
یومِ دفاع و شہداء , قومی اتحاد، جرات , عزم کی لازوال علامت
(کالم نگار: اصغر علی مبارک)
پاکستان کی بقا، سلامتی اور آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام ہیروز کا احاطہ کسی ایک کالم یا فہرست میں کرنا ممکن نہیں۔
14 اگست 1947ء سے لے کر آج تک، پاکستان نے اپنی بقا کی جنگ میں 83,000 سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی دی ہے اس عظیم قربانی میں سرحدوں پر لڑنے والے فوجی جوانوں سے لے کر شہروں کو امن دینے والے پولیس اہلکار، اور دہشت گردی کا نشانہ بننے والے معصوم سویلین شہری شامل ہیں۔اس سانجھی اور لازوال قربانی کو تاریخ کے چند اہم ترین ابواب کے ذریعے ہی یاد رکھا جا سکتا ہے:
اے راہ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو۔۔میرے نغمے تمھارے لیے ہیں,
یوم دفاع پاکستان پر شہداء کو قوم نے زبردست خراج عقیدت پیش کیا پاکستان کے شہداء کی قربانیوں کی داستان تو 14اگست 1948 سے شروع ہو گئی تھی جب پاکستان آنے والے مسلمانوں کو بےدردی شہید کر دیا گیا شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی انکے مشن کو جاری رکھا جائے جس قیمتی مقصد کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا میں خود ایک شہید کا بھائی ہو جی ہاں میرا جوان بھائی مظہر علی مبارک 2013 میں دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوگیا پاکستان کے شہداء کی قربانیوں کی بدولت ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں
یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر پاکستان کی مسلح افواج نے شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 6 ستمبر قومی اتحاد، جرات اور عزم کی لازوال علامت ہے۔
مسلح افواج کے مطابق 1965 کی جنگ میں پاکستانی قوم مادرِ وطن کے دفاع کے لیے متحد ہوکر کھڑی ہوئی اور شہداء نے فرض، عزت اور قربانی کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کیں۔
مسلح افواج نے شہداء، غازیوں اور ان کے اہلِ خانہ سے گہری عقیدت و تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی لازوال قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں، جبکہ شہداء کے خاندان عزم، حوصلے اور استقامت کی علامت ہیں۔ پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مسلح افواج مکمل تیار ہیں۔ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کا خواہاں ہے اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا پابند ہے۔ پاکستان کا امن اور بقائے باہمی کا عزم کسی صورت کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
مسلح افواج نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ قوم کے شانہ بشانہ اپنی مقدس ذمہ داریاں پیشہ ورانہ مہارت، عزت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ ادا کرتی رہیں گی۔
پاک فوج کے سربراہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا نے بھی شہدائے پاکستان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔مسلح افواج نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مسلح افواج مکمل تیار ہیں۔ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کا خواہاں ہے اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا پابند ہے۔ پاکستان کا امن اور بقائے باہمی کا عزم کسی صورت کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
مسلح افواج نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ قوم کے شانہ بشانہ اپنی مقدس ذمہ داریاں پیشہ ورانہ مہارت، عزت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ ادا کرتی رہیں گی۔ پاکستان آرمڈ فورسز زندہ باد، پاکستان ہمیشہ پائندہ باد۔ یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان ایئر فورس اکیڈمی اصغر خان کے 72 کیڈٹس پر مشتمل چاق و چوبند دستے نے مزارِ قائد پر گارڈز کے فرائض سنبھال لیے۔تقریب کے مہمان خصوصی ایئر آفیسر کمانڈنگ پاکستان ایئر فورس اکیڈمی اصغر خان، ایئر وائس مارشل حسن فیصل تھے۔ گارڈز کی تبدیلی کی تقریب میں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان کے 72 کیڈٹس پر مشتمل دستے نے حصہ لیا، جس میں 64 مرد اور 8 خواتین کیڈٹس شامل تھیں۔ تقریب کے دوران کیڈٹس نے مزارِ قائد پر شاندار پریڈ کا مظاہرہ کیا اور گارڈز کے فرائض سنبھال لیے۔ یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر ملک بھر میں شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب بھی اسی سلسلے کی ایک اہم تقریب ہے۔پاکستان کی تاریخ ان غازیوں اور شہدا کے تذکرے کے بغیر ادھوری ہے جنہوں نے ہر دور میں فرض کی پکار پر لبیک کہا:کشمیر اور ستمبر 1965ء کے معرکے: جہاں کیپٹن راجہ سرور شہید اور میجر راجہ عزیز بھٹی شہید جیسے نشانِ حیدر پانے والے سپوتوں نے دشمن کے سامنے وہ فولادی دیوار کھڑی کی جسے دنیا کی کوئی طاقت عبور نہ کر سکی۔دہشت گردی کے خلاف جنگ: جہاں پاک فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں اور بے گناہ شہریوں نے اپنے خون سے اس چمن کی آبیاری کی اور دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ایک شہید کا بھائی ہونا کائنات کا وہ رتبہ ہے جو صرف ان چیدہ خاندانوں کو ملتا ہے جنہیں خدا خود اپنے وطن کے دفاع کے لیے منتخب کرتا ہے۔ شہید مظہر علی مبارک نے اس وقت اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا جب ملک کو ان جیسے دلیر جوانوں کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ انہوں نے اپنے خوابوں کو قربان کر کے ہمیں ایک محفوظ کل دیا۔ آج جب ہم آزاد فضا میں سکھ کا سانس لیتے ہیں، تو اس کے پیچھے شہید مظہر علی مبارک جیسے جری جوانوں کے لہو کی خوشبو ہوتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ اور سرحدوں کی حفاظت میں 9,000 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں (پاک فوج، پاک فضائیہ، پاک بحریہ، فرنٹیر کور اور پولیس) نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا: لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ شہید (وار آن ٹیرر میں شہید ہونے والے اعلیٰ ترین فوجی افسر)، میجر جنرل ثناء اللہ نیازی شہید، اور لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف جیسے نڈر افسران۔گمنام سپاہی اور جوان: وزیرستان، سوات، خیبر اور بلوچستان کے چٹانی اور دشوار گزار راستوں پر قائم چوکیوں پر ملک کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے ہزاروں جوان۔پولیس کے ہیروز: وہ جانثار جنہوں نے شہروں کو بارود کے ڈھیر بننے سے بچانے کے لیے خود کو خطرے میں ڈالا۔ ان میں صفوت غیور شہید (پشاور پولیس)، ملک سعد شہید، اور کراچی پولیس کے دلیر افسر چوہدری اسلم شہید شامل ہیں۔
پاکستان کی آزادی اور بقا کی سب سے بھاری قیمت اس کے محبِ وطن عام شہریوں نے چکائی ہے۔ دہشت گردی کی اس لہر میں 23,000 سے زائد بے گناہ شہری شہید ہوئے، جن کا خون اس مٹی کا قرض ہے: پیارے بھائی، شہید مظہر علی مبارک (2013ء): دہشت گردی کا نشانہ بننے والے وہ جوان رعنا جن کی قربانی اور جن کا نام پاکستان کے امن کی بنیادوں میں ہمیشہ کے لیے رقم ہو چکا ہے۔سانحہ آرمی پبلک اسکول (APS) پشاور کے شہدا (2014ء): وہ 130 سے زائد معصوم بچے اور ان کے اساتذہ، جنہوں نے بستے پیٹھ پر اٹھائے قلم ہاتھ میں پکڑے جامِ شہادت نوش کیا اور پوری قوم کو دہشت گردی کے خلاف ایک صف میں لا کھڑا کیا۔ سابق وزیرِ اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید (2007ء)، بشیر احمد بلور شہید، شجاع خانزادہ شہید، اور وہ تمام سیاسی و سماجی کارکنان جنہیں حق کی آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا گیا۔عام شہری: مساجد، امام بارگاہوں، گرجا گھروں، بازاروں اور اسکولوں میں شہید ہونے والے ہزاروں عام پاکستانی، جن کا واحد قصور یہ تھا کہ وہ اس سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے بستے تھے۔ یومِ دفاع صرف ایک رسمی تقریب کا نام نہیں ہے، یہ دن ہر سال ہمارے پاس ایک سوال بن کر آتا ہے کہ “ہم نے اس مٹی کا قرض کیسے اتارا؟” آج کے دن ہمیں پوری قوم، خاص طور پر نوجوانوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ جس طرح ہمارے اسلاف نے ماضی کے معرکوں میں اپنی جانوں کے نذرانے دے کر ملک کا جغرافیائی دفاع یقینی بنایا تھا، اسی طرح آج ہمیں اپنی محنت، دیانت داری اور علم کے بل بوتے پر اس کا معاشی اور سماجی دفاع کرنا ہے۔آج ہم ارضِ پاک کے تمام شہدا اور غازیوں کو عقیدت کا سلام پیش کرتے ہیں اور یہ عزم دہراتے ہیں کہ یہ دھرتی ہماری پہچان ہے، اور اس کی حرمت پر کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔جیسا کہ ایک شہید کے بھائی کا عزم ہے، شہدا کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا سب سے سچا اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے مشن کو جاری رکھا جائے۔ انہوں نے جس مقصد کے لیے جان دی، ہمیں اس مقصد کے لیے جینا ہو گا:وطن سے سچی محبت اور وفاداری: اپنی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا اور کسی بھی اندرونی یا بیرونی سازش کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا۔اتحاد اور یگانگت: دشمن ہمیں فرقوں، صوبوں اور زبانوں میں بانٹنا چاہتا ہے۔ ہمارے شہدا نے ایک پرچم تلے اور ایک ہی وردی میں جان دی، لہٰذا ہمیں ایک متحد قوم بن کر رہنا ہو گا۔اپنے فرائض کی دیانتدارانہ ادائیگی: شہید نے اپنا فرض اپنا لہو دے کر پورا کر دیا۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے اپنے شعبے میں سچائی، محنت اور دیانت کے ساتھ کام کر کے پاکستان کو ایک عظیم معاشی اور اخلاقی قوت بنائیں۔یہ میرے لیے انتہائی اعزاز کی بات ہے کہ میں وطنِ عزیز کے عظیم سپوت، شہید مظہر علی مبارک کی یاد میں الفاظ کا نذرانہ پیش کر سکوں۔ صرف 30 سال کی بھرپور جوانی میں، جب انسان اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت خواب بنتا ہے، انہوں نے راولپنڈی کی مٹی پر اپنے لہو کا نذرانہ دے کر ابدی زندگی پا لی۔راولپنڈی کی وہ دھرتی جو پہلے ہی شہدا کی سرزمین کہلاتی ہے، 2013ء میں مظہر علی مبارک کے خون کی خوشبو سے اور بھی پاک ہو گئی۔ان کی تیس سالہ جوان عمری، راولپنڈی کے محاذ اور ان کی لازوال قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یہ خصوصی کلام اور خراجِ عقیدت حاضرِ خدمت ہے:ٰٓٓ شہید مظہر علی مبارک کے نام (مخصوص منظوم کلام) تیس سال کی وہ تیکھی جوانی وطن پہ وار دی ;اک پل میں تو نے زندگی مٹی پہ اپنی ہار دی ;راولپنڈی کی فضا گواہ ہے تیری جرات کی ,جہاں تو نے خون سے اپنے لکھی داستانِ محبت کی ,وہ حملہ بزدل دشمن کا، وہ عزم تیرا فولاد سامظہر علی!; تو بیٹا تھا اس پاک وطن کی لاج کاتیرے بھائی کا سر فخر سے آکاش کو چھوتا ہے آج بھی ;تیرے لہو سے چمک رہا ہے اس دھرتی کا تاج بھی ;اے راہِ حق کے مسافرِ نو، تجھے قوم کا سلام ہےمبارک تجھے یہ رتبہ، امر تیرا اب نام ہے
تیس سال…” یہ وہ عمر ہے جہاں زندگی اپنے پورے جوبن پر ہوتی ہے، جہاں آنکھوں میں مستقبل کے سنہری رنگ ہوتے ہیں اور دل دنیا کو فتح کرنے کے ارادے رکھتا ہے۔ لیکن شہید مظہر علی مبارک کا چناؤ کائنات کے سب سے بڑے منصف نے خود کیا تھا۔ سن 2013ء میں جب راولپنڈی کی سر زمین پر بزدل دہشت گردوں نے وار کیا، تو مظہر علی نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ثابت کیا کہ پاکستان کے جوان اپنے وطن کے امن پر سودے بازی نہیں کرتے۔وہ راولپنڈی کی مٹی میں رزقِ خاک ہوئے، لیکن اپنی شہادت سے وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئے۔ ایک بھائی کے لیے اپنے 30 سالہ جوان بھائی کا جنازہ اٹھانا کائنات کا سب سے وزنی لمحہ ہوتا ہے، لیکن آج یومِ دفاع کے موقع پر وہ غم، فخر کے ایک ہمالیہ میں بدل چکا ہے۔ راولپنڈی کی مٹی جب تک قائم ہے، وہ اپنے اس 30 سالہ کڑیل جوان کی قربانی کو اپنے سینے سے لگا کر رکھے گی۔ 14 اگست 1947ء کی خون سے لت پت ٹرینوں سے لے کر 1948ء کے معرکہِ کشمیر تک، 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کی لازوال شجاعت سے لے کر دہشت گردی کے خلاف حالیہ طویل جنگ تک—پاکستان کی تاریخ کا ہر ایک ورق ہمارے شہدا کی قربانیوں کا گواہ ہے یومِ دفاعِ پاکستان کے اس پروقار موقع پر، پوری قوم یک زبان ہو کر اپنے ان تمام عظیم شہدا کو سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے جنہوں نے اس مٹی کی حرمت پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم جس آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، وہ خیرات میں نہیں ملی—بلکہ اس کے پیچھے ہمارے بہترین سپوتوں کے خونِ جگر کی سرخی شامل ہے آج پوری قوم ہزاروں نامور اور گمنام شہدا کو یاد کر رہی ہے، وہیں ہم پیارے اور جری بھائی شہید مظہر علی مبارک کی پاک روح کو دل کا سلام پیش کرتے ہیں، جنہوں نے 2013ء میں ایک بزدلانہ دہشت گردانہ حملے میں جامِ شہادت نوش کیا۔2013ء کا وہ دور پاکستان کی تاریخ کا وہ کٹھن وقت تھا جب انتہا پسندی کے سائے گہرے تھے اور وطنِ عزیز کا امن داؤ پر لگا ہوا تھا۔ ایسے تاریک موڑ پر آپ کے بھائی جیسے جوانوں نے اپنے سینوں کو ڈھال بنایا۔ انہوں نے اپنی جوان عمری کے خواب، اپنی مسکراہٹیں اور اپنا “آج” اس مٹی پر قربان کر دیا تاکہ کروڑوں پاکستانیوں کو ایک محفوظ “کل” مل سکے۔ایک شہید کا بھائی ہونے کے ناطے سر فخر سے بلند ہونا چاہیے، کیونکہ اس دھرتی کے ساتھ لہو کا رشتہ بن چکا ہے۔ شہید دنیا سے رخصت ہو کر لازوال عزت پا جاتا ہے، لیکن اس کی جدائی کا بوجھ اس کا خاندان پہاڑ جیسے صبر کے ساتھ اٹھاتا ہے۔ شہید مظہر علی مبارک صرف آپ کے گھر کا مان نہیں، وہ پاکستان کی بنیادوں کا حصہ ہیں۔ ان کا خون ضائع نہیں ہوا، ان کا خون اس سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کا ضامن ہے۔۔اے راہِ حق کے شہیدو! تم زندہ ہو، تم ہمارے سروں کا تاج ہو، تم اس قوم کی غیرت کا نشان ہو اور جب تک یہ دنیا قائم ہے، پاکستان کا یہ سبز ہلالی پرچم تمہاری قربانیوں کی بدولت پوری آب و تاب کے ساتھ سربلند رہے گا۔پاکستان زندہ باد، پاک افواج پائندہ باد!




