پیٹرول ریلیف پیکج;حکومت کا اصرا ر, ڈیلرز کا فروخت سے انکار
( اصغر علی مبارک )
مشرق وسطیٰ میں حالیہ شدید کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جانے کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے متاثرہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے وزیراعظم نے ایک خصوصی سبسڈی اسکیم کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلان کردہ پیٹرول ریلیف پیکج کے تحت 100 روپے فی لیٹر کم قیمت پر پیٹرول فروخت کرنے سے انکار کردیا ہے جب کہ چیئرمین پی پی ڈی اے ملک خدا بخش نے خبردار کیا ہے کہ ریلیف اسکیم پر زبردستی عملدرآمد کرایا گیا تو ملک بھر کے تمام پٹرول پمپس بند کردیں گے۔ پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے کہا کہ حکومت نے پیٹرول ریلیف پیکج کے معاملے پر ڈیلرز کو اعتماد میں نہیں لیا اور انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ریلیف کی رقم ڈیلرز کو کس طریقے سے واپس کی جائے گی۔ ملک خدا بخش کا کہنا تھا کہ حکومت اگر عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اپنے پیسوں سے دے، ڈیلرز کے پیسوں سے ریلیف کیوں دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلرز کو اس حوالے سے کوئی واضح طریقہ کار نہیں بتایا گیا کہ صارفین کو 100 روپے فی لیٹر ریلیف دینے کے بعد ڈیلرز کو ان کی رقم کب اور کیسے واپس ملے گی۔چیئرمین پی پی ڈی اے نے مزید کہا کہ حکومت نے ریلیف اسکیم کے طریقۂ کار کے حوالے سے ان سے مشاورت نہیں کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈیلرز موجودہ طریقۂ کار کے تحت 100 روپے فی لیٹر ریلیف دے کر پیٹرول فروخت نہیں کرسکتے۔ ملک خدا بخش نے خبردار کیا کہ اگر ڈیلرز کو زبردستی ریلیف پیکج پر عملدرآمد کے لیے مجبور کیا گیا تو پیٹرول پمپس بند کردیے جائیں گے۔ انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو براہِ راست پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کی اجازت دی جائے، اس طرح ریلیف کی رقم اور پیٹرول کی فروخت سے متعلق موجودہ مسئلہ ختم ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب پیٹرولیم ڈیلرز پہلے ہی حکومت کی ریلیف اسکیم کے طریقۂ کار پر تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پی پی ڈی اے کے چیئرمین ملک خدا بخش نے اسکیم میں جعلی شناختی دستاویزات کے ذریعے ممکنہ فراڈ اور مالی نقصان کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ سندھ میں ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ ہر گاڑی اور موٹر سائیکل کی تصدیق کا عمل پیٹرول پمپس پر طویل قطاروں اور آپریشنل مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی پیٹرول ریلیف اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور دیگر دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف مقرر کیا ہے جب کہ 800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے گا۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری بھی دی ہے۔ سرکاری تفصیلات کے مطابق دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے صارفین کو ہفتہ وار 5 لیٹر کے حساب سے 500 روپے کا ریلیف ملے گا جب کہ 800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر کے حساب سے 3 ہزار روپے تک ریلیف دستیاب ہوگا۔ اسکیم غیر تجارتی صارفین تک محدود ہے اور ایک صارف یا مالک کے لیے ایک گاڑی کو ریلیف دیا جائے گا۔ حکومت نے ریلیف کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل فیول پاس سسٹم بھی متعارف کرایا ہے۔ وزارتِ آئی ٹی کے مطابق رجسٹرڈ صارفین 9771 پر مخصوص ایس ایم ایس بھیج کر رجسٹریشن کراسکتے ہیں اور پیٹرول لینے سے پہلے اسی نمبر پر ’’TOK‘‘ بھیج کر فیول ٹوکن حاصل کرسکتے ہیں۔ موٹر سائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 20 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے 30 لیٹر ماہانہ کوٹہ مقرر ہے۔ حکومت کے مطابق ریلیف اسکیم کا نفاذ مرحلہ وار کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں اس کا آغاز 15 ستمبر کی درمیانی شب سے کیا گیا جب کہ ملک کے دیگر علاقوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اسکیم 17 ستمبر کی درمیانی شب سے نافذ کی جانی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو خصوصی ریلیف اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے عوام پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے صارفین کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے گا۔وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ موٹرسائیکل والے ہفتے میں ایک بار اور گاڑی والے ہر 10 دن میں ایک بار پیٹرول پر دی گئی سبسڈی حاصل کر سکتے ہیں۔ شزا فاطمہ نے بتایا کہ گاڑی کے لیے 10 لیٹر اور بائیک کے لیے 5 لیٹر کا ٹوکن ہوگا۔ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اس سکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کا بڑا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول جبکہ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر یہ رعایت دی جائے گی۔ اسی حوالے سے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی، شزا فاطمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک پریس کانفرنس کی۔ اس دوران شزا فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم نے غریب طبقے کے لیے ریلیف کا اعلان کیا ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس پیکج سے مستفید ہو سکیں۔ کہا کہ 15 سال پرانی موٹرسائیکلیں اور 20 سال پرانی گاڑیاں بھی اس پروگرام کے لیے اہل ہوں گی۔ عالمی صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئی ہیں، اس لیے ہمیں فیول ریلیف اسکیم کے اس پروگرام کو مکمل توازن کے ساتھ لے کر چلنا ہے۔ شزا فاطمہ کے مطابق موٹرسائیکل والے ہفتے میں ایک بار اور گاڑی والے ہر 10 دن میں ایک بار سبسڈی حاصل کر سکتے ہیں۔ بتایا کہ رجسٹریشن کے لیے آپ کو صرف چار چیزیں فراہم کرنی ہیں اور جس نمبر سے میسج کیا جائے وہ شناختی کارڈ اور موبائل سِم آپ کے نام پر ہونا لازمی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسکیم کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سبسڈی صرف غریب آدمی اور مستحق لوگوں کے لیے شروع کی گئی ہے، کیونکہ ہمارے ملک میں سب سے غریب طبقہ چنگچی اور موٹرسائیکل پر سفر کرتا ہے, عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق ہماری کوشش ہے کہ پیٹرول پمپس پر شہریوں کو لمبی لائن نہ لگانی پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ 9771 نمبر سے موصول ہونے والا ٹوکن پمپ پر دکھا کر پیٹرول لیا جا سکے گا۔ یہ سہولت 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی رات سے اسلام آباد جبکہ 16 ستمبر کی رات بارہ بجے سے پورے پاکستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں دستیاب ہوگی۔ اس رعایت کو حاصل کرنے کے لیے شہریوں کو اپنے موبائل سے میسج لکھ کر 9771 پر بھیجنا ہوگا۔ رجسٹریشن کے لیے آر ای جی، شناختی کارڈ نمبر، سواری کا رجسٹرڈ نمبر، صوبے کے نام کا پہلا حرف اور رجسٹریشن کی تاریخ لکھ کر بھیجنا ہوگی۔ رجسٹریشن کے بعد پیٹرول پمپ جانے سے قبل ٹی او کے لکھ کر 9771 پر بھیجنے سے ایک ٹوکن موصول ہوگا جسے پمپ پر دکھا کر رعایتی پیٹرول حاصل کیا جا سکے گا۔ رواں سال امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے سے قبل پاکستان میں پیٹرول 258 روپے فی لیٹر پر فروخت ہو رہا تھا جو اپریل کے آغاز میں 458.4 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا، جبکہ ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر تک چلا گیا تھا۔
اگرچہ بعد میں اسلام آباد معاہدے کے تحت خام تیل 75 ڈالر پر آیا لیکن جولائی میں امریکی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے اور رواں ہفتے یمن میں جنگ کی شدت کے باعث تیل کی قیمتیں دوبارہ آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ اسی دوران حکومت نے پیٹرولیم قیمتوں کا اعلان یومیہ بنیادوں پر کرنا شروع کیا جس کے بعد صرف رواں ماہ پیٹرول کی قیمت میں سات بار اضافہ ہو چکا ہے۔ عوام اور تاجر حکومت کی جانب سے پیٹرول پر عائد بھاری ٹیکسوں پر بھی تنقید کر رہے ہیں۔ اس وقت فی لیٹر پیٹرول پر حکومت مختلف ٹیکسز اور لیوی کی مد میں تقریباً 106 روپے وصول کر رہی ہے جبکہ مارجنز ملا کر عوام کو فی لیٹر 130 روپے سے زائد اضافی رقم دینا پڑتی ہے۔ اس میں 80 روپے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی، 5 روپے کلائیمیٹ لیوی اور 21.15 روپے کسٹم ڈیوٹی شامل ہے۔ یہی لیوی حکومت کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہے اور گزشتہ مالی سال حکومت نے اس مد میں 1566 ارب روپے حاصل کیے جبکہ رواں مالی سال کے لیے 1576 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس پیٹرولیم لیوی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف جماعت اسلامی نے مختلف شہروں میں احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور حکومت سے مذاکرات جاری ہیں۔حکومتِ پاکستان کی جانب سے متوسط اور غریب طبقے کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بچانے کے لیے “پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم” کا آغاز کر دیا گیا ہےجو کہ ایک انتہائی قابلِ تحسین اقدام ہے۔۔مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج کی سنگین صورتحال نے جہاں عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وہیں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک پر اس کے اثرات انتہائی تشویشناک ہیں، جہاں عام آدمی پہلے ہی بجلی کے بلوں اور روزمرہ کی اشیاء خورونوش کی قیمتوں تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے میں وفاق کی جانب سے کم آمدن والے طبقے کے لیے “پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم” کا باقاعدہ آغاز ایک امید کی کرن اور خوش آئند اقدام ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر شروع کی جانے والی اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کی خطیر رعایت (سبسدی) فراہم کی جا رہی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے اس پیکیج کے لیے 75 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے ہیں۔اس عوامی ریلیف پیکیج کی تفاصیل اور طریقہ کار کو ایک روایتی اخباری کالم کے انداز میں نیچے قلمبند کیا گیا ہے
وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بوجھ سے غریب طبقے کو بچانے کے لیے تاریخی “پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم” کا باقاعدہ آغاز کیا ہے، جس کے تحت مستحق شہریوں کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کی خطیر سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ ریلیف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ-ایران جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ای سی سی (ECC) نے اس اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دی ہے موجودہ قیمتوں کے مطابق عام مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت 380.24 روپے فی لیٹر ہے، جبکہ اس اسکیم کے تحت اہل صارفین کو یہ پیٹرول 280.24 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا
پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم” کی اہم تفصیلات،
اہلیت کا معیار اور رجسٹریشن کا طریقہ کار درج ذیل ہے: اسکیم کے لیے اہلیت اور ریلیف کی حدیہ اسکیم صرف غیر تجارتی (Non-Commercial) صارفین کے لیے ہے اور ایک شناختی کارڈ پر صرف ایک گاڑی رجسٹرڈ کی جا سکتی ہے: موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی مالکان: ہفتہ وار 500 روپے کا ریلیف (یعنی مہینے میں 20 لیٹر تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت)۔800 سی سی (CC) تک کی چھوٹی گاڑیاں: ہر 10 دن کے لیے 1,000 روپے کا ریلیف (یعنی ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت)
ملک بھر میں نفاذ کا شیڈول حکومت نے اسکیم کی شفاف فراہمی کے لیے درج ذیل شیڈول کا اعلان کیا ہے 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب سے رعایتی پیٹرول کی فراہمی شروع ہو چکی ہے۔باقی پاکستان (پنجاب، سندھ، کے پی، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر): 16 اور 17 ستمبر کی درمیانی شب سے باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا 100 روپے رعایت حاصل کرنے کا مرحلہ وار طریقہصارفین کو ڈیجیٹل طریقے سے جوڑنے کے لیے مندرجہ ذیل آسان اقدامات کرنے ہوں گے

پہلا مرحلہ (رجسٹریشن): اپنے موبائل کے میسج آپشن میں جا کر لکھیں: REG <اسپیس> شناختی کارڈ نمبر <اسپیس> گاڑی کا رجسٹریشن نمبر <اسپیس> صوبے کا پہلا حرف <اسپیس> رجسٹریشن کی تاریخ اور اسے 9771 پر بھیج دیں۔
دوسرا مرحلہ (تصدیق): رجسٹریشن مکمل ہونے پر آپ کو حکومت کی طرف سے ایک تصدیقی میسج موصول ہوگا۔
تیسرا مرحلہ (ٹوکن کا حصول): پیٹرول پمپ پر جانے سے پہلے اپنے موبائل سے TOK لکھ کر دوبارہ 9771 پر ایس ایم ایس کریں۔
چوتھا مرحلہ (رعایت کا حصول): آپ کو ایک ڈیجیٹل ٹوکن میسج ملے گا جس میں ٹوکن نمبر، گاڑی کا نمبر اور پیٹرول کی رعایتی مقدار لکھی ہوگی۔ یہ میسج پمپ پر دکھا کر آپ 100 روپے فی لیٹر کی فوری بچت حاصل کر سکتے ہیں
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر عوام کی سہولت کے لیے 9771 پر بھیجے جانے والے تمام ایس ایم ایس (SMS) بالکل مفت کر دیے گئے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے حکومت کی آفیشل ویب سائٹ PM Fuel Relief پر وزٹ کیا جا سکتا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب پیٹرول کی قیمتیں غریب کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں، حکومت کی جانب سے فی لیٹر 100 روپے کی براہِ راست سبسٹڈی فراہم کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ تاہم، اس اسکیم کو طویل المدتی بنیادوں پر کامیاب بنانے کے لیے اس کے طریقہ کار، شفافیت اور عام شہریوں کے لیے رسائی کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ اسکیم کا دائرہ کار اور ریلیف کی حدکابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے منظور کردہ پیکیج کے مطابق، یہ ریلیف صرف غیر تجارتی (Non-Commercial) صارفین کے لیے مختص ہے اور اس کی تقسیم درج ذیل کوٹے کے تحت کی جا رہی ہے:موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی صارفین: ان کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی وہ ہر ہفتے 500 روپے (ماہانہ 2,000 روپے) تک کی براہِ راست بچت حاصل کر سکتے ہیں۔800 سی سی (CC) تک کی چھوٹی گاڑیاں: (جیسے مہران، آلٹو، بولان وغیرہ) کے لیے ماہانہ 30 لیٹر کا کوٹہ طے ہوا ہے۔ یہ صارفین ہر 10 دن بعد 1,000 روپے (ماہانہ 3,000 روپے) کا فیول ریلیف حاصل کر سکیں گے۔ملکیت کی شرط کا خاتمہ: وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق، گاڑی یا بائیک کا شناختی کارڈ ہولڈر کے نام پر ہونا لازمی نہیں، بلکہ جو شخص گاڑی استعمال کر رہا ہے وہ بھی اس ریلیف کا اہل ہو سکتا ہے۔ رجسٹریشن کا آسان ڈیجیٹل طریقہ کار (بغیر انٹرنیٹ)عوام کی سہولت کے لیے آئی ٹی اور پیٹرولیم کی وزارتوں نے ایک خودکار ڈیجیٹل سسٹم تیار کیا ہے جس کے لیے کسی اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں۔ شہری اپنے سادہ موبائل فون سے ے یہ ریلیف حاصل کر سکتے ہیں
جہاں اس اسکیم کا عوامی سطح پر زبردست خیر مقدم کیا جا رہا ہے، وہیں اپوزیشن اور چند ماہرینِ معیشت کی جانب سے ڈیٹا بیس کی درستگی اور بوگس رجسٹریشن جیسے چیلنجز پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ حکومت نے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے نادرہ (NADRA) اور صوبائی ایکسائز محکموں کے ڈیٹا کو آپس میں منسلک کیا ہے۔مجموعی طور پر، یہ اسکیم موجودہ معاشی بحران میں دیہاڑی دار طبقے، پبلک ٹرانسپورٹ چلانے والوں، طلبہ اور ڈیلیوری رائیڈرز کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پیٹرول پمپس پر ٹیکنالوجی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کو فوری حل کرنے کے لیے قائم کردہ ہیلپ لائنز چوبیس گھنٹے متحرک رہیں تاکہ غریب شہریوں کو ریلیف حاصل کرنے کے لیے طویل لائنوں اور خواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم پر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت لفظی جنگ چھڑ گئی ہے، جہاں حکمران اتحاد اور اپوزیشن آمنے سامنے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرِ مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک کا موقف ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کے شدید بحران کے پیشِ نظر 11 ملین سے زائد غریب موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو تحفظ دینا ناگزیر تھا، جس کے لیے حکومت نے اپنے ترقیاتی بجٹ (PSDP) سے 75 ارب روپے قربان کیے۔ دوسری طرف، جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اس پیکیج کو یکسر “ناکافی” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت عارضی سبسڈیز کے بجائے پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ کرے اور آئی پی پیز (IPPs) کے ظالمانہ معاہدوں پر نظرثانی کرے۔ اسی طرح پاکستان تحریکِ انصاف نے بھی اس اسکیم کو ایک “سیاسی شعبدہ بازی” پبلسٹی اسٹنٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول کی بنیادی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا کر غریب عوام کو پیچیدہ ڈیجیٹل ٹوکن لائنوں میں لگانا سراسر ناانصافی ہے، اس لیے حکومت کو ٹیکسز میں مستقل کمی کر کے پائیدار ریلیف دینا چاہیے۔
پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم کے نفاذ پر ملک بھر کے بازاروں، رکشہ اسٹینڈز اور پیٹرول پمپس پر عوام اور خصوصاً دہاڑی دار مزدور طبقے کی جانب سے ایک ملا جلا اور گہرا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک بڑی تعداد نے فی لیٹر 100 روپے کی بچت کو موجودہ شدید مہنگائی میں ایک بڑا ہاؤس ہولڈ ریلیف قرار دیا ہے، وہیں زمینی حقائق کے پیشِ نظر رکشہ ڈرائیورز اور دیہاڑی دار طبقے کو چند عملی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ ماہانہ 20 سے 30 لیٹر کا کوٹہ ان کی روزمرہ کی کاروباری ضروریات کے لیے بہت کم ہے، کیونکہ ایک کمرشل رکشہ یا آن لائن ڈیلیوری بائیک روزانہ کم از کم 5 سے 7 لیٹر پیٹرول استعمال کرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ سرکاری کوٹہ محض چند دنوں میں ختم ہو جائے گا۔۔ مزید برآں، ملک کے دور دراز علاقوں اور پسماندہ شہروں میں پیٹرول پمپس پر اسمارٹ فونز یا ڈیجیٹل ٹوکن سسٹم کی سست رفتار کنیکٹیویٹی اور طویل لائنوں کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقے کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے، جس پر انہوں نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس نظام کو مزید سادہ اور کوٹے کی حد کو بڑھانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور نعرے بازی سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ‘پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم’ کا اخلاقی اور سیاسی حاصل یہ ہے کہ ریاست نے طویل عرصے بعد، سسکتے ہوئے غریب طبقے کے دکھوں کا مداوا کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کی ہے۔
اخلاقی طور پر یہ اسکیم اس بات کا اعتراف ہے کہ اشرافیہ کی مراعات پر کلہاڑا چلائے بغیر غریب کو تنہا چھوڑ دینا عوامی فلاحی ریاست کے تصور کی نفی ہوگی؛
ترقیاتی بجٹ سے 75 ارب روپے کاٹ کر موٹر سائیکل اور رکشہ رائیڈرز کی جیب میں ڈالنا ایک مثبت اخلاقی قدم ہے۔ تاہم، سیاسی طور پر حکومت کے لیے اصل امتحان اس اسکیم کو محض ایک وقتی انتخابی اسٹنٹ بننے سے روکنا اور اسے بیوروکریٹک رکاوٹوں سے پاک کرنا ہے۔ اگر یہ اسکیم ٹیکنالوجی کی خرابیوں یا ناکافی کوٹے کی وجہ سے غریب کے لیے ریلیف کے بجائے زحمت بن گئی، تو اس کا سیاسی خمیازہ حکمران اتحاد کو بھگتنا پڑے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت عارضی بیساکھیوں کے ساتھ ساتھ آئی پی پیز (IPPs) اور پٹرولیم ٹیکسز کے ڈھانچے میں مستقل اصلاحات کرے، کیونکہ غریب کو چند لیٹر کا کوٹہ نہیں بلکہ مہنگائی کے مستقل طوفان سے نجات چاہیے