یورپین پارلیمنٹ کے ممبران کی مقبوضہ کشمیر میں پر تشدد کارروائیوں کی مذمت ۔۔۔۔۔اندر کی بات ۔۔اصغر علی مبارک (کالم نگار )….۔ یورپین پارلیمنٹ کے ممبران نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش کیا ہےان ممبران نے یورپین قیادت سے مزید اپیل کی کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کی میز لانے کیلئے ثالثی کریں۔ ارکان پارلیمنٹ نے خبردار کیا کہ مسئلہ کشمیر خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے، اور وادی میں بے امنی سے بھارت اور پاکستانی افواج میں تناؤ بڑھتا ہے۔یورپین پارلیمنٹ کے ممبران کہنا ہے کہ 2019 سے مقبوضہ کشمیر بدترین لاک ڈاؤن کی زد میں ہے، کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور متنازع بھارتی شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کے علم بردار کی حیثیت سے یورپی پارلیمنٹ انسانی حقوق کی پامالیوں پر آواز اٹھائے اور عالمی وعدوں کی پاسداری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ یورپین پارلیمنٹ کے 16 ممبران نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر یورپین اعلیٰ نمائندے کو خط لکھ دیاہے ۔یورپی پارلیمنٹ کے ممبران نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ یورپین نمائندے کو خط لکھ دیاخط کے متن کے مطابق 2019 سے مقبوضہ کشمیر بدترین لاک ڈاؤن میں ہے، نقل و حرکت، معلومات تک رسائی، ہیلتھ، تعلیم، آزادی اظہار کے برے حالات ہیں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔یورپین پارلیمنٹ کے ممبران نے خط میں کہا کہ لوگوں کو عقوبت خانوں میں ڈالا جاتا ہے، اجتماع پر پابندی، لوگ زیر حراست ہیں، بھارت کی جانب سے یہاں پر قانون کا غلط استعمال کیا جارہا ہے ۔خط میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے، یہ دو نیوکلیئر ملکوں کے لیے خطرے کی علامت ہے جو کسی بھی وقت شدت اختیار کرسکتی ہے۔خط کے متن کے مطابق مقامی آبادی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے خلاف احتجاج کررہی ہے، وادی میں بدامنی کی صورت حال ہے جس سے دونوں ملکوں کی افواج میں تناؤ بڑھتا ہے۔یورپین پارلیمنٹ کے ممبران نے کہا کہ یورپین یونین کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف آواز اٹھانا ہوگی، کشمیریوں سے کئے وعدوں، یواین قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔خط میں کہا گیا کہ ہندوستانی، پاکستانی شراکت داروں کے تعاون کے لیے وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا، یورپی پارلیمنٹ کی حیثٰت سے اپنی کاوشیں جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں۔ یورپی کمیشن کے صدر ارسلاوان ڈرلین اور نائب صدر جوزف بوریل کو مشترکہ خط میں توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طرف دلائی جس میں ہیومن رائٹس واچ ورلڈ رپورٹ 2021 اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے ہیومن رائٹس کی 2018 اور 2019 کو بنیاد بنایا گیا ہے یورپین پارلیمنٹ کے 16 ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خطرناک صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یورپین قیادت سے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ یورپین پارلیمنٹ میں موجود 7 میں سے 5 مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے ان ارکان پارلیمنٹ نے اپنی اس تشویش کا اظہار جمعہ کے روز یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین اور یورپین خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل کے نام لکھے گئے اپنے ایک خط میں کیا۔(NI) گروپ کے 6 ممبران فابیو ماسیمو کالدو ، ڈینوجیا روسو، چیارا ماریاگیما، انتونیو کون ای اولیورز، کلارا پونساتی اوبیولز،کارلس پوئگ دی ای کاساماجو(Renew Europe) کے ہاوئیر نات (Green/EFA) سلیمہ یینبو، مانیولاریپا، روزاداماتو (S&D)، گروپ سے برانڈو بینیفی، مازیمیلیانو سمیرو گلییو، آندریا کوزولینو، ڈومینک روئیز ڈونرا GUE/NGL گروپ سے ایدویا ولانیوا روئیز اور ہیلمٹ شولز نے یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین اور یورپین خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل کے نام لکھے گئے اس خط میں انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ ہم اس خط کے ذریعے آپ کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق اور وہاں پیدا ہوتی ہوئی خطرناک انسانی صورتحال کی جانب دلانا چاہتے ہیں۔خط میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس واچ کی ورلڈ رپورٹ 2021 اور یو این ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے جاری کردہ 2018 , 2019 کی اس حوالے سے رپورٹس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی مصیبتوں میں بھرپور انداز میں قلمبند کیا گیا ہے۔صحافیوں اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی صورتحال بتانے والے انسانی حقوق کے محافظوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ جبری حراست جاری ہے اور دفعہ 144 کے تحت لوگوں کے اجتماع پر پابندی کے علاوہ بچوں سمیت بہت سے منتخب نمائندے حفاظتی حراست میں ہیں۔اس کے ساتھ ہی ان ممبران نے یورپین قیادت سے مزید اپیل کی کہ وہ اس تنازعے کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کی میز لانے کیلئے ثالثی کریں۔ ارکان پارلیمنٹ نے خبردار کیا کہ مسئلہ کشمیر خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے، اور وادی میں بے امنی سے بھارت اور پاکستانی افواج میں تناؤ بڑھتا ہے۔انکا کہنا ہے کہ 2019 سے مقبوضہ کشمیر بدترین لاک ڈاؤن کی زد میں ہے، کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور متنازع بھارتی شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کے علم بردار کی حیثیت سے یورپی پارلیمنٹ انسانی حقوق کی پامالیوں پر آواز اٹھائے اور عالمی وعدوں کی پاسداری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے جاری کرفیو سمیت مختلف پابندیوں اور قدغنوں میں لاکھوں افراد جکڑے ہوئے ہیں اور نوجوانوں اور بچوں سمیت سینکڑوں افراد کو مبینہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے جبکہ وادی کشمیرکے مختلف علاقوں میں مواصلاتی نظام کی بھی بندش سے عام شہریوں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کشیدہ حالات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکہ کے متعدد سیاست دان اور ذرائع ابلاغ ان پابندیوں پربھارت کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ,اس ضمن میں امریکی کانگریس میں ایوان نمائندگان کی ایشیا پر ذیلی کمیٹی اجلاس میں کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہارکیا گیا.امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی نے مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال اور مذہبی آزادیوں پر لگائی جانے والی ضرب پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی ایوا ن نمائندگان کو کمیٹی کی جانب سے محکمہ خارجہ، غیرملکی آپریشنز اور دیگر پروگراموں سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی جس میں مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارت میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کی بگڑتی صورتحال پر کمیٹی نے شدید تشویش ظاہر کی اور شہریت سے متعلق قانون میں مذہب کا خانہ شامل کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ اُس دن سے شروع ہوتی ہے جب بھارت نے اپنی فوجیں سرینگر میں اتاریں۔ اِس فوج نے ایک جانب کشمیری مجاہدین کا مقابلہ کرتے ہوئے انہیں واپس دریائے جہلم کے پار تک دھکیل دیا اور دوسری جانب مقامی آبادی پر مظالم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ اس دوران مہاراجہ ہری سنگھ جب جموں گیا تو وہاں مسلمانوں کا ایک وفد اُس کے پاس یہ شکایت لے کر گیا کہ مقامی سکھ اور ہندو آبادی، مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہی ہے تو مہاراجہ نے شکایت دور کرنے کی بجائے وفد کو ہی قتل کرنے کے احکامات جاری کردیے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہاراجہ نے مسلم آبادیوں پر حملے کرنے کا بھی حکم دیا۔ اس حکم کے اجراء سے قبل کشمیر سے متصل بھارت کی سکھ ریاستوں سے سکھ دستوں کو بڑی تعداد میں کشمیر میں بلالیا گیا تھا جنہوں نے خاص طور پر جموں کی مسلم آبادی کا بڑی بے دردی کے ساتھ قتِل عام کیا۔1947ء کے دوران کشمیریوں کی الحاق پاکستان کی جدوجہد کے دوران پورے کشمیر میں پانچ لاکھ سے زائد افراد کو شہید کیا گیا۔اس وقت کشمیر میں مجموعی طور پر ساڑھے سات لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے جو انسانی حقوق کی زبردست پامالیوں میں ملوث ہے۔ آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ 1958ء کے تحت سیکورٹی فورسز کو مکمل اختیارحاصل ہے کہ وہ مظاہرین کو کچلنے اور تحریک آزادی کو دبانے کیلئے ہر وسیلہ اور اقدام بروئے کار لاسکتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے خواہ وہ انسانی حقوق کی جس قدر بڑے پیمانے پر بھی خلاف ورزی کریں، اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ یہ ایکٹ مقبوضہ کشمیر میں 1990ء میں نافذ کیا گیاجب کشمیریوں کی مسلح تحریک عروج پر پہنچ چکی تھی اور مرکزی سرکار کے پاس انہیں کچلنے کیلئے کوئی حربہ نہ تھا۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں، اقوام متحدہ وغیرہ نے اس ایکٹ کے نفاذ پر زبردست تنقید کی تھی کیونکہ یہ ایکٹ براہ راست فوجی افسران کو یہ اختیار فراہم کرتا تھا کہ وہ اپنے مشن کی کامیابی اور مرکزی سرکاری کے احکامات پر عمل درآمد کیلئے ہر قسم کے حربے اختیار کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں انہیں ہر قسم کی قانونی کارروائی سے تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔ اس قانون کا سب سے خطرناک استعمال 23فروری 1991ء کو کیا گیا جب کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے دو دگاؤں کنن اور پوش پورہ میں ایک رات سرچ آپریشن کے دوران فوج نے سو سے زائد خواتین کو زیادتی کانشانہ بنایاجو مختلف عمر کی تھیں۔ ہیومن رائٹس واچ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کے مطابق یہ تعداد 150کے لگ بھگ تھی۔ ان تنظیموں کے دباؤ پردہلی سرکار نے اس واقعہ کی اگرچہ تفتیش کی لیکن بعد میں اِسے بے بنیاد قراردے کر واقعہ میں ملوث فوجیوں کو بے گناہ قرار دے دیا۔ درحقیقت پچھلے 74 برس سے مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی فوج انسانی حقوق کی زبردست خلاف ورزیوں میں ملوث ہے اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کے ان واقعات کو رپورٹ بھی کیا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت نے ہمیشہ ڈھٹائی اختیار کیے رکھی رہی ہے۔ ہر واقعہ کے بعد اُس کا جواب یہی ہوتا رہاہے کہ یہ محض من گھڑت قصہ یا پراپیگنڈہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا موقف اختیار کرتے ہوئے بھارت انسانی حقوق کے علم بردار عالمی اداروں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ وغیرہ کو مقبوضہ کشمیر میں جانے اور وہاں کے حالات کا بغور مشاہدہ کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ پچھلے برس سے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر بھارتی فوج بلااشتعال فائرنگ سے آزادکشمیر اور پاکستان میں درجنوں معصوم اور بے گناہ شہریوں کوشہید کرچکی ہے۔ ان واقعات کی عالمی سطح پر تشہیر ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اگرچہ پاکستان کے راستے متعلقہ مقامات کے دورے کیے لیکن بھارت کی جانب سے انہیں سرحد پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بھارت کا یہ رویہ صاف ظاہر کردیتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم وجبر کا زبردست بازار گرم ہے اور بھارت واقعات کی پردہ پوشی کیلئے کسی مبصر کو کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں دیتا تاکہ کہیں اُس کا پول نہ کھل جائے لیکن اس کے باوجود کشمیری نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے خود پر اور اپنی قوم پر بیتے حالات و واقعات سے عالمی دنیا کو آگاہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ہی بھارت کا انتہائی تاریک اور بدنما چہرہ کشمیر کے مرغزاروں اور کوہساروں میں اپنی پوری بدہئیتی کے ساتھ دکھائی دیتاہے۔پانچ اگست2019سےمقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی جاری ہےلیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ کشمیری صرف اب کرفیو اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا مطالبہ اس سے بھی آگے کا ہے اور وہ ہے بھارت سے مکمل آزادی۔ کرفیو، لاک ڈاؤن، ظلم وجبر اور تشدد جیسے حربے وہ ہمیشہ سے سہتے چلے آئے ہیں۔ ایسے اقدامات انہیں خوفزدہ کرتے ہوئے اپنے مطالبے اور مشن سے دست بردار ہونے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ ایسا ہوتا تو بھارت کو کشمیر میں کرفیو نافذ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی ذرائع پر عائد کردہ کڑی پابندیوں کو اپنے غیرقانونی اقدامات کو چھپانے کیلئے بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ جینوا میں47 رکنی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایک مباحثے کے دوران پاکستانی مندوب نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ منفرد نوعیت کا ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار ملک نے عالمی قانون کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے۔ مندوب نے خصوصی نمائندے کے اس مطالبے کی حمایت کی کہ سیاسی رہنما اور جماعتیں نسل پرستی پر مبنی نفرت انگیز تقریر کی مذمت کریں اور نفرت اور تشدد کی کارروائیوں کو ہوا دینے میں ملوث تمام ذمہ داروں سے جواب طلبی کی جائے۔ پاکستان کے نے کہا ، “بی جے پی کے رہنماں نے اپنی انتخابی حکمت عملی کے طور پرپر نسل پرستی ، اسلامو فوبیا اور عدم رواداری کو بھڑکایا۔ اس عمل کو ریاستی پالیسی کے طور پر نافذ کیا۔ بھارتی اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بی جے پی سے وابستہ افراد نے 2015 کے بعد سے بڑی تعداد میں غیر ہندوئوں بالخصوص مسلمانوں کو ہلاک اور زخمی کردیا ۔ ان پر الزام یہ تھا کہ وہ گائے کے گوشت کے لئے گائے کا کاروبار کرتے ہیں۔ یو این کے سپیشل رپورٹر نے بھی اس صورت حال کو نوٹ کیا ہے۔ بھارت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم جیسے فیس بک کو امتیازی سلوک اور عدم برداشت کے مواد کو بڑھاوا دینے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ ہندوستان میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے خلاف تشدد کو بھڑکانے والے مواد شامل ہیں۔ انہوں نے کہا “اس طرح کی تفرقہ پرست طاقتیں بلا امتیاز سب کے لئے انسانی حقوق کے احترام اور اس کے حصول کے مشترکہ مقاصد کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے مختلف علاقوںسے تحریک حریت کا جنرل سیکرٹری میر حمزہ ایک معمر شخص سمیت بارہ سے زائد کشمیریوںکو گرفتار کرلیا ہے۔ فوجیوں نے پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد، کپواڑہ، بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع کے مختلف علاقوں تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں اور چھاپوں میں ان افراد کو گرفتار کیا۔ پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان نے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے لیے دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے اپنے اندرونی معاملات پر توجہ دے ۔ اپنی اقلیتوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں ہونے والے امتیازی سلوک کے مرتکب بھارتی حکومت کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کہیں بھی اقلیتوں کے حقوق کے معاملے پر بات کرے۔ بی جے پی آر ایس ایس حکومت کا ریکارڈ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے بھرا پڑا ہے۔ پاکستانی دفترخارجہ کا بیان حقائق اور تاریخ کے آئینے میں درست ہے، کیونکہ بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک، تشدد اور قتل جیسے واقعات کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی عالمی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرچکی ہیں,عالمی برادری کو کشمیر اور پانی کا مسئلہ حل کرانا چاہئے کہ اس پر پاکستانیوں کو سخت تشویش ہے ۔ بارِ دیگر کہوں گا کہ آج پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنا چاہئے ، کشمیری مسلمان قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں اور مودی کے ظالمانہ فیصلوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔کشمیریوںکو آزادی بھی چاہیے ،اختیار بھی اور شناخت بھی ، کشمیریوں کا اپنا وطن ، اپنی تہذیب اور زبان و ثقافت ہے ۔اُن کو اپنے وطن میں آزادی کے ساتھ رہنے کا حق ملنا چاہیے ۔ کشمیر کا مسئلہ جہاں ایک حساس اور گھمبیر مسئلہ ہے وہاں سیاستدانوں نے اسے سیاسی کھیل بھی بنا دیا ہے.علاوہ ازیں اس سال پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یورپین پارلیمنٹ کے ارکان سے ملاقات کی تھیوزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے باسیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کرتا رہے گا، پلوامہ واقعہ کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ممبر یورپین پارلیمنٹ واجد خان اور پاک یورپین یونین فرینڈشپ فیڈریشن کے چیئرمین پرویز لوسر سے گفتگو کے دوران کیا جنہوں نے وزارتِ خارجہ میں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں معزز مہمانوں نے یورپین پارلیمنٹ کی ہیومن رائٹس کمیٹی میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلقہ سماعت کی تفصیلات سے بھی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے نہتے کشمیریوں پر جاری سنگین مظالم کو یورپین پارلیمنٹ میں اٹھانے پر واجد خان کا بالخصوص اور کشمیری تارکینِ وطن کا بالعموم شکریہ ادا کیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی ناگفتہ بہ صورتحال پر ہیومن رائٹس کمیشن اور آل پارٹیز پارلیمانی گروپ کی چشم کشا رپورٹس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، ان رپورٹس کے مطالعہ سے پاکستان کے مؤقف کی تائید ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پلوامہ واقعہ کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان، مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے باسیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کرتا رہے گا.












