مہنگائی کی مجموعی شرح میں مسلسل کمی ریکارڈ
.(اصغر علی مبارک )پاکستان میں سالانہ مہنگائی کی شرح اکتوبر 2026 میں کم ہو کر 9.6 فیصد پر آ گئی ہے، جو کہ ستمبر میں 10.3 فیصد اور اگست میں 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ یہ مسلسل تیسرا مہینہ ہے جب ملک میں افراطِ زر کے گراف میں واضح کمی دیکھی گئی ہے مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران اور عالمی معاشی دباؤ کے تناظر میں، پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل کمی ریکارڈ کی ہے، پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی جایس کے اعدادوشمار کے تناظر میں، عالمی سطح پر شدید جغرافیائی و اقتصادی دباؤ کے باوجود ملکی معیشت میں مہنگائی کا 11.1 فیصد سے کم ہو کر 9.6 فیصد پر آنا اہم پہلوؤں کی نشاندہی کرتا ہے ۔
اگست میں یہ شرح 11.1 فیصد، ستمبر میں 10.3 فیصد جبکہ اکتوبر میں کم ہوکر 9.6 فیصد رہی۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باوجود مہنگائی میں یہ کمی، جس کے باعث مغربی ممالک سمیت دنیا بھر میں قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور فرانس سے برلن اور اٹلی تک مظاہرین سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر مختلف ممالک نے اپنے عوام کو ریلیف فراہم کرنا شروع کردیا جس کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں کمی اور/یا پٹرول پمپوں پر براہِ راست سبسڈی دینے جیسے اقدامات کیے گئے۔ پاکستان کی حکومت نے بھی ایسا ہی اقدام کیا، تاہم 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیلی حملے کے فوراً بعد اعلان کردہ سبسڈی کو بعد ازاں آئی ایم ایف کے تحفظات کے باعث معطل کردیا گیا۔ فنڈ کا مؤقف تھا کہ بجٹ میں مختص نہ ہونے کے باعث یہ سبسڈی حکومت کی جانب سے طے شدہ معاشی اصلاحات کے عمل کو متاثر کرسکتی ہے۔ 7 اکتوبر کو جاری پروگرام کے چوتھے جائزے کے اختتام پر اپنے اعلامیے میں آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ ایندھن پر ریلیف کی اسکیم کو اس کی بھاری لاگت اور وسیع دائرہ کار کے پیش نظر فوری مرحلہ وار ختم کیا جانا چاہیے۔ مستقبل میں اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں توقع سے زیادہ بڑھیں تو ایندھن پر کسی بھی قسم کی معاونت محدود مدت کے لیے ہونی چاہیے، اس کا ہدف ضرورت مند طبقات ہوں اور اس مقصد کے لیے پہلے سے موجود سماجی معاونت کے پروگراموں سے استفادہ کیا جائے جبکہ اس پر آنے والے اخراجات مالی سال 2027 کے بجٹ کی مختص رقم کے اندر رکھے جائیں۔ پاکستان کے اعدادوشمار کی ساکھ مشکوک ہے۔ آئی ایم ایف نے اکتوبر 2024 میں جاری اپنی دستاویز 2024 آرٹیکل فور مشاورت اور توسیعی فنڈ سہولت کے تحت توسیعی پروگرام کی درخواست میں نشاندہی کی تھی کہ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل شعبوں کے دستیاب بنیادی اعدادوشمار میں اب بھی اہم خامیاں موجود ہیں جبکہ حکومتی مالی اعدادوشمار (جی ایف ایس) کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے بھی مسائل درپیش ہیں۔ فنڈ نے مزید کہا تھا کہ وہ حکومتی مالیاتی اعداد و شمار (جی ایف ایس) اور پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کی تیاری کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ پی بی ایس مالی سال 2026 کو بنیاد بنا کر قومی کھاتوں کی آئندہ ازسرنو تشکیل سے قبل چار بڑے سروے کا فیلڈ ورک بھی جلد شروع کرے گا۔ تکنیکی معاونت کا یہ عمل جون 2026 کے آخر تک مکمل ہونا طے تھا، تاہم پی بی ایس کے عملے نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ فنڈ نے مزید بہتری اور ردوبدل کی نشاندہی کی تھی، جس کے باعث اس کی تکمیل کی مقررہ مدت بڑھا کر رواں سال اکتوبر کے آخر تک کردی گئی۔ تاہم، پی بی ایس سے بارہا یہ دریافت کرنے کے باوجود کہ آیا تکنیکی معاونت کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور فنڈ نے اس کا جائزہ بھی لے لیا ہے، تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بنیادی مہنگائی جس میں غذائی اشیا اور توانائی کی قیمتیں شامل نہیں ہوتیں، 8.6 فیصد سے کم ہوکر 7.8 فیصد رہ گئی، یعنی اس میں 0.8 فیصد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ مہینوں میں بنیادی مہنگائی میں اسی نوعیت کی کمی کو پالیسی ریٹ گھٹانے کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم 26 اکتوبر کو مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کردیا۔ کمیٹی نے اس اضافے کی وجہ یہ بتائی کہ ’’بنیادی مہنگائی تقریباً 8.4 فیصد کی بلند سطح پر مستحکم ہوگئی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ بنیادی مہنگائی کے تازہ اعداد و شمار کے تناظر میں کمیٹی کا یہ تخمینہ درست نہیں تھا۔ ان کے نزدیک یہ اس مؤقف کا ایک اور ثبوت ہوسکتا ہے کہ ایم پی سی پالیسی ریٹ کا تعین غلط تخمینوں اور تقریباً یقینی طور پر آئی ایم ایف کی سفارشات کی بنیاد پر کررہی ہے۔ رواں سال مہنگائی کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی ہے جو 4.79 فیصد سے بڑھ کر 10.05 فیصد ہوگئی ہے اور بلاشبہ اس اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ کا تنازع ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ تھوک قیمتوں کے اشاریے (ڈبلیو پی آئی) میں ریکارڈ کیا گیا، جو مالی سال 2025-26 میں 0.05 فیصد تھا، جبکہ رواں سال بڑھ کر 12.10 فیصد ہوگیا۔ ماہرینِ شماریات کا کہنا ہے کہ تھوک قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے اثرات غریب اور کمزور طبقات پر واضح طور پر مرتب ہوئے ہیں جن کی عکاسی حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) سے ہوتی ہے ملکی سپلائی چین کا استحکام اور مقامی پیداوار میں بہتری, مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کی وجہ سے جب عالمی سطح پر لاجسٹکس، بحری مال برداری (جیسے بحیرہ احمر کا بحران) اور توانائی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، ایسے ماحول میں مقامی افراطِ زر کا کم ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ زرعی و غذائی اجناس کی بہتر فراہمی: مقامی مارکیٹ میں بنیادی اشیاء (خصوصاً ٹماٹر، پیاز، آلو اور چینی جیسی خوراک کی مدوں) کی سپلائی پائیدار رہی ہے جس نے عالمی لہر کے اثرات کو مقامی سطح پر منتقل ہونے سے روکا۔ مرکزی بینک اور متعلقہ اداروں کے اقدامات کی وجہ سے مارکیٹ میں طلب اور رسد کا توازن برقرار رکھنے میں مدد ملی، جس سے قیمتوں کا گراف نیچے آیا۔ جب فرانس، جرمنی (برلن) اور اٹلی جیسے ترقی یافتہ یورپی ممالک مہنگائی، توانائی کے بحران اور جیوپولیٹیکل تناؤ کی وجہ سے عوامی احتجاج اور شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، تو اس دوران ملکی سطح پر مہنگائی کا مسلسل تیسرے مہینے کم ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ حالیہ معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے باعث ملکی معیشت بیرونی جھٹکوں کو جذب کرنے کے قابل ہو رہی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود، مقامی سطح پر تجارتی اور مالیاتی اقدامات نے قیمتوں کو ایک حد کے اندر مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان کی معیشت میں مہنگائی کی سالانہ شرح کا 9.6 فیصد پر آنا بلاشبہ ایک اہم کامیابی ہے، تاہم طویل مدتی پائیدار ترقی کے سفر میں ملک کو تاحال متعدد اندرونی اور بیرونی معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ معاشی ماہرین، ایشین ڈیولپمنٹ بینک (ADB) اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی حالیہ رپورٹس کی روشنی میں مستقبل کے ممکنہ چیلنجز درج ذیل ہیں:
بیرونی قرضوں کی واپسی اور ری فنانسنگ کا بھاری دباؤ ملکی مالیاتی لچک کے لیے سب سے بڑا تزویراتی خطرہ ہے جہاں سود کی ادائیگیوں کا حجم وفاقی ریونیو کے ایک بڑے حصے (تقریباً 39.1 فیصد) کو نگل جاتا ہے جس سے ترقیاتی کاموں اور سماجی بہبود کے لیے مالی گنجائش انتہائی محدود ہو جاتی ہے۔
توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ (Circular Debt) اور بجلی کے نرخوں میں مسلسل ایڈجسٹمنٹ میکرو اکنامک استحکام کے لیے بڑا چیلنج ہیں کیونکہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت سبسڈیز کے خاتمے اور ٹیرف میں اضافے سے صنعتی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے جو آنے والے مہینوں میں غیر غذائی افراطِ زر (Non-Food Inflation) کو دوبارہ مہمیز دے سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے طول پکڑتے ہوئے تنازعات اور بحیرہ احمر کی جیوپولیٹیکل صورتحال بیرونی مارکیٹ سے درآمدی جھٹکوں کا سبب بن سکتے ہیں جس کے نتیجے میں خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اچانک اچھال، بحری مال برداری (Freight Costs) کے اخراجات میں اضافہ اور ترسیلاتِ زر (Remittances) کے چینلز پر منفی اثرات مرتب ہونے کا مستقل خدشہ موجود ہے۔آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور چوتھے اقتصادی جائزے (EFF) کے تحت 2 فیصد پرائمری سرپلس برقرار رکھنے کا ہدف ملکی معاشی ٹیم کی پالیسی سازی کا سخت امتحان لے گا کیونکہ اس مقصد کے لیے حکومت کو ٹیکس نیٹ میں اصلاحات، سبسڈیز میں کٹوتیاں اور کیپٹل اخراجات کو منجمد رکھنا پڑے گا جس سے قلیل مدتی معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلیاں (Climate Change) اور زراعت کا شعبہ ملکی سپلائی چین کی پائیداری کے لیے پوشیدہ خطرہ ہیں کیونکہ حالیہ معاشی بحالی کا انحصار فصلوں کی بہتر پیداوار پر ہے لیکن سیلاب یا خشک سالی جیسے غیر متوقع موسمیاتی جھٹکے غذائی اجناس کی دستیابی کو متاثر کر کے افراطِ زر کے گراف کو دوبارہ اوپر لے جا سکتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے حالیہ مثبت اشاریوں اور وزارتِ خزانہ کی آؤٹ لک رپورٹ کی روشنی میں، معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتی تجاویز اور متبادل تزویراتی اقدامات کا جامع احاطہ درج ذیل ہے:
اندرونی معاشی چیلنجز خصوصاً گردشی قرضے اور بیرونی قرضوں کے بھاری بوجھ سے نمٹنے کے لیے حکومتی ٹیم ٹیکس نیٹ میں وسیع تر اصلاحات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے جس کے تحت ریٹیل، ہول سیل اور زرعی شعبوں کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنا کر ریونیو میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ سود کی ادائیگیوں کے لیے ترقیاتی بجٹ پر کٹوتی نہ کرنی پڑے۔ اس کے متبادل حل کے طور پر ماہرین کا ماننا ہے کہ روایتی ٹیکسوں کے بجائے حکومت کو فوری طور پر بیوروکریٹک رکاوٹیں دور کر کے سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنا چاہیے اور چینلز کو آسان بنا کر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو راغب کرنا چاہیے تاکہ قرضوں پر انحصار مستقل بنیادوں پر ختم ہو سکے۔ توانائی کے شعبے کے بحران اور بجلی کے بلند نرخوں کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومتی سطح پر بجلی چوری کے خلاف سخت مہم اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) کے انتظامی ڈھانچے کی منتقلی جیسے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ تاہم اس کا پائیدار متبادل حل یہ ہے کہ ملک کو درآمدی فیول پر چلنے والے تھرمل پاور پلانٹس سے نکال کر مقامی کوئلے، ہائیڈل اور شمسی توانائی (Solarization) پر منتقل کیا جائے اور انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے ساتھ معاہدوں پر نئے سرے سے اس طرح نظرِ ثانی کی جائے کہ کپیسیٹی چارجز کا بوجھ عام صارفین اور صنعتوں پر نہ پڑے جس سے صنعتی پیداواری لاگت کم ہو کر برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔
مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات اور جیوپولیٹیکل بحران کے باعث پٹرولیم کی قیمتوں میں ممکنہ اتار چڑھاؤ سے ملکی مارکیٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے تزویراتی ذخائر (Strategic Reserves) قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی منڈی میں اچانک قیمتیں بڑھنے کی صورت میں رسد متاثر نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت مالیاتی نظم و ضبط اور دو فیصد پرائمری سرپلس برقرار رکھنے کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے غیر ترقیاتی اور تعیشاتی اخراجات کو سختی سے منجمد کرنا ہو گا جبکہ متبادل معاشی ماڈل کے تحت علاقائی ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ (تبادلہ جاتی تجارت) اور سرحد پار تجارتی راہداریوں کو فعال بنا کر ڈالر پر انحصار اور بیرونی لاجسٹکس کے اخراجات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں اور زرعی سپلائی چین کو لاحق خطرات کا سداد کرنے کے لیے حکومتی معاشی ٹیم فصلوں کی انشورنس اور کاشتکاروں کے لیے سمارٹ سبسڈیز کے پروگرام تیار کر رہی ہے تاکہ غذائی افراطِ زر کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔ اس کے متبادل اور زیادہ مؤثر حل کے طور پر زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، کارپوریٹ فارمنگ اور ایسے بیجوں کا استعمال ناگزیر ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کو برداشت کر سکیں، کیونکہ جب تک مقامی سطح پر خوراک کا تحفظ مستقل بنیادوں پر قائم نہیں ہو گا، تب تک عالمی منڈی کے جھٹکے ملکی افراطِ زر کے گراف کو کسی بھی وقت دوبارہ متاثر کر سکتے ہیں۔پاکستان کی برآمدات کو تیز رفتاری سے بڑھانے اور تجارتی خسارے کو مستقل بنیادوں پر کم کرنے کے لیے درج ذیل تزویراتی اقدامات اور متبادل حل انتہائی معاون ثابت ہو سکتے ہیں: روایتی برآمدی شعبوں جیسے ٹیکسٹائل پر انحصار کم کر کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT)، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل سروسز کی برآمدات کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دینا چاہیے کیونکہ اس شعبے میں لاجسٹکس یا خام مال کی درآمد کا کوئی بڑا خرچہ نہیں ہوتا اور حکومت فری لانسرز اور ٹیک کمپنیوں کے لیے بینکنگ چینلز کو سہل بنا کر آئی ٹی برآمدات کا حجم چند برسوں میں دگنا کر سکتی ہے۔ اس کے متبادل کے طور پر انجینئرنگ گڈز، فارماسیوٹیکل (ادویات) اور سرجیکل آلات کی عالمی مارکیٹ میں رسائی کے لیے برآمد کنندگان کو خصوصی خام مال پر ڈیوٹی فری امپورٹ (Duty-Free Import) کی سہولیات دینا ناگزیر ہے تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی لاگت مسابقتی رہ سکے۔ زرعی برآمدات خصوصاً باسمتی چاول، کنو، آم اور حلال گوشت کی عالمی منڈی میں مانگ بڑھانے کے لیے جدید ترین کولڈ چین انفراسٹرکچر اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ویلیو ایڈیشن (Value Addition) کے پلانٹس قائم کرنا ہوں گے کیونکہ صرف خام مال برآمد کرنے کے بجائے اگر پراسیسڈ اور برانڈڈ غذائی اشیاء مارکیٹ میں لائی جائیں تو اس سے کئی گنا زیادہ قیمتی زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ اس کے متبادل حل کے طور پر حکومت کو چین، وسطی ایشیائی ریاستوں اور خلیجی ممالک کے ساتھ موجودہ آزاد تجارتی معاہدوں (FTAs) پر نئے سرے سے گفت و شنید کر کے پاکستانی مصنوعات کے لیے کسٹم ڈیوٹی میں مزید رعایتیں حاصل کرنی چاہئیں تاکہ برآمدی حجم میں فوری اضافہ ممکن ہو سکے۔
برآمد کنندگان کے لیے پیداواری لاگت کو کم کرنے کی غرض سے صنعتی زونز خصوصاً سپیشل اکنامک زونز (SEZs) کو سستی شمسی توانائی اور بلا تعطل گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا ہو گا جبکہ متبادل مالیاتی ماڈل کے تحت اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایکسپورٹ فنانس اسکیموں (EFS) کے دائرہ کار کو بڑھا کر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے چاہئیں تاکہ وہ بھی عالمی سپلائی چین کا حصہ بن سکیں اور برآمدات کا دائرہ چند بڑے صنعتی گھرانوں تک محدود رہنے کے بجائے نچلی سطح تک پھیل سکے





