پاکستان,عالمی امن کے لیے فرنٹ لائن اسٹیٹ

(اصغر علی مبارک)

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا ہے۔ سال 2026 میں پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جو تاریخی سفارتی کردار ادا کیا، اس کی بدولت 17 جون 2026 کو تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمت نامہ’ (MoU) سائن ہوا۔ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے وژن اور حکمتِ عملی سے عالمی سطح پر امن کی شمع روشن کی۔ لیکن جہاں ایک طرف پاکستان عالمی امن کے لیے کوشاں ہے، وہیں دوسری طرف پاکستان کی مغربی اور مشرقی سرحدوں پر کچھ ایسی ‘طاقتور تخریب کار قوتیں’ (Powerful Spoilers) سرگرم ہیں جو اس خطے کو مستقل بدامنی کی آگ میں دھکیلنا چاہتی ہیں۔

اس سنگین صورتحال کا پردہ چاک کرتے ہوئے حال ہی میں پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (ISPR) کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو ایک اہم انٹرویو دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واشگاف الفاظ میں اس تلخ حقیقت کو دنیا کے سامنے رکھا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا اسپانسر اور سرپرست ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجود افغان طالبان رجیم ایک غیر ریاستی عنصر کے طور پر کام کر رہی ہے، جسے بھارت اپنے مقاصد کے لیے ایک ‘پراکسی’ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) دراصل بھارت کے ہی مہرے ہیں جنہیں پاکستان کی سلامتی اور معاشی استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس بدلتے ہوئے جنگی منظرنامے میں دہشت گرد اب نئی ٹیکنالوجیز اور ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم، ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ واضح کیا کہ افغان طالبان کے پاس اپنی کوئی ڈرون انڈسٹری یا ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ یہ سب انہیں بیرونی اسپانسرز (بھارت) کی طرف سے فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دنیا کو یاد دلایا کہ پاکستان کی مسلح افواج روایتی، سائبر اور جدید ڈیجیٹل جنگی تقاضوں سے نہ صرف پوری طرح لیس ہیں، بلکہ مئی 2025 کے پاک بھارت ٹکراؤ کے دوران پاکستان نے مشرقی سرحد سے آنے والے درجنوں انتہائی جدید بھارتی ڈرونز کو فضا ہی میں خاکستر کر کے اپنی آپریشنل برتری ثابت کی تھی۔ سرحد پار سے آنے والی کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے پاک فوج کی آپریشنل تیاری بھارت اور افغان طالبان دونوں سے کہیں آگے ہے۔

موجودہ صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو ان بیرونی خطرات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ملکی بقا اور اندرونی سلامتی کے لیے اپنی داخلی پالیسیوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کا ‘نیشنل ایکشن پلان’ (NAP) ریاست کا سب سے مضبوط ہتھیار ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک بھر میں دہشت گرد تنظیموں، عسکریت پسند گروہوں اور مسلح گینگز کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ این اے پی کا بنیادی مقصد ہی عسکریت پسندوں کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنا، ان کی مالی معاونت (Terror Financing) کا قلع قمع کرنا اور نفرت انگیز لٹریچر و نظریات کا خاتمہ کرنا ہے۔

موجودہ نازک موڑ پر ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق سختی سے عمل درآمد جاری رکھے۔ نیکٹا (NACTA) کو مزید فعال بنا کر انٹیلیجنس شیئرنگ کو تیز کیا جائے تاکہ ملک دشمن عناصر اور غیر ملکی پراکسیز کا اندرونی نیٹ ورک مکمل تباہ ہو سکے۔ جیسا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے انٹرویو میں واشگاف انتباہ دیا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ملکی سلامتی کے لیے ایک ‘ریڈ لائن’ ہے اور پاکستان خطرہ بننے والے عناصر کو ایسی سزا دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جسے وہ جذب نہیں کر پائیں گے۔

آج پوری قوم اپنی مسلح افواج اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کا دامن تھاما ہے، لیکن اگر ہماری سلامتی کو چیلنج کیا گیا تو نیشنل ایکشن پلان کے تحت اندرونی صفائی اور سرحدوں پر ملٹری آپریشنل تیاری کے ذریعے دشمن کے ہر ڈرون، ہر پراکسی اور ہر ناپاک سازش کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔افغانستان کو غیر ریاستی عناصر چلا رہے ہیں اور یہ ایک رجیم ہے، افغان طالبان حکومت بھارت کی پراکسی ہے اور کرائے کے جنگجو استعمال کر رہے ہیں، افغان طالبان نے پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت بند نہ کی تو سنگین قیمت چکانا پڑے گی۔ برطانوی خبر رساں ادارے کو گزشتہ روز دیئے گئے انٹرویو میں پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا اسپانسر ہے جب کہ افغان طالبان رجیم بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کررہی ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھی پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی ہیں، افغان طالبان اپنے مقاصد کے لیے غیر ریاستی عناصر اور کرائے کے جنگجوؤں کو استعمال کرتے ہیں۔افغانستان کو اب بھی غیرریاستی عناصر چلارہے ہیں اور وہاں ایک رجیم قائم ہے۔ افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد متعدد ایجنسیوں اور پراکسیز نے اپنی جڑیں مضبوط کرلیں۔ جیش العدل، القاعدہ اور داعش خراسان جیسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ، امریکا اور کئی دیگر ممالک بھی افغانستان میں ان تنظیموں کی موجودگی کی نشاندہی کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان طالبان سے صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی حمایت بند کریں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان رجیم نے نور ولی، بشیر زیب اور گل بہادر جیسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے تشکیلیں افغانستان سے آتی ہیں اور دہشت گردوں کو اسلحہ بھی وہیں سے فراہم کیا جاتا ہے۔ اس ڈیجیٹل دور میں اندرونی صفائی اور سرحدوں پر ملٹری آپریشنز کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑا چیلنج ففتھ جنریشن وارفیئر اور سائبر کرائمز ہیں۔ دہشت گرد تنظیمیں اور ان کے بیرونی سرپرست اب معصوم ذہنوں کو گمراہ کرنے، نفرت انگیز لٹریچر پھیلانے اور فنانشل فراڈ کے لیے سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت سائبر سپیس اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔ ملک کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے تحت کام کرنے والے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی جیسے ادارے اب آن لائن پلیٹ فارمز پر ڈیجیٹل شناخت کے غلط استعمال، پروپیگنڈا اکاؤنٹس، اور مالیاتی فراڈ نیٹ ورکس کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہی نفرت انگیز اور فرقہ واریت پر مبنی لٹریچر پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ہزاروں گرفتاریاں عمل میں لائی جا چکی ہیں، اور سوشل میڈیا پر دہشت گردوں کی کسی بھی قسم کی گلوریفیکیشن کو قانوناً ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

داخلی استحکام کی اس مہم میں دوسرا بڑا ستون ٹیرر فنانسنگ کا مکمل خاتمہ ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت اب بینکنگ چینلز کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، اور غیر قانونی مالیاتی راستوں جیسے حوالہ اور ہنڈی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے باقاعدہ فنانشل انویسٹی گیشن یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں۔ کالعدم تنظیموں کے مالیاتی اثاثے منجمد کرنے اور ان کے بینک اکاؤنٹس و پاسپورٹس پر پابندی عائد کرنے جیسے اقدامات نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

موجودہ نازک موڑ پر ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق سختی سے عمل درآمد جاری رکھے۔ نیکٹا کو مزید فعال بنا کر انٹیلیجنس شیئرنگ کو تیز کیا جائے تاکہ ملک دشمن عناصر اور غیر ملکی پراکسیز کا اندرونی نیٹ ورک مکمل تباہ ہو سکے۔ جیسا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے انٹرویو میں واشگاف انتباہ دیا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ملکی سلامتی کے لیے ایک ‘ریڈ لائن’ ہے اور پاکستان خطرہ بننے والے عناصر کو ایسی سزا دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جسے وہ جذب نہیں کر پائیں گے۔

آج پوری قوم اپنی مسلح افواج اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کا دامن تھاما ہے، لیکن اگر ہماری سلامتی کو چیلنج کیا گیا تو نیشنل ایکشن پلان کے تحت اندرونی صفائی، سخت سائبر مانیٹرنگ اور سرحدوں پر ملٹری آپریشنل تیاری کے ذریعے دشمن کے ہر ڈرون، ہر پراکسی اور ہر ناپاک سازش کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔موجودہ نازک موڑ پر ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق سختی سے عمل درآمد جاری رکھے۔ نیکٹا کو مزید فعال بنا کر انٹیلیجنس شیئرنگ کو تیز کیا جائے تاکہ ملک دشمن عناصر اور غیر ملکی پراکسیز کا اندرونی نیٹ ورک مکمل تباہ ہو سکے۔ جیسا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے انٹرویو میں واشگاف انتباہ دیا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ملکی سلامتی کے لیے ایک ‘ریڈ لائن’ ہے اور پاکستان خطرہ بننے والے عناصر کو ایسی سزا دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جسے وہ جذب نہیں کر پائیں گے۔ قوم اپنی مسلح افواج اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کا دامن تھاما ہے، لیکن اگر ہماری سلامتی کو چیلنج کیا گیا تو نیشنل ایکشن پلان کے تحت اندرونی صفائی، سخت سائبر مانیٹرنگ اور سرحدوں پر ملٹری آپریشنل تیاری کے ذریعے دشمن کے ہر ڈرون، ہر پراکسی اور ہر ناپاک سازش کو خاک میں ملا دیا جائے گا نیشنل ایکشن پلان کے تحت سوشل میڈیا پر فرقہ واریت، انتہا پسندی اور نفرت انگیز لٹریچر پھیلانے والے اکاؤنٹس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کالعدم تنظیموں، دہشت گردوں یا ان کے بیانیے کی کسی بھی قسم کی تشہیر، حمایت یا گلوریفیکیشن کو قانوناً ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ معصوم شہریوں کو ہدف بنانے والے ڈیجیٹل فراڈ، کرپٹو اسکامز اور ٹیرر فنانسنگ کے لیے استعمال ہونے والے غیر قانونی آن لائن راستوں کی مکمل ناکہ بندی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ کے ساتھ ساتھ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی کو انٹرنیٹ پر پاکستان کی ڈیجیٹل حدود کی حفاظت اور پروپیگنڈا اکاؤنٹس کی فوری مانیٹرنگ کے لیے خصوصی ٹاسک سونپا گیا ہے۔ آن لائن پلیٹ فارمز پر جعلی شناخت، ہراسمنٹ اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کو روکنے کے لیے جدید ترین ڈیجیٹل مانیٹرنگ ٹولز کا استعمال عمل میں لایا جا رہا ہے۔نیشنل ایکشن پلان کا بنیادی مقصد پاکستان سے دہشت گردی، انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کا جڑ سے خاتمہ کرنا اور ریاست کی رٹ کو ہر صورت بحال رکھنا ہے اس جامع قومی حکمتِ عملی کے تحت بیرونی سرپرستی میں چلنے والی پراکسیز کو ناکام بنانا، دہشت گردوں کے فنانشل نیٹ ورکس (ٹیرر فنانسنگ) کو تباہ کرنا اور انٹرنیٹ و سوشل میڈیا پر نفرت انگیز پروپیگنڈے کو روکنا شامل ہے مزید برآں، نیکٹا جیسے اداروں کے ذریعے انٹیلیجنس شیئرنگ کو تیز کر کے ملک کے اندرونی امن اور سرحدوں کے دفاع کو ہر ممکن حد تک مضبوط بنانا اس پلان کا محور ہے

افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ملکی سلامتی کے لیے ایک واضح ریڈ لائن ہے، جس کا مقصد پاکستان کے داخلی امن اور معاشی استحکام کو نقصان پہنچانا ہے پاکستان کی عسکری قیادت، خصوصاً ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی یہ دہشت گردی خطے کے امن کے لیے ایک سنگین بحران بن چکی ہے تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) جیسے گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جنہیں بھارت کی مکمل مالی اور لاجسٹک سرپرستی حاصل ہے افغان سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہ اب پاکستان کے خلاف جدید جنگی ٹیکنالوجی اور ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں، جو بیرونی اسپانسرز کی طرف سے فراہم کیے جا رہے ہیں پاکستان کی مسلح افواج اور حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت عزم ظاہر کیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا ہوگا، بصورتِ دیگر پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جانے اور سخت ترین تلافی کرنے کی بھرپور آپریشنل صلاحیت رکھتا ہے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق افغان سرپرستی اور افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہ، بشمول تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA)، پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسیز کے طور پر کام کر رہے ہیں یہ عسکریت پسند گروہ افغان سرزمین پر محفوظ ٹھکانے قائم کر کے پاکستان کی سرحدوں پر دہشت گردی کی کارروائیاں سرانجام دے رہے ہیں ان گروہوں کے پاس جدید جنگی ٹیکنالوجی اور ڈرونز موجود ہیں، جو کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان کی اپنی انڈسٹری نہیں بلکہ بیرونی اسپانسرز یعنی بھارت کی طرف سے فراہم کردہ ہیں افغانستان میں ان گروہوں کے علاوہ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM)، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (IMU)، القاعدہ اور داعش خراسان جیسے دیگر غیر ریاستی عناصر بھی موجود ہیں جو علاقائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے تحت یہ واضح کر دیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کا ان گروہوں کو پناہ دینا ملکی سلامتی کے لیے ایک ریڈ لائن ہے، اور اس کا سدباب کرنے کے لیے پاکستان سخت ترین تلافی کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے .