لارڈز ٹیسٹ: انگلینڈ نے پاکستان کو 194 رنز سے ہرا دیا، سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری

لندن (خصوصی رپورٹ): لارڈز کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ پر کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ہوم ٹیم انگلینڈ نے پاکستان کو 194 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے۔ چوتھے دن کے آخری سیشن میں پاکستان کی پوری ٹیم 389 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب میں اپنی دوسری اننگز میں محض 194 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔ محمد عباس کی 5 وکٹیں اور سعود شکیل کی 97 رنز کی بہادرانہ اننگز بھی قومی ٹیم کو سیریز ہارنے سے نہ بچا سکیں۔


انگلینڈ کی دوسری اننگز کا اختتام اور عباس کا تاریخی ریکارڈ

چوتھے دن کے کھیل کا آغاز ہوا تو انگلینڈ نے اپنی دوسری نامکمل اننگز 177 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ سے آگے بڑھائی:

  • عباس کی تباہ کن بولنگ: 36 سالہ تجربہ کار پاکستانی فاسٹ بولر محمد عباس نے بریک تھرو فراہم کیے اور انگلینڈ کی آخری 3 وکٹیں گزشتہ روز کے اسکور میں صرف 31 رنز کے اضافے پر گرا دیں۔ انگلینڈ کی پوری ٹیم 208 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ محمد عباس نے 57 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔
  • لارڈز میں نیا اعزاز: یہ محمد عباس کے کیریئر کی لارڈز کے میدان پر پہلی بار 5 وکٹیں لینے کی کارکردگی تھی، اور وہ لارڈز پر یہ کارنامہ انجام دینے والے پاکستان کے ساتویں بولر بن گئے۔ ان کا ساتھ دیتے ہوئے خرم شہزاد اور محمد علی نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔
  • ڈین لارنس کی ففٹی: انگلینڈ کی دوسری اننگز میں ایسیکس کاؤنٹی کے 29 سالہ ڈین لارنس نے مزاحمت کرتے ہوئے 70 گیندوں پر 54 رنز (کیریئر کی چھٹی نصف سنچری) بنائے۔ پہلی اننگز کی 180 رنز کی برتری کی بدولت انگلینڈ نے پاکستان کو مجموعی طور پر 389 رنز کا ہدف دیا۔

پاکستان کی دوسری اننگز: ٹاپ آرڈر کی روایتی تباہی

پہلی اننگز میں محض 110 رنز پر آل آؤٹ ہونے والی پاکستانی ٹیم کی دوسری اننگز کا آغاز بھی انتہائی مایوس کن رہا:

  • امام الحق کی انجری: اوپنر امام الحق پنڈلی (Calf) میں تکلیف کے باعث دوسری اننگز میں بھی بیٹنگ کے لیے دستیاب نہ ہو سکے۔
  • 14 رنز پر 3 وکٹیں غائب: شان مسعود کے ساتھ نوجوان اذان اویس اننگز کا آغاز کرنے آئے، لیکن صرف 14 کے مجموعی اسکور پر پاکستان اپنے تین اہم ترین کھلاڑیوں—اذان اویس، عبداللہ شفیق اور کپتان بابر اعظم—کی وکٹیں گنوا کر شدید بحران کا شکار ہو گیا۔

شان مسعود اور سعود شکیل کی شراکت اور ڈی آر ایس کا ڈراما

شدید دباؤ کے بعد سابق ٹیسٹ کپتان شان مسعود اور سعود شکیل نے محتاط انداز اپنایا اور ٹیم کو سنبھالا:

  • 97 رنز کی پارٹنرشپ: دونوں مڈل آرڈر بلے بازوں نے چوتھی وکٹ کے لیے قیمتی 97 رنز جوڑ کر ٹیم کی پوزیشن کو کچھ بہتر کیا۔
  • بارش اور ریویو کا فیصلہ: کھانے کے وقفے (لنچ) کے بعد بارش کے سبب کھیل کچھ دیر روکا گیا۔ کھیل دوبارہ شروع ہوا تو 111 کے مجموعی اسکور پر اولے رابنسن کی ایک اندر آتی ہوئی گیند شان مسعود کے پیڈز پر لگی۔ جنوبی افریقا کے امپائر پالیکر نے انہیں ناٹ آؤٹ دیا، لیکن انگلینڈ کے ڈی آر ایس (DRS) ریویو پر فیصلہ تبدیل کرنا پڑا اور شان مسعود 72 گیندوں پر 26 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

مڈل آرڈر کا کولیپس اور سعود شکیل کی بدقسمتی

شان مسعود کے جانے کے بعد پاکستانی بیٹنگ لائن ایک بار پھر ریت کی دیوار ثابت ہوئی:

  • رضوان کی جلد بازی: چھٹے نمبر پر آنے والے وکٹ کیپر محمد رضوان صرف 9 گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے اور اولے رابنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ چائے کے وقفے کے بعد علی عثمان بھی 16 رنز بنا کر جوفرا آرچر کا شکار بنے۔
  • سعود شکیل کا دل ٹوٹ گیا: دوسرے اینڈ پر سعود شکیل ڈٹے رہے اور شاندار شاٹس کھیلے۔ انہوں نے 122 گیندوں پر 13 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے کمال کی اننگز کھیلی۔ تاہم، وہ اپنی پانچویں ٹیسٹ سنچری سے محض 3 رنز کی دوری پر بدقسمت رہے اور جوش ٹونگے کی گیند پر پل شاٹ کھیلتے ہوئے باؤنڈری پر ہیری بروک کو کیچ تھما بیٹھے۔ وہ 97 رنز پر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کی آخری امید بھی ختم ہو گئی۔

میچ کا حتمی نتیجہ اور بولنگ کارڈ

انگلینڈ کی جانب سے فاسٹ بولر اولے رابنسن سب سے کامیاب بولر رہے، جنہوں نے صرف 24 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ انگلینڈ نے یہ میچ 194 رنز سے جیت کر سیریز اپنے نام کر لی ہے۔


اگلے معرکے کا شیڈول (تیسرا ٹیسٹ)

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ 9 ستمبر 2026 سے برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ پر شروع ہوگا۔ اگرچہ انگلینڈ سیریز پہلے ہی جیت چکا ہے، تاہم پاکستان کے لیے عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس اور اپنی ساکھ بچانے کے لیے یہ میچ انتہائی اہم ہوگا۔