خیبر پختونخوا میں چوتھی بار گورنر راج – ایمرجنسی نافذ
(اصغر علی مبارک)
قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک، ملک کا ہر صوبہ کم از کم ایک بار وفاق کے اس آئینی ہتھیار کا سامنا کرچکا ہے۔ 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں چوتھی مرتبہ ’گورنر راج‘ نافذ کر دیا گیا ہے۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے اتوار کو وفاقی کابینہ کی سفارش پر خیبر پختونخوا میں ’ایمرجنسی‘ اور ’گورنر راج‘ نافذ کرنے کی سمری پر دستخط کے بعد منتخب صوبائی حکومت کے تمام اختیارات بیوروکریسی اور گورنر کو حاصل ہو گئے ہیں۔ صدر مملکت نے یہ منظوری وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر دی ہے۔اس سے قبل وفاقی کابینہ نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ’گورنر راج‘ اور ’ایمرجنسی‘ نافذ کرنے کی باقاعدہ منظوری دی تھی۔ صدر کی جانب سے دستخط کے بعد خیبر پختونخوا کے تمام انتظامی معاملات کی باگ ڈور اب باقاعدہ طور پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے ہاتھ میں ہوگی۔
خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر گورنر راج – ایمرجنسی دونوں نافذ کردیے گئے ہیں۔ ایوان صدر کے اعلامیے میں اس اقدام کی وجہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی خراب صورت حال اور شہریوں کی جان و مال کو لاحق خطرات کو قرار دیا گیا ہے۔ صدر مملکت کی جانب سے وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط کے بعد اب صوبے کے تمام ایگزیکٹیو اختیارات پی ٹی آئی حکومت کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہوگئے ہیں جب کہ آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں فوج کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔سنہ 1973ء کے آئین کے تحت کسی صوبے میں پہلا باقاعدہ گورنر راج 16 فروری 1975ء کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں نافذ کیا گیا جو 76 روز تک نافذ رہا۔ فروری 1975 میں پشاور یونیورسٹی میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما حیات محمد خان شیرپاؤ جاں بحق ہو گئے تھے
وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے صوبائی حکومت پر امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے صوبے میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور جمیعت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت کا خاتمہ کیا۔ اس اقدام کے بعد وزیراعلیٰ سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور کو گھر جانا پڑا اور صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کردیے گئے۔ صوبہ سرحد میں دوسری مرتبہ منتخب حکومت کا خاتمہ بھی پیپلزپارٹی کی مرکزی حکومت کے دور اس وقت ہوا صوبہ سرحد میں دوسری مرتبہ منتخب حکومت کا خاتمہ بھی پیپلزپارٹی کی مرکزی حکومت کے دور اس وقت ہوا جب بینظیر بھٹو وزیراعظم پاکستان تھیں اور پیر صابر شاہ صوبے میں مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی اتحادی حکومت کے وزیرِاعلیٰ تھے۔ صدرِ پاکستان فاروق لغاری نے 25 فروری 1994 کو وفاقی حکومت کی سفارش پر آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 234 کے تحت دہ ماہ کے لیے گورنر راج کے نفاذ کا حکم نامہ جاری کیا جو 24 اپریل 1994ء تک جاری رہا۔ اکتوبر 1999ء میں صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ملک بھر میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کر دی گئی، جس کے نتیجے میں پورا وفاقی اور صوبائی جمہوری ڈھانچہ لپیٹ دیا گیا، لہٰذا صوبہ سرحد میں بھی مسلم لیگ ن کے وزیراعلیٰ مہتاب عباسی کو گھر جانا پڑا اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد شفیق نے بحیثیت گورنر صوبے کا انتظام سنبھال لیا۔ سرھد میں تیسرا گورنر راج 3 سال سے زائد عرصے تک جاری رہا جو نومبر 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کے اکرم خان درانی کے بطور وزیراعلیٰ حلف اٹھانے تک برقرار رہا۔ اس عرصے کو صوبے کی تاریخ کا طویل ترین گورنر راج قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جب بھی وفاق اور صوبوں کے تعلقات میں تناؤ عروج پر پہنچے تو ’گورنر راج‘ یا ’ایمرجنسی‘ جیسی اصطلاحات سامنے آتی ہیں۔ یہ وہ آئینی ہتھیار ہے جسے استعمال کرتے ہوئے وفاق میں بیٹھی حکومت صوبے میں اکثریتی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت کو بھی گھر بھیج سکتی ہے۔
ماضی میں وفاقی حکومتوں نے صوبائی حکومتوں کے خلاف ’گورنر راج‘ یا ’ایمرجنسی‘ جیسے آئینی ہتھیاروں کا استعمال کب، کیوں پر اور کیسے کیا؟ اس کا جائزہ لینے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’ایمرجنسی‘ یا ’گورنر راج‘ میں بنیادی فرق کیا ہے اور کیا آئین وفاق کو ایک منتخب وزیراعلیٰ اور اس کی کابینہ کو بے دخل کر کے تمام اختیارات کسی بیوروکریٹ یا گورنر کے ہاتھ میں دینے کا اختیار دیتا ہے؟
آئینِ پاکستان کا ’باب 10‘ کسی بھی صوبے میں ’گورنر راج‘ یا ’ایمرجنسی‘ کے نفاذ کی وضاحت کرتا ہے۔ وفاق جب بھی کسی صوبے کا نظام اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اسی باب کی تین بنیادی آئینی دفعات ’آرٹیکل 232‘، ’آرٹیکل 234‘ یا ’آرٹیکل 235‘ کا سہارا لیا جاتا ہے۔آئینِ پاکستان کا یہ آرٹیکل جنگ، بیرونی جارحیت یا شدید اندرونی خلفشار جیسے حالات میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہے۔ یہ آرٹیکل ملکی سلامتی کو درپیش ایسے تمام خطرات کی صورت میں جنہیں صوبائی حکومت کنٹرول نہ کر سکے، صدر کو ایمرجنسی لگانے کا اختیار دیتا ہے۔
اس صورتِ حال میں صوبائی اسمبلی برقرار رہ سکتی ہے مگر اس کے قانون سازی کے اختیارات مفلوج ہو جاتے ہیں اور صوبائی معاملات پر قانون سازی کا وسیع اختیار بھی وفاق کے پاس آجاتا ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق اگر صدر کو گورنر یا کسی اور ذریعے سے یہ یقین ہو جائے کہ صوبائی حکومت صوبے کا نظام آئین کے مطابق چلانے میں ناکام ہوچکی ہے تو وہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کو معطل یا تحلیل کر کے تمام انتظامی اختیارات وفاق کے نمائندے یعنی گورنر کے سپرد کر سکتا ہے، جسے گورنر راج بھی کہا جاتا ہے۔ ان دونوں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ گورنر راج کی مدت 2 ماہ یا مخصوص صورتِ حال میں کسی بھی صورت 6 ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی جب کہ ایمرجنسی کے لیے آئین میں کوئی مجموعی یا آخری حد مقرر نہیں ہے، پارلیمنٹ ہر چھ ماہ بعد قرارداد منظور کر کے اس میں توسیع کرسکتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مرکز اور صوبوں کے درمیان رسہ کشی اور تناؤ کی ایک طویل داستان ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سے لے کر آج تک ملک کے ہر صوبے میں منتخب حکومت نے کم از کم ایک بار اس کڑوے گھونٹ کا ذائقہ ضرور چکھا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں تین مرتبہ پنجاب کی صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کے ہاتھ میں آئے جب کہ ملک کا پہلا باقاعدہ گورنر راج بھی جنوری 1949ء میں پنجاب میں ہی لگایا گیا تھا۔
وفاق کے اس آئینی ہتھیار کا پہلی مرتبہ نشانہ پنجاب کے پہلے وزیراعلیٰ افتخار حسین ممدوٹ کی حکومت بنی تھی جسے کرپشن، اقربا پروری اور مِس مینجمنٹ کے الزامات پر برطرف کیا گیا تھا۔ تاہم تاریخی حوالہ جات کے مطابق وزیراعلیٰ افتخار ممدوٹ کی برطرفی کی اصل وجہ ان کے مرکز اور اپنے ہی وزیرِ خزانہ ممتاز دولتانہ سے شدید اختلافات تھے۔ صوبائی حکومت میں دھڑے بندیوں کا نتیجہ صوبے میں گورنر راج کی صورت میں نکلا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حالیہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے وفاقی حکومت نے 1973ء کے آئین کے دو آرٹیکلز کا سہارا لیا ہے تو 1949ء میں کس قانون کے تحت گورنر راج لگایا گیا تھا؟ جنوری 1949ء کو جب وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے پنجاب کے پہلے وزیرِ اعلیٰ نواب افتخار حسین ممدوٹ کی منتخب عوامی حکومت کو برطرف کیا تو اس کے لیے مرکز نے ’گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935‘ کے سیکشن 92-اے کا سہارا لیا تھا، جو اس وقت ملک کے عبوری آئین کے طور پر نافذ العمل تھا۔ پہلی مرتبہ منتخب صوبائی حکومت کے خاتمے کے لیے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اس وقت کے عارضی آئین یعنی ’گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے ’سیکشن 92 اے‘ کا استعمال کیا تھا اور صوبائی حکومت کو برطرف کرکے تمام اختیارات گورنر سر فرانسس موڈی کے سپرد کر دیے تھے۔ اس شق کے تحت گورنر جنرل کے پاس کسی بھی صوبے کی منتخب حکومت کو برطرف اور اسمبلی کو معطل یا تحلیل کر کے تمام انتظامی و قانون سازی کے اختیارات وفاق کے نامزد کردہ گورنر کو سونپنے کے اختیارات حاصل تھے، جس کے لیے کسی پارلیمانی منظوری یا عدالت میں چیلنج کرنے کی کوئی گنجائش بھی موجود نہیں تھی۔ پنجاب کا یہ پہلا گورنر راج 1951ء میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کے بعد ختم ہوا، جس کے نتیجے میں میاں ممتاز دولتانہ نئے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے، تاہم 1953ء میں پنجاب میں امن و امان کی خراب صورت حال کو جواز بنائے ہوئے وفاق نے وزیراعلیٰ میاں ممتاز دولتانہ کی حکومت کو بھی برطرف کر دیا تھا۔پاکستان میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) اور گورنر راج کا نفاذ ہمیشہ سے سیاسی بحرانوں، آئینی تعطل اور مارشل لا کے ادوار سے جڑا رہا ہے۔ یہ قوانین بنیادی طور پر برطانوی نوآبادیاتی دور کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 سے لیے گئے تھے، جن کا مقصد مرکز (وفاق) کو صوبوں یا پورے ملک پر مطلق العنان اختیارات دینا تھا۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 سے 237 تک ایمرجنسی کی مختلف اقسام (جنگ، داخلی انتشار، یا معاشی بحران) کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ذیل میں پاکستان کی تاریخ میں لگنے والی اہم ترین ایمرجنسیز کا تفصیلی ذکر ہےشہبازشریف، جنہوں نے 11 اکتوبر کو وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی منظوری دی، ماضی میں 2 مرتبہ خود بھی اس آئینی ہتھیار کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اکتوبر 1999ء میں شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ 12 اکتوبر کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ایمرجنسی نافذ کی تو ملک دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی وزیراعلیٰ شہباز شریف کی حکومت بھی ختم ہوگئی اور صوبے کا انتظام براہِ راست گورنر پنجاب کو سونپ دیا گیا تھا۔ پنجاب میں دوسرا گورنر راج 23 نومبر 2002ء تک جاری رہا۔ پنجاب میں تیسری مرتبہ 25 فروری 2009ء کو گورنر راج نافذ ہوا، جس کی بنیاد سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ بنا جس میں نواز شریف اور شہباز شریف کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ سامنے آتے ہی صدر مملکت آصف علی زرداری نے فوری طور پر پنجاب میں آرٹیکل 234 کے تحت دو ماہ کے لیے گورنر راج لگا دیا اور سلمان تاثیر نے بحیثیت گورنر صوبے کا انتظام سنبھال لیا۔ تاہم اس مرتبہ ایک اہم فرق یہ تھا کہ پنجاب اسمبلی کو معطل نہیں کیا گیا بلکہ صرف وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے ارکان کو اپنے عہدوں پر کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ پنجاب کی طرح سندھ میں بھی تین مرتبہ گورنر راج لگایا جاچکا ہے۔ ملکی تاریخ کے گورنر راج کے صرف دو سال بعد 1951ء میں سندھ کے پہلے وزیراعلیٰ ایوب کھوڑو اور انکی کابینہ کو بھی گورنر راج کے نتیجے میں گھر جانا پڑا تھا۔ اُس وقت کے قائداعظم محمد علی جناح ملک کے گورنر جنرل اور لیاقت علی خان وزیراعظم تھے۔ وفاقی حکومت نے ایوب کھوڑو کی حکومت کو بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت برطرف کرکے صوبے میں گورنر راج نافذ کیا اور 1953ء تک میاں امین الدین نے بطور گورنر صوبے کا انتظام سنبھالا۔ اس سے قبل قائداعظم کے احکامات پر اپریل 1948ء میں بھی ایوب کھوڑو کی حکومت کو انہی الزامات کے تحت برطرف کیا گیا تھا تاہم اس وقت گورنر راج کے بجائے ’پروڈا‘ (پبلک اینڈ ریپریزینٹیٹیو آفس ڈِس کوالیفیکیشن ایکٹ) نامی قانون کا سہارا لیا گیا تھا۔ سندھ میں گورنر راج کا دوسرا دور 68 روز پر محیط تھا، جو 24 جون 1988ء کو شروع ہو کر 31 اگست 1988ء کو ختم ہوا۔ یہ فیصلہ اس وقت ہوا جب صوبے میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں پر مشتمل حکومت قائم تھی، جس کے وزیراعلیٰ اختر علی غلام قاضی تھے۔ اُس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے وزیرِاعظم محمد خان جونیجو کی وفاقی حکومت اور قومی اسمبلی کی برطرفی کے ساتھ ہی تمام صوبائی حکومتیں بھی ختم کیں تو وزیر اعلیٰ اختر علی غلام قاضی کی حکومت بھی اس فیصلے کی زد میں آئی۔ جنرل ضیاء الحق نے جنرل (ر) رحیم الدین خان کو گورنر مقرر کرکے گورنر راج کے تحت غیر محدود اختیارات تفویض کیے۔ 17 اگست 1988ء کو جنرل ضیاء الحق کی وفات کے بعد قائم مقام صدر غلام اسحاق خان نے گورنر راج ختم کرنے کا اعلان کیا اور عام انتخابات کے لیے اختر علی غلام قاضی دوبارہ نگراں وزیرِاعلیٰ سندھ مقرر ہوئے۔ 1988 میں جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات سید قائم علی شاہ پہلی مرتبہ وزیرِاعلیٰ سندھ منتخب ہوئے تھے۔ یہ سندھ کی تاریخ کا اہم ترین گورنر راج تھا۔ اکتوبر 1998ء میں کراچی میں نامور علمی شخصیت اور سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کو شہید کر دیا گیا۔ اس ہائی پروفائل قتل کے بعد کراچی اور سندھ بھر میں امن و امان کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنی ہی اتحادی حکومت کو معطل کر کے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کردی۔ اس دوران معین الدین حیدر بطور صوبے کا نظام چلاتے رہے اور 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے تک صوبے میں گورنر راج نافذ رہا۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ثمر ہارون بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ وفاقی حکومت ایک ماہ سے زائد عرصے تک کوشش کرتی رہی کہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے۔ وہ ذاتی طور پر بھی پس پردہ خیبرپختونخوا حکومت سے رابطے میں تھے۔محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک حکومت کے لیے اکیلے لڑنا ممکن نہیں، اس کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ان کے بقول حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی سے رابطے اور مذاکرات میں بھی پہل کی جاتی رہی لیکن تمام کوششوں کے باوجود اتفاق رائے نہ ہوسکا۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی تاریخ کے اعلان سے پہلے ہی مختلف معاملات پر پیش رفت جاری تھی اور حکومت کی جانب سے ملاقاتوں سمیت متعدد امور پر کام کیا جا رہا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 17 ستمبر کو نیویارک روانہ ہونا تھا اور کوشش تھی کہ ان کے بیرون ملک جانے سے پہلے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کرکے معاملہ حل کرلیا جائے۔ مزید کہا کہ فیصلہ ہوا تھا کہ وزیراعظم اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور انہیں لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کریں گے۔ اس مقصد کے لیے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے پر بھی بات ہوئی اور صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں بھی اس معاملے پر گفتگو ہوئی۔محسن نقوی کے مطابق پی ٹی آئی کے ساتھ دو روز تک مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کے دوران مسودے میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں اور اسے تین سے چار مرتبہ حتمی شکل دی گئی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے پانچ سے چھ ترامیم کی نشاندہی کی گئی، جنہیں حکومت نے قبول کرلیا لیکن جب تمام معاملات طے ہوتے دکھائی دے رہے تھے تو ایک نیا مسودہ سامنے آگیا۔ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس معاملے پر مل کر لڑائی لڑیں گے۔ اس پر پی ٹی آئی رہنماؤں سے کہا گیا کہ وہ خیبرپختونخوا حکومت کو بھی اعتماد میں لیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کیے جاسکیں۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ
مجوزہ مسودے کے ایک پیراگراف پر پی ٹی آئی سے تجاویز مانگی گئیں تاہم اس کا جواب نہیں ملا۔ ان کے مطابق گزشتہ رات 11 بج کر 45 منٹ تک پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ برقرار تھا اور انہیں بتایا گیا کہ اگر مسودے میں کوئی تبدیلی کرانی ہے تو آگاہ کردیں، ابھی بھی معاملہ حل کرنے کا موقع موجود ہے، لیکن دوسری جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات 15 یا 16 ستمبر کو کرانے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ ان کے بیرون ملک جانے سے پہلے معاملات طے ہوسکیں۔ تاہم، مسلسل رابطوں اور مذاکرات کے باوجود اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت نے کبھی پی ٹی آئی سے دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق دھرنا مؤخر کرنے کی شرط پیپلز پارٹی کی جانب سے رکھی گئی تھی، وفاقی حکومت کا بنیادی مطالبہ دہشت گردی کے خلاف تعاون تھا۔ مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو بتایا گیا تھا کہ وہ دھرنا کرنا چاہتی ہے تو کرے، حکومت کو اس سے مسئلہ نہیں تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کا تعاون ضروری ہے۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی ہوئی اور مولانا نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی رابطے کیے، لیکن ان کوششوں کے باوجود کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کوشش تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کے خلاف اقدامات کیے جائیں، نہ کہ سیاسی اختلافات کو موضوع بنایا جائے۔محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں حالات بہت زیادہ خراب ہیں اور بعض علاقوں میں لوگ شام کے بعد گھروں سے باہر نکلنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں میں اضافہ ہورہا ہے جب کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن کے ایک سینئر افسر کی بھی شہادت ہوئی۔وزیر داخلہ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے ان کی متعدد ملاقاتیں ہوئیں، جن میں گفتگو کا محور دہشت گردی کا مسئلہ تھا اور سیاسی معاملات پر بات نہیں ہوئی۔ سہیل آفریدی سے متاثرہ اضلاع میں پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات پر بات کی گئی تھی۔ ابتدا میں پانچ اضلاع سے کام شروع کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ جب وزیراعلیٰ کی جانب سے مالی وسائل کی کمی کا معاملہ اٹھایا گیا تو وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ جہاں پیسوں کی ضرورت ہوگی، وہ فراہم کیے جائیں گے۔محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر اتفاق ہوا تھا۔ ان کے مطابق متاثرہ علاقوں میں حالات معمول پر لانے، پولیس کو ضروری سہولیات فراہم کرنے اور سیکیورٹی انتظامات بہتر بنانے کے لیے اقدامات ضروری تھے، تاہم ان پر عملی پیش رفت نہ ہوسکی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج اور پولیس کی قربانیوں کی ذمہ داری لینا ہوگی۔ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 518 پولیس اہلکار شہید ہوئے جب کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف وفاق اور صوبے کی الگ الگ پالیسیاں نہیں ہوسکتیں اور اس جنگ میں کسی ایک فریق کے لیے تنہا کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان کے ساتھ رابطوں کا معاملہ بھی موجود ہے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کے لیے صوبائی حکومت کا تعاون ناگزیر ہے۔حکومت نے تمام تر کوششیں کیں کہ مشکل فیصلے کی نوبت نہ آئے لیکن مذاکرات کے دوران اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث بالآخر آئینی راستہ اختیار کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں سے مذاکرات اور رابطوں کی تفصیلات کی تصدیق ان سے براہ راست بھی کی جاسکتی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کا تفصیلی اجلاس دو گھنٹے سے زائد جاری رہا، جس میں خیبرپختونخوا کی صورت حال پر غور کیا گیا۔ ان کے مطابق کابینہ نے وزیراعظم کو قانون کے مطابق صدر مملکت کو ایڈوائس بھیجنے کی تجویز دی، جس کے بعد صدر نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کیے۔ خیبرپختونخوا کے گورنر نے اپنی رپورٹ وفاق کو بھجوائی، جو ان کی آئینی ذمہ داری تھی۔ صوبے میں امن و امان کی صورت حال غیر معمولی ہوچکی تھی اور حکومت کے مطابق آئینی طریقہ کار کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ اور متعلقہ اختیارات کے استعمال کی ضرورت پیش آئی۔ گزشتہ دو سے ڈھائی سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 196 فیصد اضافہ ہوا جب کہ بعض بیانات میں اس اضافے کو 200 فیصد تک قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق شہادتوں اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان میں بھی اضافہ ہوا جب کہ فوج، پولیس اور دینی رہنماؤں پر حملوں کے واقعات بڑھے ہیں۔ مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں آئینی نظام کے حوالے سے غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی تھی اور دہشت گردی کے اثرات دوسرے صوبوں تک بھی پہنچ رہے تھے۔ آئین وفاق اور صوبوں کو مشترکہ طور پر ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند کرتا ہے جب کہ امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاق کو آئینی اختیارات حاصل ہیں۔وفاقی حکومت نے آئین کے تحت صوبائی حکومت کو غیر فعال کرنے اور گورنر کو اپنے اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر کی معاونت کے لیے مسلح افواج کی تعیناتی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج تعینات کی گئی ہے۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جب کہ 12 متاثرہ اضلاع کے لیے ایک سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے، جہاں سے براہ راست وفاق کو رپورٹ دی جائے گی۔ ان کے مطابق ایک کونسل بھی بنائی گئی ہے، جس کی ذمہ داری ایڈیشنل چیف سیکریٹری سنبھالیں گے۔ آئینی اقدامات کے تحت متعلقہ عہدے داروں کو غیر فعال کیا گیا ہے اور گورنر کو آئین کے مطابق اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیر قانون نے مزید کہا کہ صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا۔ وفاقی حکومت کے مطابق صوبے میں حالات اس نوعیت کے تھے کہ آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اقدامات کرنا پڑے۔پی ٹی آئی کے دہشت گردوں سے روابط ہیں، عطا تارڑ کا الزام
ادھر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی پر دہشت گردوں کے ساتھ روابط اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال خراب ہونے کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے۔ دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے تانے بانے دہشت گردوں سے جا ملتے ہیں اور صوبائی حکومت کا دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ طور پر اتحاد تھا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کو شراکت دار بنا لیا تھا اور خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں تھانوں تک طالبان کے کنٹرول میں ہونے کی اطلاعات ہیں۔عطا اللہ تارڑ نے الزام لگایا کہ جن عناصر نے صوبے کا امن تباہ کیا، انہیں بااختیار بنایا گیا جب کہ امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری رکھنے والوں نے دہشت گردوں کو سہولت فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو دہشت گردی کی لپیٹ میں دھکیلا جارہا تھا اور اس حوالے سے حکومت کے پاس ثبوت موجود ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت اور دہشت گردی کے معاملے میں مبینہ طور پر اختیارات کی شراکت کا فارمولا چل رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایڈوائزری کونسل کے لیے ارکان کا انتخاب میرٹ پر کیا گیا ہے۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی مذاکرات میں وعدہ خلافی ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور علاج کی یقین دہانی کے باوجود حکومت پیچھے ہٹ گئی، آئینی حقوق کے لیے ہر محاذ پر لڑیں گے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام جمہوریت اور عوام کے حقوق پر شبِ خون مارنے کے مترادف ہے۔سربراہ جے یو آئی نے واضح کیا کہ ان کی جماعت ایسے اقدامات کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں اور اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کرے گی۔مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وفاقی کابینہ کی منظوری اور وزیراعظم کی ایڈوائس کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دے دی۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق ایمرجنسی آئین کے آرٹیکل 232 اور گورنر راج آرٹیکل 234 کے تحت نافذ کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے معاملات چلانے کے لیے گورنر کے تحت 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے