پی ڈی ایم؛ مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کے لیے شہبازشریف ان ” مریم نواز شریف آوٹ ۔۔۔۔۔(اصغرعلی مبارک ;کالم نگار ”اندر کی بات ”) پی ڈی ایم کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کے لیے میاں شہباز شریف ایک مرتبہ پھر سر گرم ہو چکے ہیں لندن یاترا نہ ہونے کا انہیں اتنا ملال ہے کہ اب انہیں بتایا گیا ہے کہ حکومت کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کی پالیسی اپنائی جائے اور مریم نواز شریف کی طرح جارحانہ انداز اختیار کرنے کے بجائے پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر کی حثیت سے اپنا کردار ادا کریں تاکہ آنے والے سالوں میں ن لیگ کی عزت بچ سکے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ آئندہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اپنا وزن بڑھانا چاہتی ہے میاں شہباز شریف کے عشائیہ میں متحدہ اپوزیشن کی دوسرے درجے کی قیادت نے شرکت کی ۔مریم نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کو اس اھم اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور دوران عشائیہ میں بھی پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کے ارکان نے ایک دوسرے سے علیک سلیک نہیں کی.حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے کیونکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے موقف کو واضح کیا ہے کہ ان کے بیانئے کو ترجیح دی جائے اس عشائیہ میں واضح ھوگیا کہ مریم نواز شریف آوٹ اور شہبازشریف ان ھو چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز پاکستانی سیاست میں اس وقت باضابطہ طور پر سامنے آئیں جب 2017 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نواز شریف کی وزارت عظمی ختم کی تو لاہور سے خالی ہونے والی نشست پر بیگم کلثوم نواز نے الیکشن لڑا۔
حلقہ این اے 120 کے اس ضمنی الیکشن کی کیمپین مریم نواز نے کی اور اس کیمپین میں ان کا موڈ خاصہ جارحانہ رہا۔ وکٹری سپیچ میں بھی انہوں نے اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کی۔ 2018 کے انتخابات سے پہلے جب ان کواور ان کے والد نواز شریف کو ایک ساتھ سزا سنا دی گئی تو وہ جیل چلی گئیں اور ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ خاموش ہو گیا۔
جب وہ جیل میں تھیں تو اس وقت شہباز شریف اپوزیشن لیڈر بن چکے تھے اور حمزہ شہباز پنجاب کے اپوزیشن لیڈر۔ ستمبر 2018 میں جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کی تو شہباز شریف اڈیالہ جیل سے نواز شریف ، مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر کو لینے خود گئے۔ تو اس کے بعد کئی مہینے ان کی جانب سے کوئی سیاسی سرگرمی سامنے آئی۔ پھرایک دوسرے مقدمے میں دسمبر 2018 میں ہی احتساب عدالت نے نواز شریف کو سات سال قید کی سنا دی تو انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
مریم نواز کی رہائی کے ایک مہینے بعد یعنی اکتوبر 2018 میں نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے فروری 2019 میں انہیں ضمانت پر رہا کیا۔ نومبر 2019 میں نواز شریف کی نیب کسٹڈی کے دوران طبیعت ناساز ہونے پر لاہور ہائی کورٹ نے ان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا اور ساتھ ہی مریم نواز کو بھی رہائی مل گئی۔
جیل سے رہائی کے بعد وہ کچھ عرصہ پھر خاموش رہیں۔ البتہ 2020 کے وسط میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی خاموشی توڑی اور اپنی جارحانہ سیاست کو وہیں سے شروع کیا جہاں رکی تھی۔
کیونکہ ستمبر 2020 میں اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے جنم لیا تو اس وقت مریم خاصی متحرک تھیں اور اس اتحاد کے اجلاسوں میں انہوں نے نواز شریف کی نمائندگی کی۔ اسی دوران شہباز شریف ایک مرتبہ پھر جیل چلے گئے اور مسلم لیگ ن کی قیادت عملی طور پر مریم نواز کے ہاتھ میں رہی۔ اب پی ڈی ایم بھی تقریبا ختم ہو چکی ہے اور شہباز شریف اور حمزہ شہباز بھی جیل سے باہر آچکے ہیں مریم نواز بھی قدرے خاموش دکھائی دیتی رہیں. شہباز شریف کی رہائی کے بعد کی سیاست پر ہےاور مریم نواز کی ابھی تک اپنی کوئی سیاست نہیں وہ اصل میں نواز شریف کی نمائندہ ہیں۔‘نواز شریف جو کہتے ہیں وہ اسی پر عمل کرتی ہیں۔ ایسا پہلے بھی ہوا ہے کہ شہباز شریف کے ہوتے ہوئے گزشتہ برس مریم نے کھل کر کھیلا۔ ’وہ صرف اس لیے کہ نواز شریف ابھی اپنی سیاست کر رہے ہیں جب ان کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ اسے آگے کر دیتے ہیں۔ مخالفین ان کی اس خاموشی کو پارٹی کے صدر شہباز شریف کی رہائی سے منسوب کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان کے مشیر شہباز گل نے تو شہباز شریف کی رہائی کے عدالتی فیصلے سے پہلے ہی کچھ اس طرح کا ٹویٹ کر دیا تھا جس میں انہوں نے نام لیے بغیر کہا کہ ’کچھ لوگوں کے ٹویٹ خاموش ہونے والے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب ریفرنسز پر فیصلوں کے خلاف اپیلوں میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں دوبارہ شمولیت پر میرا مؤقف واضح ہے اور مسلم لیگ ن کا بھی وہی مؤقف ہے۔ ’پیپلز پارٹی پہلے اپنا جواب جمع کروائے اس کے بعد دیکھیں گے کہ ان کا جواب کس حد تک مضبوط ہے۔ پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس کا جواب ابھی تک نہیں دیا۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی پی ڈیم ایم میں دوبارہ شمولیت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ ’میری پیپلز پارٹی سے ناراضگی ذاتی نہیں بلکہ اصول توڑنے پر ہے۔‘مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے گزشتہ روز پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ دیا تھا، تاہم اس عشائیے میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے شرکت نہیں کی۔ مریم نواز سے جب اس عشائیے سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ عشائیہ ارکان پارلیمنٹ کے لیے رکھا گیا تھا اور میں پارلیمنٹ کی رکن نہیں ہوں۔‘مریم نواز کا کہنا تھا کہ بطور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی کچھ ذمہ داریاں ہیں جو وہ نبھا رہے ہیں۔اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر اختلاف اور لانگ مارچ کے التوا کے اعلان کے بعد یہ تاثر مضبوط ہواتھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) شاید زیادہ دیر تر اتحاد کا حصہ نہ رہ سکے گی .پچھلے برس جب اپوزیشن جماعتوں نے پی ڈی ایم کی تشکیل کیلئے کوششیں شروع کیں تو پیپلز پارٹی نے آمادگی ظاہر کرنے کے ساتھ ہی سر براہی مانگی تھی ۔ اس وقت خصوصاً جے یو آئی کا یہ موقف تھا کہ جس قسم کی احتجاجی تحریک شروع ہونے والی تھی ، پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت اس میں زیادہ موثر کردار ادا نہیں کرسکتی تھی ۔ شکوک کی فضا اسی وقت قائم ہوگئی تھی۔ اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے ساتھ مسلم لیگ ن بھی اس حوالے سے الرٹ تھی ۔ پی ڈی ایم بنی تو سندھ حکومت دباؤ کا شکار تھی اور آصف زرداری کے خلاف شکنجہ کسا جا رہا تھاانہی دنوں زیر عتاب آئے ہوئے آصف زرداری نے عدالتوں کے دھکے کھاتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں بڑی تلخی کے ساتھ کہا کہ ہم سب نہ صرف سڑکوں پر آئیں گے بلکہ اسمبلیوں سے استعفے بھی دیںگے ۔ پی ڈی ایم کا قیام اسٹیبلشمنٹ کے لیے ہر گز کوئی خوشگوار واقعہ نہیں تھا۔ خصوصاً جب گوجرانوالہ میں جلسہ روکنے میں ناکامی اورپھر وہیں نواز شریف کی جانب اسٹیلشمنٹ کی قیادت کا نام لے کر کی جانے والی تقریر نے کھلبلی مچا دی ۔یہی وہ لمحہ تھا جب محسوس کیا گیا کہ معاملات اسی انداز میں آگے بڑھتے رہے تو حالات اس رخ پر جاسکتے ہیں کہ ان پر قابو پانا کسی کے بس میں نہ رہے ۔ اس وقت پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں سے الگ الگ رابطے کئے جارہے تھے ۔ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک سرے سے کوئی مسئلہ نہیں تھی ۔ اے این پی کو نکال کر اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں راندہ درگاہ تھیں, لیکن اصل خطرہ مولانا اور مریم کو سمجھا جا رہا تھا۔ پی ڈی ایم کے قیام کے بعد سے جے یو آئی سے بلوچستان ، کے پی کے حکومت میں شمولیت کے لیےرابطے کیے گئے پیپلز پارٹی کے حوالے شکوک کی فضا پہلے روز سے ہی قائم تھی۔ اسے اتحاد میں شامل رکھنا بھی ضروری تھا۔ یہ سمجھا جارہا تھا کہ تحریک نے زور پکڑا تو پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کے تمام فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔ پیپلز پارٹی کڑے فیصلوں سے گریز کرے گی اورراہ فرار اختیار کرے گی تو بھی وہ اپوزیشن اتحاد کے خلاف کسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنے گی اس اعتماد کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اسٹیبلشمنٹ نے پیپلز پارٹی سے بار بار وعدہ خلافی کرکے اسے اس کی حکومت کے دوران خوب رگڑا لگایا تھا۔ اس بات میں کسی کو کوئی شک شبہ نہیں تھا کہ پی ڈی ایم کا حریف کون ہے؟ سلیکٹڈ کو کسی گنتی میں نہ رکھ کر صرف سلیکٹر کو مخاطب کیا جارہا تھا ۔ عوام اس وقت چونک گئے جب انتخابی مہم چلانے کے لیے گلگت بلتستان گئے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک انٹرویو میں یہ کہہ دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی قیادت کے نام لے کر مورد الزام ٹھہرانا ان کی پالیسی نہیں۔ بلاول نے واضح طور پر نواز شریف کے بیانئے کو مسترد کردیا ۔ بلاول کے اس بیان پر پی ڈی ایم کے مخالفین نے خوب بغلیں بجائیں۔ بعدازاں کراچی میں پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کی خبریں لیک کروائیں گئیں جن میں نواز شریف کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ استعفے نہیں دئیے جائیں گے۔اس کا ڈراپ سین اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں ھوا جس میں سب کچھ کھل کر سامنے آگیا جب آصف زرداری نواز شریف پر برس پڑے اجلاس میں ن لیگ کے بارے منفی ریمارکس کو میڈیا میں لیک کیا گیا ۔ اس حرکت کا مولانا فضل الرحمن نے سخت برا منایا۔پیپلز پارٹی کی پوزیشن شروع سے ہی واضح تھی کہ وہ استعفے نہیں دینا چاہتی پھر بھی ن لیگ اور جمعیت علمائے اسلام نے اسے مجبور کیا جس پر پیپلز پارٹی نے ردعمل دیا پی ڈی ایم میں اختلافات کا واضح مظاہرہ 17 مارچ 2021 کو دیکھنے میں آیا جب مولانا فضل الرحمان نیوز کانفرنس ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔ پیپلز پارٹی نے طے شدہ معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ بھی طلب کرلیا ۔ اس سے قبل چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کے حق میں پڑنے والے سات ووٹ پیپلز پارٹی کی حکمت عملی کے تحت ہی مسترد ہوگئے تھے۔ جس وقت یہ ووٹ مسترد کیے جارہے تھے پولنگ ایجنٹ کی حیثیت سے ساتھ کھڑے فاروق نائیک نے منہ بند رکھا بعد ازاں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ ن لیگ کو دینے کی باری آئی تو پیپلز پارٹی نے باپ پارٹی کے ووٹ لے کر خود کو بے نقاب کردیا۔ دسمبر 2020ء میں ایک بہت اہم افسر نے وزیر اعظم عمران خان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ مارچ 2021ء تک پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکال دی جائے گی۔ وزیر اعظم نے اپنے ساتھیوں کو آگاہ کردیا۔ پھر یہ اطلاع پی ڈی ایم کی قیادت تک بھی پہنچ گئی۔ اپوزیشن کے حلقے اسی وقت سے یہ اندازہ لگا رہے تھے کہ اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کا سارا انحصار پیپلز پارٹی پر ہوگا۔ مارچ 2021ء میں باپ اور پیپلز پارٹی کے ملاپ سے یہ اندازہ سو فیصد درست ثابت ہوگیا۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نہیں نکلی۔ وہ تو پہلے کی طرح حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار اور میدان عمل میں ہے ۔اصل امتحان پیپلز پارٹی کا ہے کہ وہ اپوزیشن اتحاد سے الگ ہوکر کیا حاصل کرسکتی ہے ۔ اس حوالے سے ترپ کا پتہ مولانا فضل الرحمن اور ن لیگ کے پاس ہے۔ ان جماعتوں نے فی الحال یہ تو طے کرلیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو سینٹ میں اپوزیشن لیڈر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اگر اپوزیشن اتحاد نے پیپلز پارٹی سے مکمل اعلان لاتعلقی کردیا تو 2011 ء کی تاریخ پھر سے دہرائے جانے کا امکان ہے۔ جب پنجاب میں ن لیگ کی کمر توڑنے کے لیے آصف زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مالی سمیت ہر طرح کا تعاون کرکے پی ٹی آئی کا’’ جن ‘‘ کھڑا کیا۔ پھر پتہ چلا کہ ن لیگ کا تو کچھ نہیں بگڑا مگر پنجاب سے پیپلز پارٹی کا صفایا ہوگیا۔ اسٹیبلشمنٹ کے اصل پلان میں پیپلز پارٹی کا سندھ سے صفایا بھی شامل ہے ۔ آنے والے دنوں میں ایسے حالات بن سکتے ہیں کہ سندھ میں تبدیلی آجائے اور’’ سیاست کے پی ایچ ڈی ‘‘ کو وہاں بھی وہی مناظر دیکھنے کو ملیں جو 2011ء کے بعد پنجاب میں دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی نے سندھ حکومت سمیت اب تک جو کچھ بھی بچایا اور کمایا ہے وہ صرف اور صرف آصف زرداری کا کمال ہےسابق صدر آصف علی زرداری تاش کے پتے سینے سے لگا کر کھیلتے ہیں۔ آج کی پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو یا بے نظیر بھٹو کی پارٹی نہیں بلکہ یہ آصف زرداری کی پارٹی ہے جس نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے اور اسٹیبلشمنٹ سے مل کر چلنے کا فیصلہ کر لیا آصف زرداری کی جانب سے نواز شریف کی واپسی کے مطالبے اور ان پر طنز نے اتحاد میں دراڑیں بہت وسیع کر دی ہیں۔انہوں نے پی ڈی ایم کا کندھا استعمال کیا اور اب وہ اس صورت حال سے نکل چکے ہیں۔ اب پاکستان پیپلز پارٹی کی نظریں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اگلے الیکشن پر ہیں۔‘