.وزیر اعظم شہباز شریف 7 نومبر کو موسمیاتی کانفرنس کوپ 27میں شرکت کریں گے…….(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)…………….. اقوام متحدہ کی سالانہ عالمی موسمیاتی کانفرنس 6 سے 18 نومبر تک شرم الشیخ، مصر میں منعقد ہو رہی ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف 7 نومبر کو موسمیاتی کانفرنس کوپ 27میں شرکت کریں گے. پاکستان نے اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی پر کانفرنس سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں، کوپ 27 کے نام سے پکاری جانے والی اس کانفرنس میں آلودگی پھیلانے والے ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کو نقصانات کی ادائیگی کا پابند کیا جائے گا۔موسمیاتی تبدیلی پر کوپ 27 اقوام متحدہ کی 27 ویں کانفرنس ہوگی، جو 6 سے 18 نومبر 2022 کو شرم الشیخ مصر میں منعقد ہوگی، وزیر اعظم شہباز شریف کانفرنس میں شرکت کرینگے،۔
موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار حل کی ضرورت کے حوالے سے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کانفرنس میں عالمی رہنما، تھنک ٹینکس، حکومتی سربراہان اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے شرکت کریں گے۔
پاکستان کو اقوام متحدہ کے 193 ممالک میں سے یہ اعزاز وزیر اعظم شہباز کی طرف سے عالمی اور علاقائی فورمز پر ماحولیاتی بحران اور عملی اقدامات کی ضرورت کے بارے میں بھرپور آواز اٹھانے پر ملا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ کاپ27 (COP27) میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے ایسے طریقوں پر فوری ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے جو اس مسئلے کے حجم سے مطابقت رکھتے ہوں، تو کیا عالمی رہنما ایسا کر پائیں گے؟کاپ دنیا میں موسمیاتی امور سے متعلق سب سے بڑی اور اہم ترین سالانہ کانفرنسیں ہیں۔
1992 میں اقوام متحدہ نے برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ‘ارضی کانفرنس’ کا انعقاد کیا تھا جس میں موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) کی منظوری دی گئی اور اس حوالے سے رابطہ دفتر قائم کیا گیا جسے اب ہم ‘یو این کلائمیٹ چینج سیکرٹریٹ’ کے نام سے جانتے ہیں۔
اس معاہدے میں ممالک نے اتفاق کیا کہ وہ ”موسمیاتی نظام میں انسانی سرگرمی کے ذریعے ہونے والی خطرناک مداخلت کو روکنے کے لیے فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے ارتکاز کو معتدل رکھیں گے۔” اب تک 197 فریقین اس پر دستخط کر چکے ہیں۔
1994 میں یہ معاہدہ طے پانے کے بعد اقوام متحدہ ہر سال موسمیاتی امور پر عالمی کانفرنسیں منعقد کرتا ہے جن میں دنیا کے تقریباً تمام ممالک شریک ہوتے ہیں۔ ان کانفرنسوں کو ”کاپ” کہا جاتا ہے جو کہ ‘کانفرنس آف پارٹیز’ کا مخفف ہے۔
اب تک ہونے والے ان اجلاسوں میں دنیا بھر کے ممالک نے بنیادی معاہدے میں بہت سے اضافوں پر بات چیت کی ہے تاکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو قانونی طور پر روکا جا سکے۔ 1997 میں طے پانے والا کیوٹو پروٹوکول اور 2015 کا پیرس معاہدہ اس کی نمایاں مثالیں ہیں جن میں دنیا کے تمام ممالک نے عالمی حدت کو قبل از صنعتی دور کے زمینی درجہ حرارت کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنے کی کوشش کرنے اور ایسا ممکن بنانے نیز موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مالی وسائل مہیا کرنے کی کوششوں میں اضافے پر اتفاق کیا تھا۔
اِس سال ایسی 27ویں سالانہ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے اسی لیے اسے کاپ 27 کا نام دیا گیا ہے۔ پیرس معاہدے سے پانچ سال کے بعد گزشتہ برس ہونے والی کاپ 26 (کووڈ وباء کے باعث ایک سال کو نہیں شمار نہیں کیا گیا) کا اختتام ‘گلاسگو کلائمیٹ پیکٹ’ پر ہوا۔ جیسا کہ اس وقت برطانوی صدارت میں کہا گیا ‘یہ پیکٹ یا معاہدہ عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنے کے ہدف کو برقرار رکھتا ہے لیکن اس ہدف کے حصول کی جانب سفر سست رہے گا’۔
پیرس معاہدے کو پوری طرح فعال کرنے کے لیے اس میں اضافے کیے گئے جس کے لیے اس کے عملی نفاذ سے متعلق تفصیلات کو حتمی شکل دی گئی جنہیں ‘پیرس رول بُک’ بھی کہا جاتا ہے۔
کاپ 26 میں ممالک نے 2022 کے لیے مضبوط وعدے کرنے پر اتفاق کیا جن میں مزید پُرعزم اہداف کے حامل نئے قومی منصوبے بھی شامل ہیں۔ تاہم 193 میں سے صرف 23 ممالک نے ہی اب تک اقوام متحدہ کو اپنے منصوبے جمع کروائے ہیں۔
گلاسگو میں دیگر اقدامات کے علاوہ نیٹ زیرو ہدف کے حصول، جنگلات کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مالی وسائل کی فراہمی کی غرض سے مذاکرات کے دوران اور ان سے ہٹ کر بھی بہت سے وعدے کیے گئے۔
کانفرنس کی صدارت کی جانب سے مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق جاری کردہ بیان کے مطابق کاپ 27 کا مقصد مذاکرات اور ”عملدرآمدی منصوبہ بندی” سے ان تمام وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی جانب منتقلی ہو گا۔
مصر نے اس حوالے سے مکمل، بروقت، جامع اور خاطرخواہ عملی اقدامات کے لیے کہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ کانفرنس میں پیرس رول بُک پر عملدرآمد کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے علاوہ چند ایسے نکات پر بات چیت بھی ہوگی جو گلاسگو کانفرنس کے بعد بھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکے تھے۔
ان امور میں ‘نقصان اور ازالے’کے لیے مالی وسائل کی فراہمی بھی شامل ہے جس کا مقصد بحران سے براہ راست متاثر ہونے والے ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے ایسے اثرات سے نمٹنے میں مدد دینا ہے جنہیں جھیلنے کی وہ صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ ان نکات میں ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے کم آمدنی والے ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے ہر سال 100 بلین ڈالر دینے کے وعدے کی تکمیل بھی شامل ہے۔
ان مذاکرات میں تکنیکی امور پر بات چیت بھی شامل ہو گی جیسا کہ ایسے طریقے کا تعین کرنا جس کے ذریعے ممالک عملی طور پر جانچ سکیں کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ان کا حصہ کتنا ہے۔ اس طرح موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات کو تمام ممالک کے لیے منصفانہ بنایا جا سکے گا۔
یہ تمام بات چیت 2023 میں ہونے والی کاپ 28 میں پہلے عالمی جائزے کی راہ ہموار کرے گی جس میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج محدود رکھنے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی اہلیت پیدا کرنے اور پیرس معاہدے پر عملدرامد کے ذرائع کے حوالے سے مجموی عالمی پیش رفت کو دیکھا جائے گا۔ موسمیاتی تبدیلی میں تخفیف ایسی کوششوں کا نام ہے جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے یا اسے روکنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ موسمیاتی حوالے سے تخفیف کا مطلب نئی ٹیکنالوجی اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے کام لینا، پرانے آلات کو بہتر بنا کر توانائی کی بچت کرنا یا انتظامی طریقہ ہائے کار اور صارفین کے طرزعمل میں تبدیلی لانا بھی ہو سکتا ہے۔
ممالک سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ گلاسگو معاہدے میں کیے جانے والے مطالبے پر عملدرآمد، اپنے موسمیاتی منصوبوں کے جائزے اور تخفیف سے متعلق عملی پروگرام کی تخلیق کے لیے کی جانے والی منصوبہ بندی کو سامنے لائیں۔
اس کا مطلب 2030 تک گرین ہاؤس ہاؤس گیسوں کے اخراج سے متعلق مزید پُرعزم اہداف پیش کرنا ہے کیونکہ اقوام متحدہ میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ادارے نے کہا ہے کہ موجودہ منصوبے تباہ کن حدت سے بچنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی سر پر ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج روکنے اور عالمی حدت میں اضافے کی رفتار کم کرنے کے لیے کیے جانے والے ہر اقدام کے علاوہ ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت بھی پیدا کرنا ہو گی تاکہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ دے سکیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات جگہوں کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب مزید آگ، سیلاب، قحط، شدید گرمی یا سردی اور سطح سمندر میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
کاپ 26 میں مندوبین نے پیرس معاہدے میں مطابقت پذیری کے حوالے سے عالمی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایک عملی پروگرام کی منظوری دی تھی۔
یہ منصوبہ معاشروں اور ممالک کو ایسا علم اور ذرائع مہیا کرنے کے لیے شروع کیا گیا جن کے ذریعے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے جو اقدامات کر رہے ہیں وہ دنیا کو موسمیاتی اعتبار سے مزید بہتر مستقبل کی جانب لے جا رہے ہیں۔
کاپ 27 کی صدارت ممالک سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابل خود کو مزید مضبوط بنانے اور غیرمحفوظ ترین معاشروں کی مدد کرنے کے لیے اپنی پیش رفت کو موثر طور سے جاری رکھیں گے اور اس کا تخمینہ لگائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ممالک اپنے موسمیاتی منصوبوں میں مطابقت پذیری کے حوالے سے مزید تفصیلی اور پرعزم وعدے کریں گے۔
گزشتہ برس ترقی یافتہ ممالک نے کم آمدنی والے ممالک کو مطابقت پذیری کے لیے دیے جانے والے مالی وسائل کو دوگنا بڑھانے پر اتفاق کیا تھا اور بہت سے فریقین اس میں مزید کئی درجے اضافہ کرنے کو کہہ رہے ہیں تاکہ پیرس معاہدے کے مطابق اسے تخفیف پر خرچ ہونے والے مالی وسائل کے برابر لایا جا سکے۔ یقیناً یہ شرم الشیخ میں بات چیت کا اہم موضوع ہو گا۔
‘یو این ایف سی سی سی’ واضح طور پر سمجھتا ہے کہ موسمیاتی حوالے سے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سرکاری و نجی تمام ذرائع سے مطابقت پذیری کی مد میں دیے جانے والے مالی وسائل کا حجم بڑھنا ضروری ہے۔ اس معاملے میں حکومتوں، مالیاتی اداروں اور نجی شعبے سمیت تمام فریقین کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اقوام متحدہ کی COP27، 2022 موسمیاتی تبدیلی کانفرنس میں دنیا بھر سے 40,000 سے زیادہ مندوبین شرکت کریں گے۔ سالانہ عالمی موسمیاتی کانفرنس 6 سے 18 نومبر تک شرم الشیخ، مصر میں جاری رہے گی اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پوری دنیا کو غیرمعمولی موسمی حالات کا سامنا ہے، پاکستان آئندہ موسمیاتی تبدیلی کی عالمی کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں وسائل کی منصفانہ تقسیم پر زور دے گا۔عالمی سطح پر زہریلی گیسوں کے اخراج میں پاکستان ایک فیصد سے بھی کم کا ذمہ دار ہے۔سیلاب زدگان کی آبادکاری میں وسائل کی کمی اور مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہونے کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔حکومت متاثرہ علاقوں میں خیمے اور طبی امداد ترجیح بنیادوں پر فراہم کر رہی ہے پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے بعد 20لاکھ سے زائد بچے اب بھی اپنے اسکولوں کی بحالی کے منتظر ہیں ۔ ملک کی تاریخ کے بدترین سیلاب نے تقریباً 27 ہزار اسکولوں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچایا ہے۔ ’’پاکستان کے لاکھوں بچے راتوں رات انتہائی تکلیف دہ حالات میں اپنے خاندان کے افراد، گھروں، ذاتی تحفظ اور تعلیم کی سہولت سے محروم ہو گئے۔ اب انہیں ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے کہ وہ اسکول واپس آسکیں گے یا نہیں ، حالانکہ وبائی مرض کی وجہ انہیں اسکولوں کی جس بندش کا سامنا کرنا پڑا وہ دنیا کی طویل ترین بندشوں میں سے ایک تھی ،اور اب ان کے مستقبل کو مزید خطرات کا سامنا ہے ۔‘‘
پاکستان کے اکثر علاقوں کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے کے دو ماہ بعد اب سیلابی پانی میں ڈوبے اسکولوں کی چھتوں کے کچھ حصے نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اندازوں کے مطابق سیلابی پانی کو مکمل طور پر اترنے میں اب بھی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔
تعلیم و تربیت کے علاوہ اسکول بچوں کو صحت کی دیکھ بھال، نفسیاتی مدد، اور حفاظتی ٹیکوں تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اسکولوں کی بندش کے دورانیے میں اضافہ سے ، بچوں کے تعلیم ترک کرنے کا خطرہ بڑھ جائے گا، جس سے مزدوری اور کم عمری کی شادیوں پر مجبور ہونے کے علاوہ استحصال اور بدسلوکی کے امکانات میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔
سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع پہلے ہی پاکستان کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار علاقوں میں سے ہیں۔ موجودہ ہنگامی صورت حال سے قبل بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایک تہائی لڑکے اور لڑکیاں اسکولوں سے باہر تھے اور 50 فیصد بچے غذائی کمی کا شکار تھے۔ طویل عرصے تک اسکولوں کی بندش سے ان محرومیوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
وبائی مرض کے عروج کے دوران بھی ، پاکستان بھر میں اسکولوں کو مارچ 2020 اور مارچ 2022 کے درمیان مکمل یا جزوی طور پر 64 ہفتوں کے لئے بند کردیا گیا تھا ۔ اب چھ ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد، شدید سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی کی بدولت اسکولوں کے بچے ایک بار پھر تعلیم سے محروم ہوگئے ہیں۔ بجلی اور انٹرنیٹ کنیکٹوٹی سمیت بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے شدید نقصان نے ریموٹ لرننگ کو بھی بڑی حد تک ناقابل رسائی بنا دیا ہے۔اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے یونیسف نے ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں 500 سے زائد عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں اور اساتذہ اور بچوں کو تعلیم کی فراہمی شروع کردی ہے۔ بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے فروغ کے لیے یونیسف اساتذہ کو نفسیاتی نگہداشت اور صحت کی نگرانی کی تربیت دے رہا ہے اور ان اسکولوں میں جن کی صفائی اور بحالی کا عمل مکمل ہوگیا ہے ، ان میں ’اسکول واپسی ‘ اور داخلوں کی سرگرمیاں شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔پوری دنیا کو غیرمعمولی موسمی حالات کا سامنا ہے، یوکرین میں جنگ کے نتیجے میں توانائی کا بحران جنم لے رہا ہے اور سائنسی اعدادوشمار سے واضح ہے کہ دنیا کاربن کے اخراج پر قابو پانے اور زمین کے مستقبل کو تحفظ دینے کے لیے خاطرخواہ اقدامات نہیں کر رہی۔ استوائی طوفانوں، ہریالی کے خاتمے اور سطح سمندر میں اضافے جیسے شدید موسمی واقعات کے نتیجے میں رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلی سے ممالک کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔
چونکہ ان ”قدرتی آفات” میں شدت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافے کے نتیجے میں آتی ہے جس کے زیادہ تر ذمہ دار ترقی یافتہ ممالک ہیں، اسی لیے اس تبدیلی سے بری طرح متاثر ہونے والے ترقی پذیر ممالک کا استدلال ہے کہ انہیں اس نقصان کا معاوضہ ملنا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے گزشتہ اعلیٰ سطحی ہفتے میں ڈنمارک یہ اعلان کرنے والا پہلا ملک تھا کہ وہ ایسے ترقی پذیر ممالک کو 13 ملین ڈالر دے گا جو موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
ان ادائیگیوں کے معاملے کو ”نقصان اور ازالہ” کا نام دیا جاتا ہے اور ممکنہ طور پر یہ کاپ 27 میں بات چیت کا اہم ترین موضوع ہو گا حالانکہ اسے تاحال باقاعدہ طور پر ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
گروپ آف 77 (جس میں تمام ترقی پذیر ممالک شامل ہیں) اور چین نے اسے ایجنڈے میں شامل کرنے کی بات کی ہے جس کے لیے گفت و شنید کے پہلے روز تمام ممالک کا اتفاق رائے درکار ہو گا۔
اب تک ‘نقصان اور ازالے’ کا فنڈ قائم کرنے پر بات چیت ہوتی رہی ہے لیکن اس کا کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ انسانی حقوق اور موسمیاتی امور پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ایان فرے جیسے ماہرین کو امید ہے کہ اس معاملے میں پیش رفت کی رفتار تیز ہو جائے گی اور یہ مقصد حاصل کر لیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ”بعض بڑے ترقی یافتہ ممالک کو اس پر واقعتاً تشویش ہے اور وہ اس مسئلے کو آلودگی پھیلانے والے ممالک کی ذمہ داری کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اس وقت موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثر ہونے والے اور اس کی قیمت چکانے والے ممالک کو اس تبدیلی سے ہونے والا نقصان خود بھگتنا پڑ رہا ہے۔” موسمیاتی مالیات کاپ 27 میں بھی بات چیت کا اہم موضوع ہو گا۔ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مالی وسائل مہیا کرنے کے حوالے سے بہت سی بات چیت پہلے ہی ایجنڈے کا حصہ ہے اور ترقی پذیر ممالک ترقی یافتہ ممالک سے پُرزور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ان کے لیے خاطرخواہ اور مناسب مالی مدد یقینی بنائیں۔ ان میں خاص طور پر ایسے ممالک شامل ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے سامنے انتہائی غیرمحفوظ ہیں۔
اس موقع پر غالباً ہم ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے سالانہ 100 بلین ڈالر مہیا کرنے کے وعدے کے بارے میں بہت کچھ سنیں گے جو تاحال پورا نہیں ہوا۔ 2009 میں کوپن ہیگن میں امیر ممالک نے کم آمدنی والے ممالک کو سالانہ بنیادوں پر یہ رقم دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہدف پورا نہیں ہو سکا۔ ماہرین کو توقع ہے کہ کاپ 27 میں بالاآخر 2023 میں اس وعدے کو حقیقت کا روپ مل جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ گرین ہاؤس گیسیں خارج کرنے والے بڑے ممالک سامنے آئیں اور کہیں کہ ”ہمیں کچھ کرنا ہے، ہمیں غیرمحفوظ ممالک کو تحفظ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔”یوکرین پر روس کے حملے سے دنیا بھر میں مہنگائی بڑھی ہے اور توانائی، خوراک اور تجارتی اشیا کی ترسیل کا بحران پیدا ہوا ہے۔ جرمنی جیسے ممالک مختصر مدت کے لیے اپنے موسمیاتی اہداف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں جبکہ گلاسگو میں اعلان کردہ اپنی نوعیت کا پہلا چین۔امریکہ کلائمیٹ ورکنگ گروپ اب معطل ہو چکا ہے۔
کاپ 27 میں ممکنہ طور پر ایسے وعدوں اور عزائم کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ دکھائی دے گی جو بعض ممالک نے گزشتہ برس کیے تھے۔ پرتگال قابل تجدید توانائی پر 100 فیصد اںحصار کی جانب بڑھ رہا ہے اور ڈنمارک بھی یہی کچھ کر رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس سے دوسرے ممالک کو بھی قابل تجدید توانائی اپنانے اور توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہونے کی تحریک ملے گی۔”اس کانفرنس کا مرکزی اجلاس 6 تا 18 نومبر شرم الشیخ انٹرنیشنل کنونشن سنٹر میں منعقد ہو گا۔
اب تک حکومتوں، کاروباروں، این جی اوز اور سول سوسائٹی کی نمائندگی کرنے والے 30 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اس میں شرکت کے لیے اپنے نام لکھوائے ہیں۔
‘یو این ایف سی سی سی’ معاہدے کے 197 فریقین کو اکٹھے بات چیت کے لیے عموماً گروہوں یا ‘بلاکس’ میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں جی77 اور چین، افریقہ گروپ، کم ترین ترقی یافتہ ممالک، امبریلا فورم، چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک اور لاطینی امریکہ اور غرب الہند کا آزاد اتحاد جیسے بلاک شامل ہیں۔
اس موقع پر ہونے والی بات چیت میں مشاہدہ کار بھی شامل ہوتے ہیں جن کا اگرچہ گفت و شنید میں کوئی رسمی کردار نہیں ہوتا لیکن وہ اس میں مداخلت کر سکتے ہیں اور شفافیت برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ مشاہدہ کاروں میں اقوام متحدہ کے ادارے، بین الحکومتی ادارے، این جی اوز، مذہبی گروہ اور صحافی شامل ہیں۔
کانفرنس میں ہونے والی باقاعدہ بات چیت کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں دیگر پروگرام بھی ہوں گے جنہیں موضوعاتی اعتبار سے مختلف ایام میں منعقد کرایا جائے گا۔
اس سال کے موضوعات میں مالیات، سائنس، نوجوان اور آئندہ نسلیں، ازالہ کاربن، مطابقت پذیری اور زراعت، صنف، پانی، اے سی ای اور سول سوسائٹی، توانائی، حیاتی تنوع اور مسائل کا حل (اس سی او پی میں نیا موضوع) شامل ہیں۔
حسب معمول یہ کانفرنس دو حصوں میں منعقد ہو گی جنہیں بلیو زون اور گرین زون کا نام دیا گیا ہے اور اس سال یہ ایک دوسرے مقابل واقع ہیں۔
بلیو زون اقوام متحدہ کے زیرانتظام جگہ ہے جہاں ممالک کے مابین بات چیت اور مذاکرات ہوں گے اور اس میں داخلے کے خواہش مند ہر شخص کے پاس ‘یو این ایف سی سی سی’ کا جاری کردہ اجازت نامہ ہونا چاہیے۔
اِس سال بلیو زون میں 156 پویلین بنائے جائیں گے جو کہ گلاسگو سے دو گنا زیادہ تعداد ہے۔ یہ پویلین اقوام متحدہ کے بہت سے اداروں، دنیا بھر کے ممالک اور خطوں کی نمائندگی کریں گے جبکہ پہلی مرتبہ نوجوانوں اور زرعی خوراک کے پویلین بھی بنائے گئے ہیں۔
گرین زون کا انتظام مصر کی حکومت کے ہاتھ میں ہو گا اور اس میں وہ تمام عام لوگ آ سکیں گے جنہوں ںے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے اپنا نام لکھوا رکھا ہے۔ اس حصے میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات پر بات چیت، آگاہی، تعلیم اور وعدوں کے بارے میں اجلاس، نمائشوں، ورکشاپوں اور بات چیت کا انعقاد ہو گا۔
کانفرنس کی صدارت کے مطابق گرین زون ایک ایسا پلیٹ فارم ہو گا جہاں دنیا بھر سے کاروباری طبقہ، نوجوان، سول سوسائٹی اور مقامی لوگ، ماہرین علم، فنکار اور فیشن کے شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی آرا کا اظہار کر سکیں گے اور ان کی بات سنی جائے گی۔
اِس سال گرین زون میں ایک خصوصی “احتجاجی زون” اور بہت بڑا بیرون خانہ لاؤنج اور ٹیرس بھی ہو گا۔
کاپ 27 کی مصری صدارت اس وعدے اور گزشتہ تمام کاپ میں کیے گئے عزائم اور وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ رکھتی ہے
پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے بعد 20لاکھ سے زائد بچے اب بھی اپنے اسکولوں کی بحالی کے منتظر ہیں ۔ ملک کی تاریخ کے بدترین سیلاب نے تقریباً 27 ہزار اسکولوں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچایا ہے۔ یونیسف کے گلوبل ڈائریکٹر آف ایجوکیشن رابرٹ جینکنز نےبتایا ، ’’پاکستان کے لاکھوں بچے راتوں رات انتہائی تکلیف دہ حالات میں اپنے خاندان کے افراد، گھروں، ذاتی تحفظ اور تعلیم کی سہولت سے محروم ہو گئے۔ اب انہیں ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے کہ وہ اسکول واپس آسکیں گے یا نہیں ، حالانکہ وبائی مرض کی وجہ انہیں اسکولوں کی جس بندش کا سامنا کرنا پڑا وہ دنیا کی طویل ترین بندشوں میں سے ایک تھی ،اور اب ان کے مستقبل کو مزید خطرات کا سامنا ہے ۔‘‘
پاکستان کے اکثر علاقوں کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے کے دو ماہ بعد اب سیلابی پانی میں ڈوبے اسکولوں کی چھتوں کے کچھ حصے نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اندازوں کے مطابق سیلابی پانی کو مکمل طور پر اترنے میں اب بھی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔
تعلیم و تربیت کے علاوہ اسکول بچوں کو صحت کی دیکھ بھال، نفسیاتی مدد، اور حفاظتی ٹیکوں تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اسکولوں کی بندش کے دورانیے میں اضافہ سے ، بچوں کے تعلیم ترک کرنے کا خطرہ بڑھ جائے گا، جس سے مزدوری اور کم عمری کی شادیوں پر مجبور ہونے کے علاوہ استحصال اور بدسلوکی کے امکانات میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔
سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع پہلے ہی پاکستان کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار علاقوں میں سے ہیں۔ موجودہ ہنگامی صورت حال سے قبل بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایک تہائی لڑکے اور لڑکیاں اسکولوں سے باہر تھے اور 50 فیصد بچے غذائی کمی کا شکار تھے۔ طویل عرصے تک اسکولوں کی بندش سے ان محرومیوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
وبائی مرض کے عروج کے دوران بھی ، پاکستان بھر میں اسکولوں کو مارچ 2020 اور مارچ 2022 کے درمیان مکمل یا جزوی طور پر 64 ہفتوں کے لئے بند کردیا گیا تھا ۔ اب چھ ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد، شدید سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی کی بدولت اسکولوں کے بچے ایک بار پھر تعلیم سے محروم ہوگئے ہیں۔ بجلی اور انٹرنیٹ کنیکٹوٹی سمیت بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے شدید نقصان نے ریموٹ لرننگ کو بھی بڑی حد تک ناقابل رسائی بنا دیا ہے۔
اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے یونیسف نے ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں 500 سے زائد عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں اور اساتذہ اور بچوں کو تعلیم کی فراہمی شروع کردی ہے۔ بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے فروغ کے لیے یونیسف اساتذہ کو نفسیاتی نگہداشت اور صحت کی نگرانی کی تربیت دے رہا ہے اور ان اسکولوں میں جن کی صفائی اور بحالی کا عمل مکمل ہوگیا ہے ، ان میں ’اسکول واپسی ‘ اور داخلوں کی سرگرمیاں شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔
رابرٹ جینکنز کا مزید کہنا ہے کہ ’’ جن بچوں نے پہلے کبھی داخلہ نہیں لیا ، یونیسف کے قائم کیے ہوئے اسکول ان کے لیے تعلیم کا پہلا تجربہ ہیں۔ ہم ایسے تمام اقدامات اٹھائیں گے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ جب بچے اپنے گھروں کو واپس آئیں تو وہ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیں۔‘‘









