حافظ ”پاکستان کا نیا محافظ”…………..(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)..

محافظ دوسروں کی زندگیاں محفوظ بنا کر میں آسانی پیدا کرتے ہیں اور سرزمین پاکستان کی خاطر تمام خطرات کا ڈٹ مقابلہ فرض عین سمجتے ہیں ان زندگی ملک و قوم کیلئے وقف ہوتی ہے جس خاطر تمام عمر خطررات سے کھیلتے ہیں ۔
ایسے محافظ کہتے ہیں جان ملک و قوم کی امانت ہے اگر ایک محافظ دنیا سے چلا گیا تو ہزارمحافظ اورآ جائیں گے آئیں گےاور کچھ ایسے محافظ بھی ہیں جو تیز لہروں کو رک جانے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔کچھ محافظ وہ بھی ہیں جو بغیر ہار مانے دن رات بے خوف و خطر لڑتے ہیں ۔ کچھ ایسے محافظ بھی ہیں جو امن و سکون کے پیغام کو عام کرتے رہتے ہیں مگر جب حالات بگڑنے لگیں تو لڑائی کے شاہین بن جاتے ہیں ،خوش قسمتی سے ملک و قوم کو ایک ایسا محافظ پاکستان ملا جس میں یہ سب خوبیاں موجود ہیں ،اور وہ ہیں ، جنرل حافظ عاصم منیر جنہوں نے پاکستان کے 17ویں آرمی چیف کا عہدہ سنبھال لیا ہے ۔
سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے ایک شاندار تقریب میں جنرل منیر کو ملاکا اسٹک حوالے کر دی جنرل باجوہ کا کہناتھا کہ ”مجھے فوج کی کمان جنرل منیر جیسے قابل افسر کے حوالے کرنے پر خوشی ہے”۔ راولپنڈی میں ایک تقریب میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی کمان جب اپنے جانشین جنرل عاصم منیر کو سونپی تو فضا نعرہ تکیبر کے واشگاف نعروں سے گونج اٹھی ‘ملی نغموں ”دل دل پاکستان”۔”اے راہ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو ” نے ماحول گرما دیا جنرل عاصم منیر نے جب کمان سمبھالی تو میرٹ نے بھی فخر سے سر بلند کرتے ہوے پاکستان کے قومی ترانے کی دھن میں زندباد پاکستان کا نعرہ لگایا دنیا کو پہلی بار پاکستانی قوم کے میرٹ کے مفہوم سے آگاہی حاصل ہوئی اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں پاکستان دنیا کا بہترین ملک بن جاۓ گا نئے محافظ پاکستان کو دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے نئی حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی کیونکہ
پیر کو کالعدم تحریک طالبان نے پاکستان کی حکومت کے ساتھ فائر بندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔جس کے بعد کوئٹہ کے علاقے بلیلی میں پولیس اہلکاروں کے ٹرک کے قریب دھماکے میں تین افراد ہلاک جبکہ 23 زخمی ہوئے ہیں۔ اس خودکش دہشت گردآنہ حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کر لی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق خودکش حملہ بدھ کی صبح کوئٹہ کے نواحی علاقے بلیلی میں ہوا۔ ٹرک میں بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکار سوار تھے جو انسداد پولیو ٹیم کی ڈیوٹی کے لیے جا رہے تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پولیس اہلکار، خاتون اور بچے کی ہلاکت پر افسوس اور اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں اور پولیو کے خاتمے کے قومی ہدف کو حاصل کر کے رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں سے امن کے قیام کے لیے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جس میں سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ہے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے پاکستانی حکومت کے ساتھ جون کی جنگ بندی ختم کرتے ہوئے اپنے دہشت گردوں کو ملک بھر میں حملے کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ جس کے بعد بڑے فوجی آپریشن کا امکان ہے۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کی وزارت دفاع نے تحریک کے تمام گروپ رہنماؤں، تحصیل عہدیداروں اور گورنرز کو حکم دیا ہے۔ کہ ملک بھر میں جہاں بھی آپ پہنچ سکتے ہیں حملہ کریں ، یہ بیان ایک کھلی دھمکی ہے۔نئے آرمی چیف کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی عزت اور فوج کی عزت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا عزم رکھتے ہیں، وہ جدید اور قدیم، دائیں اور بائیں بازو کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انکی موجودگی میں ملک سے غداری یا محبت نہ رکھنے والوں کے لیے زمین تنگ ہو جائے گی اور معاملات روایت پسندی سے نہیں جدت سے طے ہوں گے۔ماضی میں بہت برداشت ہو چکا ، اب برداشت کی بھی کوئی حد ہو گی اینٹ کا جواب پتھر سےضرور دیا جائے گا۔نئی عسکری قیادت نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم شہبازشریف سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔دریں اثنا صدر مملکت عارف علوی نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو مبارکباد دی ہے ۔ آرمی چیف وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملے۔ وزیراعظم نے جنرل عاصم منیر کو مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔الگ الگ ہونے والی ملاقاتوں میں ملکی سلامتی سے متعلق اہم امور پر بھی گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے میں پاک فوج کے کردارپر قوم کو فخرہے، آپ کی قیادت میں فوج سیکیورٹی چیلنجز کا مزید بہتر طریقے سے مقابلہ کریگی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے جنرل سید عاصم منیر کو آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے پر مبارک پیش کی،
جنرل سید عاصم منیر ایک بہترین آرمی افسر ہیں، جنرل عاصم منیر اعزازی شمشیر یافتہ، ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس، آئی ایس آئی کے سربراہ، کور کمانڈر گوجرانوالہ رہ چکے ہیں۔عمران خان نہیں چاہتے تھے کہ عاصم منیر نئے آرمی چیف بنیں۔ تحریک انصاف نے پورے معاملے کو عاصم منیر کی وجہ سے متنازع بنایا عمران خان کہہ چکے ان کا مسئلہ یہ نہیں کون آرمی چیف بنے، مسئلہ یہ کہ عاصم منیر نہ بن جائیں۔
عمران خان عاصم منیر کو بہت پسند کرتے تھے، انہیں ڈی جی آئی ایس آئی بنایا وہ 6 ماہ اس عہدے پر رہے۔
پھر خبریں آئیں کہ عاصم منیر نے عمران خان کے سامنے ثبوت رکھے جو بنی گالہ اور ان کے اہلخانہ سے متعلق تھے کہ کس قسم کی کرپشن ہورہی ہے۔ جنرل عاصم توقع کر رہے تھے کہ عمران خان ایکشن لیں گے لیکن عمران خان نے جنرل عاصم کے خلاف ایکشن لیا اور انہیں عہدے سے ہٹادیا۔اس لیے عمران خان نہیں چاہتے تھے کہ عاصم منیر آرمی چیف بنیں کیونکہ یہ اصول کا نہیں ان کا ذاتی معاملہ تھا کہ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی نے ثبوت رکھے جو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو اچھے نہیں لگے۔

جنرل عاصم منیر کو 2017 کے اوائل میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس تعینات کیا گیا۔

اکتوبر 2018 میں ان کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا، تاہم 8 ماہ کی مختصر مدت کے بعد ان کی جگہ جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کر دیا گیا۔

بطور لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر 2 سال تک کور کمانڈر گوجرانوالہ رہے جس کے بعد وہ جی ایچ کیو راولپنڈی میں بطور کوارٹر ماسٹر جنرل اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہوں گے جو ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی کے سربراہ رہ چکے ہیں، وہ پہلے آرمی چیف ہیں جو اعزازی شمشیر یافتہ ہیں۔

نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر مثالی یادداشت کے حامل اور حافظِ قرآن بھی ہیں۔

انہوں نے بطور لیفٹیننٹ کرنل اپنے شوق کے باعث 38 سال کی عمر میں حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کے 17 ویں سپہ سالار کی حیثیت سے کمان سنبھالی ہے اس سے قبل ملک کے سب سے پہلے کمانڈر انچیف کا نام جنرل سر فرینک میسروی تھے دوسرے کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس گریسی نے 1948 سے لے کر اپریل 1951 تک اپنی ذمے داریاں ادا کیں، 1951 میں تعینات ہونے والے جنرل ایوب خان پاکستان کے پہلے فور سٹار جنرل اور فیلڈ مارشل تھے۔
1958 میں تعینات ہونے والے کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ خان 8 سال تک تعینات رہے،ملک کے پانچویں آرمی چیف جنرل یحییٰ خان 18 ستمبر 1966 سے 20 دسمبر 1971 تک ملک کے سپہ سالار رہے۔

چھٹے کمانڈر انچیف جنرل گل حسن خان قومی تاریخ کے سب سے مختصر مدت ایک سال کے لیے فوجی سربراہ بننے والی شخصیت ہیں، جو 20 دسمبر 1971 سے 2 مارچ 1972 تک فوجی سربراہ رہے۔

یکم مارچ 1976 کو جنرل ضیاالحق کو اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آرمی چیف تعینات کیا، جنرل ضیاء الحق نے پانچ مئی 1977 کو مارشل لاء لگایا جس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو بھانسی دے دی گئی۔

جنرل ضیاء نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے یعنی 11 سال سے زائد تک آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تھا۔

17 اگست 1988 کو جنرل ضیاءالحق کی طیارہ گرنے سے ہلاکت کے بعد جنرل اسلم بیگ ملک کے 9 ویں آرمی چیف بنے تھے انہوں نے اگست 1988 سے لے کر اگست 1991 تک اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔

جنرل آصف نواز کو 16 اگست 1991 کو تعینات کیا گیا، انہوں نے جنوری 1993 تک اپنی ذمے داریاں ادا کیں، جنرل عبدالوحید کاکڑ 1993 سے جنوری 1996 تک تعینات رہے۔
12ویں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے جنوری 1996 سے 1998 تک ذمے داریاں ادا کیں۔

13ویں آرمی چیف پرویز مشرف اکتوبر 1998 سے لے کر نومبر 2007 تک پاک فوج کے سربراہ رہے،جنرل اشفاق پرویز کیانی 2007 سے نومبر 2013 تک فوج کے سپہ سالار رہےجبکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نومبر 2013 سے نومبر 2016 تک فرائض انجام دیے۔

ملک کے 16 ویں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنا عہدہ نومبر 2016 کو سنبھالا تھا،جو 29 نومبر 2022 تک آرمی چیف رہے۔نئے آرمی چیف کے لیے نیک تمنائیں ہیں۔ اس وقت ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور یہ ایک شخص پر منحصر نہیں ہے۔ سب کو مل کر اور پارلیمان کو بھی حصہ ڈالنا ہو گا کہ ہم ایسا ماحول بنائیں کہ ہر عہدہ اپنے عہدے کی حدود سے تجاوز نہ کرے۔تاہم اب باضابطہ طور پر ٹی ٹی پی نے دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور پاکستانی حکومت کے گذشتہ تقریباً ایک سال سے جاری ’امن مذاکرات‘ کے دوران فائر بندی کی شرط بظاہر ختم ہوگئی ہے کیوں کہ ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت نے اپنے تمام کمانڈروں کو پاکستان میں دوبارہ حملے شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ٹی ٹی پی کی ’وزارت دفاع‘ کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ حال ہی میں ضلع بنوں اور لکی مروت سمیت مختلف علاقوں میں عسکری اداروں کی طرف سے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے خلاف مسلسل کارروائیاں ہو رہی ہیں اور ان حملوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہےبیان میں کہا گیا: ’تمام تحصیل اور اضلاع کے لیڈرز کو حکم ہے کہ ملک بھر میں جہاں بھی آپ کی رسائی ہوسکتی ہے، حملے کریں۔‘ پچھلے تین مہینوں میں ٹی ٹی پی نے تقریباً 136 کارروائیاں کی ہیں۔‘

ٹی ٹی پی کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب پاکستان میں سیاسی بحران جاری ہے جبکہ پاکستانی فوج کی کمان بھی آج سے نئے سربراہ جنرل عاصم منیر نے سنبھال لی ہےدوسری جانب پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ جنرل فیض حمید بھی ریٹائر ہوگئے ہیں۔

ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے ماضی میں ایک ویڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ حالیہ مذاکراتی دور جنرل فیض حمید نے شروع کیا تھا اور وہ کالعدم تنظیم کے ساتھ اس ضمن میں ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں۔تاہم پاکستانی فوج کی جانب سے ان ملاقاتوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تھا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہو اور نہ ہی فوج کی جانب سے ماضی میں یہ کہا گیا کہ مذاکراتی عمل کی نگرانی جنرل فیض حمید کر رہے تھے۔صوبہ خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اور ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات گذشتہ برس اگست میں افغان طالبان کے کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد شروع ہوئے تھے اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔رواں سال جون میں قبائلی مشران اور قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے کچھ اراکین اسمبلی پر مشتمل جرگہ ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کے لیے کابل گیا تھا، جس کی تصدیق ٹی ٹی پی اور افغان طالبان نے بھی کی تھی۔اس کے بعد بیرسٹر محمد علی سیف کی سربراہی میں بھی ایک نمائندہ وفد ٹی ٹی پی سے ملاقات کے لیے کابل گیا ۔اس کے بعد مذاکرات کا یہ عمل اس وقت تعطل کا شکار ہوگیا جب افغانستان میں ٹی ٹی پی کے مرکزی رہنما اور ٹی ٹی پی مذاکراتی کمیٹی کے رکن عمر خالد خراسانی کو نا معلوم افراد کی جانب سے بم حملے میں ہلاک کردیا گیا۔

ٹی ٹی پی کے حمایت یافتہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھااس کے بعد ضلع سوات میں طالبان کی دوبارہ واپسی اور طالبان کی جانب سے ایک پولیس اہلکار اور دو سکیورٹی فورسز کے جوانوں کو یرغمال بنانے پر بھی شدید تنقید کی گئی تھی جس کے خلاف سوات سمیت صوبے بھر میں عوامی مظاہرے کیے گئے ٹی ٹی پی اور پاکستانی حکومت کے مابین مذاکراتی دور کے شروع ہوتے ہی فائر بندی کا اعلان کیا گیا تھا تاہم حالیہ ہفتوں میں ٹی ٹی پی نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کے جوانوں، پولیس اور سابق امن کمیٹی کے کچھ اراکین کو نشانہ بنایا ہے اور ٹی ٹی پی کی جانب سے یہی کہا گیا کہ وہ یہ سب کچھ اپنے دفاع میں کر رہے ہیں۔یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے ہیں، بلکہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ حکومت اور ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات ہوئے ہیں لیکن اس کے کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔

ماضی میں باجوڑ میں ٹی ٹی پی کے سرکردہ رہنما مولوی فقیر کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع ہوا تھا لیکن اسی دوران باجوڑ کے علاقے ڈمہ ڈولہ میں امریکی ڈرون حملہ ہوا جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل ختم ہوگیا۔

وزیرستان میں 2004 میں شگئی میں ٹی ٹی پی کے کمانڈر نیک محمد کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا اور اسی دوران امریکی ڈرون حملہ ہوا اور مذاکرات ناکام ہوگئے۔

اسی طرح 2014 میں بھی ایک معاہدہ ہوا تھا لیکن اس وقت امریکہ نے حکیم اللہ محسود کو ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا تھا اور وہ مذاکرات بھی ناکام ہوگئے تھےفائر بندی کے خاتمے کا اعلان اور ٹی ٹی پی سے نمٹنا نئے آرمی چیف کے لیے بڑا چیلنج ہے فوج اپنی ذمہ داریاں پہلے کی طرح نبھائے گی نئے آرمی چیف ہوں یا سابقہ، ٹی ٹی پی سے فوج نمٹ رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔