شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس, وزیراعظم پاکستان کی جیو-اکنامک ترجیحات
( اصغر علی مبارک)
شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں وزیراعظم پاکستان مرکزنگاہ رہے , شہباز شریف کا دورۂ بشکیک محض ایک رسمی سفارتی حاضری نہیں، بلکہ پاکستان کی جیو-اکنامک ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی صدارت باقاعدہ طور پر سنبھال لی ہے اور اگلا تاریخی سربراہی اجلاس (Council of Heads of State) 2027ء میں اسلام آباد میں منعقد ہوگا اس باوقار صدارت کے دوران پاکستان کا مرکزی وژن روابط کا فروغ، ڈیجیٹل جدت، اور مشترکہ خوشحالی ہے، جس کے تحت آئی ٹی، مصنوعی ذہانت (AI)، سستی توانائی کی منتقلی، اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو اولیت دی جائے گی. اس دورانیے کی ایک اور اہم خاصیت یہ ہے کہ لاہور کو تنظیم کا “ثقافتی اور سیاحتی دارالحکومت” نامزد کیا گیا ہے. اسلام آباد میں ہونے والے اس عظیم الشان اجلاس کے لیے حکومت نے وفاقی دارالحکومت کے انفراسٹرکچر، ماحول دوست ٹرانسپورٹ، اور فول پروف سیکیورٹی کی تیاریاں ابھی سے شروع کر دی ہیں. چین، روس، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے سربراہانِ مملکت کی اس ممکنہ آمد سے نہ صرف پاکستان کا عالمی اور علاقائی سفارتی وقار بلند ہوگا بلکہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور جیو-اکنامک روابط کو ایک نئی اور پائیدار جلا ملے گی
موجودہ معاشی چیلنجز کے تناظر میں، SCO جیسے بااثر فورم پر پاکستان کا مضبوط مؤقف ملکی معیشت کو سہارا دینے اور علاقائی بلاک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اگر ان سفارتی کوششوں کو اندرونی سیاسی و معاشی استحکام کا ساتھ میسر آ جائے، تو پاکستان خطے میں تجارت اور توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا مرکز بن کر ابھر سکتا ہے۔شہباز شریف کی بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں شرکت علاقائی سفارت کاری، اقتصادی تعاون اور پاکستان کے سٹرٹیجک مفادات کے تحفظ کے لحاظ سے ایک انتہائی اہم اور کثیر الجہتی واقعہ ہے, یہ دورہ پاکستان کی اہمیت، علاقائی و عالمی منظر نامے پر اس کے اثرات کا احاطہ کرتا ہے۔
پاکستان کا سٹرٹیجک مقام;
شنگھائی تعاون تنظیم دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیموں میں سے ایک ہے، جو عالمی آبادی کے ایک بڑے حصے اور وسیع جغرافیائی رقبے کی نمائندگی کرتی ہے۔
مرکزی طاقتیں: اس تنظیم میں چین اور روس جیسی عالمی طاقتیں اور وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔
پاکستان کا کردار: پاکستان اس فورم کو اپنے جغرافیائی اور اقتصادی نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک اجلاس کے دوران پاکستان کے قومی اور علاقائی مفادات کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔ ان کے ایجنڈے کے نمایاں نکات درج ذیل تھے:
- اقتصادی روابط اور جیو-اکنامکس (Geo-Economics)سی پیک کا فروغ:
پائیدار ترقی کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے فیز-2 کی اہمیت کو اجاگر کرنا۔
وسطی ایشیا تک رسائی: پاکستان کی بندرگاہوں (گوادر اور کراچی) کو وسطی ایشیائی لینڈ لاک ممالک (Landlocked Countries) کے لیے مختصر ترین تجارتی راستہ بنانا۔ - موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) : پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 1% سے بھی کم کا ذمہ دار ہے، لیکن موسمیاتی نقصانات کا سب سے زیادہ شکار ہے۔عالمی فنڈنگ کا مطالبہ: سیلاب اور دیگر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک سے مالی اور تکنیکی تعاون کا مطالبہ۔
- دہشت گردی کا خاتمہ اور علاقائی سلامتی مشترکہ عزم:
شنگھائی تعاون تنظیم کے انسدادِ دہشت گردی کے ڈھانچے (RATS) کے تحت خطے میں امن و امان کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ۔
افغانستان کی صورتحال: پڑوسی ملک افغانستان میں استحکام اور اقتصادی بحالی کے لیے بین الاقوامی برادری کے مشترکہ کردار پر زور۔ سائیڈ لائن ملاقاتیں اور سفارتی کامیابیوں کا جائزہ;
سربراہی اجلاس کی سب سے اہم خصوصیت وزیراعظم شہباز شریف کی دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ (Side-line) ملاقاتیں تھیں۔
رہنما / ملک ملاقات کا بنیادی ایجنڈامتوقع نتائج ;
چین سی پیک منصوبوں کی رفتار تیز کرنا اور نئی سرمایہ کاری سیکیورٹی اور اقتصادی شراکت داری میں مزید استحکام ,ر وس توانائی کے شعبے میں تعاون اور سستی پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمیتوانائی کے بحران پر قابو پانے میں مددوسطی ایشیائی ریاستیںٹرانزٹ ٹریڈ اور سڑکوں کے ذریعے روابطپاکستانی مصنوعات کے لیے نئی مارکیٹوں تک رسائی,
اہم فوائد سفارتی تنہائی کا خاتمہ: عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کے فعال سفارتی کردار کا مظاہرہ۔
تجارت میں تنوع: روایتی مغربی مارکیٹوں پر انحصار کم کر کے یوریشین (Eurasian) خطے کے ساتھ نئے تجارتی معاہدات۔توانائی کی راہداریاں: تاپی (TAPI) گیس پائپ لائن جیسے بڑے علاقائی منصوبوں کو آگے بڑھانے کا موقع۔ تنظیم کے اندر بھارت کی موجودگی اور اس کے منفی پروپیگنڈے کا سفارتی سطح پر مقابلہ کرنا۔داخلی سیکیورٹی: غیر ملکی سرمایہ کاروں (خصوصاً چینی شہریوں) کے تحفظ کو یقینی بنانا تاکہ اقتصادی منصوبے متاثر نہ ہوں۔شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے دائرہ کار میں پاک-بھارت سفارتی تعلقات کا منظرنامہ روایتی کشیدگی اور کثیر الجہتی (Multilateral) سفارتی مجبوریوں کا ایک ملا جلا امتزاج نظر آتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے 2027ء کے سربراہی اجلاس کی صدارت سنبھالنے کے بعد، دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات میں کسی بڑی جادوئی تبدیلی یا برف پگھلنے (Thaw) کے امکانات تو کم ہیں، تاہم SCO پروٹوکول کے تحت پاکستان تمام رکن ممالک بشمول بھارت کو دعوت نامہ بھیجنے کا پابند ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الگ سے دوطرفہ تعلقات کے بجائے SCO کو ایک ادارے کے طور پر ڈیل کرتے ہیں، اور پاکستان میں شرکت کا فیصلہ “مناسب وقت پر مناسب اتھارٹی” کرے گی۔ حالیہ بشکیک اجلاس میں بھی یہ سرد مہری صاف نظر آئی جہاں بھارتی قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے اور فنڈنگ کو روکنے پر سخت ترین مؤقف اپنایا، جبکہ پاکستان نے ہمیشہ کی طرح ان الزامات کو مسترد کیا۔ چنانچہ، اسلام آباد میں ہونے والے اگلے اجلاس کے دوران ممکنہ منظرنامہ یہی رہے گا کہ دونوں ممالک باہمی تنازعات (جیسے کشمیر اور سرحد پار دہشت گردی) کو ایک طرف رکھ کر، چین اور روس کی موجودگی میں صرف علاقائی روابط، سیکیورٹی اور تجارتی فورم کے ایجنڈے تک محدود رہیں گے، جس کے باعث کسی بڑی دوطرفہ پیش رفت کے بغیر “محدود سفارتی مصافحہ” ہی متوقع ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی چین اور روس کے اعلیٰ ترین رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں میں کئی اہم اسٹرٹیجک اور اقتصادی معاہدوں پر پیش رفت ہوئی ہے。 ان مخصوص معاہدات اور تعاون کی تفصیلات درج ذیل شعبہ جات میں منقسم ہیں: چین کے ساتھ معاہدات اور سی پیک (CPEC) فیز-2چین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کا بنیادی محور , سی پیک کے دوسرے مرحلے کی رفتار تیز کرنا اور علاقائی روابط بڑھانا تھا: سربراہی اجلاس کے دوران اور اس کے سائیڈ لائنز پر پاکستان اور چین کے مابین اربوں ڈالر مالیت کے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے، جن کا مقصد انفراسٹرکچر کو جدید بنانا ہے
بین الاقوامی مالیاتی جھٹکوں اور ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے دونوں ممالک نے آپسی تجارت اور سی پیک کے لین دین کو چینی یوآن اور پاکستانی روپے (مقامی کرنسیوں) میں منتقل کرنے کے طریقہ کار کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا。
صنعتی منتقلی : چین سے ٹیکسٹائل، مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی (IT) کے شعبوں کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) میں منتقل کرنے کے لیے ورکنگ پلان وضع کیا گیا۔
روس کے ساتھ تاریخی تجارتی اور ٹرانسپورٹ معاہدےروس کے ساتھ پاکستان کے روابط میں حالیہ برسوں میں ایک بڑی اسٹرٹیجک تبدیلی آئی ہے، جس کے تحت درج ذیل مخصوص معاہدوں پر عملدرآمد شروع کیا جا رہا ہے پاکستان اور روس کے مابین براہ راست علاقائی تجارت کے لیے ایک تاریخی معاہدہ (ایم او یو) طے پایا ہے اس کے تحت پاکستان-روس فریٹ ٹرین سروس کا آغاز کیا جا رہا ہے جو پاکستان کو ایران، ترکمانستان، آذربائیجان اور قازقستان کے راستے روس سے منسلک کرے گی روس سے رعایتی نرخوں پر خام تیل (Crude Oil) کی مسلسل فراہمی اور پاکستانی ریفائنریوں کو روسی تیل کے مطابق ڈھالنے کے لیے تکنیکی تعاون کا معاہدہ آگے بڑھایا گیا ہے, اس کے ساتھ ہی مستقبل میں پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی کے انفراسٹرکچر پر بھی مشاورت ہوئی, پاکستان نے روس کی قیادت میں قائم یوریشین اکنامک یونین (EAEU) کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کے لیے باقاعدہ مذاکرات کی پیش رفت پر اتفاق کیا ہے تاکہ باہمی تجارت کا حجم جلد از جلد 1 ارب ڈالر تک پہنچایا جا سکے روس کی جانب سے پاکستان کی فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے گندم اور دیگر زرعی اجناس کی فراہمی میں اضافے کا معاہدہ کیا گیا,داخلی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی: دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے مابین سیکیورٹی، سائبر کرائم پر قابو پانے اور دہشت گرد نیٹ ورکس (خصوصاً افغانستان سے ابھرنے والے خطرات) کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت ایک باقاعدہ معاہدہ (MoU) طے پایا ہے,پاک، چین اور روس کے مابین اسٹرٹیجک اور اقتصادی تعاون علاقائی بلاک کی مضبوطی اور جیو-اکنامک مفادات کے تحفظ کی ایک بہترین مثال ہے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات دہائیوں پر محیط اور سدا بہار ہیں، جن کا عملی محور سی پیک (CPEC) فیز-2، گوادر پورٹ کی تعمیر، صنعتی منتقلی، اور مقامی کرنسیوں (یوآن اور روپے) میں باہمی تجارت کا تصفیہ ہے۔ دوسری طرف، روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں ایک تاریخی اسٹرٹیجک تبدیلی آئی ہے، جس کا فوکس انٹرنیشنل نارتھ-سوتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) کے تحت براہ راست فریٹ ٹرین سروس کا آغاز، بارٹر ٹریڈ (چیز کے بدلے چیز) کا فروغ، اور یوریشین اکنامک یونین کے ذریعے نئی مارکیٹوں تک رسائی ہے۔ توانائی کے شعبے میں جہاں چین پاکستان کو گرین انرجی اور پن بجلی کے منصوبوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے، وہاں روس سستے خام تیل، گیس سپلائی اور پاکستانی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے ذریعے پاکستان کے توانائی کے بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ مجموعی طور پر، چین کے ساتھ پاکستان کا تعاون انفراسٹرکچر اور طویل مدتی سرمایہ کاری پر مبنی ہے، جبکہ روس کے ساتھ شراکت داری تجارت میں تنوع اور فوری توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے گرد گھومتی ہے، جو مل کر پاکستان کو یوریشین بلاک کا ایک اہم جغرافیائی مرکز بناتی ہیں,شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے فیصلوں اور چین و روس کے ساتھ ہونے والے ان حالیہ معاہدات کے پاکستانی معیشت پر فوری اثرات انتہائی نمایاں ہیں، جو ملکی معیشت کو استحکام دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں , روس سے رعایتی نرخوں پر خام تیل کی مسلسل درآمد سے پاکستان کے درآمدی بل (Import Bill) پر دباؤ فوری طور پر کم ہوا ہے، جس سے قیمتی زرِ مبادلہ کے ذخائر کی بچت ہو رہی ہے
روسی توانائی اور چینی تعاون سے انرجی مکس بہتر ہونے سے صنعتوں کو سستی بجلی اور ایندھن کی فراہمی ممکن ہو رہی ہے، جس سے مقامی پیداوار کی لاگت کم ہوئی ہے,
روس کے ساتھ پائلٹ کنٹینر فریٹ ٹرین کے معاہدے اور یوریشین اکنامک یونین (EAEU) کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کے بعد پاکستان سے چاول، ٹیکسٹائل، پھل اور سبزیوں کی روس اور وسطی ایشیا کے لیے برآمدات کا فوری آغاز ہو رہا ہے,
سمندری راستے کے مقابلے میں مجوزہ ریل راہداری سے مال برداری کا وقت 35-45 دن سے کم ہو کر صرف 20-25 دن رہ گیا ہے، جس سے پاکستانی تاجروں کے لیے لاجسٹکس کے اخراجات فوری طور پر کم ہو رہے ہیں
چین کے ساتھ تجارتی تصفیے کے لیے مقامی کرنسی (یوآن اور روپے) کے استعمال کے طریقہ کار سے اوپن مارکیٹ اور انٹربینک میں امریکی ڈالر کی مانگ میں فوری کمی آئی ہے، جس سے روپے کی قدر کو استحکام ملا ہے۔ روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ‘چیز کے بدلے چیز’ کے تجارتی ماڈل کی بدولت پاکستان بغیر ڈالر خرچ کیے اہم صنعتی خام مال اور گندم درآمد کرنے کے قابل ہو رہا ہے سی پیک فیز-2 کے ایکشن پلان (2025–2029) کے تحت چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے مابین مشترکہ منصوبوں پر فوری کام شروع ہوا ہے۔ حکومت نے ملکی برآمدات کو بڑھانے کو قومی ایمرجنسی قرار دے کر نجی شعبے کو متحرک کیا ہے
چین سے مینوفیکچرنگ اور ٹیکسٹائل یونٹس کی پاکستان منتقلی کے معاہدوں سے مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کو نمو مل رہی ہے سی پیک ٹو کو پاکستان کے “کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان” اور چین کے “گرین بری” (Green BRI) سے جوڑنے کے نتیجے میں ماحول دوست منصوبوں، الیکٹرک گاڑیوں (EVs) اور سولر پاور میں فوری چینی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے





