عید چاند کو اپنوں نے متنازعہ بنایا؟ اصغر علی مبارک کالم نگار (کالم..اندر کی بات ) طویل عرصے بعد مرکزی روئیت ہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں کوہسار بلڈنگ اسلام آباد میں منعقد ہوا اجلاس سے قبل میڈیا کے دوستوں نے کہا کہ پاکستان روئیت ہلال کمیٹی کے چئیرمین عبدالخبیر آزاد صاحب کوٹاپ فلور پر سپارکو کی طرف رکھی گئی دوربین پر فوٹو سیشن کے لیے استدعا کی جائے چئیرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد صاحب موبائل فون پر گفتگو فرما رہے تھے اس موقع پر وزارت مذہبی امور کی طرف سے کوآرڈینیشن کرنے والا ذمہ دار نظر نہ آیا شائد ان کو اندازہ نہیں تھا کہ بدھ کی شام شوال کا چاند نظر آسکتا میری درخواست پر فوٹو سیشن کروانے کے لیے مرکزی چیئرمین روئیت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد دوربین کے قریب آئے اور آنکھ عدسے پر رکھی تو میڈیا میں سے آواز آئی مولانا صاحب چاند نظر آیا ؟ابھی وہ بولے بھی نہیں تھے روئیت ہلال کمیٹی کے ایک معزز رکن نے برجستہ کہا “چاند ادھر ہی موجود ہے “جس پر فوری طور مولانا عبدالخبیر آزاد نے ان غصیلی آواز میں ڈانٹنے کے انداز میں کہا کہ” ایسی بات کرنا مناسب نہیں ” روزے کی افطاری کا وقت قریب تھا وزارت مذہبی امور کی طرف سے افطار کے انتظامات بھی تھے لنچ بکس بانٹنے والے وزارت مذہبی امور کےایک اہل کار نے جب یہ کہا کہ ایک افطار بکس دو افراد کے لیے ھے اس پر مقامی اخبار کے باریش فوٹو گرافر نے احتجاج کیا معاملہ سنبھالنے کے لئے وزارت مذہبی امور کے سوشل میڈیا کے انچارج کو میدان میں آنا پڑا یہ بدمزگی کی ابتداء تھی جس کے بعد مزید بدمزگیاں پیدا ہوئیں کوئی یقین نہیں کرے گا کہ شام پانچ بجے سے لیکر رات ساڑھے اگیارہ بجے تک میڈیا نمائندوں کو جس ہال میں بیٹھایا گیا وہاں ایک پنکھا بھی نہیں تھا.شکرھے خدا کا کہ بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا ورنہ وزارت مذہبی امور والوں نے میڈیا کو بےحال کرنے کا پورا اہتمام کر رکھا تھا میڈیا بریفنگ میں سب نشستوں کو ریزروڈ کا ٹیگ لگا رکھا تھا۔میڈیا کو چئیرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے خلاف اعلان سے قبل ہی بھڑکا دیا گیا جس کے بعد منفی بریکنگ نیوز کاجاری ھونا ایکشن کا ری ایکشن تھا افطار کے قریب اندازہ لگا کر حاضرین نے افطاری شروع کر دی دلچسپ بات یہ ہے جب وزارت مذہبی امور کے اہل کار نے آواز لگائی روزہ کھول لیں تو اکثر نے روزہ کشائی کرلی تھی چھت پر چارراونڈ ٹیبل لگوائی گئیں تھیں جن کے اطراف معزز رکن رویت ہلال کمیٹی بیٹھ گئے جبکہ دیگر مہمانوں کے مسجد سے چٹائیاں منگوائی گئی تھیں جس پر بعدازاں نماز مغرب مولانا عبدالخبیر آزاد کی امامت میں ادا کی گئی نماز کے فوری بعد مولانا عبدالخبیر آزاد چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان دیگر ممبران کے ھمراہ فرسٹ فلور پر واقع خصوصی طور کمیٹی روم میں تشریف لے گئے نماز سے فارغ ہونے کے بعد میڈیا ہال میں گیاتو معلوم ہوا کہ میرا موبائل فون گمشدہ ھوچکا ہے فوری طور ٹاپ فلور گیا ایک صفائی کرنے والے سے فون لیکر اپنے نمبر پر کال کی تو فون اٹینڈ کرنے والے نے بڑی شائستگی سےکہاکہ ” کمیٹی روم میں آجائیں ” میڈیا ہال میں واپس آیا میرے استفسار پر موجود دوستوں نے کہا کہ کمیٹی روم نوگو ایریا ھے میں نے سنی ان سنی کر دی اور اوپر والے فلور پر چلا گیا صدر دروازے پر غیر معمولی سیکورٹی اہلکار تعینات تھے ساتھ والے کمرے سے ایک افسر کو باہر آتے دیکھ کر پوچھا میرا موبائل فون کن صاحب کے پاس ھے جس پر وہ گویا ھوئےاور اشارہ کیا وہ شاہ صاحب ہیں ان سے لے لیں میں نے فون لیکر شکریہ ادا کیا اور باہر نکل آیا باہرآ کر بلوچستان سے آئے ہوئے معزز مہمان شخصیت سے ھوئی علیک سلیک کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد احمد چوہدری کے ٹوئٹر پر بات چیت میں اندازہ لگایا کہ رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین عبدالخبیر آزاد سمیت دیگر بھی ٹوئٹ پر خوش نہیں آنے والی شہادتوں کو سائنسی علوم کی روشنی میں پرکھا جا رہا تھا رات ساڑھے نو بجے تک شہادتوں کے موصول ہونے کے باوجود کمیٹی اعلان کرنے سے گریزاں تھی موقع مناسب سمجھا اور میں نے مہمان شخصیت پر سوال داغ دیا “چاند کی گواہی دینے والوں کی تصدیق کیسے کی جاتی ہے؟ مہمان شخصیت نے بتایاکہ پاکستان میں ہر اسلامی مہینے کا چاند دیکھنے کے لیے ذمہ دار مرکزی رویت ہلال کمیٹی ھے” ماہ شوال کی رویت اور جمعرات کو عید الفطر منانے سے متعلق اعلان سے قبل نئی بحث نے جنم لےلیا – شوال کے چاند متعلق سوشل میڈیا پر بحث مباحثہ شروع تھا شوال کے چاند کی رویت کا اعلان کرنے کے بعد مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین مولانا محمد عبدالخبیر آزاد نے بتایا کہ کمیٹی نے رویت سے متعلق فیصلہ عین شریعت اور شہادتوں کے مطابق کیا اور اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ اعلان اتنا دیر سے کیوں کیا گیا؟ مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ شہادتوں کو پرکھنے میں وقت لگا اور ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ رات گئے چاند کے نظر آنے سے متعلق اعلانات کیے جاتے رہے ہیں۔ اس موقع پرکمیٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ رویت ہلال کمیٹی نے پہلی مرتبہ چاند نظر آنے سے متعلق فیصلہ ووٹنگ کے ذریعے کیا ھے ۔ اراکین کی اکثریت نے کہا کہ شوال کے چاند کی رویت سے متعلق شہادتیں درست ہیں اور عیدالفطر کا اعلان کر دیا۔‘اس حوالے سے مفتی راغب نعیمی نے کہا کہ کمیٹی کے پانچ اراکین نے اس فیصلے کی مخالفت کی جن میں تین اراکین حکومتی محکموں بشمول سپارکو اور محکمہ موسمیات کے نمائندے تھے۔مفتی نعیمی نے کہا کہ حکومتی ماہرین اراکین کے علاوہ مخالفت کرنے والوں میں وہ خود( مفتی راغب نعیمی )اور علی اصغر عطاری شامل تھے۔انہوں نے کہا ”میں نے خود تحریر کیا ھےکہ یہ ایک غلط طریقے سے کیا گیا انوکھا فیصلہ ہے اور اس سے مستقبل میں تحقیق کاروں کو چاند دیکھنے سے متعلق رہنمائی حاصل ہو گی” مرکزی کمیٹی کے چئیرمین عبدالخبیر آزاد کا کہنا تھا کہ فیصلے کی کسی نے مخالفت نہیں کی۔ ’جب قاضی فیصلہ کر لیتا ہے تو اس پر عمل کرنا سب پر لازم ہو جاتا ہے۔خیال رہے کہ بدھ کی رات مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے فوراً بعد ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی، جس میں کمیٹی کے رکن ڈاکٹر ظفر یاسین کو چاند نظر آنے کی تصدیق اور جمعرات کو عید الفطر منانے سے متعلق فیصلوں کو غلط قرار دیتے ہوئے سنا گیا ۔رکن کمیٹی اس ویڈیو میں سابق چئیرمین مفتی منیب الرحمان کی تعریف کرتے ہوئے فرمانے لگے”مفتی منیب الرحمن صاحب اور ان کی کمیٹی بہت یاد آئی، وہ ڈٹ جایا کرتے تھے”جناب راغب نعیمی کا خیال تھا کہ کمیٹی اراکین کو رویت کی شہادت دینے والوں کو گرل (Grill) کرنے کا موقع نہیں دیا گیا جس کے باعث شکوک کا موجود ہونا لازمی امر ہے۔انہوں نے بتایا کہ صرف تین اراکین کمیٹی گواہوں سے سوال جواب کر رہے تھے جبکہ باقی اراکین کو یہ موقع فراہم نہیں کیا گیا۔کمیٹی کے ایک اور رکن نے بتایا کہ چئیرمین کو ایک وفاقی وزیر نے ٹیلیفون کر کے ان کے علاقے سے موصول ہونے والی شہادتوں کو قبول کرنے کا کہا۔’اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومتی وزیر بھی چئیرمین صاحب پر دباو ڈال رہے تھے۔‘روئیت کے سائنسی امکانات سے متعلق بھی اطلاع موجود تھیں ۔پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق شوال (1442 ہجری) کے چاند کی پیدائش 12 مئی کو ہونا تھی اور اس کا اسی شام نظر آنے کا کوئی امکان موجود نہیں تھا۔واضح رہے کہ قمری کیلنڈر کے مطابق ہر مہینہ 29 یا 30 دنوں کا ہو سکتا ہے اور کسی مہینے کی 29 تاریخ کو اگلے مہینے کا چاند نظر نہ آنے کی صورت میں وہ مہینہ 30 روز کا ہوتا ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بھی ایک ٹویٹ میں کہا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تیار کردہ ھجری کیلنڈر اور روئیت ایپ کے مطابق شوال کا چاند 13 مئی جمعرات کو ہی نظر آنے اور عید جمعہ کے روز کی اطلاع دی قبل ازیں جناب فواد چوہدری نے بحیثیت وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی آئندہ کئی سالوں کا ھجری کیلنڈر اور روئیت موبائل ایپ تیار کروائی تھی جن پر علما نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔اس سال مرکزی روئیت ہلال کمیٹی کی جانب سے 12 مئی بدھ کو رات گئے شوال کا چاند نظر آنے کا اعلان کیااور موصول شہادتوں کے درست ہونے کی تصدیق بعد 13 مئی کو ملک بھر میں عیدالفطر منانےکا اعلان کیا گیا ۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے پانچ اراکین نے اس اعلان کو ’غلط‘ قرار دیتے ہوئے پاکستانیوں کو ایک قضا روزہ رکھنے کی تلقین کی ۔ لاہور کے مرکزی روئیت ہلال کمیٹی کے رکن پروفیسر ڈاکٹر راغب نعیمی کمیٹی اجلاس میں موجود تھے ڈاکٹر راغب نعیمی نےجمعرات کو عیدالفطر منانے سے متعلق فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ محض قومی وحدت قائم رکھنے کے لیے مذہبی امور پر ایسے غیر سنجیدہ انداز میں کام نہیں کیا جا سکتا انہوں نے کہا کہ ’شوال کا چاند نظر آنے سے متعلق رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ بالکل غلط تھا، ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پاکستانیوں کو ایک روزے کی قضا پوری کرنا چاہیے۔ڈاکٹر راغب نعیمی نے مزید کہا کہ روئیت ہلال کمیٹی کے اعلان کے بعد ملک کے جید علما نے آپس میں رابطے کر کے اس فیصلے کو غلط قرار دیا۔ ’اگرچہ ہم نے کمیٹی کے اعلان کے مطابق جمعرات کو عید منانے کا فیصلہ کیا لیکن یہ غلط ہے اور پاکستان کے ہر مسلمان کو اس روزے کی قضا ادا کرنا ہو گی۔‘ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ جن علما نے روئیت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو غلط قرار دیا انہوں نے مسلمانوں میں مسلکی بنیادوں پر تقسیم کے ڈر سے جمعرات عید منانے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ “میں نے خود آج جامعہ نعیمیہ، لاہور میں نماز عید پڑھائی” لیکن اپنی تقریر میں لوگوں کو ہدایت کی کہ وہ بعد میں کسی وقت ایک قضا روزہ ضرور رکھیں۔” دوسری جانب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سابق چئیرمین مفتی منیب الرحمان نے بھی کراچی میں نماز عید کے دوران نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کی عید کو غلط قرار دیا اور ایک روزے کی قضا ادا کرنے کی ہدایت کی۔ مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ بالکل غلط تھا کیونکہ بدھ کی شام شوال کے چاند کے نظر آنے کا امکان بالکل موجود نہیں تھا۔ان تمام باتوں کے تناظر میں پاکستان علما کونسل نے جواب میں کہا کہ روئيت هلال كا فيصله درست تها تاخير شہادتوں كو شرعى هدايات كيمطابق ديكهنے میں تاخير ہوئی روزه كى نه قضاء هےاور نه اعتكاف كو دوباره كرنا هے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہاکستان میں برسوں سے رمضان اور شوال کے چاند کو دیکھنے پر سرکاری اور غیر سرکاری روئیت ہلال کمیٹیوں کے مابین تنازعہ رہا ہے۔پشاور کی مسجد قاسم علی خان کی غیر سرکاری رویت کمیٹی عموماً سرکاری مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے ایک دن پہلے رمضان یا شوال کا چاند نطر آنے کا اعلان کرتی ہے۔چاند کی روئیت کی گواہی دینے کے لیے سرکاری و غیر سرکاری دونوں کمیٹیوں کو شہادتیں موصول ہوتی ہیں۔گواہی دینے والے کہتے ہیں کہ ”انہوں نے چاند دیکھا ہے ” انہی شہادتوں کو پھر کمیٹی کے اراکین کی جانب سے پرکھا جاتا ہے۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے گزشتہ بدھ کی رات تقریباً 11 بجکر20منٹ پر پریس کانفرنس میں اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا خیبر پختونخوا سمیت بلوچستان سے چاند کی روئیت کی شہادتیں موصول ہوئیں ہیں اور کمیٹی نے ان شہادتوں کو پرکھنے کے بعد درست تسلیم کیا ہے۔ پشاور کی غیر سرکاری کمیٹی کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے بتایا کہ انہیں صوبہ بھر سے 24 شہادتیں موصول ہوئیں اور گواہان خود کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے جس کے بعد ان شہادتوں کو درست مانا گیا۔ ان تمام حقائق کے بعد علما کرام سے بات چیت میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کیا کوئی بھی شخص جو چاند کی رویت کا دعویٰ کرتا ہے تو ان شہادتوں کو کیسے پرکھا جاتا ہےپشاور کے خطیب مولانا ڈاکٹر شمس الحق حنیف نے بتایا ھےکہ شہادتوں کو پرکھنے کا طریقہ کار بہت تفصیلی ہے اور اس میں سب سے پہلے روئیت کی شہادت دینے والوں کے لیے ایک اہلیت ہے چونکہ کسی بھی مسئلے میں شہادت دینے کا تعلق اس شخص کی ذات سے نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے جس طرح رمضان یا شوال کے چاند کی روئیت کی شہادت ہے جس کے ساتھ کروڑوں لوگوں کے روزے سے اس کا تعلق ہے۔”اب جب گواہی کا تعلق کروڑوں لوگوں کے ساتھ ہو تو اس میں گواہی دینے والے کی عدالت کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ کتنا عادل ہے یعنی شہادت دینے والا بالغ عاقل ہے اور کتنا ایماندار ہے اور دوسری بات اس میں گواہی دینے والوں سے چاند دیکھنے کی نشانیاں اور علامات پوچھی جاتی ہیں۔‘نشانیوں کے حوالے سے مختلف سوالات پوچھے جا سکتے ہیں جیسے کے گواہی دینے والے سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے چاند کس وقت دیکھا تھا، چاند کی سمت کس جانب تھی، چاند کا فاصلہ سورج سے کتنا دور تھا اور اس طرح چاند کے حوالے سے مختلف سوالات پوچھے جاتے ہیں تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ جس شخص نے روئیت کا دعویٰ کیا ہے وہ واقعی چاند ہے یا کوئی اور چیز ھے چاند کے حوالے سے شہادت کو قبول کرنے کے حوالے سے قاضی یا کوئی بھی شخص جو شہادت کو قبول کرنے کا اختیار رکھتا ہو، عقل عام سے بھی کام لے گا یعنی قاضی اپنی عقل بھی استعمال کر کے چاند کی روئیت کے حوالے سے گواہی دینے والے کی بات کو پرکھے گا۔’عقل عام سے مراد یہ ہے کہ اب اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس نے جو چاند دیکھا ہے وہ جنوب کی جانب تھا یا وہ کہے کہ چاند کی سمت مخالف پر تھی یا جو وقت گواہی دینے والے نے بتایا اسی وقت پر چاند دیکھنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا تو ان ساری باتوں کو مد نظر رکھ کر گواہی کو قبول یا رد کیا جائے گا۔‘ اس میں ایک اور بات مطلع صاف ہونے کی ہے کہ اگر مطلع صاف ہو، گردو غبار نہ ہو یا آلودگی نہ ہو تو عقل عام یعنی ’کامن سینس‘ تو یہی کہتی ہے کہ اس حالت میں اگر ایک شخص چاند کی روئیت کا دعویٰ کرے تو قاضی کو یہ سوچنا ہوگا کہ اگر چاند نظر آیا ہے تو یہ تو سب کو نظر آنا چاہیے۔ اسی طرح گواہی قبول یا رد کرنے والے قاضی یا کوئی بھی شخص اس کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ گواہی دینے والا شخص عادتاً جھوٹ بولنے والا تو نہیں یا جو شخص گواہی قبول کرنے والا ہے وہ گواہی دینے والے کو نہ جانتا ہو یا کہاں سے اس کا تعلق ہے، تو اس حالت میں بھی گواہی قبول کرنے میں احتیاط سے کام لینا ہوگا۔مزید یہ کہ اگر مطلع ابر آلود ہو اور کوئی شخص روئیت کا دعویٰ کرے تو ایسی شہادت کو پرکھنے کے لیے گواہی دینے والے شخص سے باقاعدہ پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کیسے چاند دیکھ لیاھے۔ رمضان اور شوال کے چاند کی شہادتوں کی تعداد میں فرق ہے یعنی رمضان کا چاند دیکھنے کی تعداد کم بھی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن شوال کا چاند دیکھنے کے لیے شہادتوں کی تعداد زیادہ ہونی چاہیے۔اسی طرح اسلام آباد میں مطلع صاف نہیں تھا اس لیےچاندکانظرآنامشکل ضرور تھا حکومت مخالفین رہنماؤں نے ایک سادہ معاملے کو پیچیدہ بنا دیا ۔ چاند کی روئیت کا معاملہ شرعی طور پر ایک نہایت سادہ معاملہ ہے لیکن پاکستان میں اس کو پیچیدہ بنایا گیا ہے اور اس کا تعلق چاند دیکھنے کے حوالے سے ہے۔ مولانا محمد اسماعیل ماضی میں پشاور کی سرکاری زونل رویت ہلال کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پیغمر اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ پورا سال ہر مہینے کو چاند دیکھا جائے اور اس کے لیے اتنی زیادہ جھنجھٹ میں پڑنے کی ضرورت بھی نہیں بلکہ آنکھوں کے ذریعے چاند دیکھنے کا معیار ہے اور کوئی گواہی دے تو اس کو قبول کیا جائے اور یہی دیکھنا معتبر سمجھا جائے گا اور اسی پر فیصلہ کیا جائے گا۔ شرعی طور پر 29ویں رمضان کو چاند دیکھنے کا اہتمام کیا جائے اور اگر چاند نظر آ جائے تو عید منانا چاہیے لیکن اگر مطلع ابر آلود ہو اور چاند نہ نظر آئے تو رمضان کے 30 روزے مکمل کر کے عید منانے کا حکم ہے۔اس میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی ریاست میں روئیت کے حوالے سے ایک نظام موجود ہے اور کمیٹیاں بھی موجود ہیں تو وہ چاند دیکھنے کا اہتمام کریں ۔مزید یہ کہ شہادتوں کے حوالے سے اصول یہ ہے کہ اگر کسی زونل کمیٹی کو کوئی شخص چاند دیکھنے کی روئیت کے حوالے سے گواہی دے تو زونل کمیٹی گواہی دینے والے شخص کی شہادت پرکھنے کے بعد اس کو قبول کرے تو مرکزی کمیٹی کو رد کرنے کا کوئی اختیار نہیں ھے۔ پاکستان میں اس کو ایک پیچیدہ معاملہ بنایا گیا ہے اور اس کی مثال اس مرتبہ شوال کے چاند کی روئیت کا معاملہ ھے سب کے سامنے ہے کہ پشاور کے زونل کمیٹی کے سامنے ایک درجن کے قریب گواہ پیش ہوئے اور ان گواہوں کو قبول بھی کیا گیا لیکن مرکزی روئیت ہلال کمیٹی نے عید کے اعلان کو اتنا طول دیا کہ معاملہ متنازعہ ہو گیا۔جبکہ ایسی تاخیر کی قطعی ضرورت نہیں تھی ۔چونکہ گواہی قبول کرنے کے حوالے سے زونل کمیٹی کو مکمل اختیار ہوتا ہے کہ وہ شہادتوں کو قبول کرے اور اس کے بعد مرکزی کمیٹی انہی گواہوں کی بنیاد پر عید یا رمضان کا اعلان کرے۔‘دوسری جانب پاکستان علما کونسل کاکہنا ہے کہ روئيت ہلال كا فيصلہ درست تها تاخير شہادتوں كو شرعى ہدايات كے مطابق ديكهتےتاخير ہوئی روزه كى نه قضاء ہےاور نه اعتكاف كو دوباره كرنا ہےاس ضمن میں وزیرِ اعظم عمران خان کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی، مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ عید کے اعلان کے تناظر میں رویتِ ہلال کمیٹی کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قوم کو اس ضمن میں قضا کردہ ایک روزہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں اس رمضان کو عوام کی بڑی تعداد 30 روزوں کی امید کررہے تھے جبکہ عید 14 مئی کو متوقع تھی مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ نہ روزہ قضا ہوا ہے اور نہ ہی ایک روزہ اعتکاف دوبارہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ثبوت میں انہوں نے ہلالِ شوال کی تصویر بھی شیئر کی کہ آج نظر آنے والے چاند سے واضح ہے روئیت ہلال كميٹی كا فيصلہ درست تها۔جمعرات کودیر تک چاند نظرآتا رہا۔دارالافتا پاکستان کے مطابق مشاورت كے بعد اعلان كر رہے ہیں کہ روزہ كى قضا کی ضرورت نہیں اور نہ ہی فیصلہ غلط تھا۔حافظ محمد طاہر اشرفی کاکہناھے کہ پاکستان میں شوال المکرم (عید الفطر) 1442 ہجری کے چاند سے متعلق شرعی شہادتوں كى تصديق كى وجہ سے فيصلے میں تاخیر ہوئی۔طاہراشرفی نےاس بات کا اقرار کیا کہ اگرچہ اعلان کرنے میں تاخیر زیادہ ہو گئی کیونکہ گواہان کے بارے میں تصدیق کا عمل زیادہ لمبا ہو گیا مگر اُن کو پوری تسلی ہے کہ فیصلہ شریعت کے مطابق کیا گیا۔ تقریباً ساٹھ گواہیاں تو صرف خيبر پختونخوا سے آئیں ۔طاہراشرفى کا کہنا ھےکہ الحمدالله فیصلے کو غلط کہنے والوں سمیت پوری قوم نے عید منائی اور فیصلے کے مخالفین نے شرعاً فیصلہ تسلیم کیا۔میں سياسى طور پر نہیں بلکہ آج كا چاند دیکھ کرروئيت ہلال كميٹى كے فیصلے کی تصدیق کر رہا ہوں۔ کہ پاکستان میں شوال کا چاند نظر آیا۔ بروز جمعرات 13 مئی کوملک بھر میں عیدالفطر منائی جائیگی۔ اسلام آباد میں مرکزی روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کا کہنا ہےکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے چاند نظر آنے کی شہادت موصول ہوئیں۔جسکے بعد چاند کی رویت کا اعلان کیا گیاصورت حال اس وقت متنازعہ ہوئی جب وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ٹویٹ کیا کہ چاند کی عمر پاکستان میں 13 گھنٹے 42 منٹ ہے۔ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان میں بدھ کو چاند کا نظر آنا ممکن ہی نہیں۔اپنے ٹویٹر پیغام میں فوادچوہدری کاکہنا تھا کہ جنہوں نے عیدالفطر سعودی عرب کے ساتھ منانی ہے تو یہ ان کا آپشن ہے۔جھوٹ بول کر ماہ مقدس کا اختتام کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟۔سیدھا کہیں کہ ہمیں عید افغانستان یا سعودیہ کے مطابق منانی ہے۔فوادچوہدری کے اس بیان پروزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے ٹویٹ کیا کہ مرکزی روئیت ہلال کمیٹی کے فیصلہ سے پہلے عید یا رمضان کا فیصلہ کرنا کسی وزیر یا حکومتی شخصیت کیلئے مناسب نہیں۔حکومت کاایک متعین ادارہ اور وہاں جید علماء سمیت تمام متعلقہ اداروں کی نمائندگی موجودہے۔پہلے سے اہم دینی وشرعی حکم کا فیصلہ دینا دینی شعائر کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے خیال رہےکہ اس سے قبل چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں بھی زونل کمیٹیوں کے اجلاس ہوئے۔ صوبائی زونل کمیٹیوں نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو اطلاع دے دی تھی۔ اس طرح محکمہ موسمیات کا موقف تھا کہ مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے چاند نظر آنے کے امکانات کم ہیں. موجودہ چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کو تحریک انصافحکومت نے 30دسمبر2020 کو منتخب کیا قبل ازیں سال 1998 سے مسلسل بطورچئیرمین خدمات انجام دینے والی مذہبی شخصیت منیب الرحمن کو عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا وفاقی وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کےنوٹیفیکیشن کے مطابق کمیٹی چئیرمین مولانا عبدالخبیر آزاد سمیت انیس اراکین شامل ہیں موجودہ کمیٹی کے اراکین میں ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، علامہ محمد حسین اکبر، مولانا فضل الرحیم، ڈاکٹر یاسین ظفر، مفتی محمد اقبال چشتی، ڈاکٹر مفتی علی اصغر عطاری ، مفتی فیصل احمد، سید علی قرار نقوی، مفتی یوسف کشمیری، حافظ عبدالغفور، مفتی فضل جمیل رضوی، قاری میر اللہ، صاحبزادہ حبیب اللہ چشتی اور مفتی ضمیر ساجد شامل ہیں۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی میں سپارکو، محکمہ موسمیات۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت مذہبی امور کے نمائندے بھی شامل ہیں لاہور سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالخبیر آزاد پنجاب کے محکمہ اوقاف کے ملازم اور لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد کے نائب خطیب ہیں۔ ان کے والد مولانا عبالقادر آزاد اسی تاریخی مسجد کے خطیب رہ چکے ہیں۔ یاد رہے کہ جب مولانا عبدالقادر آزاد بادشاہی مسجد کے خطیب تھے تو پرنسز آف ویلز لیڈی ڈیانا پاکستان کے دورے کے دوران تاریخی مسجد بھی گئی تھیں جہاں مولانا آزاد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا تھا۔ مفتی منیب الرحمان گزشتہ تقریبا 22سال مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین رھے اور اس دوران ایک سے زیادہ مرتبہ مختلف تنازعات کا موضوع بھی رہے۔ رویت ہلال کمیٹی عید الفطر اور رمضان المبارک کے چاند دیکھنے سے متعلق فیصلوں پر اکثر تنقید اور مخالفت ماضی میں بھی ہوتی رہی اس طرح ان کے دور میں پشاور کی مسجد قاسم خان کے خطیب شہاب الدین پوپلزئی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں پر تنقید کرتے نظر آئے اس بار سوشل میڈیا پر سابق چئیرمین روئیت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان کی جانب سے موجودہ چیئرمین روئیت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کو تنقید کا نشانہ بنانے پر عوام الناس کی ایک بڑی تعداد نےآڑے ہاتھوں لیا اور پوچھا کہ جتنا عرصہ آپکے پاس روئیت ہلال کمیٹی کی چیئرمین شپ تھی تب تک آپ قوم کو یہی درس دیتے تھے کہ مفتی منیب الرحمان پاکستان میں حکومت کا مقرر کردہ قاضی ہیں، ان کے علاوہ کسی اور کا اعلان کرنا جائز نہیں، کسی کو ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کی اجازت نہیں، جو فیصلے نہیں مانتے وہ شریعت سے انحراف کرتے ہیں۔ لیکن آج آپکے پاس عہدہ نہیں رہا اور آج اصول ہی بدل گئےھیں جب حکومت کے مقرر کردہ چیرمین نے قضا روزے کا اعلان نہیں کیا تو کس حیثیت سے مفتی منیب الرحمن ایسا کر سکتے ہیں؟ کیونکہ بقول مفتی منیب الرحمن کے کہ ان امور کا اختیار صرف حکومت وقت کے مقرر کردہ چیئرمین کو ہی ہوتا ہے، دوسری بات یہ کہ مفتی صاحب قوم کس بنیاد پر روزے کی قضاء کی بابت بات کر رہے ہیں ؟ شوال کے چاند کا اعلان تو شرعی تقاضوں کے مطابق ہوا ہے کیونکہ شرعی تقاضا ہے کہ 29ویں رمضان کو چاند دیکھ کر عید الفطر کرو، دو صوبوں کے مسلمانوں نے چاند کی شرعی گواہی دی اور حکومت کے ہی مقرر کردہ چیئرمین روئیت ہلال کمیٹی نےاسے درست مان کر عید کا اعلان کیا، کمیٹی کے سب ارکان نے دستخط کیے، اگر اس بنیاد پر روزہ کی قضا لازم ہے کہ سائنسی تقاضوں کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہوا تو سوال یہ بنتاھے کہ مفتی منیب صاحب کیسے اور کیوں تسلیم کر لیا ہے کہ شریعت سائنس کے تابع ہو گئی ہے، سوال یہ بھی ہے کہ مفتی منیب الرحمان ایسا کس شرعی یا قانونی اختیار کے تحت کہہ رہے ہیں؟ کیا وہ اپنی کسی عظیم الشان متبادل تحقیق سے حکومتی موقف کو غلط ثابت کرچکے ہیں؟ یا یہ محض ان کی خواہش ہے؟اور کیا واقعی اس کیلئے ان کے پاس تحقیق کا متبادل نظام موجود ہے؟یا وہ حکومتی پیش کردہ شواہد تک پہنچ کر گواہی یا گواہ کامل کو غلط ثابت کرچکے ہیں؟اور مزید یہ کہ کیا شرعی طور پر انکے پاس روزے کی قضا کا کہنے کا اختیار ہے؟اور اگر ھے ہے تو کیسے اور کیا؟کیا وہ ریاستی امور میں مداخلت، قوم کے اجتماعی امور میں انتشار اور فتنہ پروری کی شرعی حیثیت سے آگاہ ہیں؟وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ھمیں وحدت کی جانب توجہ دینا چاہیے کیونکہ پہلے ہی ھنود و یہود گٹھ جوڑ سے کشمیر اور فلسطین میں خون کی ھولی کھیلی جا رہی ھے اور پاکستان مزید کسی مسلکی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا پہلے ہی مسلکی بنیاد پر خون ریزی سے ھزاروں لوگ متاثر ہوئے اور پاکستان آرمی کی کاوشوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی اور یہ وقت مزید کسی تنازعہ کا متحمل نہیں ہو سکتاhttps://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3880834735304644&id=100001344665493 اور وحدت المسلمین ہی وقت کی ضرورت ہے.





















