کفایت شعاری مہم کا نفاذ، وزیرِ اعظم پاکستان کا بروقت اقدام

: اصغر علی مبارک

بین الاقوامی بحران اور وزیرِ اعظم کا بروقت اقدام

وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ معاشی و توانائی بحران کے تناظر میں 3 ماہ کے لیے سخت کفایت شعاری مہم کا نفاذ اور نوٹیفیکیشن کا اجراء یقیناً ایک بروقت اور دوراندیشانہ اقدام ہے۔ موجودہ جغرافیائی و سیاسی حالات اور عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کے خدشات کو بھانپتے ہوئے ملکی سطح پر قبل از وقت ایندھن اور بجٹ کی بچت کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا تھا۔

اس سال کے سابقہ تجربے کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا اٹھایا گیا یہ قدم انتہائی بروقت اور دوراندیشانہ ہے۔ اگر ہم جغرافیائی و سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ماضی میں امریکہ اور ایران کے درمیان بحران اور خلیجی جنگ کی وجہ سے پاکستان شدید متاثر ہوا تھا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی معطل ہوئی اور پاکستان کو بدترین معاشی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔ موجودہ عالمی تناظر میں صورتحال ایک بار پھر تشویشناک رخ اختیار کر چکی ہے اور اب سعودی عرب پر حوثی حملوں کے باعث دوبارہ بحرانی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔ چونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اس لیے وہاں ہونے والی کسی بھی مہم جوئی یا حملوں کا براہِ راست اثر ہماری معیشت اور پٹرول کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اس بیرونی خطرے کو بھانپتے ہوئے ملکی سطح پر قبل از وقت ایندھن اور توانائی کی بچت کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھانا حکومتِ وقت کی ایک تعمیری حکمتِ عملی ہے۔

ماضی کا ملکی تجربہ اور تاجروں کے اوقاتِ کار کی تبدیلی

تاہم جہاں یہ بین الاقوامی بحران بیرونی خطرہ ہے، وہیں ہمارا داخلی بحران پالیسیوں کے نفاذ (Implementation) کا ہے۔ ماضی کا ملکی تجربہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ پاکستان میں مہمات کا اعلان کرنا کبھی بھی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اصل بحران ہمیشہ ان کے تسلسل اور نفاذ میں دیکھنے کو ملا ہے۔ بازار جلدی بند کروانے کی کوششیں اکثر تاجروں کے شدید احتجاج اور انتظامیہ کے ساتھ تصادم پر ختم ہوئیں، جس کی وجہ سے حکومتوں کو اپنے ہی فیصلے بار بار واپس لینے پڑے۔

کفایت شعاری مہم کی کامیابی کے لیے تاجروں کی عادات میں تبدیلی لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ دوپہر یا سہ پہر کے بجائے صبح سویرے کم از کم صبح 8 بجے دکانیں کھولیں اور دن کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ اس سلسلے میں تاجر تنظیموں کا تعاون بھی حاصل کیا جائے تاکہ فیصلوں پر زبردستی کے بجائے باہمی رضامندی سے عمل کروایا جا سکے۔ جب تک سخت اور بلا امتیاز قانون کا نفاذ، متبادل معاشی سرگرمیوں کا تحفظ اور وفاق و صوبوں کے درمیان مضبوط کوآرڈینیشن کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، تب تک قومی خزانے کو حقیقی ریلیف نہیں مل سکتا۔

سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم اور ہیٹرز/ایسیز پر پابندی

حکومتِ پاکستان کی جانب سے حالیہ معاشی و ایندھن کے بحران کے پیشِ نظر سرکاری ملازمین کے لیے گھر سے کام (Work from Home) اور 4 روزہ ہفتۂ کار کا نفاذ کفایت شعاری مہم کا ایک انقلابی اور ناگزیر حصہ ہے۔ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سپلائی کے ممکنہ تعطل سے نمٹنے کے لیے یہ پالیسی قومی خزانے اور ایندھن کی بچت میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

کفایت شعاری مہم کو حقیقی معنوں میں بارآور بنانے کے لیے وفاقی حکومت کا سرکاری ملازمین کو 50 فیصد تک گھر سے کام کی اجازت دینا اور 4 روزہ ہفتۂ کار (Four-Day Work Week) متعارف کروانا ایک انتہائی مثر اقدام ہے۔ روایتی دفتری نظام میں روزانہ ہزاروں سرکاری ملازمین کی آمد و رفت، دفتری گاڑیوں کے پٹرول کا استعمال اور دفاتر میں بجلی و گیس کا بے تحاشا ضیاع معیشت پر بھاری بوجھ بنتا ہے۔ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب زیادہ تر دفتری امور، فائلنگ اور میٹنگز آن لائن یا ای-گورننس پورٹلز کے ذریعے ممکن ہیں تو ملازمین کو متبادل دنوں میں گھر سے کام کرنے کی ترغیب دینا وقت اور پیسے دونوں کی بڑی بچت ہے۔

اس کے ساتھ ہی محکمے کے سربراہ کو اس بات کا نفاذ یقینی بنانا چاہیے کہ دفاتر میں ایئر کنڈیشنر اور گیس ہیٹرز وغیرہ کا فضول استعمال بالکل نہ ہو۔ ہم نے دیکھا ہے کہ سردیوں میں گیس ہیٹرز بلاوجہ جلتے رہتے ہیں اور گرمیوں میں اے سی کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر اس پالیسی کو سخت مانیٹرنگ اور جدید ٹاسک مینجمنٹ سافٹ ویئرز کے ساتھ نافذ کیا جائے تو یہ نہ صرف پٹرول اور یوٹیلٹی بلز کی مد میں کروڑوں روپے کی بچت کرے گی بلکہ سرکاری ملازمین کی کارکردگی (Productivity) میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو بحرانوں کو جدید طرزِ عمل اپنا کر مواقع میں بدلا جا سکتا ہے۔

شادی ہالز کے اوقات اور رات کی تقریبات پر اضافی چارجز

بجلی اور ایندھن کی بچت کے لیے ایک اور اہم اور فوری اقدام یہ ہے کہ شادی بیاہ جیسی تمام رات کی تقریبات لازمی طور پر دن کے اوقات میں منعقد کی جانی چاہئیں۔ رات کے وقت ہالز میں ہونے والی لائٹنگ اور ایئر کنڈیشننگ قومی گرڈ پر شدید بوجھ ڈالتی ہے۔ اگر کوئی شہری ان تقریبات کو ہر صورت رات کے وقت ہی منعقد کرنے کا خواہشمند ہو تو حکومت کو چاہیے کہ ان پر سو فیصد اضافی چارجز یا ٹیکس عائد کرے، تاکہ اس اسراف کی حوصلہ شکنی ہو اور قومی خزانے کو بھی ریلیف ملے۔

معاشی بحران، آئی ایم ایف قرضے اور کھیلوں کی ترجیحات

ایک اور غور طلب بات یہ ہے کہ اگرچہ ہم ایک معاشی طور پر کمزور ملک ہیں اور ہم نے آئی ایم ایف (IMF) وغیرہ سے بھاری قرضے لے رکھے ہیں، اس کے باوجود ہم ایک ترقی یافتہ اور امیر قوم کی طرح دن رات (ڈے اینڈ نائٹ) کرکٹ میچوں کا بڑے پیمانے پر اہتمام کرتے ہیں۔ نہ صرف بین الاقوامی بلکہ مقامی ٹیموں کے لیے بھی یہ غیر ضروری مشق جاری ہے۔ اس اسراف اور طرزِ عمل کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان میچوں خصوصاً نائٹ میچز کی فلڈ لائٹس کو چلانے کے لیے بڑے بڑے جنریٹرز میں بھاری مقدار میں ڈیزل اور قیمتی ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ ایک مقروض معیشت میں جہاں عوام بجلی اور پٹرول کے بلوں سے دبے ہوئے ہوں، وہاں تفریح کے نام پر اتنے بڑے پیمانے پر ایندھن کا ضیاع کسی بھی طور دانشمندی نہیں ہے۔ ایسے ایونٹس کو دن کی روشنی میں منعقد کر کے کروڑوں روپے کے ڈیزل کی بچت کی جا سکتی ہے۔

تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ

توانائی کی بچت کے لیے ایک اور اہم تجویز یہ ہے کہ اسکولوں کو حکومتی احکامات پر لازمی عمل درآمد کرنا چاہیے۔ ماضی میں ہم نے دیکھا ہے کہ طلبہ کی آمد و رفت (پک اینڈ ڈراپ) کے لیے ہزاروں گاڑیاں استعمال ہوتی رہی ہیں، جس سے نہ صرف پٹرول کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی بڑھتا ہے۔ تعلیمی اداروں کے لیے ہفتے میں چار دن مقرر کر کے اور آن لائن یا متبادل تدریسی طریقوں کو اپنا کر توانائی کی بڑے پیمانے پر بچت کی جا سکتی ہے۔

اسی طرح پارکوں اور دیگر تفریحی مقامات پر لوگوں کے غیر ضروری دوروں اور آمد و رفت پر پابندی کے نفاذ کے ذریعے اسمارٹ لاک ڈاؤن کو مثر بنایا جا سکتا ہے۔ جب تک عوامی سطح پر ایندھن کے غیر ضروری استعمال کو روکنے کے لیے ایسی انتظامی پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی تب تک قومی سطح پر بچت کے اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان تمام شعبوں میں سخت اور واضح پالیسی نافذ کرے۔

عدالتی نظام میں اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کی ضرورت

کفایت شعاری مہم کو صرف انتظامی دفاتر تک محدود رکھ کر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے، جب تک کہ ہمارے عدالتی نظام میں فوری اصلاحات نہ کی جائیں۔ اس وقت ملک بھر میں صرف ملزمان کی عدالتوں میں حاضری اور پیشی کے لیے روزانہ ہزاروں سرکاری گاڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں، جو قومی خزانے پر کروڑوں روپے کے پٹرول اور ڈیزل کا اضافی بوجھ ڈالتی ہیں۔ اس فرسودہ اور غیر ضروری مشق کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے فوری طور پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اگر ہر عدالت یا جیل میں ایک مخصوص عدالتی افسر کو ڈیجیٹل یا آن لائن حاضری کے لیے تعینات کر دیا جائے، تو جیل سپرنٹنڈنٹس کی مدد سے ملزمان کی حاضری اور یہاں تک کہ گواہوں کے بیانات بھی آن لائن ریکارڈ کیے جا سکتے ہیں۔ یہ انقلابی قدم نہ صرف روزانہ لاکھوں روپے کے ایندھن کی بچت کرے گا بلکہ سیکیورٹی کے نام پر تعینات ہزاروں پولیس اہلکاروں کے وقت اور نفری کو بھی دیگر اہم ملکی امور میں استعمال کے قابل بنائے گا۔ عدالتی نظام میں فوری اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے بغیر سرکاری سطح پر کسی بھی کفایت شعاری مہم کی مکمل کامیابی ممکن نہیں۔

برقی گاڑیوں (EVs) کا فروغ: پٹرولیم امپورٹ بل کا پائیدار حل

ملکی سطح پر ایندھن کی بچت اور مستقل بنیادوں پر معاشی استحکام کے لیے برقی گاڑیوں (EVs) کے استعمال کی پالیسی کا نفاذ اب پاکستان کی ضرورت بن چکا ہے۔ پاکستان سالانہ اربوں ڈالرز کا قیمتی زرمبادلہ صرف پٹرول اور ڈیزل کی درآمد پر خرچ کر دیتا ہے، جو ہماری معیشت پر ایک مستقل بوجھ ہے۔ اگر سرکاری گاڑیوں کے بیڑے کو مرحلہ وار برقی گاڑیوں پر منتقل کیا جائے اور عوام کے لیے الیکٹرک بائیکس اور کاروں پر ڈیوٹیز کم کی جائیں، تو پٹرول کے امپورٹ بل میں اربوں ڈالرز کی فوری بچت ممکن ہے۔

اس پالیسی کی کامیابی کے لیے ملک بھر میں سولر انرجی سے چلنے والے چارجنگ اسٹیشنز کا نیٹ ورک قائم کرنا ہوگا تاکہ گرڈ پر بوجھ ڈالے بغیر اس گرین ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ یہ اقدام نہ صرف ملکی خزانے کو پٹرول کے بھاری بوجھ سے آزاد کرے گا، بلکہ بڑے شہروں کو ہر سال لپیٹ میں لینے والی بدترین سموگ اور فضائی آلودگی کا بھی ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دے گا۔