چائنا سالانہ تعلیمی کانفرنس ; چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے11 تاریخی معاہدے*

.(اصغر علی مبارک )

وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے تحت “ہنر مند، بااختیار اور ڈیجیٹل پاکستان” کی جانب ایک اور بڑی اور تاریخی پیش رفت ہوئی ہے۔ چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کے دورۂ چین کے دوران پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ہنرمندی کے تبادلے کو ایک نئی اور وسیع وسعت ملے گی۔ جون 2026 میں چین میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چینی سیکرٹریٹ کا قائم ہونا ایک تاریخی پیش رفت ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے طلبہ کے تبادلوں، اساتذہ کی جدید تربیت اور بین الاقوامی اسناد کی فراہمی پر باقاعدہ کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں رانا مشہود احمد خان نے فورم کے سامنے ایک وسیع تر بین الاقوامی تعلیمی نیٹ ورک قائم کرنے کی تجویز پیش کی جس کے تحت چین، تھائی لینڈ، برازیل، ملائیشیا، ازبکستان اور کرغزستان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ تکنیکی تعلیمی چینل بنایا جائے گا۔ یہ فورم اور مجوزہ تکنیکی نیٹ ورک اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے کے حصول میں انتہائی معاون اور کلیدی ثابت ہوگا، جو نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے تمام شراکت دار ممالک کے نوجوانوں کو عالمی منڈی کی ضروریات کے مطابق تیار کرے گا۔چائنا-آسیان ہائی ووکیشنل ایجوکیشن نمائش (CACIE) 2026 میں پاکستان نے تمام شراکت دار ممالک کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے زیادہ معاہدے کیے اور پہلے نمبر پر رہا۔ مجموعی طور پر 11 اہم پاک چین معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن کے تحت پاکستانی نوجوانوں کے لیے 14 مختلف اسکلز (مہارتوں) اور تعلیمی منصوبوں کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔ ان تاریخی معاہدوں میں پاکستان کے ممتاز تعلیمی و تکنیکی اداروں بشمول یونیورسٹی آف لاہور، غازی یونیورسٹی، نیوٹیک (NAVTTC)، پریسٹن یونیورسٹی اور پنجاب ٹیوویٹا (TEVTA) نے صفِ اول کے چینی اداروں اور تعلیمی نیٹ ورکس کے ساتھ اشتراک قائم کیا ہے۔ ان اقدامات سے میکاٹرونکس، گرین انرجی، نرسنگ، جدید زراعت اور کراس بارڈر ای کامرس جیسے مستقبل کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔27ویں چائنہ اینول کانفرنس اینڈ ایکسپو فار انٹرنیشنل ایجوکیشن (سی اے سی آئی ای 2026) میں تمام شراکت دار ممالک میں سب سے زیادہ معاہدے پاکستان کے ہوئے، جس سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی اسناد اور روزگار کے مواقع کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ – 11 معاہدے: ان میں سے تین میں پی ایم وائی پی فریق ہے، جو چائنہ گلوبل پروفیشنل اینڈ ٹیکنیکل سرٹیفکیشن سینٹر، جیلن الیکٹرانک انفارمیشن ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل کالج اور پیلی ووکیشنل کالج کے ساتھ طے پائے۔ باقی آٹھ معاہدے یونیورسٹی آف لاہور، غازی یونیورسٹی، نیوٹیک کراچی، پریسٹن انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور پنجاب ٹیوویٹا کو چین کے ووکیشنل کالجوں سے منسلک ہیں۔ یہ معاہدے میکاٹرونکس، گرین انرجی، موبائل کمیونیکیشنز، نرسنگ، جدید زراعت، کراس بارڈر ای کامرس اور بین الاقوامی اسکلز سرٹیفکیشن کے شعبوں پر محیط ہیں۔ بیجنگ میں قائم پی ایم وائی پی چائنہ سیکرٹریٹ ان کے رابطہ کار کے طور پر معاونت کرے گا۔ ان میں انٹرنیشنل نرسنگ ٹیلنٹ ٹریننگ بیس، کراس بارڈر ای کامرس ٹیلنٹ ٹریننگ بیس (جس کی رونمائی چیئرمین نے کی)، پاکستان تیانگونگ کالج، جوائنٹ ٹیچر ٹریننگ سینٹر، اور انڈسٹریل روبوٹکس اور الیکٹرانک انفارمیشن انجینئرنگ کی نئی کمیٹیاں شامل ہیں۔

• ایم ایل ون کے ذریعے روزگار کے مواقع: چیئرمین کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات کے بعد چائنہ ریلوے گروپ کے سیکرٹری ہان ہوئی اسی روز پاکستان روانہ ہو ئے تاکہ ایم ایل ون ریلوے اپ گریڈ سے منسلک اسکلز ٹریننگ اور روزگار پر عملی کام شروع کیا جا سکے۔ جیلن الیکٹرانک انفارمیشن ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل کالج 10 پاکستانی اساتذہ کو تربیت دے چکا ہے اور نومبر سے اپنے چینی زبان کے پروگرام میں 15 پاکستانی طلبہ کو داخلہ دے گا۔ چیئرمین نے کہا: “ہر داخل ہونے والا طالب علم اور ہر تربیت یافتہ استاد مضبوط اور ہنر مند پاکستان کی جانب ایک قدم ہے۔ چیئرمین نے چائنہ الیکٹرسٹی کونسل، تھائی لینڈ کے آفس آف دی ووکیشنل ایجوکیشن کمیشن اور ٹینگ انٹرنیشنل ایجوکیشن گروپ کے اشتراک سے انٹرنیشنل گرین پاور ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ بیس کا مشترکہ آغاز کیا۔ انہوں نے سفارتخانۂ پاکستان بیجنگ کے زیر اہتمام چائنہ پاکستان انٹرنیشنل ایجوکیشن کوآپریشن ایوارڈز پیش کیے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انٹرنیشنل فورم آن انڈسٹری ایجوکیشن کوآپریشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نے صنعت کی ضروریات کے مطابق تربیت، مشترکہ تعلیمی پروگراموں، بین الاقوامی سرٹیفکیشن اور ووکیشنل اساتذہ کی تربیت پر زور دیا۔ انہوں نے چائنہ الیکٹرسٹی کونسل میں گرین انرجی ٹیلنٹ ایکسچینج پر بین الاقوامی سیمینار سے بھی خطاب کیا، سفیر پاکستان علی اسد گیلانی اور سفارتخانے کے سینئر حکام سے تعلیمی شراکت داریوں کے لیے سفارتی معاونت پر ملاقات کی، اور تھائی لینڈ کے او وی ای سی کے بیورو آف کوآپریشن کی ڈائریکٹر محترمہ بینجاون پوکپونگ سے بیلٹ اینڈ روڈ شراکت دار ممالک کے درمیان تعاون پر بات چیت کی۔ بیجنگ میں پی ایم وائی پی چائنہ سیکرٹریٹ اور ٹینگ انٹرنیشنل ایجوکیشن گروپ کا بیجنگ ہیڈکوارٹر حکومت، اداروں اور صنعت کے درمیان عمل درآمد کو مربوط کریں گے۔ چیئرمین نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کی ترجیحات میں نوجوانوں کو بااختیار بنانا بدستور شامل ہے، جو “ہنر مند، بااختیار اور ڈیجیٹل پاکستان” کے وژن کو آگے بڑھا رہا ہےچیئرمین رانا مشہود احمد خان نے بیجنگ میں باقاعدہ طور پر “کراس بارڈر ای کامرس ٹیلنٹ ٹریننگ بیس” کی رونمائی کی، جو پاکستانی نوجوانوں کو عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ تک رسائی فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہیلتھ کیئر سیکٹر کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ایک “انٹرنیشنل نرسنگ ٹیلنٹ ٹریننگ بیس” بھی قائم کر دیا گیا ہے، جہاں پاکستانی پیرامیڈیکل اسٹاف کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر تربیت دی جائے گی۔پاکستان ریلوے کے سب سے بڑے منصوبے ایم ایل ون (ML-1) کے حوالے سے بھی دورے کے دوران بریک تھرو حاصل ہوا ہے۔ چیئرمین پی ایم وائی پی سے انتہائی کامیاب اور تفصیلی مذاکرات کے فوراً بعد چائنہ ریلوے گروپ کے سیکرٹری “ہان ہوئی” اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ اس شراکت داری کے تحت ریلوے سیکٹر میں پاکستانی افرادی قوت کی جدید ترین خطوط پر تربیت اور روزگار کی فراہمی پر عملی کام شروع کر دیا گیا ہے۔وزیراعظم یوتھ پروگرام پاکستانی نوجوانوں کو عالمی معیار کی فنی تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراکِ عمل کو مسلسل فروغ دے رہا ہے۔ اسی سلسلے میں چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے بیجنگ میں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکاء کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کی تعلیم، فنی تربیت، ہنرمندی کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے چین کے معروف اداروں، بشمول ہواوے اور علی بابا، کے ساتھ تعاون، چین میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے سیکرٹریٹ کے قیام اور صنعتوں کی ضروریات کے مطابق جدید تربیتی پروگرامز پر بھی روشنی ڈالی۔ کانفرنس میں تکنیکی تعلیم، ٹرینرز کی تربیت، گرین انرجی، الیکٹرک وہیکلز اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم یوتھ پروگرام پاکستانی نوجوانوں کو عالمی معیار کی فنی تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراکِ عمل کو مسلسل فروغ دے رہا ہے۔ اسی سلسلے میں چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے بیجنگ میں 13 ممالک کی شرکت سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکاء کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کی تعلیم، فنی تربیت، ہنرمندی کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے چین کے معروف اداروں، بشمول ہواوے اور علی بابا، کے ساتھ تعاون، چین میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے سیکرٹریٹ کے قیام اور صنعتوں کی ضروریات کے مطابق جدید تربیتی پروگرامز پر بھی روشنی ڈالی۔ کانفرنس میں تکنیکی تعلیم، ٹرینرز کی تربیت، گرین انرجی، الیکٹرک وہیکلز اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چائنا-آسیان ہائی ووکیشنل ایجوکیشن نمائش 2026 میں پاکستان نے سب سے زیادہ معاہدے کیے جن کے تحت پاکستانی نوجوانوں کے لیے 14 مختلف اسکلز اور تعلیمی منصوبوں کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔ ان تاریخی معاہدوں میں پاکستان کے ممتاز تعلیمی و تکنیکی اداروں بشمول یونیورسٹی آف لاہور، غازی یونیورسٹی، نیوٹیک، پریسٹن یونیورسٹی اور پنجاب ٹیوویٹا نے صفِ اول کے چینی اداروں اور تعلیمی نیٹ ورکس کے ساتھ اشتراک قائم کیا ہے۔ ان اقدامات سے میکاٹرونکس، گرین انرجی، نرسنگ، جدید زراعت اور کراس بارڈر ای کامرس جیسے مستقبل کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔اس دورے کے دوران چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے بیجنگ میں باقاعدہ طور پر کراس بارڈر ای کامرس ٹیلنٹ ٹریننگ بیس کی رونمائی کی، جو پاکستانی نوجوانوں کو عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ تک رسائی فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہیلتھ کیئر سیکٹر کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ایک انٹرنیشنل نرسنگ ٹیلنٹ ٹریننگ بیس بھی قائم کر دیا گیا ہے، جہاں پاکستانی پیرامیڈیکل اسٹاف کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر تربیت دی جائے گی۔ پاکستان ریلوے کے سب سے بڑے منصوبے ایم ایل ون کے حوالے سے بھی دورے کے دوران اہم بریک تھرو حاصل ہوا ہے۔ چیئرمین پی ایم وائی پی سے انتہائی کامیاب اور تفصیلی مذاکرات کے فوراً بعد چائنہ ریلوے گروپ کے سیکرٹری ہان ہوئی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ اس شراکت داری کے تحت ریلوے سیکٹر میں پاکستانی افرادی قوت کی جدید ترین خطوط پر تربیت اور روزگار کی فراہمی پر عملی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ کلین اور گرین انرجی کے شعبے میں خودکفالت کے لیے چین کی مقتدر باڈی چائنہ الیکٹرسٹی کونسل کے اشتراک سے انٹرنیشنل گرین پاور ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ بیس کا مشترکہ آغاز کیا گیا ہے۔ مزید برآں، نوجوانوں کے لیے زبان کی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے جیلن کالج رواں ماہ نومبر سے ہی 15 پاکستانی طلبہ کو چینی زبان کے خصوصی تربیتی پروگرام میں داخلہ دے گا، جس کے تمام اخراجات اور تعلیمی امور کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ دورے کے دوران رانا مشہود احمد خان نے بین الاقوامی بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خصوصی خطاب بھی کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے جدید صنعتی ضروریات کے مطابق افرادی قوت کی تیاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے نوجوانوں کو روایتی تعلیم کے بجائے مارکیٹ کی طلب پر مبنی ٹیکنیکل ٹریننگ اور بین الاقوامی سرٹیفکیشنز فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مسابقت کے قابل ہو سکیں۔

چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام نے واضح کیا کہ فنی تعلیم ہی صنعتوں کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کی تیاری کی اصل کلید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کا بنیادی ستون ہے اور پاک چین تعاون سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔ انہوں نے چین کے تجربات سے استفادہ کرکے فنی تعلیم کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنانے پر زور دیا اور کہا کہ مشترکہ تربیتی پروگراموں سے پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا تعلیم اور صنعت کا اشتراک نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے راستے کھولے گا، اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چینی سیکریٹریٹ سے پاک چین تعلیمی تعاون کو نئی تقویت ملے گی۔ رانا مشہود احمد خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پاکستانی نوجوانوں کے لیے ترقی کے وسیع امکانات رکھتے ہیں جن سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا۔ دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیموں نے ان منصوبوں پر فوری عملدرآمد کے لیے باقاعدہ کام شروع کر دیا ہے۔

بیجنگ اور اسلام آباد سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق چائنا-آسیان ہائی ووکیشنل ایجوکیشن نمائش (CACIE) ایک ایسا مقتدر بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے جو چین اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) سمیت خطے کے دیگر اہم ترین شراکت داروں کے درمیان تکنیکی، پیشہ ورانہ اور اعلیٰ تعلیمی اشتراک کو فروغ دیتا ہے۔ یہ ایونٹ چین کے مختلف بڑے کنونشن سینٹرز جیسے نان نینگ اور گوئی یانگ میں منعقد کیا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر سے محکمہ تعلیم، تعلیمی نظام کے ماہرین، ایڈ ٹیک (EdTech) اسٹارٹ اپس اور صنعتی سپلائرز شرکت کرتے ہیں۔ نمائش کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل اسکول ٹرانسفارمیشن، مصنوعی ذہانت (AI)، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) اور تعلیمی انتظام کے جدید طریقوں کو فروغ دینا ہے تاکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کی افرادی قوت کو مارکیٹ کی طلب کے مطابق تیار کیا جا سکے۔

پاکستان کے لیے یہ نمائش اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی کامیاب ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان نے تمام شراکت دار ممالک میں سب سے زیادہ معاہدے حاصل کر کے پہلی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کے دورے کے دوران بیجنگ میں معروف چینی تعلیمی ادہے۔اروں اور ٹینگ (TANG) انٹرنیٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے ساتھ تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت (TVET) کے میدان میں اہم ترین مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں کا مقصد یونیورسٹی آف لاہور، غازی یونیورسٹی، نیوٹیک، پریسٹن اور پنجاب ٹیوویٹا جیسے اداروں کے اشتراک سے پاکستانی نوجوانوں کو میکاٹرونکس، گرین انرجی، ای کامرس اور نرسنگ جیسے شعبوں میں بین الاقوامی سرٹیفکیشنز، جدید ہنرمندی اور روزگار کے وسیع امکانات فراہم کرنا ہے۔