لارڈز ٹیسٹ میں سیاسی انٹرویو کا تنازع: مائیک ایتھرٹن کے خلاف سینیئر صحافی اصغر علی مبارک کا محاذ، آئی سی سی سے پابندی کا مطالبہ

لندن / راولپنڈی (خصوصی اسپورٹس رپورٹر): لارڈز میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران کرکٹ کی لائیو نشریات کو سیاسی رنگ دینے پر برطانوی براڈکاسٹر اور سابق انگلش کپتان مائیک ایتھرٹن عالمی سطح پر شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے باضابطہ احتجاج کے بعد پاکستان کے سینیئر اور ممتاز اسپورٹس جرنلسٹ اصغر علی مبارک نے مائیک ایتھرٹن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان سے غیر مشروط معافی اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے ان پر فوری پابندی کا مطالبہ کر دیا ہے۔


🎙️ اصغر علی مبارک کا خصوصی بیان: “مائیک ایتھرٹن اور میرے درمیان ماضی کا تلخ واقعہ”

سینیئر اسپورٹس جرنلسٹ اصغر علی مبارک نے مائیک ایتھرٹن کی متنازع کوریج پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان کا آغاز ایک تاریخی واقعے سے کیا:

“تاریخ گواہ ہے کہ کرکٹ کے میدانوں میں مائیک ایتھرٹن اور میرے درمیان ماضی میں بھی ایک انتہائی ناخوشگوار اور تلخ واقعہ پیش آ چکا ہے، جس کا سبق وہ شاید آج تک سیکھ نہیں پائے۔ کرکٹ ہمیشہ سے ‘جینٹل مین’ کا کھیل رہا ہے اور لارڈز کا گراؤنڈ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے لیے انتہائی قابلِ احترام ہے۔ لیکن بدقسمتی سے مائیک ایتھرٹن نے ٹیسٹ سیریز کے تناظر میں ایک سیاسی انٹرویو کا انعقاد کر کے اس معزز کھیل کے تقدس کو سرِعام داغدار کیا ہے۔”

انہوں نے مائیک ایتھرٹن کو ان کی متنازع تاریخ یاد دلاتے ہوئے مزید انکشاف کیا کہ:

  • 1996 کا عدالتی معرکہ: 1996 کے ورلڈ کپ کے دوران فیصل آباد ٹیسٹ میں اسکائی اسپورٹس نے اصغر علی مبارک کا انٹرویو کیا تھا، اس وقت مائیک ایتھرٹن انگلش ٹیم کے کپتان تھے۔ اس موقع پر ایتھرٹن نے پاکستانی صحافی کے خلاف نازیبا اور گالی گلوچ پر مبنی زبان استعمال کی۔
  • عوامی معافی: اصغر علی مبارک اس اخلاقی گراوٹ پر برطانوی کپتان کو عدالت کے کٹہرے میں لے کر گئے، جہاں قانون کے شکنجے میں آنے کے بعد مائیک ایتھرٹن کو سرِعام اور عوامی سطح پر معافی مانگنی پڑی تھی۔ اصغر علی مبارک کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے مائیک ایتھرٹن اس عدالتی سبق کو بھول کر اپنے عہدے کا سرعام غلط استعمال کر رہے ہیں۔

📺 18 منٹ کا متنازع انٹرویو اور پی سی بی کا باضابطہ احتجاج

اسپورٹس ڈیسک کے مطابق یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب لارڈز ٹیسٹ کی لائیو کوریج کے دوران مائیک ایتھرٹن کا ریکارڈ کردہ 18 منٹ طویل انٹرویو نشر کیا گیا، جس میں سابق وزیر اعظم اور قومی ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کے بیٹوں، قاسم اور سلیمان خان نے اپنے والد کی جیل میں حالتِ زار اور صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔

کھیل کے سب سے بڑے میدان پر خالصتاً سیاسی بیانات نشر کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے فوری ایکشن لیتے ہوئے برطانوی چینل ‘اسکائی اسپورٹس’ کے سامنے باضابطہ اور سخت ترین احتجاج درج کروایا۔ معتبر برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ نے تصدیق کی ہے کہ اسکائی اسپورٹس کو پی سی بی کی شکایت موصول ہو چکی ہے، تاہم چینل اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) دونوں نے اس حساس صفحے پر فی الحال کسی بھی تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔


⚖️ سابق کپتان کی صحت کا عدالتی اور قانونی پسِ منظر

انٹرویو کے دوران عمران خان کی صحت سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کے پیچھے چند اہم قانونی کڑیاں موجود ہیں:

  1. امپیکٹ میڈیکل آرڈر (18 اگست): سپریم کورٹ نے حکام کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے 48 گھنتوں کے اندر اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے نجی اسپتال ‘شفا انٹرنیشنل’ منتقل کیا جائے اور ان کے ذاتی معالج سمیت میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔
  2. حکومتی اعتراض اور پمز منتقلی: حکومت نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ کسی سزا یافتہ قیدی کو نجی اسپتال منتقل کرنے سے دیگر قیدیوں کے لیے غلط مثال قائم ہوگی۔ بعد ازاں عدالتی احکامات کے برعکس عمران خان کو آنکھ کے مختصر علاج کے لیے سرکاری اسپتال ‘پمز’ منتقل کیا گیا اور علاج کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا، جسے پی ٹی آئی اور وکلا نے سپریم کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی قرار دیا۔

🚫 آئی سی سی اور پی سی بی سے تاحیات پابندی کا مطالبہ

اصغر علی مبارک نے پی سی بی کے احتجاج کی مکمل تائید کرتے ہوئے آئی سی سی اور عالمی کرکٹ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ کرکٹ گراؤنڈ کو سیاسی اکھاڑا بنانے اور جان بوجھ کر پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم چلانے پر مائیک ایتھرٹن پر مستقبل کے تمام میچوں کی کمنٹری اور کوریج کرنے پر فوری پابندی عائد کی جائے، یا وہ اس گھناؤنی حرکت پر پوری پاکستانی قوم اور کرکٹ برادری سے غیر مشروط معافی مانگیں!