مکہ معاہدہ: فیلڈ مارشل کایومِ فتح کے موقع پر دورۂ ترکیہ،
( اصغر علی مبارک)
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ترکی مسلم دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے اور طویل المیعاد دفاعی بلاک کی عملی شروعات کا نقطۂ آغاز ہے۔
ترکیہ کا یہ 104واں یومِ فتح (Victory Day) پاکستان اور ترکیہ کے تزویراتی تعلقات میں ایک نئے سنہری باب کا آغاز ثابت ہو رہا ہے اس تاریخی اور قومی جشن کے موقع پر پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کی وہاں موجودگی مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کو محض ایک کاغذی معاہدے سے نکال کر زمین پر ایک ناقابلِ تسخیر حقیقت میں بدل رہی ہے۔
یومِ فتح کا یہ دن 1922ء میں لڑی جانے والی ‘دوملو پینار’ (Dumlupınar) کی تاریخی اور آخری جنگ میں غازی مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں ترک فوج کی برطانوی، یونانی اور دیگر قابض یورپی افواج کے خلاف فیصلہ کن فتح کی یاد میں منایا جاتا ہے اس فتح نے سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد بیرونی طاقتوں کی طرف سے ترکیہ کی تقسیم کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا اور موجودہ “جمہوریہ ترکیہ” کی آزادی کا راستہ صاف کیا انقرہ میں جشن کا آغاز صدرِ ترکیہ، اعلیٰ سول و عسکری قیادت اور غیر ملکی مہمانوں کی جانب سے جدید ترکیہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے مزار پر حاضری اور پھولوں کی چادر چڑھانے سے ہوتا ہےانقرہ اور استنبول سمیت تمام بڑے شہروں میں ترک مسلح افواج کی جانب سے روایتی فوجی پریڈز منعقد کی جاتی ہیں، جس میں ترکیہ کے تیار کردہ جدید ترین ہتھیاروں، ڈرونز اور ‘کان’ (KAAN) جیسے جنگی طیاروں کی فضائی نمائش کی جاتی ہے اس سال کا یہ یومِ فتح پاکستان کے لیے انتہائی خاص ہے کیونکہ:پاکستانی قیادت کی شرکت: پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اس وقت انقرہ میں موجود ہیں اور ترک قوم کے ساتھ اس جشن میں شریک ہیں۔
اسی یومِ فتح کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروقار تقریب میں ترک لینڈ فورسز کے ہیڈ کوارٹرز میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو بلندیوں پر پہنچانے کے اعتراف میں ترکیہ کے اعلیٰ ترین عسکری اعزاز “لیجن آف میرٹ” (Legion of Merit) سے نوازا گیا ہے
یہ دورہ اور یہ تاریخی دن پاک-ترک-سعودی عرب ‘مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے’ کے باقاعدہ فریم ورک اور مشترکہ عسکری حکمتِ عملی کو زمین پر نافذ کرنے کا نقطۂ آغاز بن چکا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بعد پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی ترکیہ آمد محض ایک روایتی سفارتی پھیرا نہیں۔ 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمیں پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان جس تاریخی ‘مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے’ پر دستخط ہوئے تھے، اب اس کے خدوخال عسکری اور سفارتی دونوں محاذوں پر بیک وقت زمین پر نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔نائب وزیرِ اعظم سینیٹر اسحاق ڈار کا استنبول پہنچنے پر ترک حکومت کے اعلیٰ حکام، بشمول ڈپٹی چیف آف اسٹاف فار ایڈمنسٹریشن برگیڈیئر جنرل شینول وارول (Brig. Gen. Şenol Varol)، ترک وزارتِ خارجہ کے سفیر جہاد ارگنائے، اور ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے استقبال کیا۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عسکری اور سیاسی قیادت کا بیک وقت ترکیہ میں موجود ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد، ریاض اور انقرہ نے مل کر نیٹو (NATO) کی طرز پر ایک ایسا مضبوط دفاعی و سفارتی حصار قائم کر دیا ہے جس کی گونج واشنگٹن سے لے کر نئی دہلی تک سنی جا رہی ہےفیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار انقرہ اور استنبول میں ترک قیادت کے ساتھ ‘پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس اسٹریٹجک کمیٹی’ کے پہلے باقاعدہ سیشن کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ اس معاہدے کا بنیادی ستون نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسا ہے: “کسی بھی ایک اتحادی ملک پر بیرونی مسلح حملہ، تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔” یہ ایک ایسا غیر معمولی اور جرات مندانہ فیصلہ ہے جس نے خطے میں طاقت کا توازن یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ سعودی عرب کی بے پناہ مالیاتی طاقت، ترکیہ کی جدید ترین ڈرون اور نیول ٹیکنالوجی، اور پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور جنگی طور پر آزمودہ فوج نے مل کر ایک ناقابلِ تسخیر مثلث (Triangle) تشکیل دے دی ہے۔ اب یہ اتحاد محض ہتھیار خریدنے تک محدود نہیں، بلکہ ترکیہ کے ‘کان’ (KAAN) ففتھ جنریشن جنگی طیارے کی مشترکہ تیاری اور ڈرون ٹیکنالوجی کی لوکلائزیشن اس کا اصل ہدف ہے۔مکہ معاہدے کے فوری بعد، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورۂ ایران سفارتی محاذ پر پاکستان کی گہری بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تہران میں ایرانی عسکری قیادت اور صدر سے ملاقاتوں کے دوران آرمی چیف نے یہ واضح پیغام دیا کہ مکہ معاہدہ کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف صف بندی نہیں، بلکہ خطے کے استحکام کا ضامن ہے۔ پاکستان نے ایران کے ساتھ سرحد پار سیکیورٹی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور دہشت گردی کے خاتمے پر بات چیت کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ اس نئے بلاک کی قیادت کرتے ہوئے خطے میں کسی نئی خلیج یا محاذ آرائی کا حصہ نہیں بنے گا، بلکہ مسلم ممالک کو جوڑنے کا کردار ادا کرے گامکہ معاہدے کی گونج جیسے ہی دنیا بر میں پھیلی، راولپنڈی کا جنرل ہیڈ کوارٹرز عالمی اور علاقائی سفارت کاری کا مرکز بن گیا۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ترین مسلم ممالک کے وزرائے دفاع، داخلہ، سفرا اور اعلیٰ ترین وفود نے یکے بعد دیگرے طویل ملاقاتیں کیں، جنہوں نے اس اسٹریٹجک بلاک کے گرد اسلامی دنیا کے اعتماد پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے
جنوبی ایشیا اور آسیان (ASEAN) خطے میں اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ سلیمان نسوتیان بن اسماعیل نے ایک اعلیٰ سطحی وفد اور ملائیشین سفیر کے ہمراہ جی ایچ کیو کا خصوصی دورہ کیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی اس اہم ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال، انسدادِ دہشت گردی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے مکہ معاہدے کے سیکیورٹی اثرات کو سراہتے ہوئے دفاعی روابط اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
کویت کے وزیرِ دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے ایک اعلیٰ سطحی وفد اور چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل خالد دراج سعد الشریعان کے ہمراہ جی ایچ کیو کا دورہ کیا۔ مکہ معاہدے کے تناظر میں ہونے والی اس ملاقات میں کویتی وفد نے علاقائی سلامتی اور دوطرفہ دفاعی تعاون کو پائیدار شراکت داری میں بدلنے کا عزم ظاہر کیا۔
مکہ معاہدے کی روح کو آگے بڑھاتے ہوئے، سعودی عرب کے وزیر برائے ماحولیات، پانی و زراعت انجنیئر عبدالرحمن عبدالمحسن الفضلی نے جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مکہ معاہدے کے معاشی ستون کے تحت گرین پاکستان اور زرعی خود کفالت کے شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
مصر نے اس معاہدے کا والہانہ استقبال کیا ہے۔ جی ایچ کیو میں مصری سفیر اور فوجی وفد کی ملاقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مصر اس اتحاد کو خطے کی سلامتی کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے اور انقرہ کے سفارتی ذرائع کے مطابق، مصر بہت جلد اس دفاعی بلاک میں چوتھے مستقل رکن کے طور پر شامل ہونے کے لیے اصولی طور پر تیار ہے۔
بنگلہ دیش میں آنے والی حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد، بنگلہ دیشی قیادت نے جی ایچ کیو میں سیکیورٹی تبادلوں کے دوران مکہ معاہدے کو سراہتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک استحکام کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے اور پاکستان کے ساتھ دفاعی روابط بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
قطر کے دفاعی وفود نے جی ایچ کیو کے دورے کے دوران مکہ معاہدے کے تحت ہونے والی تکنیکی پیش رفت، مشترکہ مشقوں اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے فریم ورک کا حصہ بننے میں گہری دلچپی ظاہر کی ہے۔
ان اہم ترین ملاقاتوں کے تسلسل میں شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی اور صومالیہ کے وزیرِ دفاع سفیر احمد معلم فقی نے بھی جی ایچ کیو کے الگ الگ دورے کیے۔ ان ممالک نے مکہ معاہدے کے بعد پاکستان کے ابھرتے ہوئے عالمی عسکری کردار کو سراہتے ہوئے کثیر الجہتی سیکیورٹی روابط میں پاکستان کے ساتھ ادارتی تعاون کو فروغ دینے کے معاہدوں پر دستخط کیے,
پاکستان اب صرف امداد یا بیرونی ڈکٹیشن لینے والا ملک نہیں رہا، بلکہ وہ فیلڈ مارشل کی عسکری کمانڈ اور وزیرِ اعظم کی سیاسی و سفارتی حکمتِ عملی کے تحت مسلم دنیا کے سب سے بڑے دفاعی اتحاد کا محور بن کر ابھرا ہے۔
جی ایچ کیو میں ملائیشیا، کویت، سعودی عرب، شام اور صومالیہ جیسے ممالک کے سفارتی وفود کا یہ تانتا اور ترکیہ میں پاکستانی قیادت کا شاندار استقبال اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم امہ پاکستان کے عسکری اور تزویراتی (Strategic) کردار پر مکمل بھروسہ کرتی ہے۔
مکہ معاہدہ محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ محتاجی کے دور کے خاتمے اور مسلم دنیا کی خود محرکی کا ایک نیا صبحِ نو ہے۔
مکہ معاہدے کو محض ایک روایتی سفارتی کامیابی قرار دینا اس کی تزویراتی گہرائی کو کم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ معاہدہ مسلم دنیا کو واشنگٹن، ماسکو یا بیجنگ کے بلاکس پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے فیصلے خود کرنے کی طاقت (Self-Reliance) فراہم کرتا ہے۔ اس خود محرکی کے تین بنیادی ستون درج ذیل ہیں:
تکنیکی اور دفاعی خود کفالت : مکہ معاہدے کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ یہ مغرب سے مہنگے تیار ہتھیار خریدنے کی پرانی اور محتاجانہ پالیسی کو یکسر ختم کرتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت انقرہ، ریاض اور اسلام آباد مشترکہ طور پر ٹیکنالوجی کی منتقلی (Technology Transfer) پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کی آرڈیننس فیکٹریوں (POF) اور ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT) کو سعودی فنڈنگ اور ترکیہ کی جدید انجینئرنگ کا بیک اپ ملنے سے اب یہ بلاک خود اپنے دفاعی آلات بنانے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے، جس سے بیرونی پابندیوں یا بلیک میلنگ کا خطرہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
مسلم نیٹو کا ممکنہ فریم ورک : یہ معاہدہ اسلامی دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک ایسا متبادل فراہم کر رہا ہے جس کا خواب دہائیوں سے دیکھا جا رہا تھا۔ جی ایچ کیو میں مصر، قطر، کویت اور ملائیشیا کی حالیہ اعلیٰ سطحی عسکری ملاقاتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مکہ معاہدہ صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ اتحاد مستقبل کے ‘مسلم نیٹو’ کے بنیادی ڈھانچے کا کردار ادا کر رہا ہے، جو کسی بھی اسلامی ملک پر بیرونی جارحیت کی صورت میں ایک مشترکہ کمانڈ کنٹرول اور فوری ردِعمل کا خودکار نظام وضع کر رہا ہے۔
عالمی مالیاتی اور توانائی کے راستوں کا تحفظ : دنیا کی کل تیل اور گیس کی سپلائی کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب سے گزرتا ہے۔
مکہ معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی بحریہ (Navies) ان تزویراتی آبی گزرگاہوں کی سیکیورٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک تیار کر رہی ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف یہ بلاک اپنی توانائی کے راستوں کی حفاظت خود کرے گا، بلکہ بین الاقوامی تجارتی راستوں پر مسلم دنیا کا سیاسی اور سفارتی اثر و رسوخ انتہائی مضبوط ہو جائے گا، جو محتاجی کے دور کے خاتمے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ 30 اگست کو ترکیہ کے 104ویں تاریخی یومِ فتح (Victory Day / Zafer Bayramı) کے عظیم الشان قومی جشن کے موقع پر پاکستانی قیادت کی وہاں موجودگی، اور انقرہ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ترکیہ کے اعلیٰ ترین عسکری اعزاز “لیجن آف میرٹ” (Legion of Merit) سے نوازا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاک-ترک اسٹریٹجک بھائی چارہ اب ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن چکا ہے





