ٹی 20 ورلڈ کپ فائنل: فاتح کون ؟ پاکستان، انگلینڈ یا بارش.؟ (اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)
……ٹی 20 ورلڈ کپ 2022 کا فائنل پاکستان اورانگلینڈ کے درمیان 13 نومبر بروز اتوار کو میلبرن کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ دودن قبل آسٹریلیا کے محکمہ موسمیات فائنل والے دن 13 نومبر یعنی اتوار اور پیر 14 نومبر متبادل دن شدید بارش کی پیش گوئی کی تھی۔ تاہم اب آسٹریلوی محکمہ موسمیات نے اتوار کے روز بارش کے ھوالے سے خوصلہ افزا بات کی ہے۔آسٹریلوی محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ 13 نومبر یعنی اتوار کی صبح بارش کا امکان ہوگی لیکن دوپہر کے بعد میچ کے وقت میں بارش کا امکان کم ہے۔ فائنل پاکستانی وقت کے مطابق دوپہرایک بجے شروع ہوگا لیکن آسٹریلیا میں اس وقت شام 7 بج رہے ہوں گے۔ میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں اتوار کو پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں مدمقابل ہوں گی جب کہ فائنل کا ٹاس مقررہ وقت سے پہلے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل کا ٹاس مقررہ وقت سے 8 منٹ قبل ہوگا جب کہ ٹاس کے بعد میوزیکل پروگرام منعقد ہوگا۔ میوزیکل پروگرام میں مقامی گلوکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے جب کہ میچ کے اختتام پر آتش بازی کا بھی مظاہرہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے اتوار کو ہونے والے فائنل میچ کے لیے بارش کی پیش گوئی کررکھی ہے جس کی وجہ سے فائنل متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ متوقع بارش کے پیش نظر آئی سی سی نے فائنل کو نتیجہ خیز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ منتظمین نے ورلڈ کپ کے فائنل کے لیے کھیل کے ضوابط میں تبدیلی کی ہے تاکہ بارش کے رکنے کی صورت میں مزید وقت دیا جا سکے۔ فائنل میں بارش کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔فائنل کے لیے ایک اضافی دن پیر کو مقرر ہے لیکن، مزید بارش کی پیش گوئی کے ساتھ، کھیل کو پیر کی شام تک جاری رکھنے کے لیے دو گھنٹے کا مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔اگر اس اضافی وقت کے باوجود فی سائیڈ 10 اوور کا مقابلہ نہیں کھیلا جا سکا تو انگلینڈ اور پاکستان کو مشترکہ فاتح قرار دیا جائے گا۔واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 کے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 7 وکٹوں سے شکست دی تھی جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ نے بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔ٹورنامنٹ کی پلیئنگ کنڈیشنز کے مطابق پہلے اتوار کو فائنل کو اضافی دن استعمال کرنے کی بجائے “ہر ممکن کوشش” کی جائے گی، چاہے انہیں مختصر مقابلے کی ضرورت ہو۔اگر اضافی دن کی ضرورت پڑی تو میچ دوبارہ شروع کرنے کی بجائے اتوار سے جاری رہے گا۔ یہ اسی کھیل کے حالات میں کھیلا جائے گا جس طرح گزشتہ روز آخری گیند پھینکی گئی تھی، یعنی اگر 10 اوور فی سائیڈ میچ اتوار کو شروع ہوتا ہے تو پیر کو وہیں سے میچ شروع ہو گا جہاں سے اتوار کو ختم ہوا تھا۔ دو اضافی گھنٹوں کے اضافے کا مطلب ہے کہ ریزرو ڈے پر میچ میں فٹ ہونے کے لیے سات گھنٹے اور 10 منٹ ہوتے ہیں۔ فائنل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے قوانین میں تبدیلی کی ہے جس کے تحت بارش سے میچ متاثر ہونے کی صورت میں ریزرو ڈے پر اضافی وقت کا دورانیہ 2 گھنٹے سے بڑھاکر 4 گھنٹے کردیا ہے۔واضح رہے کہ اس ٹورنامنٹ کے دوران میلبورن میں ہونے والے میچوں میں بارش کی وجہ سے انگلینڈ کا آسٹریلیا کے ساتھ گروپ مرحلے میں ہونے والے تین میچوں میں سے ایک میچ ختم ہو گیا تھا۔انگلینڈ کو بھی آئرلینڈ کے ہاتھوں ڈک ورتھ لوئس اسٹرن طریقہ پر شکست ہوئی جب بارش نے اسی گراؤنڈ پر اپنا میچ جلد ختم کر دیا۔ آئی سی سی نے فائنل کو فیصلہ کن بنانے کے لئے مخصوص وقت میں بھی اضافہ کردیا ہے۔اس سے پہلے آسٹریلوی محکمہ موسمیات نے پیشن گوئی کی تھی کہ آسٹریلیا میں جاری ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل کے دن بارش ہونے کا 80 فیصد امکان ہے اس صورت حال میں سوال یہ ہے کہ چیمپئین کون ہوگا؟اوربارش کی صورت میں آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے؟ موسم کی پیش گوئی کرنے والی آسٹریلوی ویب سائیٹس کے مطابق 13 نومبر کی شام میلبرن میں بارش ہونے کے 80 فیصد سے زائد امکان موجود ہیں۔ فائنل کے لئے مختص کئے گئے دوسرے دن 14 نومبر یعنی پیر کو بھی بارش کا 80 فیصد سے زائد کا قوی امکان ہے۔
آئی سی سی کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق فائنل کو اسی روز مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر 13 نومبر کو میچ نہ ہوا تو 14 نومبر کو فائنل کرایا جائے گا۔ فائنل شروع ہونے کی صورت میں اوورز کم کرنے اور ایک اننگز مکمل ہونے پر ڈک ورتھ لوئس قانون لاگو کیا جاسکتا ہے۔ آئی سی سی قانون کے مطابق کوئی بھی میچ اس وقت نتیجہ خیز قرار دیا جائے گا جب تک دونوں ٹیمیں کم از کم 5،5 اوورز نہ کھیل لیں۔ اگر دونوں دن ایسا نہ ہوسکا تو پھر فائنل میں پہنچنے والی دونوں ٹیمیں مشترکہ طور پر چیمپیئن کہلائیں گی۔ اس بار ورلڈ کپ فائنل تک کوالیفائی کرنا 90 کے ورلڈ کپ سے بھی زیادہ مشکل تھا۔ پاکستانی
باولرزنے پورے ورلڈ کپ میں زبردست پرفارم کیا، فیلڈنگ میچ جتواتی ہے، اور نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل میں ناقص فیلڈںگ کی، جس کی وجہ سے نیوزی لینڈ میچ ہارا۔ فائنل میں پاکستان کووننگ کمبی نیشن برقرار رکھنا چاہیے، اور قومی ٹیم کو پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے کم ازکم 190 رنز بنانے ہوں گےتو ورلڈ چیمپئن بننے کے زیادہ امکانات ہیں، پاکستان میں اتنا اسکور کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اور بولرز ایسے ٹوٹل کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔
آسٹریلیا میں جاری رواں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کئی اپ سیٹس بھی دیکھنے میں آئے۔پاکستان کو زمبابوے، سری لنکا کو نمیبیا ، انگلینڈ کو آئرلینڈ اور جنوبی افریقہ کو نیدرلینڈز سے شکست کا سامنا پڑا۔پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں اپ سیٹ ہونے کے باجود سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئیں۔ موجودہ ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم کے حالات و واقعات حیران کن طور پر 1992 کے ورلڈکپ کے حالات و واقعات سے حد درجہ مشابہت رکھتے ہیں۔1992 ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم اپنا افتتاحی میچ میلبرن میں ہارگئی تھی اسی طرح رواں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھی قومی ٹیم اپنا افتتاحی میچ میلبرن میں ہی ہاری۔پاکستان کو 1992 کے ورلڈکپ کی طرح اس بار بھی گروپ میچ میں بھارت سے شکست ہوئی۔1992 کے ورلڈکپ میں قومی ٹیم نے گروپ اسٹیج کے آخری تینوں میچ جیتے تھے اور رواں ورلڈکپ میں بھی گروپ اسٹیج کے آخری تینوں میچز میں فتح حاصل کی۔ قومی ٹیم نے دونوں ایونٹس میں گروپ اسٹیج کے آخری دن صرف ایک پوائنٹ کے فرق سےسیمی فائنل میں رسائی حاصل کی تھی۔ اگر ہم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ہونے والے میچز کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے کیونکہ 1992 ورلڈ کپ کی طرح رواں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی بہت سی مماثلتیں دیکھی گئی ہیں۔1992 ورلڈ کپ کی اگر ہم بات کریں تو پاکستان ملیبرن کرکٹ گراؤنڈ میں اپنا افتتاحی میچ ہارگیا تھا جب کہ رواں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی پاکستان نے اپنا افتتاحی میچ میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں ہی کھیلا جس میں انہیں شکست ہوئی۔عمران خان کی قیادت میں بھی پاکستان کو اپنے گروپ مرحلے کے میچز میں بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی جب کہ پاکستان کی ٹیم کو بھی گروپ مرحلے کے میچ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔1992 ورلڈ کپ اور رواں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کو سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کافی جدوجہد کرنا پڑی ہے جب کہ پاکستان نے صرف ایک پوائنٹ کے فرق سے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔ایک اور مماثلت ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان کی ٹیم نے 1992 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کی تھی اور اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی پاکستان نیوزی لینڈ کو شکست دے کر فائنل میں پہنچا ہے۔انگلینڈ کے سابق ٹیسٹ کپتان جوئے روٹ نے پاکستان ٹیم کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں شاندار کھلاڑی موجود ہیں ۔جوئے روٹ کا بابر اعظم اور محمد رضوان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دونوں کھلاڑی اس فارمیٹ میں ایک طویل مدت سے مستقل مزاجی سے کھیلتے آرہے ہیں۔جوز بٹلر اور ایلکس ہیلز کی بھارت کے خلاف تباہ کن کارکردگی رہی جب کہ ایک ٹیم کے طور پر سیمی فائنل جیسے پریشر والے میچ میں اس سے اچھی کارکردگی اور کیا ہوگی۔ پاکستان ایک خطرناک ٹیم ہے جس کے پاس شاندار کھلاڑی موجود ہیں جب کہ انگلینڈ کو فائنل کے لیے اپنی ٹیم کو بالکل ٹھیک بنانا ہوگا۔ جیسا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے تو کیا پاکستان 1992 کی طرح دوبارہ انگلینڈ کو شکست دے کر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا بے تاج بادشاہ بنے گا یا انگلینڈ اپنا 30 سالہ پرانا بدلہ ہم سے لے گا؟ اس کا فیصلہ اتوار کو ہونے والے میچ میں ہی ہوگا۔.اگر ہم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ہونے والے میچز کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے کیونکہ 1992 ورلڈ کپ کی طرح رواں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی بہت سی مماثلتیں دیکھی گئی ہیں۔1992 اور رواں برس کے ٹورنامنٹ دونوں میں پاکستان کا آغاز کمزور رہا، 1992 میں قومی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 10 وکٹوں سے شکست کے ساتھ آغاز کیا اور کچھ روز بعد بھارت کے خلاف 43 رنز سے ہار گئی۔رواں برس بھی گرین شرٹس کو سنسنی خیز میچ میں بھارت کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔1992 میں ٹورنامنٹ میں پاکستان کے تیسرے میچ میں انگلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے میچ کے دوران بارش ہوگئی اور نتیجہ ان کے حق میں آگیا، دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ مل گیا، یوں پاکستان پوائنٹس ٹیبل میں آسٹریلیا کو پیچھے چھوڑ کر سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔رواں برس ہونے والے ٹی ٹوئنٹی میچ میں اگرچہ پاکستان کے میچوں میں بارش کا براہ راست کوئی کردار ادا نہیں رہا لیکن بارش نے پوائنٹس ٹیبل پر ٹیم کو آخری پوزیشن سے اوپر کر دیا کیونکہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے درمیان میچ کے دوران بارش ہوگئی تھی اور میچ منسوخ کر دیا گیا تھا۔1992 میں عمران خان کے ’کارنر ٹائیگرز‘ نے کیویز کو شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا، انضمام الحق نے آؤٹ آف فارم ہونے کے باوجود 37 گیندوں پر 60 رنز بنا کر ٹیم کو فائنل تک پہنچایا۔حالیہ ٹی 20 میں پاکستان نے ایک بار پھر نیوزی لینڈ کو شکست دی جس میں قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی محمد حارث کے 26 گیندوں پر 30 رنز نے اہم فتح حاصل کرنے میں مدد کی۔دونوں ورلڈ کپس میں فائنل تک پاکستان کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بائیں ہاتھ کے پیسر اور لیگ اسپنر تھے۔1992 میں یہ کارنامہ وسیم اکرم اور مشتاق احمد نے سرانجام دیا اور رواں برس شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان کا جادو چلا۔1992 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں پاکستان کا مقابلہ انگلینڈ سے ہوا اور قومی ٹیم نے تاریخ رقم کر کے دکھائی۔










1992 ورلڈ کپ کی اگر ہم بات کریں تو پاکستان ملیبرن کرکٹ گراؤنڈ میں اپنا افتتاحی میچ ہارگیا تھا جب کہ رواں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی پاکستان نے اپنا افتتاحی میچ میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں ہی کھیلا جس میں انہیں شکست ہوئی۔عمران خان کی قیادت میں بھی پاکستان کو اپنے گروپ مرحلے کے میچز میں بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی جب کہ پاکستان کی ٹیم کو بھی گروپ مرحلے کے میچ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔1992 ورلڈ کپ اور رواں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کو سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کافی جدوجہد کرنا پڑی ہے جب کہ پاکستان نے صرف ایک پوائنٹ کے فرق سے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔ایک اور مماثلت ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان کی ٹیم نے 1992 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کی تھی اور اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی پاکستان نیوزی لینڈ کو شکست دے کر فائنل میں پہنچا ہے۔جس وقت عالمی کپ کا آغاز ہوا تھا تو شاید ہی کسی نے یہ توقع کی تھی کہ فائنل ان دونوں ٹیموں کے مابین کھیلا جائے گا۔پھر یہ توقع اس وقت تو بالکل ہی ختم ہوگئی تھی جب یہ ٹیمیں گروپ میچوں میں آئر لینڈ اور زمبابوے سے اپنے میچ ہار گئیں تھیں لیکن شاید یہ قدرت کے نظام کا ہی کرشمہ ہے کہ جس طرح آسٹریلیا کی سرزمین پر کھیلے جانیوالے پہلے ایک روزہ عالمی کپ میں انگلینڈ اور پاکستان کے مابین فائنل ہوا تھا، اسی طرح اس ملک میں 30 سال اور 7 ماہ بعد منعقد ہونے والے پہلے ٹی20 ورلڈ کپ کا فائنل بھی یہی دونوں ٹیمیں کھیلنے جارہی ہیں۔ میلبرن میں 13 نومبر کو شیڈول فائنل ان دونوں ٹیموں کا ٹی20 ورلڈ کپ کا تیسرا فائنل ہوگا اور دونوں ہی ٹیمیں ایک ایک مرتبہ اس فارمیٹ میں عالمی چیمپئن رہ چکی ہیں۔ پاکستان نے 2009ء میں سری لنکا کو شکست دے کر یہ اعزاز حاصل کیا تھا جبکہ اگلے ہی برس یعنی 2010ء میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو ہرا کر یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ اگر اتفاقات کے ذکر کو مزید وسعت دیں، تو یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ جب 2010ء میں قومی ٹیم نے ٹی20 ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر قدم رکھا تو بطور دفاعی چیمپئن رکھا۔ اور اب بھی ٹی20 ورلڈ کپ کا اگلا ایڈیشن ویسٹ انڈیز میں ہی کھیلا جانے والا ہے، تو کیا ایک مرتبہ پھر پاکستان جزائر غرب الہند کا سفر دفاعی چیمپئن کی حیثیت سے کرے گا؟
انگلینڈ کے سابق ٹیسٹ کپتان جوئے روٹ نے پاکستان ٹیم کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں شاندار کھلاڑی موجود ہیں ۔جوئے روٹ کا بابر اعظم اور محمد رضوان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دونوں کھلاڑی اس فارمیٹ میں ایک طویل مدت سے مستقل مزاجی سے کھیلتے آرہے ہیں۔اکستان کے پاس بابر اعظم اور محمد رضوان کی شکل میں ایک کامیاب اور تجربہ کار اوپننگ جوڑی موجود ہے۔ یہ جوڑی ٹی20 کرکٹ میں اب تک 51.20 کی اوسط سے 2509 رنز بنا چکی ہے۔ پاکستان کے یہ دونوں ہی کھلاڑی ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچوں میں کچھ بجھے بجھے رہے لیکن بتدریج ان کی فارم بحال ہوگئی اور سیمی فائنل میں ان دونوں نے 105 رنز کی شراکت بناکر اپنی ٹیم کی فتح کی بنیاد رکھی۔ اس شراکت نے بابر اور رضوان کو ٹی20 عالمی کپ میں 3 مرتبہ سنچری شراکت قائم کرنے والی پہلی جوڑی بھی بنا دیا ہے۔ دوسری طرف انگلینڈ کی اوپننگ جوڑی پر نظر ڈالیں تو ایک منفرد بات سامنے آتی ہے اور وہ یہ کہ ایلیکس ہیلز اور جوز بٹلر پہلی مرتبہ حالیہ ٹی20 عالمی کپ میں ایک ساتھ اوپننگ کررہے ہیں۔ اب تک یہ دونوں کھلاڑی تسلسل کے ساتھ کارکردگی تو پیش نہیں کرسکے لیکن جس طرح انہوں نے راؤنڈ میچ میں سری لنکا کے خلاف اور اہم ترین سیمی فائنل میں بھارت کیخلاف بیٹنگ کی اور پاور پلے کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے میچ پر گرفت حاصل کی، یہ کسی بھی ٹیم کو خوفزدہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ دونوں ٹیموں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ جہاں پاکستان کا نسبتاً کمزور مڈل آرڈر ہمارے اوپنرز کو خوفزدہ رکھتا ہے اور کھل کر کھیلنے سے کسی حد تک روکے رکھتا ہے، دونوں ٹیموں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ جہاں پاکستان کا نسبتاً کمزور مڈل آرڈر ہمارے اوپنرز کو خوفزدہ رکھتا ہے اور کھل کر کھیلنے سے کسی حد تک روکے رکھتا ہے، وہیں انگلینڈ کا مضبوط مڈل آرڈر ان کے اوپنرز کو بلا خوف و خطر کھیلنے کی پوری اجازت دیتا ہے اور اس خوبی کا ذکر انگلینڈ کے کپتان جوز بٹلر انڈیا کے خلاف جیت کے بعد کرچکے ہیں۔پاکستان کے پاس ایک مضبوط اور تجربہ کار باؤلنگ موجود ہے۔ اب تک اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کو کامیابیاں دلوانے میں باؤلنگ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اس پورے ایونٹ میں بھارت وہ واحد ٹیم ہے جس نے پاکستان کے خلاف 160 یا اس سے زائد رنز بنائے ہیں۔
پاکستان کی باولنگ کے خلاف پاور پلے میں 6.19 کی اوسط سے رنز بنیں جبکہ انہوں نے اس مرحلے میں 18.58 کے اسٹرائیک ریٹ سے باؤلنگ کی ہے۔ یہ کارکردگی ان کو ٹورنامنٹ کی دوسری تمام باؤلنگ لائن کے مقابلے میں منفرد اور مضبوط ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
پاور پلے میں پاکستانی باؤلرز نے نے اب تک 12وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں اور یہ ایسا ہتھیار ہے جس سے مقابلہ کرنے کے لیے انگلینڈ کے اوپنرز اور ٹیم انتظامیہ یقیناً غور کررہی ہوگی۔پاکستان کے برخلاف انگلینڈ کے باؤلرز کی پاور پلے میں کارکردگی اتنی اچھی نہیں رہی ہے۔ اس مرحلے میں ان کی اوسط 37.67 جبکہ ان کا اسٹرائیک ریٹ 30 رہا ہے اور یہ اس ٹورنامنٹ کی تیسری بدترین کارکردگی ہے۔
پاور پلے کے اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے تو بظاہر پاکستان کا پلڑا بھاری لگ رہا ہے لیکن اننگ کے درمیانی اور آخری اوورز میں انگلینڈ کے باؤلرز الگ روپ اختیار کرلیتے ہیں اور فائنل تک رسائی کے لیے اس بدلتے روپ کا بھی بڑا کردار ہے۔انگلینڈ کے لیگ اسپنر عادل رشید نے نیوزی لینڈ، سری لنکا اور بھارت کے خلاف بے مثال کارکردگی پیش کی ہے اور وہ پاکستان کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ انگلینڈ کے تیز رفتار باؤلز مارک ووڈ زخمی ہونے کی وجہ سے سیمی فائنل نہیں کھیل سکے تھے اور قومی ٹیم کو دعا کرنی چاہیے کہ وہ فائنل میں بھی ٹیم کا حصہ نہیں ہوں کیونکہ ان کی تیز رفتار باؤلنگ کا مقابلہ کرنا ہمارے بیٹسمینوں کے لیے کافی مشکل ہوسکتا ہے۔فیلڈنگ وہ شعبہ ہے جہاں انگلینڈ کو پاکستان پر واضح برتری حاصل ہے۔ انگلینڈ کے تمام ہی کھلاڑیوں میں یہ صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے کہ وہ مشکل سے مشکل کیچ پکڑنے اور رنز روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔
پاکستان کی ٹیم کا جائزہ لیں تو یہ ٹیم عام طور پر فیلڈنگ میں غلطیاں کرکے خود پر غیر ضروری دباؤ بڑھا لیتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی صورتحال مختلف بھی ہوجاتی ہے جس طرح نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں ہوا۔ پاکستان کو اگر انگلینڈ کا مقابلہ کرنا ہے اور ان کو ایک قابلِ رسائی اسکور تک محدود کرنا ہے یا اپنے ہدف کا دفاع کرنا ہے تو فیلڈرز کو اپنے باؤلرز کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا۔پاکستان نے فخر زمان کے زخمی ہونے کے باعث نوجوان کھلاڑی محمد حارث کو ٹیم کا حصہ بنایا ہے اور جب سے وہ ٹیم میں آئے ہیں، انہوں نے پاکستان کی بیٹنگ میں ایک تحریک پیدا کردی ہے۔ اس اہم فائنل میں حارث پاکستان کے لیے ترپ کا پتہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ حارث کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بڑے اور اہم میچ میں طویل اننگ کھیل کر دنیا کے سامنے اپنے ٹیلنٹ کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کی کارکردگی میں اہم کردار ادا کریں۔ٹی20 ورلڈ کپ میں اب تک یہ دونوں ٹیمیں 2 مرتبہ مدِمقابل آئی ہیں اور دونوں ہی مرتبہ کامیابی انگلینڈ کو ملی۔ لیکن دوسری طرف اگر آئی سی سی کے تحت کھیلے گئے ٹورنامنٹس کے ناک آؤٹ مرحلے کا جائزہ لیں تو یہ دونوں ٹیمیں 1992ء کے عالمی کپ کے فائنل اور 2017ء کی چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں مدِمقامل آئی ہیں اور ان دونوں مقابلوں میں فتح کی دیوی نے خلافِ توقع پاکستان کے قدم چومے۔تو کیا پاکستان ناک آؤٹ مرحلوں میں انگلینڈ کے خلاف جیتنے کا اپنا ریکارڈ برقرار رکھ سکے گا یا پھر انگلینڈ ٹی20 عالمی کپ میں پاکستان کو ایک مرتبہ پھر شکست دے کر عالمی چیمپیئن بن جائے گا؟ اس کا جواب تو شاید ان دونوں ٹیموں کے پاس بھی نہیں ہوگا۔ لیکن یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر اس فائنل میں انگلینڈ کی ٹیم فاتح رہتی ہے تو یہ پہلی ٹیم بن جائے گی جو بیک وقت ایک روزہ اور ٹی20 کرکٹ کی چیمپیئن ہوگی۔فائنل میچ کے نتیجے سے قطعی نظر اگر پاکستان ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ٹیم میں کچھ جھول اور تسلسل کی کمی اب بھی موجود ہے۔ اس لیے کامیابی حاصل کرنی ہے تو ضروری ہوگا کہ کوتاہیوں کا جائزہ لیں ،ٹی20 ورلڈ کپ فائنل: جیت کس کی ہوگی؟ پاکستان، انگلینڈ یا بارش؟




