفنگز کے مطابق، سیکیورٹی اداروں کو دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے عناصر بالخصوص TTP اور BLA کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کو مزید تیز کرنے اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت 27 ویں آئینی ترمیم لانے کے لیے سیاسی زمین ہموار کر رہی ہے، جس کے اندرونی خدوخال یہ ہیں:27 ویں آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد الیکشن کمیشن کی انتظامی صلاحیتوں، وفاق کے دائرہ کار اور جوڈیشل ریویو کے طریقہ کار کو مزید متوازن بنانا ہے۔وفاقی حکومت کسی بھی نئی ترمیم کو لانے کے لیے مولانا فضل الرحمان کی حمایت کو لازمی قرار دے رہی ہے۔ اسپیکر ایاز صادق اور رانا ثناء اللہ کے وفد نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو یقین دلایا ہے کہ حکومت ان کے تحفظات کو دور کیے بغیر کوئی نیا بل پارلیمنٹ میں پیش نہیں کرے گی ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی قیادت میں ایک مشاورتی کمیٹی پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادی جماعتوں کے قانونی ماہرین سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ڈرافٹ پر پہلے سے کامل اتفاقِ رائے حاصل کیا جا سکے اور سیاسی ڈیڈ لاک جیسے حالات دوبارہ پیدا نہ ہوں۔اس وقت جاری پسِ پردہ اور بیک ڈور مذاکرات کا بنیادی مقصد ایک “سیاسی جنگ بندی” حاصل کرنا ہے تاکہ آل پارٹیز کانفرنس (APC) کے انعقاد کی صورت میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے درمیان کشیدگی کو کم سے کم کیا جا سکے اور ملک کو معاشی و سیاسی استحکام کی طرف لے جایا جا سکے۔ صدر اور وزیراعظم کی اسی مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد انہیں وفاق کے تحفظات، ملک کی سیاسی صورتحال اور مستقبل کے آئینی و سیاسی فیصلوں پر مکمل طور پر اعتماد میں لینا تھا۔ سیاسی ماحول میں ہیجان اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے پسِ پردہ (بیک ڈور) رابطوں کا عمل انتہائی تیز کر دیا گیا ہے تاکہ تمام فریقین کے مابین افہام و تفہیم کے ذریعے ملک کی بہتری کے لیے ایک واضح اور متفقہ سیاسی راستہ نکالا جا سکے۔ مشاورت سے ٹھیک پہلے اپوزیشن کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بھی مولانا فضل الرحمان سے تفصیلی ملاقات کی تھی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صدر اور وزیراعظم کے فیصلے کے بعد جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو اس وقت ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک کلیدی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ بیک ڈور رابطے جاری ہیں اور وہ اسمبلی کے تمام ساتھیوں سے رابطے میں ہیں۔حکومتی وفد کی آمد سے عین قبل اپوزیشن کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی اور موجودہ آئینی و حکومتی صورتحال پر ان سے تفصیلی مشاورت کی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت مولانا فضل الرحمان ملکی سیاست کے مرکز بنے ہوئے ہیں۔حالیہ سیاسی ڈیڈ لاک اور خیبر پختونخوا کی کشیدہ صورتحال کے بعد، حکومت اور اپوزیشن دونوں نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ثالث بنانے پر آمادگی ظاہر کی ہے مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے فریقین کے سامنے 5 سخت شرائط رکھی ہیں انہوں نے حکومتی وفد کو واضح مشورہ دیا ہے کہ ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کے بجائے افہام و تفہیم اور سیاسی بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں سیاسی عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے دونوں اطراف کو اپنے سیاسی لہجے میں میانہ روی لانی ہو گی۔اپوزیشن اتحاد کے وفد، جس میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور دیگر رہنما شامل تھے، نے مولانا فضل الرحمان سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں اپوزیشن کی طرف سےاہم امور سامنے آئے: اپوزیشن اور مولانا فضل الرحمان نے ملک کے سیاسی و معاشی بحران اور خیبر پختونخوا کی صورتحال پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کے لیے ایک آل پارٹیز کانفرنس (APC) بلانے پر اتفاق کیا ۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی نے واضح کیا ہے کہ حکومت سے کسی بھی قسم کے حتمی مذاکرات کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کی منظوری سے مشروط کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور سیاسی سرگرمیوں کو ان کا جمہوری حق قرار دیا ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ اپوزیشن کے خلاف انتقامی رویہ ختم کیا جائے۔ آئین میں مزید تبدیلیوں کے حوالے سے پسِ پردہ اور آن ریکارڈ مشاورت کا عمل تیز ہو چکا ہے وفاقی حکومت نے اتحادی شراکت داروں (بشمول پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر) کو اعتماد میں لیتے ہوئے 27 ویں آئینی ترمیم لانے کی تیاری شروع کر رکھی ہے، جس میں وفاقیت، جوڈیشل ریویو اور الیکشن کمیشن کے معاملات شامل ہیں۔ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ آئینی پیکیج پر تمام اتحادیوں سے مشاورت مکمل کر کے ہی اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور اس معاملے میں کسی قسم کی عجلت کا مظاہرہ نہیں ہو گا۔ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص بیرسٹر علی ظفر نے اسے آئین کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے 18 ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان بھی نئی ترامیم کے حوالے سے مشاورت میں شمولیت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو برقرار رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں۔ اس وقت پوری سیاسی صورتحال کا محور بیک ڈور رابطے اور آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے ایک متفقہ سیاسی راستہ نکالنا ہے تاکہ ملکی تناؤ کو کم کیا جا سکے۔ملکی بحران کے خاتمے کے لیے اپوزیشن اتحاد “تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان” کی جانب سے بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس (APC) کے انعقاد کی تاریخ اور ایجنڈے کی اندرونی تفصیلات درج ذیل ہیں: جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کے بعد تاریخ کو حتمی شکل دینے کے لیے مشاورت جاری ہے۔

  • حکمتِ عملی: تحریک تحفظِ آئین پاکستان (TTAP) کے رہنما اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر خان کے مطابق، وہ تاریخ کے اعلان میں جلد بازی نہیں کر رہے۔ ان کا ہدف ہے کہ پہلے ملک بھر کی تمام بڑی سیاسی قوتوں (بشمول جماعتِ اسلامی، شاہد خاقان عباسی کی پارٹی، اور حکومتی اتحادیوں) سے ملاقاتیں کر کے ایجنڈے پر مکمل اتفاق قائم کیا جائے، جس کے فوراً بعد اکتوبر 2026 کے وسط یا اواخر میں اس کانفرنس کی قطعی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے گا۔اپوزیشن جماعتوں اور جے یو آئی (ف) کی مشترکہ پریس کانفرنسز اور اعلامیوں کے مطابق، مجوزہ اے پی سی کا ایجنڈا ایک نکاتی یا مسلط کردہ نہیں ہو گا، بلکہ تمام جماعتوں کی مشاورت سے درج ذیل اہم ترین قومی امور پر مشتمل ہو گا:
  • امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال اور سیکیورٹی چیلنجز پر مشترکہ قومی لائحہ عمل تیار کرنا۔
  • بنیادی انسانی حقوق اور آئین کی بالادستی: ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا، سیاسی قیدیوں کی رہائی، اور سیاسی و جمہوری سرگرمیوں (جیسے احتجاج اور لانگ مارچ) کے حق کا تحفظ۔
  • صوبائی حقوق اور وسائل کا تحفظ: آئین، پارلیمان، وفاقی نظام، 18 ویں ترمیم، اور این ایف سی (NFC) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے وسائل و اختیارات کا تحفظ۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ صوبوں کو محض انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی جائے گی۔
  • معاشی بحران کا خاتمہ: ملک کو موجودہ شدید معاشی عدم استحکام اور مہنگائی سے نکالنے کے لیے تمام جمہوری قوتوں کے مابین ایک معاشی میثاق (Consensus) قائم کرنا۔ مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا ہے کہ وہ اس اے پی سی کے انعقاد اور سیاسی مذاکرات کی کامیابی کے لیے تب ہی پرامید ہیں جب:
  1. مذاکرات کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوں۔
  2. اس پورے سیاسی عمل میں کسی بھی پسِ پردہ یا غیر سیاسی قوت کی مداخلت شامل نہ ہو۔اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جمہوری اور سیاسی قوتیں مذاکرات پر یقین رکھتی ہیں، ہم مذاکرات کے عمل سے اصولی طور پر اختلاف نہیں کرتے، تاہم حکومت کے رویے سے آئندہ مذاکرات کی گنجائش کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ملک کی سیاسی صورتحال عدم توازن کا شکار ہے جبکہ حکومت کا حزب اختلاف کے ساتھ رویہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ مذاکرات سیاسی لب و لہجے میں ہونے چاہئیں اور پس پردہ قوتوں کی مداخلت کے بغیر بات چیت آگے بڑھنی چاہیے۔سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کچھ لینے اور کچھ دینے کی بنیاد پر ہی نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں، حکومت کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کی تجویز دی گئی ہے، جس پر وہ اپنی جماعت سے مشاورت کریں گے، اپوزیشن جماعتوں کو بھی اس تجویز پر تفصیلی غور کرنا چاہیے۔ آل پارٹیز کانفرنس ہوئی تو تمام جماعتوں کی مشاورت سے مشترکہ ایجنڈا اور لائحہ عمل سامنے آنا چاہیے تاکہ ملک میں سیاسی معاملات میں میانہ روی پیدا ہو اور قومی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم سب برابر کے پاکستانی ہیں، کسی کی وفاداری مشکوک قرار نہیں دی جا سکتی، ہم آئین اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک کے مفاد میں آگے بڑھیں گے۔ لانگ مارچ اور احتجاج سیاسی و جمہوری حق ہے، اگر پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد آنا چاہتی ہے تو اصولی طور پر اسے اجازت ہونی چاہیے۔دوسری جانب علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس کی دعوت دینے آئے تھے۔ ملک کی معاشی اور امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں، سیاستدانوں کو مل کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کی پیشکش موجود ہے، لانگ مارچ ختم کریں تو بات ہوسکتی ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت نے جو بھی فیصلہ کیا ہے، تمام اداروں اور صوبائی حکومتوں کو غیر مشروط طور پر اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے،تحریک انصاف کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر مشروط طور پر پاکستان اور وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔حکومت نے تحریک انصاف سے کبھی یہ نہیں کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی جائے گی وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور کا کہنا تھا کہ مذاکرات آگے نہ بڑھنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ تحریک انصاف نے دہشت گردی کے خلاف حکومت کی بنائی گئی پالیسی سے اتفاق نہیں کیا اور اس پر عملدرآمد کی مخالفت کی۔وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش اب بھی موجود ہے، تحریک انصاف لانگ مارچ ختم کرے تو بات چیت ہوسکتی ہے۔ دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف لانگ مارچ ایک ماہ بھی جاری رکھے تو خود تھک جائے گی، جبکہ موجودہ تعداد اسلام آباد آنے کی پوزیشن میں نہیں، اگر تحریک انصاف استعفے دینا چاہتی ہے تو یہ بھی پہلے کرچکی ہے، دو اسمبلیاں توڑنے کا تجربہ بھی کرچکی ہے اور دوبارہ ایسا کرکے دیکھ سکتی ہے۔مشیر برائے سیاسی امور نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مولانا فضل الرحمان حکومت اور افواج پاکستان کے ساتھ ہیں اور حکومت کے ان سے رابطے بھی موجود ہیں۔
    وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو لانگ مارچ اور شارٹ مارچ کے بجائے امن و امان پر توجہ دینی چاہیے تھی۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کا نام دنیا بھر میں بلند کیا جب کہ خیبرپختونخوا کے عوام امن، استحکام اور ترقی کے خواہاں ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے تھی، کیونکہ صوبے کے عوام امن اور ترقی چاہتے ہیں۔امیر مقام نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 13 سال کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے صوبے کے عوام کے لیے مشکلات پیدا کیں اور ان کے ساتھ دشمنی کی۔لانگ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نام پر لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد نہیں پہنچ سکتا۔ خیبرپختونخوا کے عوام امن، استحکام اور ترقی چاہتے ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبے سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا، جلد امن قائم ہوگا اور ترقی کا عمل آگے بڑھے گا۔