پمز ہسپتال;خوفناک آگ سے 15 نومولود جاں بحق ,وزیر اعظم کااظہار برہمی , مقدمہ درج
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پمز (PIMS) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MCH) وارڈ کی نرسری میں خوفناک آگ لگنے سے 15 نومولود بچے جھلس کر جاں بحق ہو گئے , اس المناک حادثے کی اب تک سامنے آنے والی تفصیلات درج ذیل ہیں:
حادثے کی وجہ :
ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر ایئر کنڈیشنر (AC) کا کمپریسر پھٹنے کے باعث لگی۔
ہسپتال کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق نائکو (NICU) میں انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹا، جس سے آکسیجن نے فوری آگ پکڑ لی اور وہ تیزی سے پھیل گئی۔
وارڈ میں دھواں بھرنے سے آکسیجن کی فراہمی بند ہو گئی، جس کے باعث معصوم بچے دم گھٹنے اور شدید جھلسنے کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔
واقعے کے وقت نرسری وارڈ میں کل 16 بچے داخل تھے وہاں موجود ایک لیڈی ڈاکٹر نے اپنی جان پر کھیل کر صرف ایک بچے کو بحفاظت باہر نکالا، جبکہ باقی 15 بچے لقمہ اجل بن گئے۔
فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لے کر آگ پر قابو پایا۔
عینی شاہدین کے مطابق امدادی انتظامات ناقص ہونے کی وجہ سے کھڑکیاں توڑ کر بچوں تک پہنچنے کی کوشش کی گئی۔
تمام جاں بحق بچوں کی میتیں ڈی این اے (DNA) کے مراحل کے بعد لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
انکوائری کمیٹی کی تشکیل: ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور غفلت کا تعین کرنے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔
حکومتی ردِعمل:
صدرِ مملکت اور وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ غفلت ثابت ہونے پر کسی کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔
تحقیقاتی کمیٹیوں کی تشکیل، انتظامیہ کے خلاف سخت ترین ایکشن اور متاثرہ خاندانوں کے بیانات کی تفصیلی صورتحال درج ذیل ہے:
1۔ تحقیقاتی کمیٹیوں کی فائنل رپورٹ کی طرف پیش رفت ; وفاقی حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اور سخت تادیبی اقدامات شروع کر دیے ہیں:
اعلیٰ حکام کی معطلی:
وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے غفلت برتنے پر وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر عہدے سے معطل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ پمز ہسپتال کے بچوں کے وارڈ میں تعینات پورے ٹیکنیکل اسٹاف کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ایک 8 رکنی ملٹی ایجنسی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی ہے جس کو 24 گھنٹے کے اندر فائنل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج، ڈیوٹی روسٹر اور بائیومیٹرک ریکارڈ قبضے میں لے کر غفلت کا تعین کر رہی ہے ,
ہسپتال کی اندرونی کمیٹی: پمز ہسپتال نے پروفیسر عمر فاروق کی سربراہی میں ایک 5 رکنی اندرونی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو 48 گھنٹے میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
فائر سیفٹی پروٹوکولز کی خلاف ورزی: ابتدائی شواہد کے مطابق، کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) پمز ہسپتال کو گزشتہ 7 سال سے فائر سیفٹی انتظامات نافذ کرنے کے نوٹسز جاری کر رہی تھی، لیکن ہسپتال انتظامیہ نے انتباہ کے باوجود کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے تھے۔ ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمران سکندر نے اعتراف کیا ہے کہ ہسپتال کے پاس آگ بجھانے کے لیے پانی کا باقاعدہ نظام موجود نہیں تھا، اور عملے نے صرف 24 فائر ایکسٹینگوشرز (سلنڈر) استعمال کر کے آگ بجھانے کی کوشش کی۔ متاثرہ خاندانوں اور عینی شاہدین کے دلدوز بیاناتہسپتال کے باہر جمع غم سے نڈھال والدین اور عینی شاہدین نے انتظامیہ کی مجرمانہ لاپرواہی کی دردناک تفصیلات میڈیا کو بتائیں:نرسری کا دروازہ بند ہونے کا الزام: متاثرہ والدین نے روتے ہوئے بی بی سی اور دیگر ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ جب آگ لگی تو نرسری کا دروازہ بند تھا اور عملہ غائب تھا۔ ایک تڑپتے ہوئے باپ نے بتایا: “میرا بچہ صرف تین دن کا تھا، جب آگ لگی تو ہم اندر بھاگے لیکن دروازے پر تالا نما سخت پہرا تھا، کوئی ہمارے بچوں کو نکالنے والا نہیں تھا”۔ہسپتال انتظامیہ کا دفاع: پمز انتظامیہ نے والدین کے الزامات کی نفی کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ نرسری کو تالا نہیں لگایا گیا تھا، بلکہ وہاں سخت پہرا اس لیے تھا تاکہ ماضی کی طرح نرسری سے بچے چوری نہ ہوں۔جڑواں بچوں کی موت کا صدمہ: جاں بحق ہونے والے بچوں کی باقاعدہ شناخت کی دستاویزات سامنے آ چکی ہیں، جن کے مطابق بہادر نامی شہری کے جڑواں بچے بھی اس ہولناک آگ کی زد میں آ کر دم توڑ گئے۔عملے کا فرار اور عینی شاہدین کی گواہی: عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹا اور آکسیجن پائپوں کی وجہ سے آگ بھڑکی، نرسری کا زیادہ تر عملہ بچوں کو وہیں چھوڑ کر باہر بھاگ نکالا۔ اگر وہاں موجود ایک جرات مند لیڈی ڈاکٹر اپنی جان پر کھیل کر کھڑکی توڑ کر ایک بچے کو باہر نہ نکالتی، تو وارڈ میں موجود تمام 16 بچے زندہ جل جاتے۔سول سوسائٹی اور متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے محض “کاغذی انکوائری” بنا کر ختم نہ کیا جائے، بلکہ غفلت کے مرتکب ڈاکٹروں، نرسوں اور انتظامی افسران کے خلاف قتلِ عمد کے مقدمات درج کر کے انہیں جیل بھیجا جائے۔
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں ایک ماہ قبل بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔دستاویز کے مطابق پمز نرسنگ ہاسٹل میں 6 جولائی کی رات 3 بجے استقبالیہ میں آگ لگی جس سے استقبالیہ میں رکھے 3 صوفے جل گئے تھے۔دستاویز کے مطابق واقعے میں ہاسٹل میں مقیم 78طالبات محفوظ رہیں اورکوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔الیکٹریکل، فرانزک رپورٹ نہ ہونے کے باعث آگ کی حتمی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا تھا