خواتین کا عالمی دن ؛’ہم مائیں ؛ہم بہنیں ؛ہم بیٹیاں ”
اصغر علی مبارک ؛؛؛
”ہم مائیں ؛ہم بہنیں ؛ہم بیٹیاں ”
”قوموں کی عزت ہم سے ہے” دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا جس کا مقصد مختلف معاشروں میں عورت کی سماجی، معاشی، سیاسی جدوجہد پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ہر سطح پر اس کے مثبت اور مثالی کردار کو سراہا ,پاکستان کی تقریباً نصف آبادی خواتین پر مبنی ہے۔ آج قوم کی با صلاحیت بیٹیاں، مائیں اور بہنیں باوقار طریقے سے ملک و قوم کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ مسلم لیگ ( ن) کی چیف آرگنائزر و سینئر نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ خواتین کو بڑھ چڑھ کر ملکی سیاست میں حصہ لینا چاہیے،اگرخواتین گھر چلا سکتی ہیں تو وہ ملکی سیاست میں بھی کیوں حصہ نہیں لے سکتیں،کسی خاتون کو غیر سیاسی نہیں ہونا چاہیے چاہے وہ گھر میں ہو یا گھر سے باہر اورکسی شعبہ میں کام کر رہی ہوں۔ خواتین کو ایسی جماعت کا انتخاب کرنا چاہیے جو خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کر تی ہو،محترمہ فاطمہ جناح میرے لیے رول ماڈل ہیں میں ان کی بہت بڑی فین ہوں،انہوں نے جس طرح پاکستان بنانے میں اپنے بھائی کا ساتھ دیا وہ قابل ستائش ہے،میں نے اپنی زندگی میں اپنی والدہ سے بہت کچھ سیکھا ہے ،محترمہ کلثوم نواز بہت دور اندیش خاتون تھیں،میں نے اپنی زندگی کا بہت حصہ ان کے ساتھ گزارا ہے،انہوں نے میری ایسی تربیت کی جس کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب سیاست میں مجھے مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہمیشہ خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے متعدد اقدامات کئے،تحریک انصاف خواتین کے حقوق کا استحصال کرنے والی جماعت رہی ہے،قوم کی تقدیر کا فیصلہ خواتین اپنے ووٹ کے ذریعے کر سکتی ہیں۔ عالمی یوم خواتین کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ملک کی تمام خواتین کو آج کے دن دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں،ملک میں خواتین کی ضروریات کی نشاندہی کر تی رہوں گی،پاکستان میں ہر دن خواتین کا دن ہوتا ہے،خواتین نے پاکستان میں ہر شعبہ میں اپنا نام کمایا ہے۔ مرضی سے ووٹ دینے کا حق خواتین کو ملنا چاہیے،خواتین ملک کی خدمت میں کسی طور پر پیچھے نہیں، والدین اپنی بیٹیوں کو مناسب مواقع فراہم کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ محنت اور لگن سے کام کر کے اپنے والدین اور ملک کا نام روشن نہ کر سکیں۔پاکستان میں آبادی کے تناسب سے خواتین کو حقوق حاصل ہونے چاہئیں اور برابر کے مواقع ملنے چاہئیں،ملک میں خواتین کا تناسب پچاس فیصد ہے لہذا انہیں ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے شہید بے نظیر بھٹو پاکستان کی ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں جنہوں نے رکاوٹوں کو عبور کر کے ایک بڑا مقام حاصل کیا،شہید بے نظیر بھٹو نے عورتوں کے لیے ایک مثال قائم کی،وہ تمام خواتین کے لیے مشعل راہ ہیں،اسی طرح ملک کی تمام خواتین کو پاکستان کی خدمت کر نے کیلئے کسی طور پر پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔

مریم نوازکا کہنا تھا کہ کہ ملک کی تمام خواتین اگر میرا ساتھ دیں تو ان کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کروں گی،پاکستان پیپلز پارٹی میں خواتین کا بہت احترام کیا جاتا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ عظمی بخاری،حنا پرویز بٹ اسی طرح دیگر خواتین کارکنان مسلم لیگ ( ن) کا اثاثہ ہیں جنہوں نے پارٹی کو آگے لے جانے کے لیے سخت محنت کی ہے،ہمیں روز بروزخواتین کی سپورٹ حاصل ہورہی ہے ،پاکستان کی ہر خاتون کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی مرضی سے ووٹ کا استعمال کر سکے۔ خواتین پاکستان میں تعلیم،عدلیہ،پولیس اور آرمی سمیت ہر شعبے میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں جس سے ملک کا نام فخر سے بلند ہو تا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواتین شہید بے نظیر بھٹو کی طرح محنت کریں تو وہ بھی یہ بلند مقام حاصل کر سکتی ہیں،حدیقہ کیانی جو سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے بغیر حکومتی امداد کے کام کر رہی ہیں انہیں میں خراج تحسین پیش کرتی ہوں،کھیل کے میدانوں میں پاکستانی خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے،جن میں بسمہ معروف، ثنا میر و دیگر کھلاڑیوں کے نام قابل ذکر ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک قدم آگے بڑتے ہوۓ انٹرنیشنل کرکٹرز کو پاکستان بلا کر عالمی دن پر پاکستان کرکٹرز کے ساتھ میچ کا انعقاد کرکے مثبت پیغام دیا ہے جس پر نجم سہٹھی مبارکباد کے مستحق ہیں،سپر وومن کی کپتان ندا ڈار نے بھی پاکستان خواتین کی زبردست الفاظ میں تعریف کی،پاکستان کے عالمی دن پر اسلام آباد میں بھی عورت مارچ میں امتیازی قوانین کے خاتمہ کا مطالبہ ہوا عورت مارچ میں شریک خواتین پر اسلام آباد پولیس کا لاٹھی چارج ہوا،پولیس کا کہنا ہے کہ ٹولیوں کی صورت میں خواتین کی مارچ میں شرکت کے باعث تلخ کلامی کا واقعہ پیش آیا جبکہ مارچ میں شریک خواتین کا کہنا ہے کہ پولیس نے عورت مارچ کو روکنے کی بھرپور کوشش کی جس کے باعث تلخ کلامی ہوئی۔ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ مارچ کے دوران عورتوں کو لاٹھیاں مارنے والے 3 اہلکاروں کو معطل کر دیاگیا ہے، ذمہ داروں کے تعین کے بعد کارروائی کی جائےگی۔اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے ماحولیات شیری رحمان کا کہنا ہے کہ افسوس ہے پرُامن عورت مارچ تصادم کا شکار رہا،ان کا کہنا تھا عورتوں کے عالمی دن پر اس تشدد کا کوئی عذر نہیں ہے، یہ وہ رویہ نہیں جس کے لیے ہم لڑے ہیں، اس رویے کو برداشت نہیں کریں گے۔یاد رہے کہ اس دن کی مناسبت سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ ہر شعبہ ہائے حیات میں‌ عورت کو بلاامتیاز بنیادی حقوق دے کر اس کی صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے اور اسے انفرادی اور اجتماعی ترقی و خوش حالی کے لیے فرسودہ رسم و رواج کی بندشوں سے آزاد کرکے آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔پچھلے چند برسو‌ں کے دوران پاکستان میں ’عورت مارچ‘ متنازع اور اس موقع پر سوشل میڈیا پر مباحث اس قدر بڑھے کہ اس دن کی اہمیت اور مقاصد گویا دھندلا گئے،
لیکن اس سے قطع نظر تاریخی طور پر بھی دیکھا جائے تو تقسیم کے بعد پاکستان میں کئی خواتین ایسی گزری ہیں جن کی قربانیاں اور سیاسی و سماجی جدوجہد ہمارے لیے روشن مثال ہے۔ تحریک پاکستان سے لے کر قیامِ پاکستان تک ایثار و قربانی کا پیکر بن کر حقوق و فرائض کی انجام دہی کے ساتھ بحیثیت قوم اپنے حقوق کے حصول کی بے مثال جدوجہد کرنے والی خواتین آج بھی کوشاں نظر آتی ہیں،برصغیر پاک و ہند کی کئی خواتین ایسی بھی ہیں‌ جنھوں نے اس وقت آزادی اور حقوق کے لیے لڑنے والے اپنے باپ، بھائیوں اور شوہر کے لیے ان کی قید و بند، مفروری اور جلسے جلوسوں میں‌ شرکت کے دوران بے شمار قربانیاں دیں اور ثابت قدم رہیں، جب کہ کئی خواتین نے میدانِ عمل میں مردوں کے شانہ بشانہ ہر محاذ پر جنگ لڑی۔ ان میں بی امّاں کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا جو جوہر برادران(شوکت علی، محمد علی) کی والدہ تھیں اور جنھوں نے اپنے بیٹوں کو تحریکِ خلافت کے لیے مر مٹنے کا حکم دے کر میدانِ عمل میں اتارا اور تنہا حالات کا مقابلہ کیا۔
اسی طرح محمد علی جوہرؔ کی اہلیہ امجدی بیگم کا نام بھی تاریخ میں ان کی قربانیوں اور ایثار کی بدولت رقم ہے جب کہ اردو کے نام ور ادیب اور شاعر حسرتؔ موہانی کی شریکِ حیات جن کا نام نشاط النساء بیگم ہے، بھی حسرت کی جیل یاتراؤں اور تحریکی جدوجہد کے دوران ان کا ساتھ دیتی اور حوصلہ بڑھاتی رہیں۔ اس حوالے سے ایک نام سیف الدین کچلو کا ہے جن کی شریکِ حیات سعادت بانو کچلو تھیں جنھوں نے ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کیا اور آزادی کی جدوجہد میں اپنے شوہر کا ساتھ دیتی رہیں، حیدرآباد کے معزز گھرانے سے تعلق رکھنے والی اور بیرسٹر خواجہ عبدالحمید کی اہلیہ بیگم خورشید خواجہ، بی بی امت الاسلام جو پٹیالہ کے ایک رئیس اور محبِ وطن راجپوت خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، خدیجہ بیگم، زبیدہ بیگم داؤدی (بیگم شفیع داؤدی)، کنیزہ سیّدہ بیگم (کانگریس راہ نما سیّد صلاح الدین کی چھوٹی بہن)، منیرہ بیگم (بدرالدین طیب جی کی بھتیجی) وہ خواتین ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں اور انگریز راج کے خلاف اپنے مردوں کا ساتھ دیتی رہیں۔
تقسیم سے پہلے اور قیامِ پاکستان کے بعد مادرِ ملت محترمہ فاطمہ علی جناح، بیگم رعنا لیاقت، بیگم جہاں آرا شاہنواز، بیگم زری سرفراز جیسی خواتین نے اپنی جدوجہد اور عملی میدان میں‌ محاذ پر ثابت قدم رہ کر ثابت کیا کہ عورت کسی بھی طرح کم زور نہیں اور سماج کے ہر شعبے میں اپنا کردار احسن طریقے سے نبھاسکتی ہے۔.پاکستان میں سیاسی شعبہ ایسا ہے جس میں خواتین کی تحریک بڑی حد تک کامیاب رہی ہے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد قومی اسمبلی کے الیکشن میں جنرل نشست پر راولپنڈی سے NA-61 سے پاکستان عوامی لیگ کی نامزد امیدواربراۓ قومی اسمبلی راولپنڈی کینٹ مس عظمیٰ مبارک ایڈووکیٹ اور NA-60 مس طاہرہ بانو مبارک نامزد امیدواربراۓ قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور سیاست کے ذریعے قرآن و سنت کے مطابق لوگوں کی خدمات کے فریضے کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس فریضے میں عورت مرد میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ خواتین اگرسیاسی میدان میں مردوں کے ساتھ چلیں تو معاشرے میں تبدیلی اور شعور کی بیداری جلد ممکن ہے سیاسی میدان میں خواتین کی کامیابی طویل جدوجہد سے ممکن ہوئی ، تحریک پاکستان کے بعد محترمہ فاطمہ جناح نے عملی سیاست میں حصہ لے کر خواتین کومضبوط کرنے کیلئے میدان سیاست کا انتخاب کیا , یہ انکی جدوجہد کا تسلسل ہے کہ آج پاکسان میں خواتین عملی طور پر سیاست میں حصہ لے رہی ہیں جو کہ ایک مثبت اپروچ ہے خواتین اگر خود اخلاقیات کا عملی مظاہرہ کریں تو گالی گلوچ کی سیاست کی حوصلہ شکنی کی جا سکتی ہے ینگ لائرز سےعالمی یومِ نسواں کےحوالے سے ایک مباحثہ سے خطاب میں عظمیٰ مبارک ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اگر خواتین متحد ہو جائیں تو ووٹ کی طاقت سےانقلاب لا سکتی ہیں تاریخ پر نظر دوڑائیں تو 1947 کےدنوں میں ہی مقننہ کی خواتین ارکان نے سیاسی شمولیت کا مطالبہ اٹھا دیا تھا اور آئین ساز اسمبلی میں پانچ فیصد مخصوص کوٹہ کی تجویز سامنے رکھ دی تھی۔ اسی مطالبے کی بناء پر 1956 کے آئین میں خواتین کے لئے 10 نشستیں مخصوص کی گئیں لیکن اس کو عملی شکل نہ مل سکی کیونکہ انتخابات ہی نہیں ہوئے۔ 1962 کے آئین میں خواتین کے لئے بالواسطہ انتخاب کے ذریعے چھ نشستیں مخصوص کی گئیں۔ 1973 کے آئین میں ایک بار پھر بالواسطہ انتخاب کے ذریعے ہی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے لئے پانچ فیصد نشستیں مخصوص کی گئیں۔ 1985 میں خواتین کی حیثیت پر تحقیقاتی کمیشن نے دیگر مطالبات کے ساتھ ساتھ خواتین کے لئے 20 فیصد مخصوص نشستوں کی سفارش بھی کی۔ 1985 کے غیرجماعتی انتخابات میں قومی اسمبلی کی 20 نشستیں خواتین کے لئے مخصوص تھیں۔ تاہم 1990 میں یہ دفعہ اس وقت بے اثر ہو گئی جب 1988 کی منتخب اسمبلیاں تحلیل کر دی گئیں اور اس کے بعد اگلے 12 سال تک خواتین کے لئے کوئی نشستیں مخصوص نہ تھیں۔ سیاسی زندگی میں خواتین کی شمولیتسے بحیثیت ووٹر خواتین کے ٹرن آؤٹ میں اضافہ،خواتین کے لئے جنرل نشستوں کے ٹکٹوں میں اضافہ ہوا سیاسی جماعتوں کے خواتین ونگ نےخواتین کے لئے مخصوص نشستوں کی بحالی کے مطالبات کئے،01-2000 کے بلدیاتی انتخابات میں مقامی حکومت کی تینوں سطحوں پر 33 فیصد نشستیں خواتین کے لئے مختص کر دی گئیں جبکہ 2002 کے عام انتخابات میں قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کی 17.5 فیصد نشستیں خواتین کے لئے مخصوص تھیں۔ یہ جنرل نشستوں پر انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کے علاوہ تھیں۔مقامی سطح پر زیادہ وسیع اثرات مرتب ہوئے جہاں تقریباً 40 ہزار خواتین مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئیں۔ تاہم 2005 کے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی مخصوص نشستیں کم ہو کر 24 ہزار کے لگ بھگ رہ گئیں کیونکہ حکومتی فیصلے کی روشنی میں یونین کونسلوں کا سائز تقریباً آدھا رہ گیا تھا۔ 2008 میں جمہوریت کی واپسی کے بعد مقامی سطح پر انتخابی عمل باقاعدہ نہیں رہا اور خواتین کی نمائندگی بڑی حد تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں رہ گئی اسمبلیوں میں ان کی شمولیت سے “کارروائی میں ایک نمایاں پہلو کا اضافہ” ہوا ہے۔ 07-2002 کی قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین نے مردوں کی نسبت زیادہ باقاعدگی کے ساتھ پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں حصہ لیا۔ قانون سازی کے میدان میں ان کی کارکردگی ان کے تناسب کے مقابلے میں زیادہ رہی،نجی ارکان کے تقریباً نصف بل اور ایک تہائی قراردادیں پیش کیں”۔ 2008 کے بعد آنے والی اسمبلیوں میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا حالانکہ جنرل نشستوں پر خواتین کی تعداد کم ہو رہی تھی۔مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین نے خاص طور پر بعد از 2008 کے دور میں مختلف جماعتوں پر مشتمل ویمن کاکس کے ذریعے حقوق نسواں، انسانی حقوق اور جمہوریت سے متعلق قانون سازی پر بھرپور طریقے سے کام کیا ہے۔ خواتین نے غیرت کے نام پر قتل، ریپ اور زناء کے قوانین سمیت مختلف تبدیلیوں کے لئے لابی سرگرمیاں کیں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے آرٹیکل (2)25 کے ذریعے پاکستان سی ای ڈی اے ڈبلیو کے تحت کئے گئے وعدوں کو تسلیم کر چکا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد قانون سازی کا زیادہ تر کام صوبوں کو منتقل ہو گیا ہے۔مقننہ کی خواتین ارکان نے گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق قوانین، جنسی ہراسانی کے قوانین، خواتین مخالف سرگرمیوں کو رکوانے کے قانون، تیزاب کے جرائم پر قوانین، ہندو شادی کے قانون، شادی کے لئے یکساں عمر کے تعین کے قانون وغیرہ کو منظور کرانے کے لئے بھی بھرپور طریقے سے کام کیا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خواتین اور لڑکیوں پر بڑھتے تشدد اور انہیں جنسی ضرر پہنچانے جیسی بے پناہ مشکلات اپنی جگہ موجود ہیں۔ خواتین اپنے حقوق کو دبانے کے لئے مذہب کے پسند ناپسند پر مبنی استعمال کے خلاف بھی نبردآزما ہیں۔ پاکستان میں منفی سوچ اور تعصبات کے باوجود خواتین مطالبات پیچھے نہیں ہٹیں اور انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے ۔ یاد رہے کہ خواتین کے عالمی دن کو باقاعدہ طور پر 1975 میں تسلیم کیا گیا جب اقوام متحدہ نے بھی اسے منانا شروع کیا۔ خواتین کے عالمی دن 2023 کے لیے اقوام متحدہ کا عنوان ’ڈیجیٹل آل: صنفی مساوات کے لیے ایجاد اور ٹیکنالوجی‘ ہے۔
اس کا مقصد ٹیکنالوجی اور آن لائن تعلیم کے شعبوں میں لڑکیوں اور خواتین کے تعاون کو تسلیم کرنا ہے۔اس سال خواتین کے عالمی دن پر، خواتین اور لڑکیوں کے لیے عدم مساوات پر ڈیجیٹل صنفی فرق کے اثرات کی چھان بین کی گئی کیونکہ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اگر آن لائن دنیا تک خواتین کی رسائی کی کمی کو دور نہ کیا گیا تو اس سے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی مجموعی گھریلو پیداوار کو ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو گا۔تاہم اس سال خواتین کے عالمی دن کے موقع پر دیگر مسائل بھی زیر بحث ہیں۔خواتین کے عالمی دن کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اسے خواتین کے لیے مثبت تبدیلی لانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر بنایا گیا ہے
اس سے منسلک تنظیموں اور پروگراموں کے ذریعے خواتین کے دقیانوسی صنفی کردار کو چیلنج کرنے، امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھانے، تعصب کی طرف توجہ مبذول کرانے اور خواتین کو ہر شعبے میں شامل کرنے کے لیے آوازیں بلند کی گئیں ۔اس کے لیےاقوام متحدہ نے 1996 میں چنا، جس کا نام ‘ماضی کا جشن اور مستقبل کی منصوبہ بندی’ تھا۔ آج خواتین کا عالمی دن معاشرے، سیاست اور معاشی میدان میں خواتین کی ترقی کو منانے کا دن بن گیا ہے جبکہ اس کے پیچھے سیاسی جڑوں کا مقصد عورتوں اور مردوں کے درمیان عدم مساوات کے بارے میں بیداری پھیلانا ہے،امریکہ میں مارچ کا مہینہ تاریخِ نسواں کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ایک صدارتی اعلان بھی کیا جاتا ہے جس میں سال بھر کی خواتین کی کامیابیوں کو اعزاز دیا جاتا ہےپاکستان میں خواتین نے بے مثال جرات اور قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اورقوم کے اجتماعی ردعمل اور بحالی کی کوششوں میں موثر کردار ادا کیا ۔ صحت عامہ کے عملے، بنیادی سطح پر دیکھ بھال کی فراہمی، ایجادات، انسانی حقوق کے دفاع اور معاشرے کی تنظیم سازی کے پہلووں سے ہماری خواتین نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا پاکستان میں خواتین ہرمیدان میں آگے بڑھ رہی ہیں جبکہ مغرب میں استحصال کا شکار ہو رہی ہیں اِن خواتین کو قرآن فہمی کے میدان میں بھی آگے آنا ہوگا تاکہ اپنے حقوق کو پہچان سکیں، اپنے آپ کو استحصال سے بچا سکیں اور نئی نسل کی اخلاقی اصولوں پر تربیت کرکے ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں اپنا رول ادا کرسکیں۔ یاد رہے کہ اسلام نے اس بات کا پورا خیال رکھا ہے کہ کسی عورت کے ساتھ صرف عورت ہونے کی بنیاد پرناانصافی نہ ہونے پائے۔نہ اس کی صلا حیتیں کچلی جائیں اور نہ اس کی شخصیت کو دبا یا جائے۔