وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد، اجلاس 25 مارچ طلب; تاریخ میں تین وزرائے اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو سکی … 21 مارچ تک اجلاس نہ بلایا تو خلاف ورزی ہو گی;اپوزیشن …….(..اندر کی بات..کالم…. اصغر علی مبارک)….. وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتمادپر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ، 2022 بروز جمعہ المبارک دن 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیاہے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہےکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اب تک تین وزرائے اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کی جاچکی ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ 1973 میں جب ملکی آئین نافذ کیا گیا تو اس میں وزیر اعظم اور سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی شق شامل کی گئی لیکن اس آئینی شق کو پہلی مرتبہ ایک فوجی صدر کے دور میں استعمال کیا گیا۔ جنرل ضیا کے دور 1985 میں وجود میں آنے والی قومی اسمبلی کے سپیکر تحریک عدم اعتماد کا پہلا نشانہ بنے۔ اس وقت کے سپیکر قومی اسمبلی فخر امام کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی جو کامیاب ہوئی اور انہیں عہدے سے ہٹا دیا اور اس طرح حامد ناصر چھٹہ نئے سپیکر بنے۔ قومی اسمبلی میں اب تک پانچ تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ہیں جن میں سے تین وزرائے اعظم اور دو سپیکرز کے خلاف تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزرائے اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے میں 16، 16 برس کا وقفہ رہا ہے۔سابق فوجی صدر ضیا الحق نے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو عہدے سے ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد کا سہارا نہیں لیا بلکہ آئین میں آٹھویں ترمیم کے تحت قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے اپنا صدارتی استحقاق اختیار کیا اور قومی اسمبلی ہی تحلیل کر دی۔
1988 میں ہونے والے نئے انتخابات کے لگ بھگ ایک سال بعد ہی اس وقت کی متحدہ اپوزیشن نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی لیکن یہ بھی کامیاب نہ ہو سکی۔وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی طرح اس وقت بھی اپوزیشن کے 86 ارکان اسمبلی نے دستخط کیے تھے۔ اس وقت کی حزب مخالف کو 124 کے مقابلے 107 ووٹ ملے اور تحریک کامیاب نہ ہو سکی۔ بےنظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم کی ناکامی کے ٹھیک 10 ماہ بعد اس وقت کے صدر مملکت اسحاق خان نے اپنے پیش رو جنرل ضیا الحق کی طرح قومی اسمبلی کو چلتا کر دیا۔سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد لگ بھگ 16 برس تک دوبارہ کسی وزیر اعظم کے خلاف کوئی تحریک عدم اعتماد نہیں آئی البتہ اسی دوران دو مرتبہ بےنظیر بھٹو اور ایک مرتبہ نواز شریف کی حکومت کو قومی اسمبلی تحلیل کر کے بر طرف کیا گیا۔بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت اسحاق خان اور دوسری حکومت کو فاروق لغاری نے صدارتی اختیار کے ذریعے ختم کیا نواز شریف کی پہلی حکومت کو اسحاق خان نے رخصت کیا اور دوسری حکومت کے وقت فوج اقتدار میں آ گئی۔لگ بھگ 16 برس کے بعد ایک بار پھر ایک دوسرے فوجی صدر کے دور میں اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تاہم اگست 2006 میں پیش ہونے والی یہ قرار داد کامیاب نہ ہو سکی اور شوکت عزیز اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب رہے۔ اس سے پہلے جون 2003 میں قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری امیر حسین کے جنرل پرویز مشرف کے ایل ایف او کو آئین کا حصہ قرار دینے پر اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ تاہم اس تحریک عدم اعتماد کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔اپوزیشن کا موقف تھا کہ 2002 میں جس وقت ارکان اسمبلی حلف اٹھا رہے تھے اس وقت سبکدوش ہونے والے سپیکر قومی اسمبلی الہی بخش سومرو نے رولنگ دی تھی کہ جنرل پرویز مشرف کا ایل ایف او آئین کا حصہ نہیں ہے۔ایک بار پھر سے 16 برس کے عرصے کے بعد اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لے کر آئی ہے اور اس مرتبہ عمران خان آئینی تحریک کے نشانے پر ہیں۔اس طرح 16، 16 برس کے وقفے ملک کے تین وزرائے اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئیں ہیں۔2002 میں آئین کی بحالی کے بعد موجود اسمبلی چوتھی ہے۔ ماضی کی نسبت اب تک تین اسمبلیوں نے اپنی آئینی معیاد مکمل کی ہے لیکن وزرائے اعظم اپنے منصب کی مدت مکمل نہیں کر سکے۔ 1985 سے 1999 تک نہ تو اسمبلی اپنی معیاد مکمل کر سکی اور نہ ہی کوئی وزیر اعظم آئینی مدت پوری کرسکا۔سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے اقتدار میں قائم ہونے والی قومی اسمبلی نے تین وزرائے اعظم دیکھے۔ ان میں میر ظفر اللہ خان جمالی، چودھری شجاعت حسین اور شوکت عزیز شامل ہیں۔2008 اور 2013 کی اسمبلیوں نے بھی معیاد پوری کی لیکن وزیر اعظم تبدیل ہوئے۔ یوسف رضا گیلانی کے نااہل ہونے پر راجہ پرویز اشرف وزیر اعظم بننے جبکہ 2013 میں نواز شریف کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم ہونے پر مسلم لیگ ن نے شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم چنا۔
وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اس وقت لائی گئی ہے جب ان کی حکومت کی معیاد مکمل ہونے میں ڈیڑھ برس کا عرصہ باقی ہے۔ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو بھی اپنے خلاف اس وقت تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا جب نئے انتخابات ہونے میں ڈیڑھ برس باقی رہ گیا تھا۔مخلوط اور سادہ اکثریت والی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانے زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اپوزیشن عددی تعداد کی خاطر حکومتی ارکان کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔1989 کی بےنظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے دوران اپوزیشن کے ارکان کو چھانگا مانگا کے مقام پر رکھنے کا الزام سامنے آیا اور اس کی گونج آج بھی سیاسی محفلوں میں سنائی دیتی ہے۔عددی تعداد کے تعاقب میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی ایک دوسرے کے ارکان اسمبلی کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سے ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے جس کوئی اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا۔عمران خان ملکی تاریخ کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے قومی اسمبلی سے ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ اعتماد کا ووٹ لیا ہے۔پہلے اعتماد کا ووٹ عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے فوری بعد لیا جو ایک آئینی تقاضہ ہے۔ دوسری مرتبہ مارچ 2021 میں اس وقت اعتماد کا لیا جب سینیٹ کے انتخابات میں حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کو سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں شکست ہوئی۔قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد ایک آئینی طریقہ ہے لیکن 18 ترمیم کے بعد تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری پر ارکان اسمبلی اپنی جماعت کے فیصلے کے خلاف رائے شماری میں حصہ نہیں لے سکتے اور ایسا کرنے پر اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑیں گے,1997 میں نواز شریف نے فلو کراسنگ کو روکنے کے لیے آئین میں 14 ویں ترمیم متعارف کرائی اور اس وقت اپوزیشن لیڈر بینظر بھٹو نے اس غیر مشروط حمایت کی تھیماہرین قانون کے بقول تحریک عدم اعتماد کے لیے مخالفین کے ارکان اسمبلی کو اپنے ساتھ شامل کرنا ایسا ہے جیسے تحریک عدم اعتماد لانے کے آئینی طریقے کے لیے غیر آئینی طریقہ اختیار کیا جائے۔قومی اسمبلی کے علاوہ سینیٹ کے چیئرمین صادق سجرانی کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی اور اپوزیشن کو عددی برتری کے باوجود خفیہ رائے شماری میں مات ہوئی۔ماضی میں صوبائی اسمبلیوں میں تحریک عدم اعتماد کی گونج سنائی دی گئیں۔اس کے علاوہ 1973 کے آئین سے قبل دسمبر 1957 میں اس وقت کے وزیرِ اعظم ابراہیم اسماعیل چندریگر کے خلاف بھی عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تھی مگر وہ بھی کامیاب نہیں ہو سکی تھی کیوں کہ انہوں نے اس سے قبل ہی استعفی دے دیا تھا۔ اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس آئین کی شق 54(3) اور شق 254کے تحت تفویض اختیارات کو بروے کار لاتے ہوئے طلب کیا ہے۔ اجلاس اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی ریکوزیشن پر طلب کیا گیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف جمع کرائی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر سپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو طلب کیا ہے۔اتوار کو قومی اسمبلی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’اجلاس اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی ریکوزیشن پر طلب کیا گیا ہے۔ پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے غرض سے حزب اختلاف کی جماعتوں کے طلب کردہ قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی معیاد منگل (22 مارچ) کو مکمل ہو رہی ہے۔ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے مطابق اپوزیشن کے ریکوزیشن کیے گئے اجلاس بلانے کی آخری تاریخ 21 مارچ (پیر) ہے۔ اپوزیشن کا طلب کردہ اجلاس پیر تک نہ بلایا گیا تو آئین کی خلاف ورزی ہو گی، جس کی ذمہ داری سپیکر قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کی وفاقی حکومت پر آئے گی,دوسری طرف پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیر کو قومی اسمبلی میں پیش نہ ہونے کی صورت میں ایوان کے اندر دھرنا دینے کی دھمکی دی ہے، جس کی وجہ سے اسی دن اسمبلی ہال میں منعقد ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں رکاوٹ پڑ سکتی ہے ,یہ موجودہ قومی اسمبلی کا اکتالیسواں اجلاس ہو گا۔اسمبلی سے جاری شدہ نوٹیفیکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 54 کی شق نمبر تین کے تحت یہ اجلاس 25 مارچ کو طلب کیا گیا ہے چونکہ اس سے پہلے کی تاریخوں میں اسلامی سربراہی اجلاس کی وجہ سے سی ڈی اے اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق اسلام آباد میں اسمبلی اجلاس منعقد کرنے کے لیے کوئی متبادل جگہ میسر نہیں تھی جب کہ سینیٹ کی عمارت تزئین نو کے تحت دستیاب نہیں تھی۔یاد رہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرا خارجہ کی کونسل کا 78 واں اجلاس 22 اور 23 مارچ کو اسلام آباد میں ہونے جا رہا ہے، جس کا اہتمام قومی اسمبلی کے ہال میں کیا جا رہا ہے۔ شیڈول کے مطابق 21 مارچ کو غیر ملکی مندوبین کی آمد شروع ہو جائے گی، جبکہ 22 مارچ کو اہم اجلاس ہو گا۔اسلامی ممالک کے وزرا خارجہ اور دوسرے مندوبین 23 مارچ کو آزادی پریڈ دیکھیں گے، جب کہ اسی شام او آئی سی کی وزرا خارجہ کی کونسل کی آخری میٹنگ ہو گی، اور 24 مارچ کو غیر ملکی مہمان واپس جائیں گے۔ وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے آج اسلام آباد میں ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جو او آئی سی کو ناکام کرنے کی کوشش کرے گا وہ سامراجی ایجنٹ ہے۔ ’اگر کسی میں ہمت ہے،کوئی مائی کا لال ہے تو او آئی سی کانفرنس میں مداخلت کرکے بتائے ایسا کرنے والی کی چیخیں آسمان تک سنائی دیں گی،یہ پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔‘او آئی سی وزرا خارجہ کونسل کی سیکیورٹی کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ موثر سیکیورٹی کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس اور ریڈ زون رینجرز کے حوالے کر دیا ہے۔ جب کہ اسلام آباد میں پندرہ ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ شیخ رشید نے مبینہ طور پر فروخت ہونے والے منخرف اراکین کے حوالے سے کہا کہ مجھے توقع ہے اتحادی واپس آئیں گے،ناراض لوگوں کا کچھ حصہ واپس آجائے گا۔ واضح رہے کہ اڑتالیسواں او آئی سی وزرا خارجہ کونسل اجلاس بائیس تئیس مارچ کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے اور وزارت خارجہ کے مطابق چھیالیس ممالک کے وزرا خارجہ اور نمائندگان شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ 14 ممالک کے نمائندہ خصوصی برائے او آئی سی کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ او آئی سی اور آبزرورز کے علاوہ 15 ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے اس کے علاوہ برطانیہ،فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا سویڈن، ناروے ،چین سمیت دیگر ممالک کو خصوصی دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔قبل ازیں اپوزیشن جماعتوں نے سپیکر سے قومی اسمبلی کا اجلاس فوری طلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقررہ مدت میں اجلاس نہ بلانا آئین سے انحراف ہے۔پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے غرض سے حزب اختلاف کی جماعتوں کے طلب کردہ قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی معیاد منگل (22 مارچ) کو مکمل ہو جائے گی۔یاد رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے آٹھ مارچ کو وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی ریکوزیشن اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروائیں تھیں۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 54 کے تحت سپیکر قومی اسمبلی ریکوزیشن کیا گیا اجلاس 14 روز میں طلب کرنے کے پابند ہیں۔واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان كے خلاف تحریک عدم اعتماد ایک سیاسی عمل ہے، اور اس میں عدالت كی کوئی دلچسپی نہیں ہے، تاہم ہر كام آئین و قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔سماعت كے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے كہا كہ وزیر اعظم عمران خان كے خلاف عدم اعتماد كی تحریک پر آئین و قانون كے مطابق عمل ہونا چاہیےواضح رہے کہ محمد احسن بھون نے وزیر اعظم عمران خان كے خلاف اپوزیشن كی طرف سے جمع كی گئی تحریک اعتماد پر ووٹنگ كے دن ممكنہ تصادم کے خطرے کے پیش نظر آئینی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست كی سماعت كے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے كہا كہ وزیر اعظم عمران خان كے خلاف عدم اعتماد كی تحریک پر آئین و قانون كے مطابق عمل ہونا چاہیےئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی 342 نشستوں پر مشتمل ہے جس میں سے 272 نشستوں پر اراکین براہ راست انتخاب کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں مذہبی اقلیتوں کے لیے 10 اور خواتین کے لیے 60 نشستیں بھی مخصوص ہیں، جنہیں 5 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے والی جماعتوں کے درمیان میں نمائندگی کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہےپاکستان کی قومی اسمبلی، ریاستِ پاکستان کا ایوان زیریں ہے جس میں انتخابات کے ذریعے منتخب کی گئے ارکان یا ارکان ہوتے ہیں جو براہ راست عوام منتخب کرتے ہیں اور ان کو ایم این اے یا اردو میں قومی اسمبلی کا رکن کہا جاتا ہے۔ہر قومی اسمبلیِ پاکستان جب تشکیل پاتی ہے اس کے بعد وہ پانچ سال کے عرصے تک ہوتی ہے اس کے بعد الیکشن کرائے جاتے ہیں اور نئی اسمبلی بنتی ہے۔ پاکستان کا تیرھواں قومی اسمبلی 2013 میں منقطع ہو گیا اور 11 مئی 2013 کو نئے قومی اسمبلی کی انتخابات کرائے گئے۔قومی اسمبلی میں کل 272 نشستیں ہیں جن میں 60 خواتین اور 10 غیر مسلم کے لیے محفوظ ہیں,قومی اسمبلی کے قواعد کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف جمع ہونے والی تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کے بعدسیکرٹری عدم اعتماد کی قرارداد کا نوٹس بھیجیں گے، اور قرارداد کو اگلے دن پیش کیا جائے گا۔ قواعد کے مطابق قرارداد پر ایوان میں پیش ہونے کے تین دن کی میعاد ختم ہونے سے پہلے یا سات دن بعد میں ووٹنگ نہیں کی جاسکے گی۔ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ اجلاس طلب کیے جانے کے تین سے سات دن کے درمیان ہونا چاہیے۔قومی اسمبلی کی روایات کے مطابق کسی رکن کی وفات کے بعد ہونے والے اجلاس کے پہلے دن کی کاروائی میں مرحوم ایم این اے کے لیے مغفرت کی دعا، اور ان کے حق میں خطابات شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی خیال زمان اورکزئی طویل بیماری کے بعد 14 فروری کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے، اور ان کی وفات کے بعد قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس ہونا ہے,اپوزیشن رہنما شک کا اظہار کر رہے ہیں پیر یا منگل کو اجلاس بلانے کی صورت میں سپیکر قومی اسمبلی پہلے روز مرحوم ایم این اے کے لیے دعا کروا کر کاروائی ملتوی کر سکتے ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ پیر یا منگل کو اجلاس ہونے کی صورت میں صرف فاتحہ خوانی نہ کی جائے بلکہ دوسری چیزیں خصوصا تحریک عدم اعتماد پر کاروائی کو بھی ایجنڈے پر رکھا جائے






