وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ کرغزستان مکمل , خطے میں پائیدار امن کا عزم
( اصغر علی مبارک )
پاکستان اس وقت عالمی محاذ پر ایک انتہائی متحرک، جامع اور دور رس خارجہ پالیسی کے ساتھ ابھر رہا ہے، جس کا واضع ثبوت حالیہ دنوں میں ہونے والی تیز رفتار سفارتی کامیابیاں ہیں。 وزارتِ خارجہ پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کے باعث، ملک کا روایتی بیانیے جیو-پولیٹکس (خطے کی سیاست) سے بدل کر جیو-اکنامکس (علاقائی معیشت اور روابط) پر استوار ہو چکا ہے。 شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) پلس سمٹ کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دورہِ بشکیک اس نئے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے، جہاں پاکستان نے نہ صرف کرغزستان کے ساتھ تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری کے متعدد تاریخی معاہدوں پر دستخط کیے، بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کی باقاعدہ صدارت بھی سنبھال لی。 پاکستان اگلے سال ‘ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ’ کے تاریخی اجلاس کی میزبانی کرے گا، اور اس صدارت کو “Turning Vision into Action: Connectivity, Innovation and Shared Prosperity” کے انقلابی تھیم کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس کا مقصد چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے بنیادی ڈھانچے اور گوادر پورٹ کو وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے قریبی تجارتی گزرگاہ کے طور پر فعال کرنا ہے。پاکستان کی اس متحرک سفارت کاری کا دوسرا بڑا ستون مسلم امہ کے درمیان اتحاد اور دفاعی خود انحصاری ہے، جس کی عکاسی 31 اگست 2026ء کو استنبول میں ہونے والے ‘معاہدہ مکہ مشترکہ دفاع’ کے تحت قائم کردہ اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے افتتاحی اجلاس سے ہوتی ہے。 پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اس سہ فریقی دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب میں ایک مستقل سیکرٹریٹ قائم کیا جا رہا ہے، جس کی ابتدائی تین سال کے لیے قیادت پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیکرٹری جنرل کریں گے، جو کہ پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت پر برادر ممالک کے پختہ اعتماد کا عکاس ہے。 اس کے ساتھ ہی، مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ-ایران کشیدگی کو ختم کرنے اور اسٹریٹجک آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ بحال کرانے کے لیے پاکستان کا مصالحتی کردار انتہائی کلیدی رہا ہے。 گزشتہ ہفتے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (چیف آف آرمی اسٹاف/ چیف آف ڈیفنس فورسز) کا دورہِ ایران اور تہران و واشنگٹن کے درمیان فاصلے مٹانے کی مخلصانہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام آباد خطے میں کسی بھی فوجی تعطل کو توڑنے کے لیے سب سے قابلِ اعتماد ثالث ہے، اور اس کا ثبوت دورہِ تہران کے فوراً بعد عمان اور قطر کے اعلیٰ سطحی سفارتی وفود کا متحرک ہونا ہےبین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور اپنے جغرافیائی و آبی حقوق کے تحفظ کے محاذ پر بھی پاکستان کی قانونی سفارت کاری نے دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت (PCA) سے ایک بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے。 عدالت نے سندھ طاس معاہدے (IWT) کو معطل کرنے کی یکطرفہ بھارتی کوشش کو یکسر مسترد کرتے ہوئے توثیق کی ہے کہ یہ معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے اصولی اور قانونی مؤقف کو مکمل طور پر سچا ثابت کیا ہے。 پاکستان کا ہمیشہ سے یہ پختہ مؤقف رہا ہے کہ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں سرحد پار پانی کے انتظام میں کسی بھی قسم کا یکطرفہ طرزِ عمل امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہے، اور بھارت کو ہر حال میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی。 اس کے ساتھ ہی، پاکستان مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت، بالخصوص یاسین ملک کے خلاف بھارتی عدالتوں کے یکطرفہ اور انصاف کے منافی مقدمات کو عالمی اور کثیرالجہتی فورمز پر مستقل بنیادوں پر اٹھانے کے اپنے عزم پر قائم ہے。 ان تمام خطوط پر مبنی کامیاب خارجہ پالیسی ثابت کرتی ہے کہ اسلام آباد ٹاکس، معاہدہ مکہ، اور ایس سی او کی صدارت پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی ساکھ اور امن پسندی کا بین ثبوت ہیں، جس کا اعتراف آج دنیا کے سینئر ترین سفارت کار بھی کھل کر رہے ہیں。 وزارت خارجہ پاکستان کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے اپنی الوداعی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران علاقائی سلامتی، امریکہ ایران تنازع، سندھ طاس معاہدے پر بھارتی ہٹ دھرمی اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت کے خلاف سیاسی انتقام پر پاکستان کا تفصیلی اور دوٹوک مؤقف پیش کیا ہے جبکہ اس موقع پر انہوں نے نئے نامزد ترجمان سفیر سجاد حیدر خان کا باضابطہ تعارف بھی کروایا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اس وقت بشکیک (کرغزستان) میں موجود ہیں جہاں وہ صدر صادر جباروف کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی مذاکرات کر رہے ہیں اور تجارت، معیشت، صنعت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں کئی اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں جبکہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی سربراہی باضابطہ طور پر سنبھال لی ہے، جس کے تحت پاکستان اگلے سال ‘ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ’ کے اجلاس کی میزبانی “Turning Vision into Action: Connectivity, Innovation and Shared Prosperity” کے تھیم کے تحت کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 31 اگست 2026ء کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے ‘معاہدہ مکہ مشترکہ دفاع’ کے تحت قائم کردہ اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا افتتاحی اجلاس استنبول میں منعقد ہوا جہاں تعاون کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سعودی عرب میں ایک سیکرٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کی ابتدائی تین سال کے لیے قیادت پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیکرٹری جنرل کریں گے اور یہ تینوں ممالک دفاعی صنعت، مشترکہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور پیداوار کو گہرا کریں گے۔امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مسلح حملوں اور جوابی کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو مردہ یا غیر مؤثر قرار دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ امن کا فریم ورک اب بھی پوری طرح موجود ہے اور پاکستان پرامید ہے کہ فریقین بالآخر مذاکرات کی طرف واپس آئیں گے، لہذا موجودہ کشیدگی کو پاکستان کی سفارتی کوششوں کی ناکامی قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ پاکستان اس تنازع کے پرامن حل کے لیے مکمل خلوص کے ساتھ امن عمل میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فینڈ مارشل سید عاصم منیر (چیف آف آرمی اسٹاف/ چیف آف ڈیفنس فورسز) کا گزشتہ ہفتے دورہ ایران اسی سفارتی سلسلے کی کڑی تھا تاکہ امریکہ-ایران تنازع کا خاتمہ کرایا جا سکے اور اسٹریٹجک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کو تیز کیا جا سکے کیونکہ 25 اگست کو سی ڈی ایف کے دورہ تہران نے اس عمل کو زبردست رفتار دی جس کے فوراً بعد عمان اور قطر کے اعلیٰ سطحی وفود نے بھی دورے کیے۔سندھ طاس معاہدے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ 1 ستمبر 2026ء کو دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت (PCA) نے توثیق کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ (IWT) مکمل طور پر فعال اور فریقین پر پابند ہے اور عدالت نے معاہدے کو معطل کرنے کی بھارتی یکطرفہ کوشش کو یکسر مسترد کر دیا ہے، لہذا بھارت کی جانب سے ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد کرنا سندھ طاس معاہدے کے تحت اس کی ذمہ داریوں کو ختم نہیں کرسکتا اور بھارت کو بین الاقوامی قانون کی پابندی ہر حال میں کرنا ہوگی کیونکہ بھارت کا طرزِ عمل معاہدوں کی پاسداری اور عالمی تنازعات کے طے شدہ نظام پر اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے اور جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں سرحد پار پانی کے انتظام میں یکطرفہ طرزِ عمل امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے پاکستان مطالبہ کرتا ہے کہ بھارت فوری طور پر معاہدے پر عملدرآمد کی طرف واپس آئے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کے خلاف بھارتی عدالتوں کے یکطرفہ مقدمات اور سزا کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یاسین ملک کے خلاف مقدمہ انصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی تھا اور پاکستان یاسین ملک کا معاملہ بین الاقوامی اور کثیرالجہتی فورمز پر اٹھاتا رہے گا اور عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ اس کا نوٹس لے، جبکہ پاکستان یاسین ملک کی صحت اور طویل زندگی کے لیے دعاگو ہے اور قائدِ تحریکِ آزادیِ کشمیر سید علی گیلانی مرحوم ہمیشہ ہماری دعاؤں میں موجود ہیں۔ پریس بریفنگ کے اختتام پر طاہر حسین اندرابی نے سفیر سجاد حیدر خان کا تعارف کروایا جو اب ترجمان دفتر خارجہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور انہوں نے اپنے دورِ ملازمت میں تعاون پر تمام سفارتی صحافیوں اور میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کیا۔ وزارت خارجہ پاکستان(MoFA) میں آفس آف دی اسپوکس پرسن کی جانب سے ایک پروقار تقریب اور الوداعی ظہرانے کا اہتمام کیا گیا جس کی میزبانی سفیر طاہر حسین اندرابی نے کی۔
یہ تقریب وزارت خارجہ اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے فوراً بعد منعقد کی گئی، جس کا بنیادی مقصد نومنتخب ترجمان دفتر خارجہ عزت مآب سفیر سجاد حیدر کا باضابطہ تعارف کروانا تھا۔اس اعلیٰ سطحی تقریب میں ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹس فورم پاکستان (DCFP) کی مرکزی قیادت نے شرکت کی، جس میں بانی صدر اصغر علی مبارک، سیکرٹری پرویز مغل، سید مجتبیٰ رضوان، نسیم الغنی، نیئر علی، عبدالرزاق بھٹی، باقر سجاد سید اور دیگر سینئر سفارتی صحافی شامل تھے۔
بریفنگ کے بعد منعقدہ اس نشست کے دوران، فورم کے عہدیداران نے نئے ترجمان سفیر سجاد حیدر کو گلدستہ پیش کیا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی ایف پی کے بانی صدر اصغر علی مبارک نے پاکستان کے کہنہ مشق سفارتی کور کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ “عالمی سطح پر پاکستان کی شاندار سفارتی کامیابیوں کے پیچھے دفتر خارجہ کے تجربہ کار اور انتھک محنت کرنے والے افسران کی مہارت اور محنت کا ہاتھ ہے۔
“اصغر علی مبارک نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی نے عالمی امن اور علاقائی استحکام کے لیے تاریخی کاوشیں کی ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اسلام آباد ٹاکس، معاہدہ مکہ، اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں پاکستان کی فعال قیادت جیسے اہم سنگِ میل ملک کی کامیاب ترین سفارت کاری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہوں نے نئے ترجمان سفیر سجاد حیدر کو قومی مفادات کے تحفظ اور عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت چہرہ اجاگر کرنے کے لیے میڈیا کے بھرپور اور مسلسل تعاون کا یقین دلایا۔
سبکدوش ہونے والے ترجمان سفیر طاہر حسین اندرابی نے اپنے الوداعی خطاب میں پاکستانی سفارتی نامہ نگاروں کے پیشہ ورانہ کردار اور ذمہ دارانہ صحافت کو سراہا۔
امریکہ میں ہونے والی ایک حالیہ بین الاقوامی تقریب کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر طاہر اندرابی نے بتایا کہ عالمی سطح کے سینئر سفارت کاروں نے پاکستان کی امن کوششوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی مبصرین کے مطابق “پاکستان نے عالمی امن کے قیام اور خطے میں استحکام کے لیے جو عملی اور کلیدی اقدامات کیے ہیں، وہ بعض اوقات اقوام متحدہ (UN) بھی تنہا کرنے میں لاچار رہی ہے۔
“تقریب کے اختتام پر، دونوں ترجمانانِ دفتر خارجہ (سفیر طاہر حسین اندرابی اور سفیر سجاد حیدر) نے وزارت خارجہ کے بیٹ رپورٹرز، سینئر سفارتی صحافیوں اور ٹی وی اینکرز کے ہمراہ ایک یادگار گروپ فوٹو بنوایا تاکہ اس اہم ادارہ جاتی منتقلی کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ کرغزستان مکمل ہو گیا ہے، جس کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ دورے کے دوران کرغز قیادت کے ساتھ انتہائی مثبت ملاقاتیں ہوئیں اور دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے پر کامل اتفاق رائے ہوا۔انہوں نے کہا کہ میں نے باہمی تجارت کو موجودہ سولہ ملین ڈالر کے محدود حجم سے بڑھانے کی تجویز پیش کی تھی جس سے کرغز صدر نے مکمل اتفاق کیا اور اب دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو دو سو ملین یعنی بیس کروڑ ڈالر تک لے جانے کے تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس پر میں کرغزستان کی قیادت کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔ دورے کے اختتام پر پاکستان اور کرغزستان کی جانب سے ایک جامع مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے جس میں دوطرفہ تجارتی حجم کو بیس کروڑ ڈالر تک پہنچانے کے لیے ایک منظم اور جامع پلان تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، توانائی، کان کنی، زراعت، خوراک، ٹیکسٹائل اور ادویہ سازی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ورچوئل اثاثوں کے جدید شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کے ساتھ ساتھ ٹرانزٹ تجارت کے اہم معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے ہیں، جس کے تحت پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے کرغزستان کے لیے تجارتی اور ترسیل کے مواقع بڑھائے جائیں گے۔ مشترکہ اعلامیے میں بجلی، پن بجلی، قابلِ تجدید توانائی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور طبی تعلیم کے شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دستخط کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ قانونی اور سیکیورٹی معاملات کے حوالے سے دونوں ممالک نے قیدیوں کی تبادلے اور فوجداری مقدمات میں باہمی قانونی معاونت کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جبکہ دفاعی شعبے میں تعلقات اور متعلقہ اداروں کے روابط کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور اور اوش کے شہروں کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات کے قیام کا معاہدہ بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ اعلامیے میں عالمی اور علاقائی امور پر بات کرتے ہوئے دونوں ممالک نے عالمی تنازعات کے پرامن حل اور کسی بھی قسم کے یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنے پر زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے کرغزستان کے عالمی ماحولیاتی اور پہاڑی خطوں کی ترقی کے ایجنڈے کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے۔ اس دورے کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے معاشی اور سفارتی تعلقات میں ایک نیا اور مضبوط باب شامل ہوگا جس سے عام شہریوں اور کاروباری طبقے کو براہِ راست فائدے حاصل ہوں گے۔