پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ ون ڈے سیریز کا فیصلہ آج ۔بارش رنگ میں بھنگ ڈالنے کو تیار (رپورٹ.اصغرعلی مبارک سے ) ۔۔۔۔۔۔پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ ون ڈے سیریز کا فیصلہ آج ہوگا بارش رنگ میں بھنگ ڈالنے کو تیار ۔جنوبی افریقہ چھ اہم کھلاڑی سیریز چھوڑ کر بھارت روانہ ۔پاکستان ٹیم میں عثمان قادر کی شمولیت کا امکان ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان سیریز کا تیسرا اور فیصلہ کن ون ڈے انٹرنیشنل میچ آج سات اپریل کو سنچورین میں کھیلا جائے گا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز 1-1 سے برابر ہے۔ سنچورین میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 3 وکٹوں سے شکست دی تھی تاہم جوہانسبرگ میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میچ میں میزبان ٹیم جنوبی افریقہ نے متنازع رن آوٹ کے بعد پاکستان کو 17 رنز سے ھرا کر سیریز برابر کردی۔ تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں دونوں ٹیموں کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع ہےجنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں قومی ٹیم میں دو سے تین تبدیلیوں کا امکان ہے۔ جنوبی افریقہ کےمحکمہ موسمیات نے تیسرے ون ڈے میچ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی اور قوی امکان ہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ میں بارش رنگ میں بھنگ ڈالنے کی کوشش ضرور کرے گی اور اب یہ بھی بحث چھڑ چکی ہے کہ آخری میچ ہوگا یا نہیں؟پاکستان کے نائب کپتان
آل راونڈر شاداب خان کی جگہ عثمان قادر کو ٹیم میں شامل کئے جانے کا امکان ہے جب کہ مڈل آرڈر بیٹس مین آصف علی کی جگہ حیدر علی کو کھیلایا جا سکتا ہے۔واضع رہے کہ پاکستان نے جنوبی افریقہ کو پہلے ون ڈے میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد تین وکٹوں سے شکست دے دی ،قومی ٹیم نے 274 رنز کا ہدف میچ کی آخری بال پر حاصل کیا ، کپتان بابراعظم نے اپنی 13 ویں سنچری مکمل کی، جنوبی افریقی بلے باز وان ڈر دوسن کی 123 رنز کی ناقابل شکست اننگز رائیگاں گئی تھی۔ سپر سپورٹس پارک سنچورین میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرانے کا فیصلہ کیا۔ جنوبی افریقہ نے مقررہ 50 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 273 رنز بنائے۔ جنوبی افریقہ کے ابتدائی بلے باز پاکستانی باولرزکا سامنا نہ کر سکے اور 55 کے مجموعی سکور پر جنوبی افریقہ کے ابتدائی چار بلے باز پویلین لوٹ گئے تاہم وان ڈر دوسن اور ڈیوڈ ملر نے پانچویں وکٹ پر 116 رنز کی شراکت قائم کرکے ٹیم کا مجموعی سکور 171 پر پہنچا دیا۔ ڈیوڈ ملر 50 رنز بنا کر حارث رئوف کی بال پر کیچ آئوٹ ہوئے۔ وان ڈر دوسن نے اپنے کیریئر کی پہلی سنچری سکور کی۔ انہوں نے 123 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ ان کی اننگز میں دس چوکے اور دو چھکے شامل ہیں۔ فلہوکوایو 29 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز رہے۔ پاکستان کی طرف سے شاہین شاہ آفریدی اور حارث رئوف نے دو دو کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا جبکہ محمد حسنین اور فہیم اشرف نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ پاکستان نے 274 رنز کا ہدف میچ کی آخری بال پر سات وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔ قومی ٹیم کی طرف سے فخر زمان اور امام الحق نے اننگز کا آغاز کیا۔پاکستان کو پہلا نقصان 9 رنز پر اٹھانا پڑا تھا جب فخر زمان 8 رنز بنا کر ربادا کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ فخر زمان کے آئوٹ ہونے کے بعد کپتان بابراعظم اور امام الحق نے ذمہ دارانہ بلے بازی کرتے ہوئے 177 رنز کی پارٹنر شپ قائم کی۔ بابراعظم نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے اپنے کیریئر کی 13ویں سنچری مکمل کی۔ انہوں نے 104 گیندوں پر 103 رنز بنائے’ ان کی دھواں دھار اننگز میں 17 چوکے شامل تھے ’ وہ 103 رنز بنا کر نارٹجی کے ہاتھوں آئوٹ ہوئے۔ امام الحق نے تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 70 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ وہ نارٹجی کی گیند پر کیچ آئوٹ ہوئے۔ اپنا پہلامیچ کھیلنے والے دانش عزیز بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور صرف تین رنز بنا کر آئوٹ ہوئے۔ ان کے بعد پاکستان کے پانچویں آئوٹ ہونے والے کھلاڑی آصف علی تھے’ وہ صرف دو رنز بنا کر نارٹجی کا شکار بنے۔اس کے بعد محمد رضوان نے شاداب خان کے ساتھ مل کر 53 رنز کی پارٹنر شپ بنائی۔پاکستان کی چھٹی وکٹ 256 رنز پر گری جب محمد رضوان 40 رنز بنا کر فلہوکوایو کے ہاتھوں آئوٹ ہوئے۔ پاکستان کی ساتویں وکٹ اس وقت گری جب پاکستان کو فتح کے لئے تین رنز درکار تھے’ شاداب خان 33 رنز بنا کر فلہوکوایو کا شکار بنے۔ فہیم اشرف نے آخری اوور کی آخری گیند پر وننگ شارٹ لگا کر قومی ٹیم کو تین ون ڈے میچوں کی سیریز میں برتری دلادی کپتان بابر اعظم کو سنچری سکور کرنے پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔اس طرح امید پیدا ہوئی تھی کہ پاکستان ٹیم سیریز باآسانی جیت لے گی مگر جننوبی افریقہ نے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 17 رنز سے ہرا کر تین میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر دی تھی ۔ افریقی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 341 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا۔ تیمبا بووما 92، کوئنٹن ڈی کاک 80، وین ڈر ڈوسین 60 اور ڈیوڈ ملر 50 رنز بناکر نمایاں رہے۔ حارث رئوف نے 3 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ جواب میں پاکستان نے فخر زمان کی طوفانی بیٹنگ کی بدولت مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 324 رنز بنائے۔ فخر زمان نے غیر معمولی بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 155 گیندوں پر 193 رنز کی دلکش اننگز کھیلی اور کئی عالمی ریکارڈز اپنے نام کر لئے۔ ان کی اننگز میں 10 چھکے اور 18 چوکے شامل تھے۔ انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ وانڈررز سٹیڈیم، جوہانسبرگ میں سیریز کے دوسرے ون ڈے میچ میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔ جنوبی افریقہ نے مقررہ 50 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 341 رنز بنائے۔ کوئنٹن ڈی کاک اور ایڈن مارکرم نے 55 رنز کا آغاز فراہم کیا۔ مارکرم 39 رنز بناکر فہیم اشرف کی گیند پر آصف علی کے ہاتھوں کیچ آئوٹ ہوئے۔ اس کے بعد ڈی کاک اور کپتان تیمبا بووما نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور دوسری وکٹ میں 114 رنز کی شراکت قائم کرکے ٹیم کا سکور 169 تک پہنچا دیا۔ ڈی کاک 80 رنز کی دلکش اننگز کھیلنے کے بعد حارث رئوف کی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے۔ مڈل آرڈر بلے باز وین ڈر ڈوسین نے 37 گیندوں پر چار چھکوں کی مدد سے 60 رنز بنائے۔ تیمبا بووما 92 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے کے بعد حارث رئوف کی گیند پر بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ آئوٹ ہوئے۔ آخر میں ڈیوڈ ملر نے 27 گیندوں پر 50 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر ٹیم کی پوزیشن کو مستحکم کر دیا۔ حارث رئوف نے تین جبکہ شاہین آفریدی، محمد حسنین اور فہیم اشرف نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ جواب میں پاکستان نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 324 رنز بنائے۔ فخر زمان نے دھواں دار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 155 گیندوں پر 193 رنز کی دلکش اننگز کھیلی۔افریقی وکٹ کیپر کی متنازع کال پر بدقسمتی سے وہ 7 رنز کے فرق سے کیریئر کی دوسری ڈبل سنچری بنانے میں ناکام رہے۔ ان کی اننگز میں 10 چھکے اور 18 چوکے شامل تھے۔ بابر اعظم 31 رنز کے ساتھ دوسرے نمایاں بیٹسمین رہے۔ اینرچ نورجے نے تین اور اینڈلی فلکوائیو نے دو کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ فخر زمان کو میچ کا بہترین پلیئر قرار دیا۔ادھر پاکستان کے خلاف تیسرے ون ڈے سیریز کے آخری میچ کو چھوڑ کر افریقی کھلاڑی ڈیوڈ ملر، نوکیا، ڈی کاک، رباڈا اور نگیڈی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کھیلنے بھارت روانہ ہو گئے ۔قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے جنوبی افریقہ کے خلاف فیصلہ کن ون ڈے میچ سے قبل ٹیم میں تبدیلیوں کا عندیہ دیا ہے۔
تین میچوں کی ون ڈے سیریز ایک ایک سے برابر ہے۔تیسرا اور آخری ون ڈے میچ کے حوالے سےمصباح الحق کوچ کا کہنا ہے کہ باؤلرز اور ٹاپ آرڈر بلے بازوں نے بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ مڈل آرڈر کمزور ہے انکا کہنا ھے کہ آل راؤنڈر شاداب خان انجری کے باعث باہر ہوچکے ہیں ان کی جگہ پر عثمان قادر کو موقع دیا جانے گا دونوں ون ڈے میچز میں پرفارمنس نہ دینے والے آصف علی کی جگہ حیدر علی کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔پہلے ون ڈے میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو تین وکٹوں جب کہ دوسرے ون ڈے میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو 17 رنز سے شکست دی تھی دوسرے میچ کے متنازع رنگ آوٹ پر آئی سی سی میچ آفیشلز نے ویڈیو دیکھ کر فیصلہ کر دیاھے کہ کوئنٹن ڈی کاک نے کسی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔میچ آفیشلز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈی کاک نے فیلڈر کو نان اسٹرائیکر اینڈ پر گیند پھینکنے کا اشارہ کیا تھا۔واضع رہے کہ رہے کہ دوسرے ون ڈے میچ میں فخر زمان جنوبی افریقہ کیخلاف آخری اوور کی پہلی گیند پر اس وقت آؤٹ ہوگئے جب پاکستان کو چھ گیندوں پر 31 کی ضرورت تھی۔فخر زمان اور حارث رؤف بیٹسمین دوسرا رن مکمل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اور وکٹ کیپر ڈی کوک نے بولر والی سائیڈ کی طرف اشارہ کیا، فخر زمان اپنی کریز میں پہنچنے والے تھے، لیکن ڈی کوک کا اشارہ دیکھ کر وہ آہستہ ہوگئے۔
فیلڈر ایڈن مارکرم نے وکٹ کیپر کی طرف تھرو پھینکا جو سیدھا وکٹوں میں لگا اور فخر زمان193 پر آؤٹ ہوگئے۔بعدازاں، ایم سی سی کے ٹویٹر ہینڈل سے کرکٹ کے متعلق ایک قانون بھی شیئر کیا گیا۔جس کے مطابق واقعہ کی وضاحت کی گئی کہ اس رن آؤٹ کے بعد بحث یہ ہے کہ ڈی کوک نے جان بوجھ کر غلط اشارہ کیا کہ گیند بالر کی طرف پھینکی جا رہی ہے، غلط اشارے سے فخر زمان نے اپنی رفتار آہستہ کی اور آوٹ ہوگئے۔ قانون 41.5.1 میں کہا گیا ہے کہ کوئی فیلڈر کا جان بوجھ بیٹسمین کی توجہ ہٹانا، دھوکہ دینے یا رکاوٹ ڈالنا منع ہے۔ قانون 41.5.2 کے مطابق یہ فیصلہ امپائر کو کرنا چاہیے تھا کہ فیلڈر نے جان بوجھ کر دھوکا دیا یا محض اتفاق تھا۔
اس معاملے میں، امپائروں نے ڈی کوک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ، لیکن اگر کارروائی ہوتی تو قانون 41.5.3 لاگو ہوتا۔قانون 41.5.3 کے مطابق “اگر امپائر یہ سمجھتا ہے کہ فیلڈر نے جان بوجھ کر دھوکا دیا تو وہ جس گیند پر واقعہ پیش آیا اس کو ڈیڈ بال قرار دےسکتا تھا مگر پاکستان نے اپیل نہیں کی جس پر معاملہ گول کر دیا گیا دوسری جانب آؤٹ ہونے والے پاکستانی بلے باز فخر زمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے غلطی سے رن آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے ڈی کوک ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔فخر زمان نے اپنے رن آؤٹ ہونے میں خود کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈر کو نہ دیکھنا یہ “میری اپنی غلطی”تھی پاکستانی اوپنر کی شاندار اننگز میچ کے آخری اوور کی پہلی گیند پر ختم ہوگئی تھی جب ان کا انفرادی اسکور193 تھا۔
ڈی کوک کا اشارہ اور فخر زمان کا آؤٹ سوشل میڈیا پر بھی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ ۔قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا ہے کہ گزشتہ میچ میں شکست کے باوجود ٹیم کا مورال بلند ہے۔کھلاڑی سیریز جیتنے کے لیے پرامید ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل اس ٹیم کے لیے جیت بہت اہم ہےمصباح الحق نے کہا کہ ان باؤنسی پچز پر ہمارے ٹاپ آرڈر بیٹسمین کا سنچری کرنا بہت خوش آئند ہے اور یقین ہے کہ ہمارے باؤلرز تیسرے اور آخری ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں بہترین کم بیک کریں گے۔واضح رہے کہ شاداب خان دورہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے میچ سے باہر ہو گئے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق شاداب خان 4 ہفتوں کے لیےکرکٹ سے دور رہیں گے۔ ون ڈے سیریز کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان ٹی ٹونٹی میچز کھیلے جائیں گے پاکستان کوجنوبی افریقہ پر نفسیاتی برتری حاصل ہے ۔۔