اسلام آباد(پ, ر) حکومت کی میڈیا کش پالیسوں کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس(پی ایف یو جے )کی کال پر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس(آر آئی یو جے)نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں یوم سیاہ منایا،سیاہ پر چم لہرایا اور احتجاجی مظاہرہ کیا،احتجاجی مظاہرے کے دوران مقررین کا کہنا تھا کہ سینئر اینکر ارشد شریف شہید کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے،اے آر وائی کے ڈائریکٹر نیوز عماد یو سف کے خلاف کیس کی دوبارہ شفاف تحقیقات کی جائیں،فیک نیوز کے حوالے سے قانون بنانے سے پہلے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے،اگر حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے تو پاکستان بھر سے صحافی 30 جنوری کو اسلام آباد پہنچیں گے نیشنل پریس کلب سے پارلیمنٹ تک پریس فریڈم ریلی نکالی جائے گی پارلیمنٹ کے سامنے اس وقت تک دھرنا ہو گا جب تک مطالبات تسلیم نہیں ہوتے، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس(پی ایف یو جے )کی کال پر راولپنڈی اسلام آباد یو نین آف جرنلسٹس(آر آئی یو جے)نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں یوم سیاہ منایا، سیاہ پر چم لہرایا اور احتجاجی مظاہرہ کیا،مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فیڈرل یو نین آف جرنلسٹس کے صدرافضل بٹ نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دس ماہ میں ٹی وی چینلز کو پیمرا کے زریعے نوٹسز جاری کیے گئے موجودہ حکومت نے پیمرا اور ایف آئی اے کو ٹول کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے احتجاج کی کال سے پہلے وفاقی حکومت کے دروازے پر دستک دی حکومت کو اس کے وعدے یاد دلانے کی کوشش کی،افضل بٹ نے کہا کہ نیب کے مقدمات تو درجنوں کے حساب سے واپس کیے گئے مگر صحافیوں کے مقدمات ختم نہیں ہوئے پی ٹی آئی میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنا رہی تھی تو پارلیمنٹ کے سامنے کیمپ لگایا موجودہ حکومت کے تمام اتحادی اس کیمپ میں صحافیوں کیساتھ یکجہتی کیلئے آئے اور کہا کہ صحافیوں کے حوالے سے کالے قوانین کا خاتمہ کریں گے موجودہ وزیر اطلاعات بھی اس کیمپ میں آتی رہیں،انہوں نے کہاکہ ہم صحافی ارشد شریف کا خاندان ہیں، کہا تھا ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کیلئے اعلی سطحی کمیشن بنایا جائے پاکستان کا میڈیا ورکر ارشد شریف قتل پر پیش رفت جاننا چاہتا ہے مطالبہ ہے ارشد شریف قتل کی تحقیقات میں صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کو بھی آن بورڈ لیا جائے،انہوں نے کہا کہ عماد یوسف کو ایسے مقدمے میں شامل کیا جارہا ہے جس کی کم سے کم سزا عمر قید اور ذیادہ سے ذیادہ سزائے موت ہے ایک خبر پر گناہ گار ہونے کا تعین ایک ایس ایچ او کیسے کرسکتا ہے عماد یوسف پر فرد جرم عائد ہوتی ہے تو یہ آخری نہیں پہلا کیس ہو گا عماد یوسف کے گلے کیلئے تیار کیا جانے والا پھندا کل کسی اور رپورٹر ،اینکر یا ڈائریکٹر نیوز کے گلے میں فٹ ہو سکتا ہے، عماد یوسف کو شامل تفتیش ہونے کا حق دیا جائے عماد یوسف کیس کی دوبارہ شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ صحافی شاہد اسلم کو خبر کا سورس پوچھنے کیلئے اٹھایا گیا خبر کے سورس کو قانون تحفظ دیتا ہے پیمرا قوانین میں ترمیم پر پی بی اے خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے فیک نیوز کے نام پر کسی بھی ٹی وی کا لائسنس منسوخ ہو سکتا ہے حکومت نے از خود پیمرا قانون میں ترمیم کرکے فیک نیوز کو قانون کا حصہ بنا دیا 20 ویں گریڈ کا ایک افسر فیصلہ کرے گا کہ خبر فیک ہے یا نہیں فیک نیوز کے حوالے سے قانون بنانے سے پہلے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے ،اگرمطالبات تسلیم نہیں ہوتے تو پاکستان بھر سے صحافی 30جنوری کو اسلام آباد پہنچیں گے نیشنل پریس کلب سے پارلیمنٹ تک پریس فریڈم ریلی نکالی جائے گی پارلیمنٹ کے سامنے اس وقت تک دھرنا ہو گا جب تک مطالبات تسلیم نہیں ہوتے،صدرآر آئی یو جے عابد عباسی نے کہا کہ آج پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال ہر ملک بھر کی یوجیز کی طرح آر آئی یو جے نے نیشنل پریس کلب میں یوم سیاہ کے موقع پر سیاہ پرچم لہرا کر اس جمہوری حکومت کو پیغام دیا ہے کہ آج بھی ہم اظہار رائے کیلیے سڑکوں پر ہیں جو لوگ کل ہمارے ساتھ ان فٹ پاتھ پر کھڑے ہوکر ہمارے ساتھ ہی اظہار یکجہتی کیلیے آتے تھے آج ہم ان سے سوال کر رہے ہیں اب کیا وجہ ہے کہ آپ اظہار راے پر قدغن لگانا چاہتے ہیں اور میڈیا کی آواز بند کرنا چاہتے ہیں،صدر نیشنل پریس کلب انور رضا نے کہا کہ ارشد شریف نے جس طرح اس ملک میں آزادی اظہار رائے کا گلا دبانے والے طاقتور عناصرکو چیلنج کیا اگر کسی ادارے یا سیاستدانوں کی کوئی ریڈ لائن ہے ہماری بھی ریڈ لائن یہی ہے کہ ہم نے اظہار کیلیے خاموش نہیں رہناجنرل سیکرٹری آر آئی یو جے طارق علی ورک نے کہا آر آئی یو آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے لیے جد و جہد جاری رکھے گی ،موجودہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دو مرتبہ ہمارے احتجاجی کیمپ میں آئے اور اظہار یک جہتی کیا آج تمام وعدے بھول گئے ہیں۔سینر صحافی و اینکر پرسن کاشف عباسی نے کہا کہ ملک سے باہر بھی ارشد شریف کے ساتھ کیا عماد یوسف پر مقدمہ درج کروادیا جس کی سزا عمر قید یا سزاے موت تک ہوسکتی ہے،ہمیں اکھٹے ہونا ہوگا اور اکھٹے ہوکر لڑنا ہوگا ، 30 جنوری کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے ریلی اور دھرنے کی کال دی ہے اس میں ہم سب کو شرکت کرنی چاہے ،سابق صدر آر آئی یو جے مبارک زیب نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم سب لوگ پی ایف یو جے کے پلیٹ فارم کے اندر اکھٹے ہوجائیں اور اپنے حقوق لینے کیلیے کوشش کریں ،اینکر پرسن ماریہ میمن نے کہاکہ آج اگر ہم ہیں تو کل کوئی اور ہوگا جو ان کا شکار ہوگا ہم سب کو اکھٹے ہوکر چلنا ہوگا ہم ارشد شریف کے خون کا انصاف نہیں لے پائیں گے تو پھر سب انصاف بھول جائیں،فنانس سیکرٹری نیشنل پریس کلب نیر علی نے کہاکہ صحافیوں کے خلاف حکومت نے بازار گرم کررکھاہے اسے بند کیا جائے ۔ اینکر پرسن سمیع ابراہیم نے کہا کہ ارشد شریف کے ورثہ کے مطابق قانون کاروائی ہونی چاہے تھی جو نہیں ہوئی عماد یوسف پر مقدمہ بھی ظلم ہے ہمیں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے ساتھ اکھٹے ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی۔اسوسی ایشن آف بیوروچیفز کے صدر افتخار شیرازی نے کہا کہ جب سیاستدان اقتدار میں آتے ہیں تو اپنے وعدے بھول جاتے ہیں 75 سال میں کچھ نہیں کیا بیورچیف اے آر وائی خاور گھمن نے کہا کہ حکومت ارشد شریف کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کر سکی اور ان کے خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے










