’’فخر پاکستان‘‘ جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارہ دفاعی نمائش آئیڈیاز میں مرکز نگاہ..کالم نگار؛اصغرعلی مبارک) …………امن اور سلامتی پاکستان کی خواہش” ہے۔ دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022 کاموضوع ,تھیم “ہتھیار امن کے لیے”ہے، دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022 میں ’’فخر پاکستان‘‘ جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارہ نمائش کی توجہ کا مرکز بنا ھوا ھے ، آئیڈیاز 2022 میں رکھی گئی” ہندوستان کے Mig-2 بائیسن لڑاکا طیارے کی دم توجہ بنی ہوئی ہے جسے ’’فخر پاکستان‘‘ جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارہ نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ” کے دوران 27 فروری 2019 کو مار گرایا تھا .
جب سے” آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ ” میں پاکستان نے بھارتی طیارے تباہ کیے ہیں، جے ایف17 کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ فرانس اور بحرین انٹرنیشنل ائر شو میں پاکستانی پائیلٹوں نے جے ایف۔ 17 تھنڈر کی جو جادوئی مہارت اور کارکردگی دنیا کو دکھائی ہے.
جے ایف17 نے فضائی جنگ کے ماہرین کوبے حد متاثر کیا ہے۔
دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022 میں ’’فخر پاکستان‘‘ جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارہ نمائش کی توجہ کا مرکز بنا ھوا ھے ،’
’فخر پاکستان‘‘ JF-17 جیٹ طیاروں نے بحرین انٹرنیشنل ایئر شو 2022 میں کچھ دن پہلے گرج کر پہلی بار اسرائیل کو دکھایا تھا پاکستان کے اندر تیار کیے جانے والے دفاعی ہتھیاروں میں جے ایف 17تھنڈر سب سے نمایاں ہے اور اس کو عالمی شہرت تب ملی جب اس کے ذریعے شہرہ آفاق ” آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ” میں ابیھی نندن کا جہاز گرایا گیا۔ اس وقت سے جے ایف 17تھنڈر نے دنیا کی توجہ حاصل کی ۔جے ایفـ17 تھنڈر لڑاکا طیارہ پاکستان کے لیے اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان اسے خود تیار کرتا ہے۔ ملکی سطح پر تیار کردہ جے ایف-17 لڑاکا طیارہ بہت ڈیمانڈ کی ھے جنگی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ہمیشہ پاکستانی فوج کے جانبازوں نے عالمی ماہرین کے سامنے حیران کن صلاحیت کا اظہار کیا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے دیگر ممالک پر انحصار کم سے کم کر دیا ہے اور زیادہ تر دفاعی سامان پاکستان کے اندر ہی تیار ہو رہا ہے۔بری، بحری اور فضائی افواج کے تمام شعبے اپنی ضرورت کا زیادہ سے زیادہ سامان پاکستان میں ہی تیار کررہے ہیں پاکستان نے چین کی مدد سے ان طیاروں کو بنانے کی صلاحیت حاصل کی ہے اور ماہرین کے مطابق یہ طیارہ ایک ہمہ جہت، کم وزن، فورتھ جنریشن ملٹی رول ایئر کرافٹ ہے۔اس طیارے کی تیاری، ضروری مرمت اور ‘اوورہالنگ’ کی سہولت ملک کے اندر ہی دستیاب ہے۔اسکا مطلب یہ ہے کہ اس طیارے کی تیاری کے دوران پاکستان نے اس کے تمام مراحل اپنے انجینئرز کی زیر نگرانی مکمل کیے اور کسی بھی مقام پر غیر ملکی امداد کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
عسکری حکام کے مطابق یہ طیارہ دنیا بھر میں کئی اہم شوز میں بھی پذیرائی حاصل کر چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر بڑے شو میں جے ایف تھنڈر کی فرمائش ضرور کی جاتی ہے
پاکستان نے دفاعی خودمختاری حاصل کرنے کے سفر میں 1995میں اس سنگ میل کو عبور کرنا شروع کیا جب پاکستان اور چین نے جے ایف تھنڈر کے متعلق ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔پاکستانی انجینئرز نے اس طیارے پر کام شروع کیا اور قلیل عرصہ میں ہی یعنی 2003 میں اس کا پہلا آزمائشی ماڈل تیار کیا گیا۔پاکستانی فضائیہ نے 2010 میں اس کو باقاعدہ طور پر اپنے فضائی بیڑے میں شامل کیا اور جلد ہی اس طیارے کی خصوصیات عالمی دنیا پر واضح ہوتی گئیں۔جے ایف17 تھنڈر کو جس عالمی نمائش میں بھی پیش کیا گیا وہاں کئی ممالک نے نہ صرف پاکستانی ماہرین کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا بلکہ اسے دنیا کے بہترین طیاروں میں شمار کرتے ہوئے اپنے ممالک کے لئے خریداری کے آرڈرزبھی دیئے۔جے ایف17 تھنڈر کی تیاری کے پس منظر میں یہ بات بھی شامل تھی کہ پاک فضائیہ کے بیڑے میں شامل میراج، ایف 7 اور اے 5 طیارے اپنی مدت پوری کر چکے تھے لہٰذا ان طیاروں کی جگہ لینے کے لیے بھی جے ایف17 تھنڈر کوہر اس خصوصیت سے آراستہ کیا گیا جو وقت کی ضرورت کے مطابق تھی۔دفاعی ماہرین کے مطابق جے ایف17 تھنڈر،ایف 16اور فالکن طیارے کی طرح ہلکے وزن کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے موسمی حالات میں زمین اور فضا میں اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والا ہمہ جہت طیارہ ہے اور یہ دور سے ہی اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت سے بھی لیس ہے۔جے ایفـ 17 تھنڈر طیاروں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں وہ جدید ریڈار نصب ہے جو رافیل کی بھی بڑی خوبی گنی جاتی ہے۔یاد رہے رافیل وہ طیارہ ہے جو بھارت نے حال ہی میں فرانس سے حاصل کیا ہے۔ جے ایف 17- تھنڈر طیارہ ہدف کو لاک کر کے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کی رینج 150 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے اور یہ میزائل اپنے ہدف کا پیچھا کرتا ہےے ایفـ 17 تھنڈر زمین پر دشمن کی نگرانی اور فضائی لڑائی کے ساتھ ساتھ زمینی حملے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طیارے میں نصب ریڈار نظام کی بدولت جے ایف ـ17 تھنڈر بیک وقت 15 اہداف کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ چار اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔یہ طیارہ فضا سے زمین، فضا سے فضا اور فضا سے سطحِ آب پر حملہ کرنے والے میزائل سسٹم کے علاوہ دیگر ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہےجے ایف 17 طیاروں کی خاص بات ہی یہ ہے کہ یہ باہر کے ممالک میں نہیں بلکہ پاکستان کے اندر کامرہ کے مقام پر تیار کیے جا رہے ہیں.عالمی ماہرین کے مطابق، پاکستان اور چین کا مشترکہ تیار کردہ پاکستانی جے ایف۔ 17 تھنڈر فائٹر جیٹ طیارہ کئی لحاظ سے بھارت میں کئی ممالک کے پارٹس سے تیارکردہ تیجاس سے کہیں بہتر لڑاکا طیارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ڈیفنس مارکیٹ میں بھارتی تیجاس کے مقابلے میں جے ایف۔ 17 بہت کامیاب ہے اور مستقبل میں بھی اس کی فروخت کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
جے ایف۔ 17 دراصل کم بجٹ والے ترقی پذیر ممالک کیلئے کم قیمت میں زیادہ مؤثر سنگل انجن فائٹر جیٹ کی بہترین آپشن کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اب جبکہ اس کا نیا ورژن بلاک 3 جدید ترین اے ای ایس اے ریڈار کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے ایف۔ 17 تھنڈر پروگرام مسلسل کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس 130 سے زیادہ تھنڈر طیارے استعمال کی حالت میں ہیں جبکہ اس سے زیادہ تعداد کیلئے آرڈر ہیں۔ ان حقائق سے ان طیاروں کی لاجسٹک، سپیئر پارٹس، سروسنگ، ٹریننگ، اپ گریڈنگ، استعمال شدہ ہتھیاروں اور الیکٹرانکس کے انضمام کی کامیابی کا ایک ہموار عمل ثابت ہوتا ہے۔اس سے پاکستان کو ایک اچھا خاصا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ اور پاکستان کی ڈیفنس انڈسٹری کا پروگرام مزید ترقی اور جدت پذیری کی طرف بڑھتا رہے گا۔ جے ایف-17 تھنڈر (JF-17 Thunder) لڑاکا طیارہ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر بنایا ہے۔ جہاز کی پہلی تجرباتی پرواز 2003ء میں چین میں کی گئی جبکہ اس میں مزید بہتریاں لا کر 2006ء میں ایک مرتبہ پھر اسے آسمانوں کی وسعتوں میں چھوڑا گیایہ خوشی کی بات ہے کہ ہمارا دفاعی شعبہ ٹیکنالوجی کے موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دفاعی نمائش آئیڈیاز عالمی دفاعی مارکیٹ میں ایک اہم پلیٹ فارم بن گئی ہے۔ اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران دفاعی نمائش آئیڈیاز ایک اہم پلیٹ فارم بن گیا ہے جو عالمی دفاعی مارکیٹ میں پاکستان کی ترقی کو اجاگر کرتا ہے۔ دفاعی نمائش آئیڈیاز کا تھیم “امن کے لیے ہتھیار، امن اور سلامتی کے لیے پاکستان کی خواہش” ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ ہمارا دفاعی شعبہ ٹیکنالوجی کے موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔موجودہ حالات میں نمائش کا انعقاد ایک چیلنج تھا، تاہم 4 روزہ دفاعی نمائش ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن کے زیر اہتمام منعقد کی جا رہی ہے۔بین الاقوامی ایونٹس کا معیار کمپنیوں کی تعداد اور جگہ سے جانچا جاتا ہے۔ بین الاقوامی کمپنیاں اپنے ساتھ بہت مصنوعات لے کر آئی ہیں۔ہماری کمپنیاں بھی نئی مصنوعات دنیا کو متعارف کروا رہی ہیں تین نئے ممالک آسٹریا، رومانیہ، ہنگری پہلی بار آئے ہیں۔ ایکسپو سینٹر کے دو ہال ترکش کمپنیوں اور چائنا نے ایک ہال بک کرایا ہے۔ ملک بھر سے چھوٹے بڑے وینڈرز اپنی منفرد مصنوعات کے ساتھ شرکت رہی ہیں ۔ امریکہ اور روس کی کمپنیاں بھی نمائش میں شرکت کررہی ہیں۔پاک فضائیہ نے گزشتہ 6 دہائیوں سے زیر استعمال ایف سیون بی طیاروں کی جگہ جے ایف 17 تھنڈر طیارے کو اسکوارڈن ٹو میں شامل کیا ہے۔



پی اے ایف اسکوارڈن ٹو میں جے ایف 17 تھنڈر طیارے شامل کرنے کی تقریب کراچی میں پی اے ایف بیس مسرور میں ہوئی جس کے مہمان خصوصی وزیر دفاع خواجہ آصف اور ایئر چیف مارشل سہیل امان تھے۔
تقریب میں 1950 سے پی اے ایف اسکوارڈن ٹو میں شامل ایف سیون بی طیاروں کی جگہ جدید جے ایف 17 تھنڈر طیارے شامل کئے گئے جس سے اسکوارڈن ٹو اور پاک فضائیہ کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس موقع پر جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے فلائی مارچ کا شاندار مظاہرہ بھی کیا۔
جے ایف – 17تھنڈر ایک ملٹی رول طیارہ ہے جسے چین کی ایوی ایشن انڈسٹری کے تعاون سے پاک فضائیہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہےجس کی شمولیت سے پی اے ایف لڑاکا طیاروں کے پرانے فلیٹ کو تبدیل کر سکے گا۔
چین کی ایوی ایشن انڈسٹری اور پاکستان ائیروناٹیکل کمپلیکس کامرہ کے درمیان قریبی تعاون جے ایف 17پراجیکٹ کی شکل میں عکاسی کرتا ہے۔پاکستان میں چین کی مدد سے تیار کردہ لڑاکا طیارے جے ایف 17تھنڈر کی گزشتہ 23 برسوں میں تیاری اور فروخت کے معاہدوں میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا ہر زاویے سے اہم کردار سامنے نظر آتا ہے اور اس حوالے سے اس اقدام کو اہم کارنامہ قرار دیاجا تا ہے۔
جے ایف تھنڈر طیارے کی فروخت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا ہر زاویے سے اہم کردار سامنے آیا اور اس حوالے سے اس اقدام کو اہم کارنامہ قرار دیاجا تا ہے۔ 1998 میں پہلی مرتبہ چین کی جانب سے پاکستان کو جے ایف 17 تھنڈر کی فروخت کا معاہدہ نواز شریف دور حکومت میں ہوا۔ کامرہ میں 50 ویں طیارے کی تیاری اوراس کی پی اے ایف کو حوالگی کی تقریب کے مہمان خصوصی بھی نوازشریف تھے جب کہ جنوری 2016 میں سری لنکا سے جے ایف 17 طیاروں کی فروخت کا تاریخی معاہدہ بھی سابق وزیراعظم نواز شریف کی موجودگی میں ہوا۔مئی ، 2021 میں پاکستان نے 3 جے ایف-17 تھنڈر طیارے نائیجیریا کو دے دئیے۔جے ایف-17 تھنڈر (JF-17 Thunder) ایک کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ہے، جو پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر بنایا ہے۔
جہاز کی پہلی تجرباتی پرواز 2003ء میں چین میں کی گئی جبکہ اس میں مزید بہتریاں لا کر 2006ء میں ایک مرتبہ پھر اسے آسمانوں کی وسعتوں میں چھوڑا گیا۔ 12 مارچ 2007ء کو دو جہاز پاک فضائیہ کے حوالے کیے گئے تاکہ ان کی پرواز کے مزید تجربات کیے جا سکیں۔ ان جہازوں نے 11 روز بعد اسلام آباد میں پہلا فضائی مظاہرہ بھی کیا۔
پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں پیداوار کے آغاز کے بعد پہلی بار 23 نومبر 2009ء کو یہ طیارے پاک فضائیہ کے حوالے کیے گئے۔ پاک فضائیہ 2010ء کے اوائل سے جے ایف-17 جہازوں کے مکمل اسکواڈرن کے ساتھ کام کر رہی ہے۔طیارے کی شکل ایف-16 اور میراج لڑاکا طیروں سے قدرِ مشترک ہے۔ ایک جہاز کی قیمت 15 سے 20 ملین ڈالر ہے۔ اسے پاکستان نے اس وقت بنانا شروع کیا جب امریکا نے 1990ء میں پاکستان سے تیس ایف-16 طیاروں کے پیسے ہڑپ کر لیے اور بعد میں پاکستان کے اوپر اسلحہ کی خریدو فروخت پر پابندیاں عائد کر دیں۔ پاکستان سے دوسرے ممالک نے بھی اسے خریدنے کی خواہش ظاہر کی ہے ان میں الجزائر، مصر، بنگلہ دیش، مراکش، نائجیریا، میانمار اور زمبابوے شامل ہیں اس طیارے میں دو عدد کمپیوٹر نصب ہیں جو اس کے ریڈار یا زمین سے موصول ہونے والی معلومات کو ہواباز تک پہنچاتے ہیں۔ پاک فضائیہ چینی ساختہ ریڈار نصب کیا ہے کیونکہ یہ ریڈار چینی اسلحے کے ساتھ موزوں ہے۔ اس میں دو عدد میزائل سے خبردار کرنے والے یونٹ آگے کی طرف لگے ہیں اور ایک پیچھے کی طرف۔ یہ 60 کلومیٹر دور تک کسی بھی آنے والے میزائل کا پتہ لگا سکتے ہیں اس میں ایک 23 ملی میٹر کی مشین گن بھی نصب ہوتی ہے۔ یہ ہوائی جہازوں کے خلاف ایس ڈی-10 اور پی ایل-9 میزائل لے کر جا سکتا ہے۔ جے ایف-17 سمندری جہازوں کے خلاف ایکسوکٹ، سی-801 یا ہارپون میزائل بھی استعمال کر سکتا ہے۔ یہ جی پی ایس کی رہنمائی استعمال کرنے والے بم مثلا ایف ٹی، ایل ٹی اور ایل ایس بم بھی لے جاسکتا ہے۔اگر اسے لیزر کی رہنمائی والے بم لے کر جانے ہوں تو اسے چین کا بنایا گیا ٹارگٹنگ پاڈ بھی لے جانا ہو گا۔













