پاک چین تعلقات کے 75 سال ، آہنی دوستی کی منفرد مثال..(اصغر علی مبارک )
پاک چین تعلقات کے 75 سال آہنی دوستی کی ایک ایسی منفرد اور لازوال مثال ہیں جس کی دنیا بھر کی سفارتی تاریخ میں کوئی دوسری نظیر نہیں ملتی۔ 21 مئی 1951 کو قائم ہونے والے یہ سفارتی روابط وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترے اور آج یہ تعلقات ہمالیہ سے اونچے، سمندر سے گہرے اور شہد سے زیادہ میٹھے ہو چکے ہیں۔ اس لازوال دوستی کی بنیادیں 1960ء کی دہائی میں تاریخی سرحدی معاہدے اور پی آئی اے کی بیجنگ کے لیے پروازوں کے آغاز سے ہی مضبوط ہونا شروع ہو گئی تھیں، جس کے بعد دونوں ملکوں کے انجینئرز اور مزدوروں نے مل کر اپنے خون پسینے سے “شاہراہِ ریشم” (قراقرم ہائی وے) جیسا عظیم شاہکار تعمیر کیا جسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہا جاتا ہے۔ دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی، جنگ، قدرتی آفت اور عالمی سیاسی دباؤ کے باوجود ہمیشہ ایک دوسرے کا مخلصانہ اور غیر مشروط ساتھ دیا ہے۔ جہاں پاکستان نے چین کی سلامتی، ون چائنا پالیسی اور دیگر عالمی فورمز پر چینی موقف کی کھل کر حمایت کی، وہاں چین نے بھی ہمیشہ پاکستان کی علاقائی خودمختاری کا دفاع کیا ہے۔
یہ لازوال شراکت داری محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں بلکہ دفاعی اور معاشی میدان میں ایک مضبوط حقیقت بن کر سامنے آئی ہے۔ جے ایف-17 تھنڈر فائٹر جیٹس کی مشترکہ تیاری اور الخالد ٹینک جیسے منصوبے دونوں ممالک کے گہرے دفاعی اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اسی طرح چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے اس تاریخی دوستی کو ایک عظیم معاشی انقلاب میں بدل دیا ہے۔ سی پیک کے پہلے مرحلے کے تحت گوادر بندرگاہ کی تعمیر، ملک گیر موٹرویز کا نیٹ ورک اور متعدد پاور پلانٹس کے قیام نے پاکستان کو توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے بحران سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اب یہ آہنی دوستی سی پیک کے دوسرے مرحلے کے جدید ترین دور میں داخل ہو چکی ہے، جس کے تحت روایتی بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھ کر جدید زراعت، لائیوسٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون کے شعبوں میں انقلابی پیش رفت کی جا رہی ہے تاکہ پاکستانی برآمدات کو بڑھایا جا سکے اور مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
عوامی اور ثقافتی سطح پر بھی دونوں قومیں ایک دوسرے کے بے حد قریب آ چکی ہیں۔ ہزاروں پاکستانی طلبہ چین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں چینی زبان اور ثقافت کو سیکھنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کرونا وبا ہو یا تباہ کن سیلاب، چین نے ہمیشہ سب سے پہلے امداد اور تکنیکی تعاون کی فراہمی یقینی بنائی ہے۔ اب یہ رشتہ محض دو حکومتوں کا نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں کا رشتہ بن چکا ہے، جو زراعت، سائنس اور جدید صنعتی اشتراک کے نئے اور جدید ترین دور کے ساتھ خطے کی خوشحالی، معاشی استحکام اور دونوں ملکوں کے روشن مستقبل کا ضامن ہے۔
سی پیک فیز 2 (CPEC 2.0) کا باقاعدہ آغاز بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں سے ہٹ کر اب صنعت کاری، کاروباری شراکت داری (B2B)، اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی پر مرکوز ہے جس کا مقصد پاکستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور مقامی برآمدات کو بڑھانا ہے۔ حکومتِ پاکستان کے فائیو ایز (5Es) فریم ورک اور 2025-2029 کے ایکشن پلان کے تحت اس دوسرے مرحلے کو پانچ اہم موضوعاتی کوریڈورز یعنی نمو، معاش، جدت، گرین انرجی اور علاقائی روابط میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں صنعتی ترقی کو تیز کرنے کے لیے نو میں سے چار بڑے خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) جن میں فیصل آباد کا علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی، خیبر پختونخوا کا رشکئی زون، سندھ کا دھابیجی اور بلوچستان کا بوسٹن زون شامل ہیں، جزوی طور پر فعال ہو چکے ہیں اور یہاں چینی کمپنیوں کو 10 سالہ ٹیکس ہالیڈے سمیت ڈیوٹی فری امپورٹ کی سہولیات دی گئی ہیں
زراعت کو اس فیز میں اولین ترجیح دی گئی ہے اور حال ہی میں منعقدہ پاک چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران 4.5 ارب ڈالر مالیت کے 78 مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے ہیں، جن کے تحت کارپوریٹ فارمنگ، ہائبرڈ بیجوں کی نئی اقسام (خصوصاً چاول اور کپاس)، جدید آبپاشی کے نظام اور پیسٹ کنٹرول ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کی جا رہی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں حال ہی میں شروع کیا گیا “پاک چین انفارمیشن کوریڈور” (CPIC) دونوں ممالک کی آئی ٹی کمپنیوں، میڈیا ہاؤسز اور تھنک ٹینکس کو آپس میں جوڑنے کا کام کر رہا ہے، جبکہ انسانی وسائل کی ترقی کے لیے آئندہ برسوں میں 10 ہزار پاکستانی طلبہ کو مصنوعی ذہانت (AI)، بگ ڈیٹا اور روبوٹکس جیسے جدید شعبوں میں چین کی ٹاپ یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کروانے کا منصوبہ بھی اس کا حصہ ہے
پاک چین انفارمیشن کوریڈور سی پیک کے دوسرے مرحلے (CPEC 2.0) کا ایک انقلابی اور سٹریٹجک ڈیجیٹل فریم ورک ہے جسے اسلام آباد میں پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے تاریخی موقع پر باضابطہ طور پر لانچ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ، اور چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ کی موجودگی میں شروع کیے جانے والے اس منصوبے کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ جہاں سی پیک فیز 1 نے دونوں ملکوں کی زمینوں اور معیشتوں کو جوڑا، وہیں انفارمیشن کوریڈور اب دونوں قوموں کے دلوں اور ذہنوں کو آپس میں جوڑے گا۔ اس اقدام کا سب سے بڑا مقصد بین الاقوامی سطح پر سی پیک اور پاک چین تعلقات کے خلاف پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے اور فیک نیوز کا مستند حقائق اور مشترکہ فیکٹ چیکنگ کے ذریعے سائنسی و ڈیجیٹل بنیادوں پر مؤثر توڑ کرنا ہےپاک چین انفارمیشن کوریڈور سی پیک کے دوسرے مرحلے کا ایک انقلابی اور سٹریٹجک ڈیجیٹل فریم ورک ہے جسے اسلام آباد میں پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے تاریخی موقع پر باضابطہ طور پر لانچ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ، اور چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ کی موجودگی میں شروع کیے جانے والے اس منصوبے کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ جہاں سی پیک فیز 1 نے دونوں ملکوں کی زمینوں اور معیشتوں کو جوڑا، وہیں انفارمیشن کوریڈور اب دونوں قوموں کے دلوں اور ذہنوں کو آپس میں جوڑے گا۔ اس اقدام کا سب سے بڑا مقصد بین الاقوامی سطح پر سی پیک اور پاک چین تعلقات کے خلاف پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے اور فیک نیوز کا مستند حقائق اور مشترکہ فیکٹ چیکنگ کے ذریعے سائنسی و ڈیجیٹل بنیادوں پر مؤثر توڑ کرنا ہے اس سٹریٹجک ڈیجیٹل کوریڈور کو منظم انداز میں چلانے کے لیے چار بنیادی ستونوں (Four Pillars) پر تقسیم کیا گیا ہے جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

مستند خبروں اور مواد کا براہ راست تبادلہ: اب پاکستان اور چین کے میڈیا ہاؤسز تیسرے فریق (مغربی میڈیا سورسز) پر انحصار کرنے کے بجائے براہ راست ایک دوسرے سے ویڈیوز، دستاویزی فلمیں ، اور معاشی رپورٹس شیئر کرتے ہیں اس سے سی پیک منصوبوں کی اصل کامیابیوں اور دونوں ملکوں کی ثقافتی خوبصورتی کو حقیقی شکل میں پیش کرنے میں مدد مل رہی ہے میڈیا کنسورشیم کے تحت ایک خصوصی ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ نیٹ ورک بھی ڈیزائن کیا گیا ہے ۔ یہ سیریز پاکستان اور چین میں کام کرنے والے کامیاب کاروباری افراد، محققین، اور سی پیک سے فائدہ اٹھانے والے عام لوگوں کی کہانیوں کو عوامی سطح پر اجاگر کرتی ہے اس کونسورشیم کے تحت دونوں ممالک کے صحافیوں، اینکرز اور ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کے لیے خصوصی تربیتی پروگرامز اور دوروں کا انعقاد کیا جاتا ہےپاکستانی میڈیا کے نوجوان پروفیشنلز کو چین کی جدید ترین میڈیا ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، اور ڈیجیٹل براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت دی جا رہی ہےمجموعی طور پر، یہ میڈیا کنسورشیم صرف خبریں پہنچانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل ڈھال ہے جو پاک چین آہنی دوستی کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنانے اور دونوں قوموں کے دلوں اور ذہنوں کو یکجا رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ پاک چین میڈیا کنسورشیم روایتی صحافت سے ہٹ کر ایک ایسا سٹریٹجک فریم ورک بن چکا ہے جو سچائی اور باہمی اعتماد کی مضبوط شاہراہ پر قائم ہے یہ اتحاد خطے میں امن، معاشی استحکام اور سی پیک کے حقیقی ثمرات کو عام کرنے کے لیے دونوں ممالک کا ایک تاریخی اور کلیدی سنگِ میل ہے، جو پاک چین آہنی دوستی کے روشن مستقبل کو پروپیگنڈے کے اندھیروں سے محفوظ رکھنے کا ضامن ہے
پہلا ستون (میڈیا پارٹنرشپ اور نیوز ایکسچینج): اس کے تحت دونوں ممالک کے 18 بڑے میڈیا ادارے باہمی اشتراک سے خبروں اور ڈیجیٹل مواد کا مستند تبادلہ کریں گے۔ گمراہ کن بیانیے کو روکنے کے لیے ایک جدید “مشترکہ فیکٹ چیکنگ نظام” (Joint Fact-Checking Mechanism) قائم کیا گیا ہے، جبکہ اس شعبے کا پہلا علاقائی دفتر کراچی میں قائم کر دیا گیا ہے۔
دوسرا ستون (بزنس اور ٹریڈ پورٹل): دونوں ملکوں کے مابین براہ راست سرمایہ کاری (FDI) اور تجارتی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل ٹریڈ پورٹل بنایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک خصوصی پوڈ کاسٹ سیریز شروع کی جا رہی ہے جو پاکستان اور چین میں کام کرنے والے کامیاب کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کی کہانیوں کو عوامی سطح پر اجاگر کرے گی۔
تیسرا ستون (تھنک ٹینکس کا اشتراک): پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ (PCI) کی سربراہی میں دونوں ممالک کے مابین محققین اور علمی اداروں کا نیٹ ورک بنایا گیا ہے۔ یہ ستون مشترکہ مکالموں، سائنسی ریسرچ پیپرز اور مستند اشاعتوں کے ذریعے باہمی سٹریٹجک تعلقات کو شواہد اور گہرائی فراہم کرے گا۔
چوتھا ستون (سیاحت اور عوامی روابط): اسے اس کوریڈور کا دل قرار دیا گیا ہے، جس کے تحت سنکیانگ اور گلگت بلتستان کے درمیان “سیاحتی کوریڈور” (Xinjiang-Gilgit-Baltistan Tourism Corridor) کو تیزی سے ترقی دی جا رہی ہے تاکہ چینی سیاحوں کے سفر کے دائرے کو پاکستان کی شمالی وادیوں تک بڑھایا جا سکے اور عوامی سطح پر روابط مضبوط ہوں۔
ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ یہ کوریڈور پاکستانی میڈیا ورکرز، آئی ٹی پروفیشنلز اور نوجوان سفیروں (Youth Ambassadors) کو جدید چینی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل میڈیا سکلز سے لیس کرنے کا بہترین ذریعہ بنے گا۔ حکام کے مطابق، یہ ایک ایسی منفرد شاہراہ ہے جو پتھروں یا سڑکوں سے نہیں بلکہ سچائی اور مشترکہ فہم کے اصولوں پر تعمیر کی گئی ہےپاک چین انفارمیشن کوریڈور (CPIC) کا پہلا اور سب سے اہم ستون میڈیا کنسورشیم اور نیوز ایکسچینج نیٹ ورک ہے، جس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے مابین سچائی پر مبنی معلومات کی بلا تعطل فراہمی اور یکطرفہ مغربی یا مخالفانہ پروپیگنڈے کا مؤثر ڈیجیٹل توڑ کرنا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے تحت قائم ہونے والے اس میڈیا کونسورشیم میں پاکستان اور چین کے 18 صفِ اول کے بڑے میڈیا ہاؤسز اور خبر رساں اداروں کو شامل کیا گیا ہے یہ نیٹ ورک “پاک چین میڈیا کونسورشیم” اور دوطرفہ نیوز ایکسچینج معاہدوں کے تحت کام کر رہا ہے، جس کا پہلا باقاعدہ علاقائی دفتر تزویراتی اور تجارتی اہمیت کے حامل شہر کراچی میں قائم کیا گیا ہے تاکہ میڈیا آپریشنز کو زیادہ متحرک اور تیز رفتار بنایا جا سکے • سی پیک فیز 2 اور دونوں ممالک کے سٹریٹجک تعلقات کے خلاف بین الاقوامی سطح پر پھیلائی جانے والی فیک نیوز اور گمراہ کن بیانیے کو سائنسی بنیادوں پر روکنے کے لیے یہ نظام قائم کیا گیا ہے دونوں ممالک کے میڈیا مانیٹرنگ سیل کسی بھی وائرل ہونے والی مشکوک خبر کی فوری تصدیق کر کے اس کی حقیقت سامنے لاتے ہیںسچائی کی شاہراہ: پاک چین میڈیا , پروپیگنڈے کا جدید ڈیجیٹل توڑ
پاکستان اور چین کے مابین قائم سات دہائیوں پر محیط لازوال تعلقات کی تاریخ گواہ ہے کہ دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی، جنگ، اور معاشی بحران میں ایک دوسرے کا مخلصانہ ساتھ دیا ہے۔ اس منفرد “آہنی دوستی” کو معاشی اور تزویراتی میدان میں نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا آغاز کیا گیا، جس کے پہلے مرحلے نے پاکستان کے مواصلاتی ڈھانچے اور توانائی کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں رونما کیں۔ تاہم، جیسے ہی سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہوا، جہاں توجہ صنعتی تعاون، جدید زراعت، اور آئی ٹی کی منتقلی پر مرکوز ہے، ویسے ہی اس عظیم اقتصادی منصوبے اور پاک چین تزویراتی شراکت داری کے خلاف بین الاقوامی سطح پر فیک نیوز اور منفی پروپیگنڈے کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ اس منظم گمراہ کن بیانیے کا سائنسی، عقلی اور جدید ڈیجیٹل بنیادوں پر توڑ کرنے کے لیے دونوں ممالک نے ایک انقلابی فریم ورک تشکیل دیا، جسے “پاک چین انفارمیشن کوریڈور” (CPIC) کا نام دیا گیا ہے
اس انفارمیشن کوریڈور کا سب سے اہم، متحرک اور بنیادی ستون “پاک چین میڈیا کنسورشیم اور نیوز ایکسچینج نیٹ ورک” ہے اسلام آباد میں پاک چین سفارتی تعلقات کی ڈائمنڈ جوبلی تقریب کے موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور چینی حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر فعال کیا جانے والا یہ میڈیا کونسورشیم دونوں ممالک کے 18 صفِ اول کے بڑے میڈیا ہاؤسز، خبر رساں اداروں اور سٹریٹجک تھنک ٹینکس کا ایک طاقتور اتحاد ہے اس کونسورشیم کا پہلا باقاعدہ علاقائی دفتر پاکستان کے معاشی اور ابلاغی مرکز کراچی میں قائم کیا گیا ہے اس تزویراتی اتحاد کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ جہاں سی پیک کے فیز ون نے دونوں ملکوں کی زمینوں اور سڑکوں کو جوڑا، وہاں یہ میڈیا کنسورشیم اب دونوں برادر اقوام کے دلوں اور ذہنوں کو سچائی کے اصولوں پر آپس میں جوڑے گا اور مخالفین کی فکری ریشہ دوانیوں کے خلاف ایک مضبوط معرکہ لڑے گا
اس میڈیا کنسورشیم کا سب سے کلیدی ہتھیار “مشترکہ فیکٹ چیکنگ نظام” ہے، جسے سی پیک اور پاک چین تعلقات کے خلاف وائرل ہونے والی گمراہ کن خبروں اور من گھڑت افواہوں کی سائنسی مانیٹرنگ کے لیے تیار کیا گیا ہے ماضی میں دونوں ممالک کے ابلاغی ادارے کسی بھی منفی پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے الگ الگ کام کرتے تھے، جس کی وجہ سے ردعمل میں تاخیر ہوتی تھی۔ اب اس کونسورشیم کے تحت دونوں ممالک کے مانیٹرنگ سیل چوبیس گھنٹے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی نگرانی کرتے ہیں اور کسی بھی مشکوک یا جھوٹی خبر کے سامنے آتے ہی فوری طور پر حقائق اور دستاویزی شواہد پر مبنی مستند بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کر دیتے ہیں یہ نظام عالمی میڈیا کے یکطرفہ اور متعصبانہ بیانیے کو روکنے کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈھال ثابت ہو رہا ہے
میڈیا کونسورشیم کی دوسری بڑی خصوصیت “براہ راست مواد کا تبادلہ” ہے، جس نے مغربی خبر رساں ایجنسیوں کے محتاجانہ انحصار کو جڑ سے ختم کر دیا ہے ۔ اب پاکستان اور چین کے ابلاغی ادارے خبروں، معاشی رپورٹس، معلوماتی ویڈیوز اور دستاویزی فلموں کا براہ راست تبادلہ کرتے ہیں اس اقدام کی بدولت سی پیک فیز ٹو کے تحت ہونے والی حقیقی معاشی ترقی، صنعتی زونز کی فعالیت، جدید زرعی اصلاحات اور دونوں ملکوں کے خوبصورت ثقافتی رنگوں کو عوام تک ان کی اصل اور سچی شکل میں پہنچایا جا رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی، کونسورشیم نے ایک جدید ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ نیٹ ورک بھی متعارف کرایا ہے، جس میں سی پیک کے منصوبوں سے فائدہ اٹھانے والے عام شہریوں، چینی و پاکستانی ماہرین اور کامیاب کاروباری شخصیات کی حقیقی کہانیاں دنیا کے سامنے لائی جا رہی ہیں ,
معلومات کے اس جدید کوریڈور کو طویل مدتی بنیادوں پر مستحکم بنانے کے لیے انسانی وسائل کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے کونسورشیم کے تحت دونوں ممالک کے صحافیوں، اینکرز اور ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کے لیے باقاعدہ تبادلوں اور تربیتی پروگراموں کا آغاز کیا گیا ہے اس پروگرام کے ذریعے پاکستانی میڈیا سے وابستہ نوجوان پیشہ ور افراد کو چین کے جدید ترین میڈیا ہاؤسز میں لے جا کر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، بگ ڈیٹا، اور جدید ترین ڈیجیٹل براڈکاسٹنگ ٹیکنالوجی کی اعلیٰ معیار کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے ۔ یہ تربیت نہ صرف پاکستانی صحافت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد دے رہی ہے، بلکہ نوجوانوں کی ایک ایسی کھیپ تیار کر رہی ہے جو ڈیجیٹل دنیا میں سچائی کی سفیر بن کر ابھر رہی ہے
پاک چین میڈیا کنسورشیم روایتی صحافت سے ہٹ کر ایک ایسا سٹریٹجک فریم ورک بن چکا ہے جو سچائی اور باہمی اعتماد کی مضبوط شاہراہ پر قائم ہے یہ اتحاد خطے میں امن، معاشی استحکام اور سی پیک کے حقیقی ثمرات کو عام کرنے کے لیے دونوں ممالک کا ایک تاریخی اور کلیدی سنگِ میل ہے، جو پاک چین آہنی دوستی کے روشن مستقبل کو پروپیگنڈے کے اندھیروں سے محفوظ رکھنے کا ضامن ہے




