Flooding across the country has caused destruction in Khyber Pakhtunkhwa.ملک کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال, ندی نالوں میں طغیانی ,خیبر پختونخوا میں تباہی
( ۔۔۔۔اصغر علی مبارک ) مون سون بارشوں کے باعث مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ مون سون کا موسم شروع ہوتے ہی صوبہ خیبر پختون خوا کے کئی علاقوں کے عوام میں تشویش اور خوف کی لہر دوڑ جاتی ہے کہ جب بالائی علاقوں سے آنے والا بارش کا پانی سیلابی ریلے کی صُورت اِن علاقوں میں داخل ہوتا ہے، تو اپنے ساتھ تباہی و بربادی بھی لے کر آتا ہے۔ یہ اپنے سامنے آنے والی ہر چیز بہا لے جاتا ہے کشمیر کی وادی نیلم کے نواحی گاؤں میں کلاووڈ برسٹ کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی، جس سے مکانات سمیت متعدد دکانیں سیلاب کی زد میں آگئیں ۔ مینگل نالے کے قریب متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکل بہہ گئیں۔ نالے میں آنیوالے سیلاب سے لوگوں کے مال مویشی بھی نالےمیں بہہ گئے۔ مرکزی شاہراہ نیلم پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ حافظ آباد ہیڈ قادرآباد کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے جہاں پانی کی آمد ایک لاکھ 38 ہزار کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 15 ہزار کیوسک ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہیڈ قادرآباد کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہےلیہ کے موضع سمرانشیب میں دریائے سندھ کی بے رحم موجیں بےقابو ہوگئیں۔ پانی کے تیز بہاؤ میں دو بڑے سرکاری اسکول دریا برد ہوگئے۔ دریائے سندھ کے کٹاؤ سے اب تک سینکڑوں ایکڑ فصلوں،300 مکانات کو نقصان پہنچا۔5 سے زائد بستیاں، 3مساجد ،بجلی کے پول ودیگر سرکاری املاک بھی متاثر ہوئیں۔مون سون بارشیں اس سال بھی حسن ابدال کے نواحی علاقے کوہلیہ سمیت درجنوں دیہاتوں کے مکینوں کے لیے زحمت بن گئیں۔ مکینوں کی اپنی مدد آپ کے تحت چندے سے تعمیر کیا گیا کوہلیہ پل ایک بار پھر تیز سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا، جس کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سرحدی دیہات کا شہر سے رابطہ منقطع اور شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے آج سے 25 جولائی تک مختلف علاقوں میں گرج چمک کےساتھ بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ آج سے23 جولائی کے دوران دریاؤں وندی نالوں میں طغیانی اورنشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق شدید مون سون کا طاقتور سلسلہ کل سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا باعث بنےگا، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب میں فلیش سیلاب اور ہل ٹورنٹس میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ اعلامیے کے مطابق دریائے چناب پرمرالہ اور دریائے جہلم پرمنگلا کے بالائی حصے میں سیلابی ریلوں کا امکان ہے، سیالکوٹ، نارووال، گجرات بھمبر سے آنے والے نالے اور مریدکے میں فلیش سیلاب کاامکان ہے۔ ڈی جی خان، راجن پور، مری اور گلیات کے ندی نالوں میں شدیدبارشوں سے سیلاب کا خدشہ ہے، دریائے کابل اوراس کے معاون دریاؤں میں بلند پانی کی سطح کاخطرہ ہے، دریائےکابل کے ملحقہ علاقوں بلخصوص پنجکورہ، سوات اورچترال میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
خیبر میں تیز بارش کے باعث مختلف مقامات پر سیلابی ریلوں میں دو گاڑیاں بہہ گئیں۔ سوار خواتین اور بچوں کو بچا لیا گیا جبکہ سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 5 افراد کی لاشیں مل گئیں۔ علاقہ خوگہ خیل زکریا مسجد کے قریب بھی کار سیلابی ریلے کی نذر ہوئی، موٹر کار میں موجود تمام افراد کو بحفاظت نکال دیا گیا ہے۔

ملک بھر میں حالیہ مون سون بارشوں کے طاقتور سلسلے کے باعث خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے جبکہ پنجاب کے مختلف ندی نالوں اور دریاؤں میں شدید سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں سیلابی ریلوں سے تباہیجانی نقصان: ضلع خیبر، لنڈی کوتل اور جمرود کے علاقوں میں اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کی زد میں آکر بچوں اور افغان مہاجرین سمیت کم از کم 8 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔انفراسٹرکچر کی تباہی: شدید بارشوں کے باعث پاک افغان شاہراہ سمیت متعدد رابطہ سڑکیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ 10 سے زائد کچے مکانات اور چاردیواریاں منہدم ہو چکی ہیں اور درجن سے زائد افراد زخمی ہیں۔دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ: دریائے کابل اور اس کے معاون دریاؤں (پنجکورہ، سوات اور چترال) میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔
کوہِ سلیمان کے ری ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں کوہِ سلیمان سے آنے والے پہاڑی ریلوں (ہل ٹورنٹس) نے سیلابی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے مطابق دریائے چناب پر مرالہ اور دریائے جہلم پر منگلا کے بالائی حصوں میں بڑے سیلابی ریلوں کا امکان ہے۔ سیالکوٹ، نارووال، گجرات اور مریدکے کے مقامی ندی نالوں میں فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) کا شدید خطرہ موجود ہے۔ لیاقت پور کے نواحی علاقوں میں دریائے سندھ اور چناب کے کٹاؤ کی وجہ سے بستیاں اور سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آ چکی ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے دریاؤں کے کناروں اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے، غیر ضروری طور پر دریاؤں اور ندی نالوں کا رخ نہ کرنے اور بچوں کو پانی میں نہانے سے روکنے کی ہدایت کی ہے۔ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں، جہاں بنیادی سہولیات اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ مزید کہا کہ شہری موسم و سیلاب کی صورت حال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں نہروں اور ندی نالوں کے اطراف سیرو تفریح سے گریز کریں، بچوں کا خاص خیال رکھیں انہیں دریاؤں ندی نالوں میں ہرگز نہ نہانے دیں۔
خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں ہونے والی بارش اور سیلابی ریلوں کے باعث مختلف حادثات میں 8 افراد جاں بحق جب کہ متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں جب کہ ایبٹ آباد سمیت مختلف اضلاع میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور گلیات میں بارش اور شدید دھند سے حد نگاہ صفر ہوگئی۔ سیلابی ریلوں کے باعث 8 افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ 2 خواتین سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکو 1122 کے مطابق مردان رستم کالو ڈھیری میں کمرے کی چھت گرنے سے 2 بچے جاں بحق جب کہ ماں اور بیٹی شدید زخمی ہوگئیں۔ ضلع خیبر میں ہونے والی موسلا دھار بارش اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے، جہاں مختلف واقعات میں 6 افراد جاں بحق جب کہ کئی افراد زخمی ہوگئے جب کہ شدید بارش کے باعث لنڈی کوتل اور گردونواح میں متعدد رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں اور کچے مکانات اور 10 سے زائد گھروں کی چاردیواریاں بھی منہدم ہوگئیں.
ایبٹ آباد اور ہری پور سمیت مختلف اضلاع میں بھی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی سے شاہراہ ریشم پر پانی جمع ہونے سے سڑک تالاب کا منظر پیش کرنے لگی، جس کے باعث ٹریفک بلاک ہو گئی۔ گلیات کے علاقوں میں بارش اور شدید دھند کے باعث حدِ نگاہ صفر ہو گئی ہے، اس صورت حال پر گلیات ڈویلپمنٹ اتھارتی (جی ڈی اے) کی جانب سے سیاحوں کے لیے اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ جی ڈی اے نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”سیاح نتھیا گلی اور ڈونگا گلی کی طرف سفر کرنے سے گریز کریں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرناک علاقوں میں اپنی گاڑیاں ہرگز پارک نہ کریں“۔ قبل ازیں محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ خیبر پختونخوا، کشمیر، اسلام آباد، بالائی اور وسطی پنجاب اور گلگت بلتستان میں وسیع پیمانے پر بارش کا امکان ہے جب کہ اس کے برعکس ملک کے جنوبی حصوں میں شدید گرمی اور حبس کی صورتحال برقرار رہے گی۔ اسلام آباد میں کہیں ہلکی اور کہیں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا ہے جب کہ صوبہ بلوچستان کے زیادہ تر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کے ساتھ ساتھ خضدار، موسیٰ خیل، شیرانی، کوہلو، ژوب اور بارکھان کے علاقوں میں آندھی اور بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی شہر کے مختلف حصوں میں ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس پر واسا نے تمام اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ واسا کے مطابق گلشن راوی میں سب سے زیادہ 34.2 ملی میٹر اور سمن آباد میں 31.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ سگیاں میں 17.4، فرخ آباد میں 11.6، اقبال ٹاؤن میں 11، لکشمی چوک میں 6.8، پانی والا تالاب میں 1.4، چوک ناخدا میں 0.4، اور ہیڈ آفس گلبرگ و نشتر ٹاؤن میں 0.2 ملی میٹر بارش ہوئی تاہم جیل روڈ، ایئرپورٹ، اپر مال، مغلپورہ اور تاجپورہ کے علاقوں میں بارش ریکارڈ نہیں ہوئی۔ لاہور میں نکاسیِ آب کی صورتحال پر واسا انتظامیہ الرٹ ہے۔
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں کے لیے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 25 جولائی تک گلیشیرز پگھلنے کا شدید خدشہ ہے، جس کے باعث ندیاں اور نالوں میں پانی کے بہاؤ میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔ این ڈی ایم اے نے ہنزہ، نگر، سکردو، شگر، استور اور دیامر میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے خدشات ظاہر کیے ہیں جب کہ اپر اور لوئر چترال اور ان کے ملحقہ علاقوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ شانگلہ کے مقام پر بھی دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ کافی تیز ہوگیا ہے
پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے میں دریاؤں کی موجودہ صورت حال سے متعلق رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے تاہم دریائے چناب کے خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی صورت حال برقرار ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق خانکی کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ پچیس ہزار اور اخراج ایک لاکھ سترہ ہزار کیوسک جب کہ قادر آباد میں پانی کی آمد ایک لاکھ چھیالیس ہزار اور اخراج ایک لاکھ ستائیس ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے راوی، ستلج اور سندھ کے مختلف مقامات پر پانی کا بہاؤ فی الحال نارمل سطح پر ہے جب کہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی صورت حال معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 24 جولائی تک مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دریائے راوی اور چناب سے ملحقہ نالوں، بسنتر، ڈیگ، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا میں سیلاب جب کہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔
ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات اور ہنگامی صورتحال کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور محکمہ موسمیات نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اور انتہائی اہم احتیاطی تدابیر جاری کر دی ہیں۔حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق سیلاب کا الرٹ آتے ہی تمام شہریوں کو قبل از وقت تیاری مکمل کرنی چاہیے، جس کے لیے ایک ہنگامی بیگ تیار رکھنا لازمی ہے جس میں پینے کا صاف پانی، خشک خوراک، فرسٹ ایڈ بکس، ضروری ادویات، ٹارچ اور پاور بینک موجود ہوں اس کے ساتھ ہی اپنے تمام اہم دستاویزات جیسے شناختی کارڈ، پاسپورٹ، نقدی اور زمین کے کاغذات کو فوری طور پر پلاسٹک کے واٹر پروف تھیلوں میں منتقل کریں اور اپنے علاقے میں موجود محفوظ اور اونچی جگہوں یا ریلیف کیمپوں کی نشان دہی پہلے سے کر کے رکھیں۔ ہنگامی ضرورت کے وقت فوری مدد حاصل کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور قریبی ہسپتالوں کے رابطہ نمبرز ہر وقت اپنے پاس محفوظ رکھیں۔سیلابی پانی گلیوں یا گھروں میں داخل ہونے کی صورت میں فوری طور پر گھر کا مین الیکٹرک سوئچ اور گیس کا والو بند کر دیں تاکہ کرنٹ لگنے یا آگ لگنے کے بڑے حادثات سے بچا جا سک پانی کی سطح بلند ہونے پر فوری طور پر گھر کی بالائی منزل یا قریبی بلندی والے مقام پر منتقل ہو جائیں اور اس عمل میں بچوں، خواتین، بیماروں اور بزرگوں کو ترجیحی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر پہنچائیں۔ کسی بھی صورت میں تیز بہاؤ والے پانی یا گلیوں کے سیلابی پانی میں پیدل چلنے یا گاڑی چلانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ چند انچ کا تیز پانی بھی گاڑی کو بہا لے جانے کی طاقت رکھتا ہے اور باہر نکلتے وقت بجلی کے کھمبوں، لٹکتے تاروں اور کھلے مین ہولز سے مکمل دوری اختیار کریں۔صحت کی حفاظت کے حوالے سے انتہائی سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ سیلاب کے دوران پانی شدید آلودہ ہو جاتا ہے، اس لیے صرف ابلا ہوا، کلورین ملا یا مستند کمپنی کا بوتل والا پانی ہی استعمال کریں ایسی تمام خوراک کو فوری طور پر ضائع کر دیں جو سیلاب کے پانی سے چھو گئی ہو یا خراب ہو چکی ہو، اور اگر کسی مجبوری میں پانی میں اترنا پڑے تو بوٹ اور حفاظتی لباس ضرور پہنیں تاکہ پانی میں موجود سانپ، بچھو یا دیگر زہریلے حشرات کے کاٹنے سے محفوظ رہا جا سکے۔ سیلاب کے بعد ریڈیو، ٹی وی اور سوشل میڈیا کے ذریعے ضلعی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی آفیشل ہدایات پر مسلسل نظر رکھیں، غیر تصدیق شدہ خبروں اور افواہوں پر بالکل کان نہ دھریں، اور جب تک ریسکیو ادارے اور انتظامیہ آپ کے علاقے کو مکمل طور پر محفوظ قرار نہ دے دیں، اپنے گھروں کو واپس جانے کا خطرہ ہرگز نہ اٹھائیں
Monsoon rains have caused flooding in different areas. A cloudburst near Neelum Valley in Kashmir overflowed rivers and canals, inundating houses and several shops. Several vehicles and motorcycles were swept away near Mengal Nallah, and the canal flood also washed away livestock. Traffic on the main Neelum highway was affected. At Hafizabad Head Qadirabad, the Chenab River continues to rise, with inflow at 138,000 cusecs and outflow at 115,000 cusecs. The low-level flood at Head Qadirabad caused the Indus River to overflow in Samranshib village in Haileya. Two government schools were swept away, and erosion has damaged hundreds of acres of crops, 300 houses, more than five settlements, three mosques, electricity poles, and other government property. Monsoon rains have also troubled residents of dozens of villages, including Kohliya near Hassan Abdal. The Kohliya bridge, built with residents’ donations, was hit again by flash flooding, cutting off border villages of Punjab and Khyber Pakhtunkhwa from the city. The Meteorological Department has predicted thunderstorms in different areas from today to July 25, with possible flooding in rivers and canals and urban flooding in low-lying areas from today to July 23. According to the NDMA spokesperson, a powerful monsoon stream will bring heavy rain from tomorrow to July 23, with flash floods and hill torrents expected in Gilgit-Baltistan, Khyber Pakhtunkhwa, Azad Kashmir and Punjab. Flash floods are likely in the upper reaches of the Chenab River and Mangla on the Jhelum River, as well as in the drains coming from Sialkot, Narowal, Gujarat, Bhimber and Muridke. There is also a risk of flooding in the drains of DG Khan, Rajanpur, Murree and Galiyat, and of high water levels in the Kabul River and its tributaries, especially Panjkora, Swat and Chitral.
Due to heavy rains in Khyber, two vehicles were swept away in floodwaters at different places. Women and children on board were rescued, while the bodies of 5 people who were swept away in the floodwaters were found. A car was also swept away by the floodwaters near the Zakaria Mosque in the Khoga Khel area. All the people in the car have been safely evacuated. Due to the recent strong monsoon rains across the country, flash floods have wreaked havoc in several districts of Khyber Pakhtunkhwa, while a severe flood alert has been issued in various streams and rivers of Punjab. Devastating loss of life due to flash floods in Khyber Pakhtunkhwa: At least 8 people, including children and Afghan refugees, have died due to sudden flash floods in Khyber, Landi Kotal and Jamrud districts. Infrastructure destruction: Several connecting roads, including the Pak-Afghan highway, have been severely affected due to heavy rains. More than 10 mud houses and boundary walls have collapsed, and more than a dozen people have been injured. Risk of flooding in rivers: The water level in the Kabul River and its tributaries (Panjkora, Swat and Chitral) is continuously rising.
Hill torrents coming from the Sulaiman Mountains have created flood situations in Dera Ghazi Khan and Rajanpur. According to the National Disaster Management Authority (NDMA), there is a possibility of major flood waves in the upper reaches of Marala on the Chenab River and Mangla on the Jhelum River. There is a serious risk of flash floods in the local rivers of Sialkot, Narowal, Gujrat and Muridke. On the outskirts of Liaquatpur, settlements and hundreds of acres of agricultural land have been submerged due to erosion of the Indus and Chenab rivers. Eight people have died, and several others have been injured in various accidents due to rain and flash floods in the upper areas of Khyber Pakhtunkhwa, while intermittent rain continues in various districts, including Abbottabad, and visibility has become zero due to rain and heavy fog in the streets. Eight people have lost their lives due to flash floods, while several people, including two women, have been injured. According to Rescue 1122, two children died when the roof of a room collapsed in Mardan Rustam Kalu Dheri, while a mother and daughter were seriously injured. Heavy rain and flash floods in Khyber district have wreaked havoc, where six people have died in various incidents while several others have been injured. Several communication roads in Landi Kotal and its surroundings have been affected due to heavy rain, and mud houses and the boundary walls of more than 10 houses have also collapsed.
Rains are also continuing intermittently in various districts, including Abbottabad and Haripur. Due to the rain, water accumulated in the rivers and canals, and the road started looking like a pond on the Silk Road, which blocked traffic. Due to rain and heavy fog, visibility has become zero in the Galiyat areas; in this situation, the Galiyat Development Authority (GDA) has issued important instructions for tourists. The GDA, while issuing an alert, said that “tourists should avoid traveling towards Nathia Gali and Donga Gali and never park their vehicles in landslide-prone areas.” Earlier, the Meteorological Department had predicted rain with strong winds and thunderstorms in different parts of the country. There is a possibility of widespread rain in Khyber Pakhtunkhwa, Kashmir, Islamabad, upper and central Punjab and Gilgit-Baltistan, while on the contrary, the southern parts of the country will remain extremely hot and humid. In Islamabad, the weather has become pleasant with light and heavy rain in some places, while in most districts of Balochistan province, the weather will remain hot and humid, and wind and rain are predicted in the areas of Khuzdar, Musakhel, Sherani, Kohlu, Zhob and Barkhan.
Light rain has also been recorded in different parts of the city in the capital of Punjab, Lahore, on which WASA has released all the data. According to WASA, the highest rainfall was recorded in Gulshan Ravi at 34.2 mm and Samanabad at 31.6 mm, while 17.4 mm was recorded in Sigian, 11.6 mm in Farrukhabad, 11 mm in Iqbal Town, 6.8 mm in Laxmi Chowk, 1.4 mm in Pani Wala Talab, 0.4 mm in Chowk Nakhda, and 0.2 mm in Head Office Gulberg and Nishtar Town. However, no rain was recorded in the areas of Jail Road, Airport, Upper Mall, Mughalpura and Tajpura. WASA administration is on alert over the drainage situation in Lahore.
On the other hand, the National Disaster Management Authority (NDMA) has issued a flash flood alert for the hilly areas of Gilgit-Baltistan, Azad Kashmir and Khyber Pakhtunkhwa. According to the NDMA, there is a serious threat of melting glaciers in Gilgit-Baltistan and Khyber Pakhtunkhwa by July 25, due to which the flow of water in rivers and drains may increase significantly. The NDMA has expressed concerns about floods and landslides in Hunza, Nagar, Skardu, Shigar, Astore and Diamer, while Upper and Lower Chitral and their adjacent areas have been declared highly sensitive. The water flow in the Indus River has also increased significantly at Shangla.
PDMA Punjab, while issuing a report on the current situation of rivers in the province, has said that the water flow in most rivers is normal; however, a low-level flood situation persists at Khanki and Qadirabad places of the Chenab River. According to the PDMA spokesperson, the inflow of water at Khanki was 125,000 and the outflow of 117,000 cusecs, while the inflow of water at Qadirabad was 146,000 and the outflow of 127,000 cusecs. The water flow at various places in the Ravi, Sutlej and Sindh rivers is currently at normal levels, while the situation in the river wells of Dera Ghazi Khan is also normal. The PDMA has warned that there is a possibility of an increase in the water flow in the rivers due to monsoon rains until July 24. Flooding is expected in the drains adjacent to the Ravi and Chenab rivers, Basantar, Deg, Palkho, Bhimber, Halsi and Dora, while flash flooding has been predicted in the river wells of Dera Ghazi Khan. According to the agency, there is also a possibility of urban flooding in Lahore, Gujranwala, Sialkot, Sargodha, Okara, Sahiwal, Bahawalnagar and Rawalpindi divisions.







