اقوام متحدہ کا انتباہ…عالمی حدت کے خلاف جنگ; مل کر کام یا ’اجتماعی خودکشی‘’………………………(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)……….. شرم الشیخ، مصر میں جاری موسمیاتی تبدیلیوں کی عالمی کوپ 27 سربراہی کانفرنس میں پاکستان میں اہم سٹیک ہولڈر ہے, مصر میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کا کیس پیش کریں گے کہ ہمیں دنیا کی وجہ سے سیلاب کی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔تقریباً 90 ممالک اس کانفرنس میں شریک ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی مالیاتی ادارے بھی اس اجلاس میں شریک ہیں۔ اگر پاکستان نے اپنا کیس بہتر انداز میں پیش کیا تو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سنجیدہ اور نیوٹرل ممالک پاکستان کی مدد کر سکتے ہیں۔امید ہے کہ دنیا پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور کچھ کامیابی حاصل کی جا سکے گی۔ گلوبل گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے جبکہ ان کے باعث ہونے والی نقصانات میں پاکستان پہلے دس ممالک میں شامل ہے۔ تین بڑے ممالک گلوبل گرین ہاؤس گیسز کا 42 فیصد خارج کرتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کے نقصانات کی مدد کریں۔۔وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کو اس کانفرنس کا نائب صدر نامزد کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کو اس کانفرنس کا نائب صدر نامزد کیا گیا ہے اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے عالمی رہنماؤں کو متنبہ کیا کہ انسانیت کو عالمی حدت کے خلاف جنگ میں مل کر کام کرنے یا ’اجتماعی خودکشی‘ میں سے کسی ایک کے سخت انتخاب کا سامنا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک جو کاربن کے اخراج کو پھیلانے میں سب سے آگے ہیں، انہیں پاکستان کی ہر ممکن مدد کرنا چاہیے کیوں کہ پاکستان تاریخ کے بد ترین سیلاب سے دوچار ہے۔ امیر آلودگی پھیلانے والے ممالک جو کہ ڈسٹوپیئن موسمیاتی خرابی کے لیے بنیادی طور پر ذمہ دار ہیں، نے اخراج کو کم کرنے اور ترقی پذیر ممالک کو گلوبل ہیٹنگ کے مطابق ڈھالنے میں مدد کرنے کے اپنے وعدے توڑ دیے ہیں پاکستان انوائرمنٹ ٹرسٹ کے مطابق کاربن کے اثرات کو 2030 تک صفر کرنے کے لیے اور پاکستان میں کپاس کی فصل کی تباہی کے نتیجے میں اور عالمی برادری کی سپلائی چین میں رہ جانے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کی کارپوریشنز اور صنعت کاروں کو مل کر پاکستان میں کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ایسا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ پاکستان سے کاربن کریڈٹ خریدا جائے تاکہ فطرت پر مبنی حل میں سرمایہ کاری کی جا سکے اور ان کے کاربن فوٹ پرنٹ کو کم کیا جا سکے۔ دنیا بھر میں کاربن کے اخراج کو اگر دیکھیں تو پاکستان کل عالمی کاربن اخراج میں صرف ایک فیصد حصہ ڈالتا ہے، اس کے برعکس چین دنیا کے کاربن اخراج میں 32 جبکہ امریکہ 12.6 فیصد حصہ ڈالتا ہے، جسے ہم سادہ زبان میں کاربن فٹ پرنٹ کہتے ہیں۔

اپنے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنے کے لیے ان ممالک کو صنعتی اخراج کم کرنے کی ضرورت ہے۔

ایسا کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے کاربن اخراج سے شدید متاثرہ ممالک جیسے کہ پاکستان میں ان ممالک کو کاربن کریڈٹ خریدنا چاہیے۔ ایسی انڈسٹریزجیسے کہ سیمینٹ، ایوی ایشن، سٹیل اور گیس کے کاربن فٹ پرنٹس سب زیادہ ہیں یعنی یہ کمپنیاں ماحولیاتی آلودگی میں سب سے زیادہ ملوث ہیں، تو انہیں کاربن کریڈٹ فراہم کرنا ہوگا اور یہاں پاکستان میں پھر ان پیسوں سے ترقیاتی منصوبے بنائے جائیں جیسے کہ ڈی آئی خان اور چترال میں جنگلات کے منصوبے اور کے پی میں ہائیڈرو گرڈز لگانا۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس تقریباً 100 سربراہان مملکت سے حکومت شرم الشیخ کے بحیرہ احمر کے ریزورٹ میں دو دن سے ملاقات کر رہے ہیں جنہیں ماحول دشمن گیسوں کے اخراج میں کمی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات سے تباہ حال ترقی پذیر ممالک کو مالی طور پر واپس لانے کے مطالبات کا سامنا ہے۔قوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مندوبین کو بتایا کہ دنیا ’موسمیاتی جہنم کی طرف جانے والی شاہراہ پر ہے اور ہمارا پیر ایکسلیریٹر پر ہےمندوبین سے خطاب میں انتونیو گوتریس نے کہا جو الفاظ کو چبانے کے حوالے سے شہرت نہیں رکھتے کہ دنیا تیزی سے اس مقام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں موسمیاتی تباہی کو ’واپس پلٹانا ناممکن ہو جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’موسمیاتی تبدیلی ایک مختلف ٹائم لائن اور پیمانے پر ہے۔ یہ ہمارے دور کے مسئلے کو واضح کر رہی ہے۔ یہ ناقابل قبول، غیر معمولی اور اپنے آپ کو شکست دینا ہے کہ اسے پس پشت ڈال دیا جائے۔‘

موسمیاتی تبدیلی پر سربراہ کانفرنس کوپ 27 مصر کا تفریحی مقام پر آغاز ہوا برطانیہ نے کوپ کی صدارت مصر کے حوالے کی۔کانفرنس کے دوسرے روز عالمی رہنما جن میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے بھی خطاب کیاکوپ27 کو ’عملدرآمد کوپ‘ کا نام دیا گیا ہے کیوں کہ اس کا مقصد وعدوں کو زمین پر عملی شکل دینا اور بحران پر قابو پانے کے لیے عزم کو مضبوط بنانا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ہدف سب کے لیے قابل تجدید اور سستی توانائی فراہم کرنا ہونا چاہیے، خاص طور پر انہوں نے امریکہ اور چین سے اس کی رہنمائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اخلاقی طور پر لازم ہے کہ زیادہ آلودگی پھیلانے والے ممالک کمزور ممالک کی مدد کریں۔

چینی رہنما شی جن پنگ، جن کا ملک دنیا میں سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرنے والا ملک ہے، سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے۔ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصان کی مد میں دنیا پاکستان کی مالی مدد نہیں کر رہی۔امریکہ نے 2010 کے سیلاب میں پاکستان کو تقریباً چھ سو ملین ڈالرز امداد دی تھی جبکہ 2022 کے سیلاب میں صرف 53 ملین ڈالرز کے وعدے کیے گئے ہیں۔ 2010 کے سیلاب میں پہلے 15 دنوں میں تقریباً 60 ممالک نے امداد کا اعلان کر دیا تھا لیکن 2022 کے سیلاب میں تقریباً 12 ممالک نے ہی امداد کے وعدے کیے ہیں عالمی طاقتیں اس وقت خود مالی بحران کا شکار ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں سینٹرل بینک شرح سود بڑھا رہے ہیں تا کہ معیشت کی رفتار سست رکھی جا سکےجہاں تک بات ہے مصر کی جانب سے پاکستان کی امداد کی تو ایسا ممکن نہیں ہے۔ مصر کی اپنی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔ وہ خود عالمی طاقتوں سے مالی مدد کی درخواست کر رہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے باعث اس وقت سعودی عرب کی معاشی حالت بہتر ہے اور ممکن ہے کہ وہ اس کانفرنس میں پاکستان کی مالی امداد کر سکے۔کوپ 27 ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب پاکستان اور دنیا کے دیگر حصوں میں لاکھوں لوگ موسمیاتی تبدیلی کے شدید منفی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔عالمی رہنماؤں پر دباؤ ہے کہ وہ مضر گیسوں کے اخراج میں بڑی کمی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات سے پہلے ہی تباہ حال ترقی پذیر ممالک کی مالی مدد کریں۔پاکستان اور دنیا کے دیگر حصوں میں لاکھوں لوگ موسمیاتی تبدیلی کے شدید منفی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔پاکستان نے، جو کہ 130 سے زائد ترقی پذیر ممالک کے طاقتور جی 77+ چین مذاکراتی بلاک کا صدر بھی ہے، اس مسئلے کو ترجیح بنایا ہے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ایک ترقی پذیر ملک کے طور پر، پاکستان ماحولیاتی یکجہتی اور موسمیاتی انصاف کی فوری ضرورت کے لیے ایک مضبوط کال دے گا، جو مساوات اور مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں کے قائم کردہ اصولوں پر مبنی ہے۔ 77 گروپ کے، جو کہ اقوام متحدہ کے نظام میں ترقی پذیر ممالک کا سب سے بڑا مذاکراتی بلاک ہے، موجودہ صدر کی حیثیت سے پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے مذاکرات بشمول موضوعاتی شعبوں جیسے کہ موسمیاتی مالیات، موافقت، تخفیف، اور صلاحیت کی تعمیر میں گروپ کی قیادت بھی کرے گا۔ ایک اہم سٹیک ہولڈر کے طور پر، پاکستان عالمی موسمیاتی تبدیلی پر بحث، مذاکرات اور اجتماعی کارروائی میں مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔دنیا کو 2030 تک گرین ہاؤس کے اخراج میں45 فیصد کمی لانی ہوگی تاکہ گلوبل وارمنگ کو19ویں صدی کے آخر کی سطح سے اوپر 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود کیا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے نتائج کے مطابق موجودہ دہائی کے اختتام تک کاربن آلودگی میں 10 فیصد اضافہ ہوگا اور زمین کی سطح 2.8 سینٹی گریڈ تک گرم ہوجائے گی۔ترقی پذیر ممالک کے سربراہوں نے ’نقصان‘ کے لیے رقم کے تنازع کو سربراہی اجلاس کے ایجنڈے پر ڈالنے پر اتفاق کیا کہ ’موسمیاتی بحران کے اثرات کا بوجھ کمزور ممالک اکیلے نہیں اٹھا سکتے۔‘ امیر ممالک سے یہ بھی توقع کی جائے گی کہ وہ ہر سال 100 ارب ڈالر دینے کے لیے ایک ٹائم ٹیبل مقرر کریں گے تاکہ ترقی پذیر ممالک اپنی معیشتوں کو ماحول دوست اور مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کر سکیں۔انتونیو گوتیرش نے کہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی ہمارے دور کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ مجھے اس بارے میں بہت زیادہ تشویش ہے کیونکہ یوکرین میں جاری جنگ اور متعدد دیگر واقعات کے ہوتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی دنیا بھر میں بہت سے فیصلہ سازوں کی ترجیحات میں دکھائی نہیں دیتی اور اس طرح گویا ہم خودکشی کر رہے ہیں۔ ہمارے سامنے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہم معدنی ایندھن کا استعمال ایک مرتبہ پھر عام ہوتا دیکھ رہے ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ معدنی ایندھن فطرت کے خلاف اس بڑھتی ہوئی جنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے جو ہم اپنی پوری تاریخ میں لڑتے چلے آئے ہیں۔

اِس وقت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو محدود کرنا نہایت ضروری ہو گیا ہے۔ بدقسمتی سے اگرچہ ہمیں 2030 تک اس اخراج میں 45 فیصد کمی لانا چاہیے لیکن اس کے بجائے ہمیں 2030 تک اس میں 14 فیصد اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس لیے ہمیں اس رحجان کو واپس موڑنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم ایک تباہ کن صورتحال کی جانب بڑھ رہے ہیں اور ہمارے پاس واپس پلٹنے کےلیے زیادہ وقت نہیں ہے۔

اسی دوران جب ہم پاکستان میں آنے والی تباہی کی شدت کو دیکھیں تو وہاں سیلاب میں زیرآب آنے والا علاقہ میرے اپنے ملک پرتگال سے تین گنا زیادہ ہے۔ ہمیں ناصرف گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے معاملے میں ترقی پذیر ممالک کی مدد میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے بلکہ ہمیں انہیں موسمیاتی تبدیلی کے مقابل مضبوط بنانے اور ایسے پائیدار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں مدد دینے کی بھی ضرورت ہے جس سے یہ ممالک موسمیاتی تبدیلی کے ان اثرات سے نمٹ سکیں جو پہلے ہی انہیں تباہ کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ اثرات ایسے ممالک میں دکھائی دیتے ہیں جن کا موسمیاتی تبدیلی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔”