وزیر اعظم کا نئی نسل کی سیرت سازی کے لیے نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ مشعلِ راہ قرار
( اصغر علی مبارک)
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے نئی نسل کی سیرت سازی کے لیے نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو واحد اور مکمل مشعلِ راہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور نوجوانوں کی اخلاقی و شخصیت کی تعمیر کے لیے سیرتِ طیبہ پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔وزیر اعظم نے نئی نسل کی سیرت سازی کے لیے نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو واحد اور مکمل مشعلِ راہ قرار دیا ہے، کیونکہ جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور نوجوانوں کی اخلاقی و شخصیت کی تعمیر کے لیے سیرتِ طیبہ پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔ آپ کے خطاب کے مطابق زندگی کا کوئی بھی شعبہ یا پہلو ایسا نہیں، جس کے لیے آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ سے رہنمائی نہ ملتی ہو، اور نئی نسل کے اخلاق کو سنوارنے کے لیے سیرتِ پاک کے واقعات ہدایت کا حتمی ذریعہ ہیں، جبکہ نوجوانوں کو تحریکِ پاکستان کی اصل روح اور مقاصد کو بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ اس نقطہ نظر کے تحت نوجوانوں کی شخصیت کو اسلام کے آفاقی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے درج ذیل عملی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں:
تعلیمی نصاب: اسکول اور کالج کی سطح پر سیرتِ طیبہ کے اخلاقی پہلوؤں (جیسے سچائی، امانت، اور رواداری) کو لازمی شامل کیا جائے تاکہ محض تاریخی واقعات کے بجائے آپ ﷺ کے حسنِ معاشرت اور معاملات کو اجاگر کیا جا سکے۔
عملی زندگی: نوجوانوں میں ایفائے عہد (وعدہ پورا کرنا)، حلال رزق کی اہمیت، معاشرتی انصاف، اور کمزوروں کی مدد کا جذبہ پیدا کیا جائے جو اسوۂ حسنہ کا بنیادی حصہ ہے۔
جدید میڈیا: سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو آپ ﷺ کی زندگی کے روشن پہلوؤں سے تخلیقی اور جدید انداز میں روشناس کرایا جائے۔
نظریاتی بیداری: نئی نسل کو یہ باور کرایا جائے کہ پاکستان کا قیام ایک عظیم نظریاتی مقصد کے تحت عمل میں آیا تھا، تاکہ وہ تحریکِ پاکستان کی روح کے مطابق ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
، ہمیں تحریک پاکستان کی روح کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے جب سب مسلمان مسلکی شناخت کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے قائد اعظم کی قیادت میں متحد ہو ئے،اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو ہم نے امت مسلمہ کو متحد کرنے کی مخلصانہ کوشش کی، سعودی عرب اور ترکیہ پاکستان کے ساتھ آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہیں، وحدت کے فروغ اور فتنہ پرور اور مفاد پرست عناصر سے عوام کو بچانے کے لیے علماء کرام کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 12 ربیع الاول عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مناسبت سے قومی سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا,کانفرنس میں وفاقی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، غیر ملکی سفارتکاروں،علماء کرام ، مشائخ عظام اور دیگر نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ 12 ربیع الاول کی یہ عظیم الشان کانفرنس، ہماری قابلِ فخر قومی روایت ہے،اس مبارک اور بابرکت دن ہر سال ملک کے ہر حصے سے ہر مسلک کے علمائے کرام، محققین مشائخ عظام اور سکالرز ایک چھت تلے جمع ہوتے ہیں۔ یہ عظیم اجتماع ، اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہم سب اللہ کے آخری رسول نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی رحمت کے سائے میں ایک ملت ہیں، آپ کی بے مثال اور بابرکت ہستی ہماری پہچان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری عزت اور ہماری جان ہیں،آپ کا اُمتی ہونا ہمارا ایمان ہے،آپ کی بعثت ، پوری انسانیت کے لیے اللہ کا احسان ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ حسین اتفاق ہے کہ اس سال یہ مبارک دن اگست کے مہینے میں آیا جب پاکستان قائم ہوا تو 14 اگست پر رمضان المبارک کی رحمتوں کا سایہ تھا، یہ غیبی اشارہ ہے کہ پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا کرم اور نبی کریم ﷺ کی نگاہ رحمت ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ وزارت مذہبی امور اور علمائے کرام کو دل کی گہرائیوں سےمبارک باد دیتے ہیں کہ اُنہوں نے سیرت کانفرنس کی پاکیزہ روایت کو زندہ رکھا ہے۔علمائے کرام ہماری اخلاقی قدروں کے پاسبان ہیں، ہم اُن کی خدمت میں دو زانو ہو کر بیٹھتےاور اُن سے دین سیکھتے ہیں۔ اُن کی عزت اور تو قیر ہم پر واجب ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جن کتابوں کو آج انعام کا حق دار قرار دیا گیا ہے میں ان کے مصنفین کو بھی ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج کی کانفرنس کے لیے جو عنوان منتخب کیا گیا ہے ،وہ با معنی بھی ہے اور بر وقت بھی، نسل نو کا تحفظ تعمیر اور کردار، سیرت النبی کی روشنی میں نئی نسل ہماری اُمیدوں کا مرکز ہے، یہ ہمارا تابناک مستقبل ہے۔ اس نسل کی تعلیم و تربیت ہماری اولین ترجیح ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج ہمارے سامنے ایک اہم سوال ہے مستقبل میں ہم کیسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے ہم جیسی نسل تیار کریں گے، ہمارا مستقبل بھی ویسا ہی ہوگا،یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی صورت میں ہمارے پاس اخلاق کا کامل ترین نمونہ موجود ہے، جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی، ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایسا سراج منیر عطا فرمایا ہے جس کی روشنی سے ہم اپنے بچوں کے دل و دماغ کو منور کر سکتے ہیں ۔ زندگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں جسے نبی کریم ﷺ نے اپنے اسوۂ حسنہ سے روشن نہ کیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کا ہر واقعہ ہمارے لیے ہدایت کا مکمل پیغام ہے،صلح حدیبیہ میں آپ ہمیں عقل و بصیرت کا پیکر دکھائی دیتے ہیں۔ مشکل کو اپنی دانش سے آسانی میں بدل دیتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام کو پیغام دیتے ہیں کہ آج ہم نے حکمت اور دوراندیشی سے کام لیا تو آنے والے دنوں میں فتح مبین ہماری منتظر ہے۔طائف میں جب آپ کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو آپ صبر کا کامل ترین نمونہ بن جاتے ہیں اور اپنے مخالفین کی ہدایت کے لیے دعا فرماتے ہیں یہی شان پیغمبری ہے،مدینہ تشریف لاتے ہیں تو مہاجر اور انصار میں بھائی چارہ قائم کرتے ہیں، اس میں ایک عظیم درس مضمر ہے اگر ایک معاشرے کے لوگ ، دکھ، درد اور پریشانی میں ایک دوسرے کے مددگار ہوں تو مشکلات کو آسانیوں میں بدلا جا سکتا ہے،مسائل معاشی ہوں یا سماجی ،محبت اور بھائی چارہ ان کا حل ہے۔ ہم دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہماری مشکلوں کو آسان کر دیتا ہے ،جب تنگی ہوتی تو صبر فرماتے اور جب اللہ تعالی مال سے نوازدیتا تو سورج ڈھلنے سے پہلے اُسے ضرورت مندوں میں تقسیم کر کے دامن جھاڑ دیتے۔وزیراعظم نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اختلاف کے آداب بھی سکھائے، مکالمہ سکھایا، اہلِ کتاب سے کہا: “آؤ اُن باتوں کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہیں،فتح مکہ کے موقع پر جب آپ عظیم الشان لشکر کے ہمراہ شہر میں داخل ہوتے ہیں تو عاجزی کا پیکر بن جاتے ہیں، وہ لوگ جو آپ کی جان کے درپے تھے آپ ان کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیتے ہیں،حجۃ الوداع کے موقع پر ایک عظیم الشان ریاست کے حکمران کی حیثیت سے آپ اعلان فرماتے ہیں کہ کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی برتری حاصل نہیں،آپ اعلان فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان کی جان کی وہی حرمت ہے، جو اس شہر، اس دن اور اس مقام کی حرمت ہے اِن سب اوصاف حمیدہ کے ساتھ ہم نے نئی نسل کو بتانا ہے کہ آپ نے نبوت کی سب سے پہلی دلیل کے طور پر لوگوں کے سامنے اپنا کردار پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ، اسوۂ حسنہ، آپ کی گفتار سراپا حق اور زندگی امانت اور دیانت سے عبارت ہے ، آپ نے اہلِ مکہ کو جب پہلی بار اسلام کی طرف بلایا تو اُن سے سوال فرمایا: “کیا تم نے مجھے سچا پایا یا اس کے برعکس؟ اہلِ مکہ نے بر جستہ جواب دیا: “آپ صادق بھی ہیں اور امین بھی۔ نبی کریم کا کردار آپ کا پہلا معجزہ تھا اور قرآن مجید دوسرا۔وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم نے اسی اسوۂ حسنہ کی روشنی میں نئی نسل کے اخلاق اور شخصیت کی تعمیر کرنی ہے، یہی آداب اپنے بچوں کو سکھانے ہیں۔ دو سال پہلے میں نے وزارت تعلیم کو ہدایت کی کہ حضور کے اخلاق حسنہ کی روشنی میں نئی نسل کی اخلاقی تربیت کو نظام تعلیم کی روح بنادیا جائے۔ مجھے خوشی ہے کہ قومی رحمت للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی نےاس مقصد کے لیے ایک جامع خاکہ تیار کیا جسے وفاقی دارالحکومت کی سطح پر نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ صوبائی حکومتیں اس جانب پیش رفت کر رہی ہیں جو خوش آئند ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ دینی مدارس میں علما کی جونئی نسل تیارہو رہی ہے وہ اخلاق و کردار میں ممتاز ہو اور جب وہ محراب و منبر کی ذمہ داری سنبھالیں تو وہ اسوۂ حسنہ کی روشنی میں قوم کو وحدت کا پیغام دیں وہ نماز کے ساتھ ساتھ اخلاق میں بھی امام ہوں ان کے پیچھے نماز پڑھنے والے ان کا خطبہ سننے والے اپنے کردار اور پیشہ وارانہ زندگی میں، محنت اور دیانت کا نمونہ بن جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ فرقہ واریت کی ہلاکت خیزی سے آپ بخوبی واقف ہیں اس کا علاج آسان ہے ایک ہی ہستی ہماری پہچان اور شناخت ہو ہماری ہر محبت نبی کریم کی محبت کے تابع ہو ۔ صحابہ کرام، اہلِ بیت عظام ، فقہائے اُمت یہ سب ہماری عزت اور ہمارے سروں کے تاج ہیں، کیونکہ ان سب کو نبی آخر الزماں ﷺ سے نسبت ہے،ہمارا آئین بھی ہمیں صرف قرآن وسنت کا پابند بنا تا ہے ۔ فرقہ واریت اُس وقت پھیلتی ہے، جب ہم جُدا جُدا مراکز کی طرف رجوع کرتے ہیں ، ہم اپنی الگ شناخت بناتے ہیں جب مرکز ایک ہو گا تو اس کا ناگزیر نتیجہ بھی یکجہتی اور وحدت ہوگی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں تحریک پاکستان کی روح کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے جب سب مسلمان مسلکی شناخت کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے قائد اعظم کی قیادت میں متحد ہو گئے پاکستان جیسا معجزہ اسی وحدت کا نتیجہ ہے،گزشتہ سال جب جنگ ہوئی تو پوری قوم یک جان دو قالب تھی،خلیج کی جنگ کے دوران بھی پوری قوم ایک لڑی میں پروئی ہوئی تھی۔ ختم نبوت کا مطلب بھی وحدت امت ہے اس ملک کو عظیم اور دنیا میں باوقار بنانے کے لیے تو اتحاد کو اپنانا ہوگا۔قرآن مجید کا دوٹوک اعلان ہے کہ آپ خاتم النبین ہیں۔ ہم سب نبی کریم ﷺ کی اُمت ہیں اس لیے ہمیں صرف اسی ایک مرکز کی طرف رجوع کرنا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں موقع دیا تو ہم نے امت مسلمہ کو متحد کرنے کی مخلصانہ کوشش کی، مشرق وسطیٰ ایک بڑے بحران کے دہانے پر کھڑا تھا، ہم نے ایک طرف جنگ بندی کے لیے مسلسل کوشش کی اور دوسری طرف مسلمانوں میں اتحاد کے لیے بھی دن رات ایک کئے رکھے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سارے عرصے میں بھر پور طور پر مصروف عمل رہے الحمد للہ ! ہماری یہ مشتر کہ محنت رنگ لائی اور عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی،امن دشمنوں نے ایڑی چوٹی کا زورلگایا کہ مشرق وسطی کے مسلمانوں کو تقسیم کریں ان میں نفرت کا زہر گھولیں، اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے ،ان مخلصانہ کاوشوں کا بہترین نتیجہ معاہدہ مکہ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے، برادر ممالک ترکیہ اور سعودی عرب کے سفرا یہاں موجود ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ اور سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ترکیہ کےصدر رجب طیب اردوان اور ترکیہ کی عوام اور سعودی عرب کے ولی شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی عرب کے عوام پاکستان کے ساتھ آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان کے اندر بھی ہمیں اسی وحدت کی ضرورت ہے اس کے لیے علما کو اپنا کردار ادا کرنا ہے،عوام کو فتنہ پرور اور مفاد پرست عناصر سے بچانا ہے جو انہیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، مہذب دائرے میں رہتے ہوئے علمی اختلاف میں کوئی حرج نہیں ہمارے اسلاف نے بھی اختلاف کیا لیکن ان کے اختلاف نے ہماری علمی روایت کو مالا مال کیا،ہمیں اُن کے اس مثالی کردار کو سامنے رکھنا ہے اپنی بات کہنی ہے اور دوسرے کو بھی یہ حق دینا ہےاس مثبت رویے سے اختلاف رحمت بن جاتا ہے اور سماج علمی اور فکری ارتقا کی منازل طے کرتا ہے۔ ۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج اُمت مسلمہ کو جو فکری چیلنج درپیش ہے، آپ اس سے اچھی طرح واقف ہیں نئی نسل کے سوالات جو جدید علم سے پھوٹے ہیں جواب طلب ہیں،گمراہ کن خیالات نئی نسل کو اپنا شکار بنا رہے ہیں،فرقہ واریت نوجوانوں کے ذہن آلودہ کررہی ہے، انتہا پسندی انہیں دہشت گردی کا راستہ دکھا رہی ہےسیاسی مفاد پرست ان کے اخلاق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں،ہمیں اپنے بچوں کو ان تمام فتنوں سے بچانا ہے، نئی نسل کی اخلاقی تربیت کے لیے سب سے پہلے ان کے ذہن کو مطمئن کریں اس کے لیے آپ جیسے جید علما اور سکالرز کی شدید ضرورت ہے، ہمارے نبی کریم ﷺ نے ہمیں نصیحت فرمائی کہ حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ ہم نے اسوۂ حسنہ سے رہنمائی لیتے ہوئے اس حکمت کے ساتھ نئی نسل کے ذہنوں کو مطمئن کرنا ہے،اس کے ساتھ جدید علوم بھی سکھانے ہیں۔دینا یہی فرمانِ امروز ہے:
(مشرق سے ہو بیزار، نہ مغرب سے حذر کر)
(فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر)
وزیراعظم نے کہا کہ ہم آج جس ہستی کو یاد کر رہے ہیں جن کے ساتھ اپنی نسبت پر فخر کر رہے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین بنایا ہے آپ ﷺ کا دامن رحمت غیر مسلموں کے لیے بھی وسیع ہےحاتم طائی کی بیٹی جو مسلمان نہیں تھی ایک معرکے میں گرفتار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور پہنچی تو اس نے اپنا تعارف کرایا: ”میں اس باپ کی بیٹی ہوں جو مہمان نواز ہے ، ،کسی حاجت مند کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو مومنوں کی صفات ہیں،آپ ﷺ نے نہ صرف اس خاتون کو آزاد کرنے کا حکم دیا بلکہ اس کے لیے لباس اور سواری کا بھی اہتمام فرمایا،سیرت نگاروں نے ایسے بہت سے واقعات نقل کئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ آپ ساری انسانیت کے لیے باعث رحمت تھے آپ کا امتی ہونے کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم بھی سب کو رحمت اور امن کا پیغام دیں،آپ کے ارشادات کے مطابق ہمارے ہاتھ اور زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے ہم اپنے کردار سے آپ کے اس پیغام رحمت کو عام کریں، ہم دنیا کو دعوت دیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہستی اور آپ کی تعلیمات عالمی امن کی ضمانت ہیں،آپ کا پیغام پوری دنیا کےمحبت ہے۔کانفرنس سے وفاقی مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بھی خطاب کیا۔وزیراعظم نے کتب سیرت اورمقالہ جات کے مصنفین میں انعامات بھی تقسیم کئے۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں امت مسلمہ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یوم ولادت کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ کی ذات مطہرہ نے ایمان، علم، اخلاق اور عدل پر مشتمل ایک مکمل و مثالی ضابطہ حیات کا پیغام ایزدی عالم انسانیت تک پہنچایا۔ 12 ربیع الاول 1448ھ کی مناسبت سے اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ وہ 12 ربیع الاول 1448ھ کے بابرکت دن پر پاکستان اور پوری دنیا میں مقیم امت مسلمہ کو سید الانبیاء خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت پر دلی مبارکباد اور اظہار عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حضور ﷺ کی ذات مطہرہ نے ایمان، علم، اخلاق اور عدل پر مشتمل ایک مکمل و مثالی ضابطہ حیات کا پیغام ایزدی عالم انسانیت تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال قومی سطح پر ہم اس مبارک دن کو’’نسل نو کا تحفظ، تعبیر اور کردار سیرت النبی کی روشنی میں‘‘ کے زیر عنوان منا رہے ہیں۔

نوجوان نسل کی بہترین کردار سازی کے لیے ہمیں سچائی، دیانت، محنت، نظم و ضبط، قانون کی پاسداری اور احساس ذمہ داری جیسے اسلامی شعار ان کی تربیت میں شامل کرنا ہوں گے تاکہ وہ سیرت رسول ﷺ کی روشنی سے منور اور علم و تحقیق، محنت و خدمت کے جذبات سے سر شار ہو کر ملک و قوم کی ترقی میں موثر کردار ادا کرسکیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت نے انسانی معاشرے کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک نئی سمت سے متعارف کروایا۔ آپﷺ نے مکہ مکرمہ میں توحید، تقویٰ اور اخلاقی پاکیزگی جیسی اقدار کے ذریعے دائمی اصلاح کی بنیاد رکھی اور مدینہ منورہ میں عملی طور پر عدل و مساوات، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق و فرائض سے آگاہ اسلامی معاشرہ قائم کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسوہ حسنہ ﷺ تمام مسلمانوں کی دینی و دنیاوی اصلاح و فلاح اور مثالی کامیابی کے لیے مشعل راہ ہے۔

یقیناً رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک دین اسلام کی تعلیمات کا بہترین نمونہ ہے جس کی گواہی قرآن پاک میں موجود ہے۔ سیرت النبی ﷺ بنی نوع انسان کے لئے صدیوں سے ہر دور کے بدلتے تقاضوں کے باوجود کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے انسانی شعور کو اوج کمال بخشا اور انسانوں کی ذہنی و اخلاقی نشوو نما اور انفرادی و اجتماعی زندگیوں کی ہدایت یافتہ راہ متعین کی۔شخصی اور سماجی کردار سازی سیرت نبوی ﷺ کے پیغام کا اہم ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ دور حاضر میں درپیش معاشی و معاشرتی اور اخلاقی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمیں اپنی اجتماعی زندگی کو کامل ہدایت کے تابع سانچے میں ڈھالنا ہو گا۔

یہی ہماری اور آنے والی نسلوں کے لیے دنیا و آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ آج کا یہ مبارک دن ہمیں معاشرے میں اتحاد و یکجہتی، بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب احترام کے فروغ کی تاکید بھی کرتا ہے، کیونکہ باہمی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے مکالمے، برداشت اور باہمی احترام ہی اسوہ رسول ﷺ کے سنہری اصولوں کے مطابق ایک مضبوط اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئیے اس مبارک دن ہم یہ عہد کریں کہ ہم سیرت طیبہ کو اپنے کردار، انفرادی رویوں اور اجتماعی طرز عمل میں اختیار کرنے کی کوشش کریں گے اور پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال، پرامن اور فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔