وزیراعظم شہباز کا تاجکستان کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں تعاون بڑھانےکا عزم …….(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)……. پاکستان اور تاجکستان کے مابین خارجہ تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ دونوں ممالک محض 16 کلومیٹر (10 میل) کی دوری پر واقع ہیں۔ واخان راہداری شمال مشرقی افغانستان میں ایک تنگ خطہ ہے، جو چین تک پھیلا ہوا ہے یہ خطہ تاجکستان کو پاکستان سے الگ کرتا ہےدونوں ریاستوں کے مابین تعلقات اس وقت قائم ہوئے جب سویت اتحاد کے خاتمے کے بعد جمہوریہ تاجک آزاد ہوا۔ تجارت اور تعاون دونوں ممالک کے مابین مستقل طور پر فروغ پا رہا ہے، جس میں دو طرفہ تجارت میں بہتری لانے کے بارے میں متعدد اجلاس منعقد ہوئے ہیں۔ مارچ 2008ء میں تاجکستان نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک پاکستان اور ایران کو سستی بجلی برآمد کرے گا2019ء میں، پاکستان نے تاجک پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا آن ارائیول سہولیات کا اعلان کیا۔پاکستان میں کم از کم 12 لاکھ تاجک باشندے آباد ہیں۔ حالیہ برسوں میں، تاجکستان کے بہت سے تاجک اپنے آبائی ملک کےمعاشی حالات کی وجہ سے پاکستان میں آباد وادی اشکومن میں آباد ہیں۔ 1979ء میں، افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے ساتھ، اس ملک سے ایک بڑی تعداد میں تاجک مہاجرین آئے اور پورے پاکستان میں آباد ہو گئے۔ صحیح تعداد کا پتا لگانا مشکل ہے کیوں کہ بہت سے سرکاری شناختی کارڈ نہیں رکھتے ہیں یا ان کی تعداد مردم شماری کے اعداد و شمار میں چترالی یا گلگتی کی حیثیت سے ہے۔ افغانستان سے آنے والے تاجک باشندوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے جو مستقل طور پر پاکستان میں آباد ہو گئی ہے۔ تاجکستان کے بہت سے تاجک مہاجرین پاکستان میں مقیم تھے اور ان میں سے کچھ تاجکستان واپس چلے گئے تھے، اسلام آباد میں منعقدہ ایک میٹنگ میں، تاجک صدر اور پاکستانی وزیر اعظم نے چترال – اشکاشم – دوشنبہ جیسے روڈ نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان اور تاجکستان کو جوڑنے کے منصوبوں کی تصدیق کی،
جمہوریہ تاجکستان وسط ایشیا کا ایک خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے۔ اس کی سرحدیں جنوب میں افغانستان، مغرب میں ازبکستان، شمال میں کرغیزستان اور مشرق میں چین سے ملتی ہیں۔ یہ تاجک نسل کے باشندوں کا وطن ہے، جن کی ثقافتی و تاریخی جڑیں ایران میں پیوست ہیں اور یہ فارسی سے انتہائی قربت رکھنے والی زبان تاجک بولتے ہیں۔ سامانی سلطنت کا گہوارہ رہنے والی یہ سرزمین 20 ویں صدی میں سوویت اتحاد کی باضابطہ جمہوریہ رہی جسے تاجیک سوویت اشتراکی جمہوریہ کہا جاتا تھا۔سوویت اتحاد سے آزادی ملنے کے بعد تاجیکستان 1992ء سے 1997ء تک زبردست خانہ جنگی کا شکار رہا۔ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سیاسی استحکام، غیر ملکی امداد اور ملک کے دو بڑے قدرتی ذرائع کپاس اور المونیم نے ملکی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔یہ سرزمین، جہاں اب تاجکستان واقع ہے، 4 ہزار قبل مسیح سے مستقل آباد ہے۔ یہ علاقہ تاریخ میں مختلف سلطنتوں کے زیر نگیں رہا ہے۔ قبل از مسیح میں یہ علاقہ باختر کی سلطنت کا حصہ تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلام یہاں بھی داخل ہوا۔ عباسی دور کے آخر میں جب سلطنت اسلامیہ کے مختلف حصوں میں نئی ریاستیں وجود میں آئیں تو اولین ریاستوں میں سے ایک ریاست سامانی سلطنت یہاں وجود میں آئی تھی جس نے سمرقند اور بخارا کے شہر بنائے جو تاجکوں کے ثقافتی مراکز بنے۔ بعد ازاں منگولوں نے وسط ایشیا پر عارضی طور پر قبضہ کیا۔ سلطنت روس کا حصہ بننے سے پہلے یہ علاقہ امارت بخارا میں شامل تھا۔19 ویں صدی میں سلطنت روس نے وسط ایشیا پر اپنے پنجے گاڑنا شروع کیے اور تاجکستان پر بھی قبضہ کر لیا۔ 1917ء میں زار روس کی سلطنت کے خاتمے کے بعد وسط ایشیا میں بسماچی تحریک کا آغاز ہوا جنھوں نے آزادی کے لیے سرخ افواج کے خلاف زبردست مزاحمت کی۔ لیکن اس تحریک کو کچل دیا گیا اور یہ علاقہ سوویت اتحاد کا حصہ بن گیا۔ اشتراکی دور میں یہاں مذہب بالخصوص اسلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا اور مساجد و عبادت گاہوں کو بند کر دیا گیا۔1924ء میں تاجک خود مختار اشتراکی جمہوریہ کا قیام عمل میں لایا گیا جو ازبکستان کا حصہ تھی لیکن 1929ء میں تاجک سوویت اشتراکی جمہوریہ کو دستوری جمہوریہ کے طور پر الگ کیا گیا۔ ماسکو نے وسط ایشیا کی ریاستوں میں سب سے کم تاجکستان پر توجہ دی اور یہ طرز زندگی، تعلیم اور صنعت میں وسط ایشیا کی تمام ریاستوں میں سب سے پیچھے رہی۔ 1970ء کی دہائی میں مختلف نظریات کی حامل خفیہ اسلامی جماعتیں قائم ہوئیں اور 1980ء کی دہائی کے اواخر میں تاجک قوم پرستوں نے اضافی حقوق دینے کا مطالبہ کیا۔ 1990ء تک علاقے میں بڑے پیمانے پر گڑ بڑ پیدا نہیں ہوئی۔ اگلے ہی سال سوویت اتحاد ٹوٹ گیا اور تاجکستان نے آزادی کا اعلان کر دیا۔




آزادی کے فوراً بعد ملک بد ترین خانہ جنگی کا شکار ہوا جس میں مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے قبائل آمنے سامنے ہو گئے۔ اس عہد میں غیر مسلم آبادی، جو زیادہ تر روسیوں اور یہودیوں پر مشتمل تھی، ایذا رسانی کے خوف، بڑھتی ہوئی غربت اور مغرب میں بہتر اقتصادی مواقع ملنے کے باعث ملک سے فرار ہو گئی۔ 1992ء میں امام علی رحمانوف بر سر اقتدار آئے اور اب تک ملک کے حکمران ہیں۔ 1997ء میں رحمانوف اور حزب مخالف کی جماعتوں (تاجک متحدہ حزب اختلاف) کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ 1999ء میں پر امن انتخابات کا انعقاد ہوا اور رحمانوف ایک مرتبہ پھر ملک کے صدر قرار پائے۔ حزب مخالف نے ان انتخابات کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
افغانستان کے ساتھ سرحد کی حفاظت کے لیے روسی افواج موسم گرما 2005ء تک ملک میں موجود رہیں۔ 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد سے امریکی و فرانسیسی افواج اس ملک میں موجود ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلا ملک تھا جس نے 38 برس قبل تاجکستان کو تسلیم کیا تھا اور اس کے بعد سے ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں۔ تاجکستان کا ایک بہت اہم مقام ہے، جو وسطی ایشیا کا گیٹ وے ہے اس لیے تاجکستان کے ساتھ بہت قریب سے کام کرنے کے منتظرہیں۔ صنعت اور زراعت سمیت دیگر مشترکہ معاشی منصوبوں میں تعاون بڑھانے اور باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور تاجکستان کو مزید قریب ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان ، تاجکستان کے ساتھ وسطی ایشیائی ممالک ریل، سڑک اور معیشت کے ذریعے جوڑنے کے لیے کام کرنے کا منتظر ہےوزیراعظم نے تاجک صدر کو پاکستان آنے پر خوش آمدید کہتے ہوئے کا کہناتھا کہ ’ہم بہت پُرجوش اور خوش ہیں اور امید ہے کہ یہ دورہ دونوں عظیم ممالک کے درمیان تعاون اور ترقی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تاجکستان کے صدر کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں، پاکستان تاجکستان کے بہن بھائیوں کا دوسرا گھر ہے، پاکستان اور تاجکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کاسا 1000 منصوبے کی جلد تکمیل کے خواہش مند ہیں، پاکستان وسط ایشیائی ملکوں کے ساتھ روابط کا فروغ چاہتا ہے، تاجکستان وسط ایشیا کا اہم ملک ہے، ہم مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔
تاجک صدر امام علی رحمان کا کہنا تھا کہ پرتپاک استقبال پر پاکستانی وزیراعظم اور عوام کا شکرگزار ہوں، پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں، تاجکستان پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے،کاسا1000 سمیت دیگر منصوبوں کی جلد تکمیل کے خواہاں ہیں۔
تاجک صدرکا کہنا تھا کہ پاکستان اور تاجکستان یک جان دو قالب ہیں، پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی سمیت دیگر چیلنجز سے نمٹیں گے، افغانستان میں امن واستحکام کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کرکام کریں گے۔ اس موقع پر تاجک صدر امام علی رحمٰن نے پاکستان کے ساتھ بردارانہ تعلقات کو سراہتے ہوئےکہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ ان تعلقات کو جاری رکھنے اور ترقی کے فروغ کے لیے خاص اہمیت دی ہے۔
تاجک صدرکا کہنا تھا کہ ہم آج کی اعلیٰ سطحی اجلاس کے نتائج اور مشترکہ کوششوں کے تسلسل کی تعریف کرتے ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پائے گئے معاہدوں سے دونوں ریاستوں کے درمیان تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
تاجک صدر نے آج کے اجلاس کے دوران اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری بالخصوص توانائی اور ٹرانسپورٹ روابط کے شعبوں میں تجارت کی مزید ترقی کو یقینی بنانے پر توجہ دینے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے منصوبوں کو برقرار رکھنے کے لیے اہم تبادلہ خیال ہوا ہے اس کے علاوہ خوراک، زراعت اور دوا ساز صنعتوں جیسے متعدد معاملات ترجیحات میں شامل ہیں۔تاجکستان کے تین بیرونی علاقے بھی ہیں جو وادی فرغانہ میں واقع ہیں جہاں کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان آپس میں ملتے ہیں۔ ان بیرونی علاقوں میں سب سے بڑا وروخ ہے جس کی آبادی 23 سے 29 ہزار ہے جس میں سے 95 فیصد تاجک اور 5 فیصد کرغز ہیں۔ یہ علاقہ کرغز علاقے میں اسفارا سے 45 کلومیٹر جنوب میں دریائے کرفشیں کے کنارے واقع ہے۔ دونوں بیرونی علاقہ کرغزستان میں کائراغچ کے ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک چھوٹی سی آبادی ہے جبکہ آخری سروان کا کاؤں ہے جو ایک زمین کا ایک چھوٹا سا قطعہ ہے جو 15 کلومیٹر طویل اور ایک کلومیٹر عریضہے جو انگرین سے خوقند کے درمیانی راستے پر واقع ہے۔آزادی کے فوراً بعد تاجکستان مختلف فریقین کے درمیان لڑائی کے باعث خانہ جنگی کا شکار بن گیا، جنہیں مبینہ طور پر ایران اور روس کی حمایت حاصل تھی۔ خانہ جنگی کے دوران تمام 4 لاکھ روسی باشندے، سوائے 25 ہزار کے، اس علاقے سے روس چلے گئے۔ 1997ء میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا اور 1999ء میں پر امن انتخابات کے ذریعے مرکزی حکومت قائم ہوئی۔
تاجکستان باضابطہ طور پر ایک جمہوریہ ہے جہاں صدر اور پارلیمان منتخب کرنے کے لیے انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔ آخری انتخابات 2005ء میں ہوئے اور گزشتہ تمام انتخابات کی طرح ان انتخابات کو بھی بین الاقوامی مبصرین نے غیر منصفانہ قرار دیا۔
حزب اختلاف کی کئی اہم جماعتوں نے 6 نومبر 2006ء کو ہونے والے انتخابات کا مقاطعہ کیا جن میں 23 ہزار اراکین پر مشتمل اسلامی نشاۃ ثانیہ پارٹی بھی شامل تھی۔ تاجکستان اس وقت تک وسط ایشیا کا واحد ملک ہے جہاں متحرک حزب اختلاف موجود ہے۔ پارلیمان میں حزب اختلاف کے اراکین کا بسا اوقات حکومتی اراکین سے تصادم ہوتا رہتا ہے تاہم اس سے بڑے پیمانے پر کوئی عدم استحکام پیدا نہیں ہوا۔تاجکستان اشتراکی عہد ہی سے دیگر ریاستوں کے مقابلے میں ایک غریب ریاست تھی اور آزادی کے فوری بعد خانہ جنگی نے اس کی معیشت کو لب گور پہنچا دیا۔ 2000ء میں بحالی کے منصوبوں کی مدد کے کا سب سے اہم ذریعہ بین الاقوامی امداد ہی تھی۔ بین الاقوامی امداد نے خطے میں غذائی پیداوار کی مسلسل کمی اور قحط کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ 21 اگست 2001ء کو صلیب احمر نے اعلان کیا کہ قحط تاجکستان کو نشانہ بنا رہا ہے اور تاجکستان اور ازبکستان کے لیے بین الاقوامی امداد کا مطالبہ کیا۔
خانہ جنگی کے بعد تاجکستان معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2000ء سے 2004ء کے درمیان تاجکستان کے جی ڈی پی میں 9.6 فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔
تا جکستان کی معیشت میں آمدنی کے بنیادی ذرائع ایلومینیم کی پیداوار،کپاس کی کاشت اور بیرون ملک مقیم تاجک باشندوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر ہیں۔ تاجکستان کے جی ڈی پی کا تقریباً 47 فیصد حصہ بیرون ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر سے آتا ہے۔ بیرون ملک مقیم باشندوں میں 90 فیصد روس میں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ملک کا صرف 7فیصد رقبہ قابل کاشت ہے اور کپاس سب سے اہم زرعی پیداوار ہے۔ اس کے علاوہ اجناس ،پھلوں اور سبزیوں کی کاشت بھی ہوتی ہے۔ تاجکستان اپنی خوراک کی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے۔ معدنیات میں سونا،چاندی،یورینیم اور ایلومینیم زیادہ اہم ہیں۔ ایلومینیم کی صنعت حکومتی تحویل میں ہے اور تاجکستان کا ایلومینیم پلانٹ وسطی ایشیا میں سب سے بڑا پلانٹ ہے۔تاجکستان کی آبادی جولائی 2006ء کے اندازوں کے مطابق 7،320،815 ہے۔ سب سے بڑا نسلی گروہ تاجک ہے، جبکہ ازبک باشندوں کی بڑی تعداد بھی تاجکستان میں رہائش پزیر ہے۔ روسیوں کی تھوڑی سی آبادی بھی یہاں رہتی ہے جو ہجرت کے باعث کم ہوتی جا رہی ہے۔ ملک کی باضابطہ زبان تاجک فارسی ہے جبکہ کاروباری و حکومتی معاملات میں روسی زبان بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ غربت کے باوجود تاجکستان میں خواندگی کی شرح بہت زیادہ ہے اور تقریباً 98 فیصد آبادی لکھنے و پڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ملک کی اکثر آبادی اسلام کی پیروی کرتی ہے جن میں سنی بہت بڑی اکثریت میں ہیں جبکہ شیعہ مختصر اقلیت میں ہیں۔ بخاری یہودی دوسری صدی قبل مسیح سے اس علاقے میں رہتے ہیں تاہم آج ان کی تعداد چند سو ہی ہے۔
اسلام، پورے وسطی ایشیا میں ساتویں صدی عیسوی سے، جب سے عربوں کے ذریعے یہاں اسلام پہنچا، اہم مذہب ہے۔ اسلام تب سے تاجکی ثقافت کا حصہ بن چکا ہے تاجکستان ایک سیکولر ملک ہے، سوویت دور کے دوران میں، معاشرے کو مذہب بے زار کرنے کی کوششوں کو بڑی حد تک ناکام ملی اور سوویت دور کے بعد مذہبی رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
تاجکستان کے مسلمانوں کی اکثریت سنی اسلام پر عمل کرتی ہے اور اسماعیلی نزارے شیعیون کی بھی ایک معمولی تعداد موجوھ ہے۔ تاجکستان میں دوسرا بڑا مذہب روسی راسخ الاعتقاد کلیسیا ہے، اگرچہ 1990ء کی دہائی کی ابتدا میں ان کی تعداد کم ہوئی۔ کچھ دیگر مسیحی فرقے بھی معمولی تعداد میں موجود ہیں جب کہ یہودیوں کی بھی مختصر تعداد ہے۔
تاجک صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان نتیجہ خیز تعاون کا میکینزم جس میں تجارت، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی تعاون پر مشترکہ بین الحکومتی کمیشن اور دیگر مشترکہ مخصوص امور بھی شامل ہیں ایک مثبت سرگرمی ہے۔
امام علی رحمٰن کا کہنا تھا کہ سائنس، تعلیم، ثقافتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید تیز کرنے کے موضوعات ہماری گفتگو کا مرکز تھے۔
تاجک صدر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران ہم نے سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے بات چیت کی اور اس شعبے میں تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی، انتہا پسندی اور بنیاد پرستی سے لاحق خطرات اور چیلنجوں کے خلاف مشترکہ مزاحمت کے تسلسل کے لیے اپنے عزم پر زور دیا۔ اس موقع پر پاکستان اور تاجکستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ دینے کے لیے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف سے تاجک صدر امام علی رحمٰن نے ’ون آن ون‘ ملاقات کی تھی جس میں باہمی دلچپسی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کے دوران دونوں سربراہان نے علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا اور مختلف شعبوں میں اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے پر توجہ دی۔ بعدازاں دونوں سربراہان نے وفود کی سطح پر بھی ملاقات کی۔ قبل ازیں تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن وزیراعظم سے ملاقات کے لیے وزیراعظم ہاؤس پہنچے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا تھا۔
تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن کو وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر ’گارڈ آف آنر‘ پیش کیا گیا۔ صدر امام علی رحمٰن نے تینوں افواج کے دستے کی طرف سے پیش کیے گئے ’گارڈ آف آنر ’ کا جائزہ لیا جبکہ انہوں نے وزیراعظم ہاؤس کے لان میں اپنے ہاتھوں سے ایک پودا بھی لگایا۔وزیر اعظم شہباز شریف کے دعوت نامے پر تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تو وفاقی وزیر تجارت نوید قمر نے اسلام آباد ائیرپورٹ پر تاجک صدر کا استقبال کیا۔دو روزہ دورے کے دوران تاجک صدر مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کریں گے، اور دوطرفہ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے۔ پاکستان اور تاجکستان دیرینہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کے ذریعے جڑے ہوئے برادر ممالک ہیں۔ یہ تعلقات باہمی احترام اور غیر معمولی ہم آہنگی پر مبنی ہیں، مختلف علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر دونوں ممالک کا نکتہ نظر یکساں ہے۔توقع ہے کہ تاجک صدر کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے اور بڑھتی ہوئی جیو اکنامک پارٹنرشپ کو مزید تقویت ملے گی۔




