urdu final news and jpg news banner
جڑواں شہروں میں اربن فلڈنگ: انتظامی نااہلی، بالائی علاقوں کا بہاؤ اور حکومتی غفلت کا شاخسانہ
تحریر: اصغر علی مبارک
اسلام آباد اور راولپنڈی میں شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ ناقص بلدیاتی منصوبہ بندی، بند نالوں اور ڈھانچے کی سنگین خرابیوں کا نتیجہ ہے۔National Disaster Management Authority (NDMA) اور محکمہ موسمیات (PMD) کی جانب سے بارہا پہلے سے انتباہ جاری کیے جانے کے باوجود، مون سون کی شدید بارشیں اسلام آباد ایکسپریس وے اور راولپنڈی کے نشیبی رہائشی علاقوں کو جھیلوں میں تبدیل کر دیتی ہیں، جس سے ہزاروں شہری محصور اور انفراسٹرکچر تباہ ہو جاتا ہے۔

موجودہ زمینی صورتحال اور ہنگامی صورتحال
حالیہ طوفانی بارش کا سلسلہ دوپہر 3:20 بجے شروع ہوا اور صبح 8:00 بجے رکا، جس نے جڑواں شہروں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی:
- ریکارڈ بارش: ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، کیپٹن (ریٹائرڈ) ندیم ناصر نے تصدیق کی ہے کہ راولپنڈی میں ریکارڈ 200 ملی میٹر بارش درج کی گئی، جو کہ گزشتہ 3 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔
- گھروں میں پانی کا داخلہ: سڑکیں اور نشیبی علاقے تالابوں کا منظر پیش کرنے لگے، کئی مقامات پر گھٹنوں تک پانی جمع ہو گیا اور رہائشی مکانات کے اندر داخل ہو گیا۔
- نالہ لئی میں طغیانی: نالہ لئی میں گرنے والے ذیلی نالوں کے بیک فلو (الٹے بہاؤ) کی وجہ سے پانی آبادیوں میں نکل آیا۔ کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح خطرناک حد تک 29 فٹ بلند ہو گئی، جبکہ گوالمنڈی پل پر سطح 24 فٹ ریکارڈ کی گئی، جو خطرے کے نشان کو عبور کر گئی۔
- انخلا کے احکامات اور تعطیل: شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر انتظامیہ نے نالہ لئی کے ارد گرد کی بستیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایات جاری کیں اور متاثرہ علاقوں کے تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کر دیا گیا۔
- پاک فوج اور ریسکیو آپریشنز: ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کو گوالمنڈی اور نالہ لئی کے اطراف تعینات کیا گیا، جہاں ریسکیو 1122 اور واسا (WASA) کی ٹیموں نے مل کر نشیبی علاقوں سے نکاسی آب کا آپریشن مکمل کیا۔
1. بنیادی وجوہات (Root Causes)
- قدرتی نالوں پر تجاوزات: ہاؤسنگ سوسائٹیز اور تجارتی مراکز نے قانونی و غیر قانونی طور پر قدرتی نالوں پر تعمیرات کر رکھی ہیں، جس سے کورنگ ندی اور نالہ لئی جیسے اہم آبی راستے سکڑ چکے ہیں۔
- کنکریٹ کا بڑھتا جال: تیز رفتار اربنائزیشن نے زمین کی قدرتی جاذبیت ختم کر دی ہے۔ مٹی اور سبزہ نہ ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی زمین میں جذب نہیں ہوتا اور سڑکوں پر تیز بہاؤ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
- ٹھوس فضلے کی بھرمار: ٹنوں کے حساب سے پلاسٹک کا کچرا، گھریلو فضلہ اور تعمیراتی ملبہ براہ راست نالوں میں پھینکا جاتا ہے، جس سے زیر زمین چوکنگ (رکاوٹیں) پیدا ہوتی ہیں۔
- عمر رسیدہ انفراسٹرکچر: سیوریج اور ڈرینج کا موجودہ نظام دہائیوں پرانا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہونے والی شدید اور اچانک (Cloudburst) بارشوں کا دباؤ سنبھالنے کے قابل نہیں ہے۔
2. بالائی علاقہ (اسلام آباد کا جغرافیائی کردار)
اگرچہ سیلاب کی سب سے زیادہ تباہ کاری راولپنڈی کے نشیبی علاقوں میں نظر آتی ہے، لیکن اس سیلابی پانی کا بڑا حصہ اسلام آباد کے جغرافیائی بہاؤ سے پیدا ہوتا ہے۔
- کیچمنٹ ایریا پر کنٹرول: نالہ لئی کا طاس (Basin) تقریباً 235 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ اسلام آباد اس بالائی کیچمنٹ ایریا کے 69 فیصد حصے پر مشتمل ہے، جہاں مارگلہ کی پہاڑیوں سے نالے شروع ہوتے ہیں۔
- ڈھلان کا اثر: اونچائی پر واقع ہونے کی وجہ سے اسلام آباد ایک ڈھلوان کا کام کرتا ہے۔ کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) کی جانب سے واٹر ریٹینشن (پانی روکنے والے) ڈیمز نہ بنانے کی وجہ سے لاکھوں گیلن پانی منٹوں میں راولپنڈی کی طرف بڑھتا ہے۔
3. راول ڈیم کے اسپل ویز کا مسئلہ
شدید بارشوں کے دوران انتظامیہ کو راول ڈیم کے اسپل ویز (Spillways) کھولنے پڑتے ہیں، جو ایک سنگین انتظامی مجبوری ہے:
- ڈیم کی حفاظت: جب پانی کی سطح ڈیم کی آخری حد 1,752 فٹ کے قریب پہنچتی ہے، تو ڈھانچے کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے کنٹرولڈ ڈسچارج لازمی ہو جاتا ہے۔
- نشیبی علاقوں پر دباؤ: یہ عمل ڈیم کو تو محفوظ رکھتا ہے، لیکن ہزاروں کیوسک پانی یکدم کورنگ ندی اور نالہ لئی میں شامل ہونے سے نچلے علاقوں میں فوری فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کرنا پڑتا ہے۔
4. صوبائی حکومت کی ناکامی (پنجاب انتظامیہ)
محکمہ موسمیات اور NDMA کے واضع الرٹس کے باوجود، حکومتِ پنجاب راولپنڈی کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔
- نالہ لئی کی گہری صفائی کا نہ ہونا: واسا راولپنڈی اور راولپنڈی میونسپل کارپوریشن مون سون سے قبل نالوں کی گہرائی سے صفائی کرنے اور بڑی رکاوٹیں ہٹانے میں ناکام رہتے ہیں۔
- طویل المیعاد منصوبوں کو پسِ پشت ڈالنا: حکومت نے نالہ لئی ایکسپریس وے اور چینلائزیشن پروجیکٹ جیسے مستقل حل کو سیاسی نذر کر کے لٹکا رکھا ہے۔ پائیدار انجینئرنگ کے بجائے صرف عارضی کھدائی پر اکتفا کیا جاتا ہے جو پہلی ہی بارش میں بہہ جاتی ہے۔
- رئیل اسٹیٹ مافیا کی سرپرستی: پنجاب حکومت نے راولپنڈی کی حدود میں ندی نالوں کے کناروں پر قائم غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی، جس سے پانی کے قدرتی راستے مستقل بند ہو چکے ہیں۔
5. مستقبل کے لیے تجاویز (The Way Forward)
- اسپنج سٹی انفراسٹرکچر کا قیام: سی ڈی اے (CDA) اسلام آباد کے بالائی علاقوں میں مصنوعی جھیلیں اور ایسے گراؤنڈز بنائے جو پانی کو روک سکیں تاکہ راولپنڈی پر یکدم دباؤ نہ آئے۔
- نالہ لئی چینلائزیشن پروجیکٹ کی فوری تکمیل: پنجاب حکومت عارضی صفائی چھوڑ کر نالہ لئی کو پکا کرنے، اس کے کناروں پر دیواریں اٹھانے اور اسے وسیع کرنے کا منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرے۔
- مشترکہ جڑواں شہر ٹاسک فورس: سی ڈی اے، واسا اور راولپنڈی انتظامیہ پر مشتمل ایک بااختیار باڈی بنائی جائے تاکہ دونوں شہروں کا ڈرینج ماسٹر پلان ایک دوسرے کے ہم آہنگ ہو سکے۔
- تجاوزات کا بلاامتیاز خاتمہ: فلڈ پلینز اور نالوں کے اوپر بنی تمام کمرشل پرازوں اور سوسائٹیز کے خلاف گرینڈ آپریشن کر کے انہیں مسمار کیا جائے۔
- جدید سالڈ ویسٹ مینجمنٹ: نالوں کے داخلی راستوں پر خودکار مکینیکل گرل گیٹس لگائے جائیں تاکہ پلاسٹک کا کچرا نالوں کو چوک نہ کر سکے۔
Here’s your generated image.




