وزیرِ اعظم پاکستان کا زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پہنچنے پر اظہارِ تشکر
( اصغر علی مبارک )
وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان کے معاشی استحکام کی جانب ایک اور تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اس غیر معمولی اور تاریخی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق، مرکزی بینک کے ذخائر میں ہفتہ وار بنیادوں پر 3.06 ارب ڈالر کا بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر (بشمول کمرشل بینکوں کے 5.4 ارب ڈالر) بڑھ کر 26.8 ارب ڈالر کی سطح کو عبور کر چکے ہیں۔ یہ ستمبر 2021 کے بعد پاکستان کے مجموعی ذخائر کی سب سے بلند ترین سطح ہے۔
پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کی موجودہ صورتحالملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے مالیاتی حجم کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
زرمبادلہ کے ذخائر کا شعبہ;
موجودہ حجم (ارب امریکی ڈالر)معاشی اہمیت اور اثراتاسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP)$21.4 Billionمرکزی بینک کی تاریخ کا سب سے بڑا ریکارڈ، جو بیرونی ادائیگیوں کو مضبوط ڈھال فراہم کرتا ہے۔تجارتی بینک (Commercial Banks)$5.4 Billionنجی بینکوں کے پاس محفوظ نیٹ زرمبادلہ، جو تجارتی کریڈٹ لائنز کو مستحکم رکھتا ہے۔مجموعی ملکی مائع ذخائر (Total Liquid)$26.8 Billionمجموعی امپورٹ کور (Import Cover) اب 3 ماہ سے زائد کی محفوظ ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا معاشی ٹیم کو خراجِ تحسین ;
وزیرِ اعظم آفس سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور پوری معاشی ٹیم کی دن رات کی انتھک محنت کو سراہا ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کے بنیادی عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:درست اقدامات اور معاشی ڈسپلن: “زرمبادلہ کے ذخائر کا 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنا ہماری معاشی ٹیم کی شب و روز محنت اور صحیح سمت میں اٹھائے گئے پالیسی اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔”انحصار میں تبدیلی (قرضوں کے بغیر اضافہ):
وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ ماضی کے برعکس، ذخائر میں یہ حالیہ اضافہ صرف بیرونی قرضوں پر انحصار کر کے نہیں بڑھایا گیا، بلکہ مارکیٹ سے فاریکس کی خریداری اور پائیدار ذرائع سے ممکن ہوا ہے۔بنیادی معاشی محرکات: اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (Remittances) میں نمایاں بہتری، سروسز کی برآمدات (Services Exports) میں ریکارڈ اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ کی بہتر صورتحال اور سخت مالیاتی نظم و ضبط نے اس ہدف کو حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
عالمی منڈیوں کا اعتماد اور آئندہ کا معاشی وژن;
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ عالمی کیپٹل مارکیٹس میں پاکستان کی کامیاب واپسی اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کا ملکی معیشت پر اعتماد بحال ہو چکا ہے۔ زرمبادلہ کے ان مستحکم ذخائر کی بدولت نہ صرف پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت مضبوط ہوگی، بلکہ ملکی کرنسی (روپے) کو استحکام ملے گا اور عالمی معاشی چیلنجز کے خلاف ایک پائیدار ڈھال میسر آئے گی۔ یہ مستحکم پوزیشن مستقبل میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) اور پائیدار معاشی ترقی کے نئے راستے کھولے گی۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ”زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنا معاشی ٹیم کی دن رات محنت اور درست سمت میں کیے گئے اقدامات کا ثبوت ہے۔ ترسیلاتِ زر اور سروسز کی برآمدات میں نمایاں بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ کی بہتر صورتحال اور مالیاتی نظم و ضبط نے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔”





