یومِ دفاع 6 ستمبر ; ناقابلِ تسخیر صلاحیت، لازوال قربانیاں , چیلنجز …...( اصغر علی مبارک)
1965ء کی پاک-بھارت جنگ پاکستان کی عسکری اور قومی تاریخ کا ایک ایسا درخشاں باب ہے، جب ملک کی مسلح افواج اور پوری قوم نے بے مثال جرات اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔یہ جنگ 6 ستمبر سے 22 ستمبر 2026 تک یعنی کل 17 دن جاری رہی، جس کا اختتام اقوامِ متحدہ (UN) کی مداخلت پر جنگ بندی اور بعد میں “معاہدہ تاشقند” پر ہوا۔
ہر سال 6 ستمبر کا دن پوری قوم انتہائی جوش و جذبے اور وقار سے مناتی ہے۔ یہ دن 1965 کی جنگ کے ان غازیوں اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب قوم اور فوج ایک پیج پر ہوں، تو دنیا کی کوئی طاقت اس ملک کو گزند نہیں پہنچا سکتی
یہ دن 1965 کی پاک-بھارت جنگ میں وطنِ عزیز کا دفاع کرتے ہوئے جانیں نچھاور کرنے والے شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے
دفاعِ پاکستان سے مراد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں، نظریاتی شناخت، فضائی حدود اور سمندری حدود کی حفاظت کا وہ جامع نظام ہے جس کی ذمہ داری بنیادی طور پر پاک مسلح افواج اور ملکی سیکیورٹی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔پاکستان کا دفاع خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال اور سیکیورٹی چیلنجز کے باعث انتہائی مضبوط، جدید اور سائنسی بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے۔
کسی بھی آزاد اور خودمختار قوم کے لیے اس کا دفاع سانس لینے جتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان جغرافیائی اور نظریاتی لحاظ سے دنیا کے ایک انتہائی اہم اور حساس خطے میں واقع ہے۔ پاکستان کا دفاع محض چند سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں، بلکہ یہ اس نظریے، ثقافت اور آزادی کا تحفظ ہے جسے حاصل کرنے کے لیے لاکھوں برصغیر کے مسلمانوں نے لازوال قربانیاں دیں۔ آج ستمبر 2026 میں، پاکستان کا دفاعی نظام دنیا کے جدید ترین اور ناقابلِ تسخیر ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے
پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو تین بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:پاک فوج (Pakistan Army): دنیا کی بہترین زمینی افواج میں شمار ہوتی ہے، جو مشرقی و مغربی سرحدوں کی حفاظت، داخلی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔
پاک فضائیہ (Pakistan Air Force – PAF): ملکی فضائی حدود کی محافظ۔ “سکینڈ ٹو نن” (Second to None) کے سلوگن کے ساتھ پاک فضائیہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور تکنیکی برتری (جیسے جے ایف-17 تھنڈر اور جے-10 سی طیارے) کے لیے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔
پاک بحریہ (Pakistan Navy): پاکستان کی سمندری حدود اور سی پیک (CPEC) کے تحت گوادر پورٹ سمیت بحری تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت کو یقینی بناتی ہے۔
پاکستان 28 مئی 1998 کو مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی 7 ویں مانی ہوئی ایٹمی طاقت بنا۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام خالصتاً دفاعی مقاصد اور خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے (Credible Minimum Deterrence) کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ غوری، شاہین، اور ابابیل جیسے جدید بیلسٹک اور کروز میزائل سسٹم اس دفاع کو ناقابلِ تسخیر بناتے ہیں۔اکیسویں صدی میں جنگوں کے طریقے بدل چکے ہیں۔ اب صرف روایتی ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ سائبر حملوں، پروپیگنڈا اور ففتھ جنریشن وارفیئر کے ذریعے ملکوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔پاکستان نے ان جدید خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے دفاعی دائرہ کار کو وسعت دی ہے۔
جنگ کا باقاعدہ آغاز 6 ستمبر 1965ء کی صبح ہوا، جب بھارتی افواج نے بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر کسی اعلانِ جنگ کے لاہور، سیالکوٹ اور قصور کے محاذوں پر اچانک حملہ کر دیا۔
بھارت کا منصوبہ لاہور پر قبضہ کر کے جم خانہ کلب میں فتح کا جشن منانا تھا، لیکن پاک فوج کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے دشمن کو بی آر بی (BRB) نہر پر ہی روک دیا۔ جنگ کے اہم محاذ اور تاریخی معرکے;1965ء کی جنگ کئی محاذوں پر لڑی گئی، جن میں سے چند معرکے دنیا کی فوجی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے گئے:لاہور کا محاذ اور میجر عزیز بھٹی کی شجاعت: برکی کے محاذ پر میجر راجہ عزیز بھٹی نے پانچ دن اور رات مسلسل دشمن کے ٹینکوں اور فوج کا راستہ روکا۔ انہوں نے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا اور جامِ شہادت نوش کیا۔ اس عظیم بہادری پر انہیں پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز نشانِ حیدر عطا کیا گیا۔
چونڈہ (سیالکوٹ) – ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ: سیالکوٹ کا محاذ “چونڈہ کے معرکے” کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی تھی۔
پاک فوج کے جوانوں نے اپنے جسموں پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کا راستہ روکا اور چونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔
پاک فضائیہ کا ریکارڈ (ایم ایم عالم کا کارنامہ): پاک فضائیہ کے اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم نے سرگودھا کے محاذ پر ایک منٹ سے بھی کم وقت (محض 55 سیکنڈز) میں دشمن کے 5 جنگی طیارے مار گرائے، جو کہ آج بھی ایک عالمی ریکارڈ ہے۔
پاک بحریہ کا “آپریشن دوارکا”: پاک بحریہ نے بھارت کے ساحلی شہر دوارکا میں موجود ان کے اہم ترین رڈار اسٹیشن کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کیا اور بھارتی بحریہ کو مفلوج کر دیا۔ اس جنگ کی خاص بات یہ تھی کہ پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کی پشت پر کھڑی تھی۔ ملکہ ترنم نور جہاں کے ملی نغموں نے جوانوں کے لہو کو گرما دیا۔ کراچی سے خیبر تک ہر شہری سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر دفاعِ وطن کے لیے مستعد تھا۔1965ء کی پاک-بھارت جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کے عسکری تعلقات بلکہ برصغیر کی سیاسی اور سفارتی تاریخ کا رخ بھی بدل کر رکھ دیا۔ 17 روزہ اس جنگ کے اہم ترین سیاسی اور سفارتی نتائج درج ذیل ہیں: جنگ کے آغاز پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے فوری طور پر متحرک ہو کر جنگ بندی کی قراردادیں پاس کیں۔ 22 ستمبر 1965 کو دونوں ممالک نے عالمی دباؤ کے تحت جنگ بندی کو تسلیم کیا۔ اس جنگ کے دوران امریکہ اور برطانیہ نے پاکستان اور بھارت دونوں پر اسلحے کی فراہمی کی پابندی لگا دی، جس کا زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا کیونکہ پاکستانی دفاعی نظام امریکی اسلواح پر منحصر تھا۔سابقہ سوویت یونین (روس) نے اس جنگ کے خاتمے اور دونوں ممالک کے درمیان صلح کے لیے ثالث کا کردار ادا کیا۔
روسی صدر الیکسی کوسیگن نے جنوری 1966 میں ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان اور بھارتی وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری کے درمیان ملاقات کروائی۔ اس معاہدے کے تحت طے پایا کہ دونوں ممالک 5 اگست 1965 سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلے جائیں گے اور ایک دوسرے کے مقبوضہ علاقے (جیسے پاکستان کا چھمب جوڑیاں اور بھارت کا حاجی پیر پاس) واپس کر دیے جائیں گے1965 کی جنگ کے دوران جب مغربی طاقتوں نے پاکستان کا ساتھ چھوڑ دیا، تو چین نے پاکستان کی کھل کر سفارتی اور اخلاقی حمایت کی۔ چین نے بھارت کو اپنی سرحدوں پر وارننگ بھی جاری کی جس سے بھارت پر نفسیاتی دباؤ بڑھا۔ اس جنگ کے بعد پاکستان نے امریکہ پر اپنا دفاعی انحصار کم کرتے ہوئے چین کے ساتھ قریبی فوجی اور اقتصادی تعاون کا آغاز کیا، جو آج سی پیک (CPEC) اور جدید جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ 1965ء کی پاک-بھارت جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے 10 جنوری 1966ء کو سوویت یونین (موجودہ روس) کے شہر تاشقند میں دستخط کیا گیا۔ اس تاریخی دستاویز پر پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان اور بھارت کے وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری نے دستخط کیے۔اس معاہدے کا اصل مقصد جنگ کے اثرات کو ختم کرنا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانا تھا۔ معاہدۂ تاشقند کی سب سے اہم شق یہ تھی کہ پاکستان اور بھارت دونوں کی مسلح افواج 25 فروری 1966ء تک ان تمام پوزیشنوں پر واپس چلی جائیں گی جہاں وہ 5 اگست 1965ء (جنگ شروع ہونے) سے پہلے موجود تھیں۔ اس کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے جیتے ہوئے علاقے خالی کرنے پر اتفاق کیا۔ رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کریں گے اور ایک دوسرے کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کریں گے۔دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے اصول پر سختی سے عمل کرنے کا عہد کیا۔4۔ سفارتی تعلقات کی بحالی (Restoration of Diplomatic Ties):جنگ کے دوران منقطع ہونے والے سفارتی تعلقات کو فوری طور پر بحال کیا جائے گا اور دونوں ممالک کے ہائی کمشنر (سفراء) اپنے اپنے فرائض سنبھالنے کے لیے واپس لوٹیں گے۔5۔ پروپیگنڈا مہم کا خاتمہ (Cessation of Propaganda):طے پایا کہ دونوں ممالک کا میڈیا اور پریس ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا بند کریں گے اور ایسے ماحول کو فروغ دیں گے جس سے دونوں قوموں کے درمیان دوستی اور اچھے تعلقات قائم ہو سکیں۔6۔ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی بحالی (Economic & Trade Ties):جنگ کی وجہ سے معطل ہونے والے تجارتی، اقتصادی، مواصلاتی (Communications) اور ثقافتی تعلقات کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔7۔ جنگی قیدیوں کی واپسی (POWs Repatriation):دونوں ممالک کے پاس موجود ایک دوسرے کے تمام جنگی قیدیوں (Prisoners of War) کو فوری طور پر رہا کر کے ان کے وطن واپس بھیجا جائے گا۔معاہدے پر دستخط کے چند گھنٹے بعد ہی، 11 جنوری 1966ء کی رات کو بھارتی وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری تاشقند میں ہی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، جس نے اس پورے منظر نامے کو مزید سنگین بنا دیا۔پاکستان میں عوام نے اس معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ پاکستان کو اس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کے اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل علاقے (جیسے حاجی پیر پاس) بھارت کو واپس کرنا پڑے تھے۔1965ء کی پاک-بھارت جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کے عسکری تعلقات بلکہ برصغیر کی سیاسی اور سفارتی تاریخ کا رخ بھی بدل کر رکھ دیا۔ 17 روزہ اس جنگ کے اہم ترین سیاسی اور سفارتی نتائج درج ذیل ہیں: جنگ کے آغاز پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے فوری طور پر متحرک ہو کر جنگ بندی کی قراردادیں پاس کیں۔ 22 ستمبر 1965 کو دونوں ممالک نے عالمی دباؤ کے تحت جنگ بندی کو تسلیم کیا۔ اس جنگ کے دوران امریکہ اور برطانیہ نے پاکستان اور بھارت دونوں پر اسلحے کی فراہمی کی پابندی لگا دی، جس کا زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا کیونکہ پاکستانی دفاعی نظام امریکی اسلواح پر منحصر تھا۔سابقہ سوویت یونین (روس) نے اس جنگ کے خاتمے اور دونوں ممالک کے درمیان صلح کے لیے ثالث کا کردار ادا کیا۔
روسی صدر الیکسی کوسیگن نے جنوری 1966 میں ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان اور بھارتی وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری کے درمیان ملاقات کروائی۔ اس معاہدے کے تحت طے پایا کہ دونوں ممالک 5 اگست 1965 سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلے جائیں گے اور ایک دوسرے کے مقبوضہ علاقے (جیسے پاکستان کا چھمب جوڑیاں اور بھارت کا حاجی پیر پاس) واپس کر دیے جائیں گے1965 کی جنگ کے دوران جب مغربی طاقتوں نے پاکستان کا ساتھ چھوڑ دیا، تو چین نے پاکستان کی کھل کر سفارتی اور اخلاقی حمایت کی۔ چین نے بھارت کو اپنی سرحدوں پر وارننگ بھی جاری کی جس سے بھارت پر نفسیاتی دباؤ بڑھا۔ اس جنگ کے بعد پاکستان نے امریکہ پر اپنا دفاعی انحصار کم کرتے ہوئے چین کے ساتھ قریبی فوجی اور اقتصادی تعاون کا آغاز کیا، جو آج سی پیک (CPEC) اور جدید جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ 1965ء کی پاک-بھارت جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے 10 جنوری 1966ء کو سوویت یونین (موجودہ روس) کے شہر تاشقند میں دستخط کیا گیا۔ اس تاریخی دستاویز پر پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان اور بھارت کے وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری نے دستخط کیے۔اس معاہدے کا اصل مقصد جنگ کے اثرات کو ختم کرنا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانا تھا۔ معاہدۂ تاشقند کی سب سے اہم شق یہ تھی کہ پاکستان اور بھارت دونوں کی مسلح افواج 25 فروری 1966ء تک ان تمام پوزیشنوں پر واپس چلی جائیں گی جہاں وہ 5 اگست 1965ء (جنگ شروع ہونے) سے پہلے موجود تھیں۔ اس کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے جیتے ہوئے علاقے خالی کرنے پر اتفاق کیا۔ رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کریں گے اور ایک دوسرے کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کریں گے۔دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے اصول پر سختی سے عمل کرنے کا عہد کیا۔4۔ سفارتی تعلقات کی بحالی (Restoration of Diplomatic Ties):جنگ کے دوران منقطع ہونے والے سفارتی تعلقات کو فوری طور پر بحال کیا جائے گا اور دونوں ممالک کے ہائی کمشنر (سفراء) اپنے اپنے فرائض سنبھالنے کے لیے واپس لوٹیں گے۔5۔ پروپیگنڈا مہم کا خاتمہ (Cessation of Propaganda):طے پایا کہ دونوں ممالک کا میڈیا اور پریس ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا بند کریں گے اور ایسے ماحول کو فروغ دیں گے جس سے دونوں قوموں کے درمیان دوستی اور اچھے تعلقات قائم ہو سکیں۔6۔ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی بحالی (Economic & Trade Ties):جنگ کی وجہ سے معطل ہونے والے تجارتی، اقتصادی، مواصلاتی (Communications) اور ثقافتی تعلقات کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔7۔ جنگی قیدیوں کی واپسی (POWs Repatriation):دونوں ممالک کے پاس موجود ایک دوسرے کے تمام جنگی قیدیوں (Prisoners of War) کو فوری طور پر رہا کر کے ان کے وطن واپس بھیجا جائے گا۔معاہدے پر دستخط کے چند گھنٹے بعد ہی، 11 جنوری 1966ء کی رات کو بھارتی وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری تاشقند میں ہی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، جس نے اس پورے منظر نامے کو مزید سنگین بنا دیا۔پاکستان میں عوام نے اس معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ پاکستان کو اس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کے اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل علاقے (جیسے حاجی پیر پاس) بھارت کو واپس کرنا پڑے تھے۔





