مراکش نے پرتگال کو ایک صفر سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا…….

مراکش نے فیفا ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں پرتگال کو ایک صفر سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ مراکش نے پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی ہے۔
مراکش نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرسٹیانو رونالڈو کے پرتگال کو شکست دے کر تاریخ میں پہلی بار فٹبال ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی افریقہ کی پہلی ٹیم بن گئی۔
پرتگالی ٹیم کوارٹر فائنل جیسے اہم میچ میں مشہور کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کے بغیر میدان میں اتری اور مراکش کی ٹیم نے بھی اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
التھمامہ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں دلچسپ مقابلہ ہوا اور دونوں ٹیمیں پہلے ہاف کے ابتدائی 42 منٹ میں گول کرنے میں ناکام رہیں۔
مراکش کے یوسف النصری نے 42ویں منٹ میں پہلا گول کیا جو پہلے ہاف کے اختتام تک برقرار رہا۔
دوسرا ہاف شروع ہوا تو پرتگال نے رونالڈو کو بھی میدان میں لایا اور کھیل مزید تیز ہوا اور پرتگال نے گول کرنے کے لیے کئی حملے کیے لیکن مراکشی گول کیپر نے شاندار کھیل پیش کیا اور کئی گول کرنے میں ناکام رہے۔
دوسری جانب مراکش نے بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گول کرنے کے مواقع پیدا کیے۔

پرتگال نے 70 منٹ کے کھیل کے بعد مزید دو تبدیلیاں کیں، رافیل لیاو اور ویٹینہا کو بلایا گیا، جب کہ راموس اور اوٹیو کو مجبوراً باہر کردیا گیا۔

قبل ازیں مراکش نے الناصر اور امل اللہ کو واپس بلایا اور ان کی جگہ بنوین اور چیڈیرا کو بھیج دیا۔

مقررہ وقت کے آخری لمحات میں رونالڈو نے زوردار شاٹ لگا کر گول کرنے کی کوشش کی لیکن مراکش کے گول کیپر نے انہیں روک دیا تاہم وہ پہلی ہی کوشش میں گیند پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کر سکے بلکہ فوراً ہی گیند کو اپنی گرفت میں لے لیا۔

اسٹیڈیم مراکش کے حامیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جو مسلسل اپنی ٹیم کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

مراکش کو اضافی وقت کے اوائل میں ایک بڑا دھچکا لگا جب کلیدی کھلاڑی چیڈیرا کو میچ کا دوسرا پیلا کارڈ فاؤل کرنے پر ملا اور اسے ریفری نے باہر بھیج دیا۔

مراکش نے 10 کھلاڑیوں کے ساتھ پرتگال کا مقابلہ کیا اور یہ میچ 0-1 سے جیت کر پہلی بار ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچا۔مراکش شمالی افریقہ کا ایک ملک ہے۔ بحر اوقیانوس کے ساتھ طویل ساحلی پٹی پر واقع مراکش کی سرحد آبنائے جبرالٹر پر جاکر بحیرہ روم میں جاملتی ہیں۔
مشرق میں مراکش کی سرحد الجزائر، شمال میں بحیرہ روم اور اسپین سے منسلک آبی سرحد اور مغرب میں بحر اوقیانوس موجود ہے۔ جنوب میں اس کی سرحدیں متنازع ہیں۔
مراکش مغربی صحارا پر ملکیت کا دعویدار ہے اور 1975ء سے اس کے بیشتر رقبے کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔
مراکش افریقہ کا واحد ملک ہے جو افریقی یونین کا رکن نہیں البتہ وہ عظیم مغرب یونین، موتمر عالم اسلامی، عرب لیگ، میڈيٹیریئن ڈائیلاگ گروپ اور گروپ 77 کا رکن ہے
ملک کا مکمل عربی نام “المملكة المغربية” ہے جس کا مطلب مغربی سلطنت ہے۔ تاریخی طور پر مورخین مراکش کو المغرب الاقصی کہتے تھے جس کی بنیاد پر اسے مغرب کہا جانے لگا۔
جدید مراکش کا علاقہ 8 ہزار سال قبل مسیح میں آباد ہوا۔
قدیم دور میں یہ ماریطانیہ کہلا تا تھا۔ واضح رہے کہ ماریطانیہ نام کا ملک بھی مراکش کے قریب ہی واقع ہے۔
شمالی افریقہ اور مراکش عظیم رومی سلطنت کا حصہ رہے ہیں اور رومی سلطنت میں مراکش کا علاقہ کہلاتا تھا۔
5 ویں صدی میں رومی سلطنت کے زوال کے بعد وینڈلز، وزیگوتھ اور بازنطینی یونانیوں نے اس سرزمین پر قبضہ کیا۔ اس دور میں بھی جدید مراکش کے پہاڑی علاقے آزاد رہے جن میں بربر نسل کے لوگ رہتے تھے۔

ظہور اسلام کے بعد 7 ویں صدی میں عرب افواج شمالی افریقہ کو فتح کرتے ہوئے مراکش پہنچیں۔
670ء میں خلافت امویہ کا جرنیل عقبہ بن نافع شمالی افریقہ کی ساحلی پٹی میں فتوحات حاصل کرتے کرتے مراکش پہنچا اور 683ء تک جدید مراکش کا تقریباً تمام علاقہ فتح کر لیا۔

اس فتح کے بعد مراکش میں اسلامی ثقافت اپنے عروج پر پہنچی اور مقامی بربر آبادی کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔

بنو امیہ کے زوال کے بعد خلافت عباسیہ کا دور آیا جس میں مراکش مرکزی حکومت کی دسترس سے نکل گیا اور ادریس بن عبداللہ نے ادریسی سلطنت قائم کردی۔ ادریسیوں نے فاس کو اپنا دارالحکومت قرار دیا اور مراکش کو تعلیم و ہنر کا مرکز بنادیا۔

مراکش بربروں کی دو بادشاہتوں کے درمیان میں اپنے عروج پر پہنچ گیا جو ادریسیوں کے بعد قائم ہوئیں۔ پہلے مرابطین اور بعد ازاں موحدین کے دور میں مراکش تمام شمال مغربی افریقہ اور اندلس کے بیشتر حصے کا حکمران بن گیا۔
اسلامی اسپین میں اشبیلیہ اور غرناتا جیسے شہر یورپ میں علم و ہنر، سائنس، ریاضی، علم فلکیات، جغرافیہ اور طب کے مراکز تھے۔

شاہ فرڈيننڈ اور ملکہ آئزابیلا کے ہاتھوں سقوط غرناتا کے بعد اسپین میں مسلم اقتدار کا سورج غروب ہو گیا اور عیسائیوں نے مسلمانوں اور یہودیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑدیئے۔ عیسائیوں کے مظالم سے تنگ آکر اسپین کے مسلمان اور یہودی مراکش آ گئے۔ عیسائیوں نے مسلم ثقافت کی ہر نشانی کو ختم کرنے کے لیے اندلس کا ہر کتب خانہ تباہ کر دیا جس کے باعث ہزاروں انمول کتابیں ضائع ہوگئیں۔