وزیراعظم شہباز شریف متاثرین سیلاب کیلئے کاوشوں پر عالمی کانفرنس میں مرکز نگاہ…………..(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)………………………..شرم الشیخ، مصر میں جاری موسمیاتی تبدیلیوں کی عالمی کاپ 27 سربراہی کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف پاکستان میں سیلاب اور متاثرین کی مدد کے لئے کاوشوں پر مرکز نگاہ بن گئےہیں,سربراہی اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیث اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے بچاؤ کے لیے بھرپور تعاون پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیث نے دو طرفہ تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم کی جانب سے عرب لیگ کے چارٹر اور اس کے حصول کے لیے سیکریٹری جنرل کے عزم کی تعریف کی۔ متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کی فراخ دلانہ امداد پر یو اے ای کی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کاپ 27 کے عزم کو نیک شگون قرار دیا۔
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنا تنہا ترقی پزیر ممالک کے بس میں نہیں۔ عالمی برادری کو مل کر کرہ ارض کی بقا کا مشترکہ چارٹر بنانا ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کاپ 27 کانفرنس کے اغراضِ ومقاصد کے لیے عالمی برادری بالخصوص اسلامی دنیا کے عزم کا خیرمقدم کیا۔
دونوں راہنماؤں نے باہمی مفاد کے مشترکہ مقاصد کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
دریں اثنا شرم الشیخ کلائمیٹ امپلی منٹیشن کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں پہنچنے پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتیرس نے وزیر اعظم شہبازشریف کا استقبال کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم کی اہم شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں، جن میں عراقی صدر عبداللطیف راشد، تاجک صدر امام علی رحمن، انڈونیشیائی صدر جوکو ویدودو اور لبنانی وزیراعظم نجیب میکاتی شامل ہیں۔ .پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہےکلائمیٹ چینج یا آب و ہوا میں تبدیلی کے بارے میں اقوام متحدہ کی عالمی کانفرنس مصر میں شروع ہے جہاں عالمی رہنما دنیا کو درپیش آب و ہوا میں تبدیلی کے مسئلے پرگفت و شنید کریں گے۔.شرم الشیخ، مصر میں جاری موسمیاتی تبدیلیوں کی عالمی کاپ 27 سربراہی کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف پاکستان میں سیلاب اور متاثرین کی مدد کے لئے کاوشوں پر مرکز نگاہ رہے ہیں عالمی راہنماؤں نے وزیراعظم کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں مسلسل موجودگی کو غیرمعمولی جذبہ قرار دیاوزیراعظم شہباز شریف کی کاپ 27 سربراہی کانفرنس کے موقع پر شرم الشیخ انٹرنیشنل کانگریس سینٹر میں اہم عالمی رہنماؤںعراق کے صدر عبداللطیف راشد، تاجکستان کے صدر امام علی رحمن، انڈونیشیا کے نائب صدر معروف امین لبنان کے وزیراعظم نجیب میکاتی نے الگ الگ ملاقات کی غیرملکی راہنماؤں نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں اور جانی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا سربراہی اجلاس اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی27 ویں کانفرنس (COP-27) کے ایک حصے کے طور پر ہو رہا ہے۔ کوپ۔ 27کی مصری صدارت کی دعوت پر، وزیر اعظم 8 نومبر 2022 کو اپنے نارویجن ہم منصب کے ساتھ ”کلائمیٹ چینج اینڈ سسٹین ابیبلٹی آف ولنرایبل کمیونٹیز” پر ایک اعلی سطحی گول میز مباحثے کی شریک صدارت بھی کریں گے۔گزشتہ 8 سال دنیا کی تاریخ کے گرم ترین سال ثابت ہوئے ہیں جس سے عالمی سطح پر درجہ حرارت میں ڈرامائی اضافے کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ بات اقوام متحدہ کی جانب سے مصر میں شروع ہونے والی کوپ 27 کلائمیٹ کانفرنس کے آغاز کے موقع پر جاری رپورٹ میں بتائی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سمندروں کی سطح میں اضافے، گلیشیئر پگھلنے، طوفانی بارشوں، ہیٹ ویوز اور دیگر قدرتی آفات میں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق زمین کا درجہ حرارت 19 ویں صدی کے اختتام کے مقابلے میں 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے اور 50 فیصد اضافہ گزشتہ 30 برسوں میں ہوا ہے۔اس کانفرنس میں 197 ممالک کے وفود شرکت کررہے ہیں تاکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے ہدف کے حصول کے حوالے سے مشاورت کی جاسکے۔ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کی مرتب کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سمندری پانی کا درجہ حرارت 2021 میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا تھا جبکہ بحری ہیٹ ویوز کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔مجموعی طور پر سمندری سطح کے 55 فیصد حصے کو 2022 میں کم از کم ایک بار ہیٹ ویو کا سامنا ہوا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گلیشیئرز اور برفانی پرت پگھلنے سے سمندروں کی سطح میں اضافے کی رفتار میں گزشتہ 30 برسوں میں دوگنا اضافہ ہوا جس سے مختلف ساحلی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ڈبلیو ایم او کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بننے والی گرین ہاؤس گیسز کا اخراج ریکارڈ سطح پر ہورہا ہے۔ڈبلیو ایم او کے سربراہ Petteri Taalas نے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک کو بھی موسمیاتی خطرات کا سامنا ہورہا ہے جیسے 2022 کے دوران یورپ کے بیشتر حصوں کو ہیٹ ویوز اور خشک سالی کا سامنا ہوا۔
1992 میں اقوام متحدہ نے برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ارضی کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا جس میں موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کی منظوری دی گئی اور اس حوالے سے رابطہ دفتر قائم کیا گیا جسے یو این کلائمیٹ چینج سیکرٹریٹ کا نام دیا گیا۔1994 کے بعد سے ہر سال اس حوالے سے عالمی کانفرنس ہورہی ہے اور کوپ بنیادی طور پر کانفرنس آف پارٹیز کا مخفف ہے۔اب تک ہونے والے ان اجلاسوں میں دنیا بھر کے ممالک نے بنیادی معاہدے کو بہتر بنانے پر مشاورت کی ہے تاکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو قانونی طور پر روکا جا سکے۔ 1997 میں طے پانے والا کیوٹو پروٹوکول اور 2015 کے پیرس معاہدے میں دنیا کے تمام ممالک نے عالمی درجہ حرارت کو قبل از صنعتی دور کے زمینی درجہ حرارت کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد میں رکھنے کی کوشش کرنے اور ایسا ممکن بنانے سمیت موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مالی وسائل مہیا کرنے کی کوششوں میں اضافے پر اتفاق کیا تھا۔اس سال ایسی 27ویں سالانہ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے اسی لیے اسے کوپ 27 کا نام دیا گیا ہے۔




وزیر اعظم اعلی سطحی تقاریب بشمول اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ایگزیکٹیو ایکشن پلان کے ابتدائی وارننگ سسٹمز کے آغاز کے لیے گول میز اجلاس میں بطور سپیکر شرکت کریں گے جبکہ 7 نومبر کو “مڈل ایسٹ گرین انیشیٹو سمٹ”؛ جس کی میزبانی سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کر رہے ہیں میں بھی شرکت کریں گے ۔ وزیر اعظم سمٹ کی سائیڈ لائنز پر کئی عالمی رہنمائوں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔کوپ-27 ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب پاکستان کے لاکھوں شہری اور دنیا کے دیگر حصوں میں کروڑوں افراد ماحولیاتی تبدیلی کے شدید منفی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس رجحان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ایک ترقی پذیر ملک کے طور پر، پاکستان ماحولیاتی یکجہتی اور موسمیاتی انصاف کی فوری ضرورت کے لیے ایک مضبوط کال کرے گا، جو مساوات اور مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں کے قائم کردہ اصولوں پر مبنی ہے۔ 77 گروپ کے موجودہ چیئر کی حیثیت سے، جو کہ اقوام متحدہ کے نظام میں ترقی پذیر ممالک کا سب سے بڑا مذاکراتی بلاک ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے مذاکرات بشمول موضوعاتی شعبوں جیسے کہ موسمیاتی مالیات، موافقت، تخفیف، اور صلاحیت کی تعمیر میں گروپ کی قیادت بھی کرے گا۔
کوپ -27اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج کانفرنس(یو این ایف سی سی سی ) کے تحت فیصلہ سازی کا سب سے بڑا ادارہ ہے، جو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کا جائزہ لینے اور آگے بڑھانے کے لیے سالانہ بنیادوں پر اجلاس منعقد کرتا ہے۔ ایک اہم سٹیک ہولڈر کے طور پر، پاکستان عالمی ماحولیاتی تبدیلی پر بحث، مذاکرات اور اجتماعی کارروائی میں مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔
شرم الشیخ میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں دو سو سے زیادہ حکومتوں کو دعوت دی گئی ہے یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گذشتہ ایک برس کے دوران دنیا میں کئی قدرتی آفات آئیں اور کئی ملکوں میں بلند ترین درجۂ حرارت کے پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ کلائمیٹ چینج کے موضوع پراقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک سربراہی کانفرنس ہر سال منعقد کی جاتی ہے جس کا مقصد رکن ممالک کی حکومتوں کے مابین ان اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جس سے بڑھتی ہوئی عالمی حدت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اس کانفرنس کو ’سی او پی‘ یا ’کانفرنس آف دی پارٹیز‘ یا کوپ کہا جاتا ہے۔ یہاں پارٹیز سے مراد وہ ممالک ہیں جو کانفرنس میں شریک ہوتے ہیں اور جنھوں نے آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے سنہ 1992 کے پہلے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔ مصر میں ہونے والی اس کانفرنس کو ’کوپ 27‘ کہا جا رہا ہے کیونکہ یہ اس موضوع پر اقوام متحدہ کی 27ویں کانفرنس ہے۔ یہ کانفرنس شرم الشیخ کے مقام پر 6 سے 18 نومبر تک منعقد ہو گی۔ رواں سال 14جون کو شروع ہونے والی مون سون بارشوں نے پاکستان میں ملکی تاریخ کی بدترین تباہی مچاہی ہے سیلاب سے ملک بھر میں 320 دکانیں اور 139 بڑی مارکیٹیں تباہ ہو گئیں، ملک بھر میں بارش اور سیلاب سے ہلاک اور متاثر ہونے والے مویشیوں کی تعداد 15 لاکھ سے زیادہ ہے اعداد وشمار کے مطابق بارش اور سیلاب کے باعث ملک بھر میں تقریباً 2 کروڑ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں، نومبر 2021 میں کہا تھا کہ عالمی تھنک ٹینک ’جرمن واچ‘ نے ایک رپورٹ میں فلپائن اور ہیٹی کے بعد پاکستان دنیا میں موسمی حالات کی وجہ سے آنے والی قدرتی آفات سے سب سے زیادہ اور مستقل طور پر متاثر ملک ہے۔اور اس کے بعددنیا نے دیکھا کہ سیلاب کی وجہ سے کتنا نقصان ہوا۔عالمی تھنک ٹینک ’جرمن واچ‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں 2000 سے 2019 تک دو دہائیوں کے دوران شدید نوعیت کے موسمی حالات اور قدرتی آفات کا جائزہ لیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ اس مدت کے دوران عالمی معیشت کو 2.56 کھرب امریکی ڈالرز کا نقصان پہنچا لیکن پاکستان کا حالیہ سیلاب اس سے بڑی تباہی ہے۔ گلوبل کلائمیٹ انڈیکس میں آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں بڑے ملک پاکستان کو عالمی تنظیموں کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ممالک کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر رکھا گیا تھالیکن افسوس حکومت پاکستان نے اس پیش گوئی کو نظر انداز کر دیا۔20 سالوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے 174 قدرتی آفات رونما ہوئی ہیں۔حالیہ سیلاب 2022 سے پہلےموسمیاتی تبدیلیوں کے ماہرین پاکستان میں موسمی حالات کے سبب آنے والی قدرتی آفات میں سے سیلاب کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتے تھےاور ان کی پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی,2010 میں آنے والے سیلاب جسے ’پاکستان سپر فلڈ 2010‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے ساتھ پاکستانی معشیت کو بھی شدید نقصان پہنچایا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق 2010 کے سیلاب سے پنجاب کے 80 لاکھ افراد متاثر ہونے کے ساتھ صوبے کو 900 ملین روپے کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مون سون بارشوں میں شدت آتی جا رہی ہے اور 2010 کے بعد تقریباً ہر سال پاکستان کے کسی نہ کسی علاقے میں سیلاب آتا رہا ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیشگی اندازہ نہ لگائے جانے اور مون سون کی شدید بارشوں اور گلوبل وارمنگ کے باعث پگھلتے گلیشیئرز پاکستان میں شدید سیلابوں کا باعث بن رہے ہیں۔موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والی آفات میں سے ایک سیلاب پاکستان کے لیے سب سے بڑا یا نمبر ون خطرہ بن گیا ۔پاکستان کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی (این ڈی ایم اے) کے اعداد و شمار کے مطابق بارشوں کے باعث 588 بچوں اور 332 خواتین سمیت 1638 افراد ہلاک اور 12 ہزار 865 زخمی ہوئےاکستان میں 14 جون سے موثر ہونے والی مون سون بارشوں سے ہونے والی آفات میں جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد 1638 ہے۔بارشوں کے باعث جہاں 2 ملین 49 ہزار 482 مکانات کو نقصان پہنچا اور ان میں سے 8 لاکھ 24 ہزار 169 مکمل طور پر تباہ ہو گئے وہیں 13 ہزار 74 کلومیٹر سڑکیں اور 392 پل تباہ ہو گئے۔بارشوں سے 33.4 ملین افراد متاثر ہوئے جبکہ 10 لاکھ 103 ہزار 800 مویشی تلف ہوگئے ہیں ۔اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں سیلاب زدہ علاقوں میں مدد کی فوری ضرورت کے طلبگار متاثرین کی تعداد دستیاب اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔حکومت پاکستان، اقوام متحدہ اور امداد کے لیے سرگرم دیگر معاون اداروں کی جانب سے ایک جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تباہ کن سیلاب کے بعد بہت سے لوگوں کو امداد کی فوری ضرورت ہے۔60 کروڑ سے 80 کروڑ ڈالر امداد پر مبنی نظرثانی شدہ ‘پاکستان فلڈ رسپانس پلان 2022’ کا جنیوا میں اجرا کیا جاگیا یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق اب تک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیلاب کے سبب چاروں صوبوں میں اب تک کم از کم 25 ہزار 993 اسکولوں کو نقصان پہنچ چکا یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق اب تک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیلاب کے سبب چاروں صوبوں میں اب تک کم از کم 25 ہزار 993 اسکولوں کو نقصان پہنچ چکا ۔اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر جولین ہارنیس نےکہا کہ سیلاب زدگان کو فوری امداد فراہم کرنے کے لیے 16 کروڑ ڈالر کی ہنگامی اپیل کے بعد ایک ماہ کے اندر 9 کروڑ ڈالر موصول ہو ئے ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت 5 ہزار سے زائد اسکولوں کو بے گھر سیلاب متاثرین کے لیے بطور پناہ گاہ استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ سیلاب کے سبب اندازاً 23 ہزار 900 اسکولوں کو نقصان پہنچا ۔پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کی نمائندہ ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا نے کہا کہ سیلاب کے سبب 2 ہزار سے زائد طبی مراکز کو نقصان پہنچاپاکستان میں یونیسیف کی نائب نمائندہ ڈاکٹر انوسا کبور نے کہا ہےکہ 23 لاکھ لوگوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں اور تقریباً 30 لاکھ لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔سیلاب کے باعث ملکی زراعت کو اب تک تقریباً 750ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ اور ملک کے طول و ارض میں سیلاب کے باعث 30 لاکھ ایکٹر ( 8300 مربع کلومیٹر) رقبے پر فصلیں تباہ ہو گئیں، این ڈی ایم اے کے مطابق رواں سال کے سیلاب نے 2004کے بدترین سیلاب کا ریکارڈ بھی توڑ دیا اور رواں سال زرعی پیداوار میں 20 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔سیلاب نے 3 لاکھ ایکٹر پر چاول، 6 لاکھ ایکڑ پر کپاس، 3 لاکھ ایکڑ پر گنے، 6 لاکھ ایکڑ پر چنے، مکئی، پھلیاں، کالی مرچ، سرچ چنے، دالوں، کو تباہ کیا۔ سرکاری اداروں کی جانب سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بارش و سیلاب نے پانچ لاکھ ٹن اسٹاک کی گئے گندم کے ذخیرے کو بھی متاثرہ کیاپاکستان کے 34اضلاع میں تقریباً 10لاکھ گھر یا تو مکمل تباہ ہو گئے یا جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں، دریائے چناب، کابل، جہلم ، سندھ اور دیگر پہاڑی نالوں سے جنم لینے والے سیلابی ریلوں نے 3500 کلومیٹر سے زائد سڑکوں اور شاہراہوں کو تباہ یا متاثر کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق سیلاب کی وجہ سے 280کے قریب چھوٹے اور بڑے پل زمین بوس ہو گئے یا سیلابی ریلوں میں بہہ گئے، تباہ ہونے والوں پلوں میں 21 ریلوے کے پل بھی شامل ہیں۔بلوچستان کے تقریباً ایک درجن کے قریب چھوٹے ڈیموں کو بھی نقصان پہنچا پانچویں مرتبہ اقوام متحدہ کی یہ کانفرنس کسی افریقی ملک میں منعقد ہو رہی ہے۔اس خطے کی حکومتوں کو امید ہے کہ یہ کانفرنس دنیا کی توجہ کلائمیٹ چینج کے ان تباہ کن اثرات کی جانب مبذول کرائے گی جو ان کے براعظم پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلی کے لحاظ سے افریقہ دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں اس کے برے اثرات سب سے زیادہ ہوں گے۔کانفرنس سے پہلے تمام رکن ممالک سے کہا گیا تھا کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے اپنے قومی منصوبے اقوام متحدہ کے پاس جمع کرائیں۔ اب تک صرف 25 ممالک نے اس پر عمل کیا ہے۔
کوپ 27 میں تین بڑے اہداف پر بات کی جائے گی:
آلودگی میں کمی
آب و ہوا میں تبدیلی سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کی تیاری میں مدد کرنا
ان اقدامات کے لیے ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنا اور مالی و تکنیکی معاونت کا بندوبست کرنا
اس کے علاوہ ان اہداف کے بارے میں بات کرنا جن پرگزشتہ کانفرنس (کوپ 26) میں اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔
قدرتی آفات سے سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ آفات سے متاثر ہونے والے ممالک کی مالی معاونت کا بندوبست کرنا۔
عالمی سطح پر ’کابن مارکیٹ‘ کا قیام کرنا جس کے تحت فضائی آلودگی کے اثرات کےعوض عالمی سطح پر مختلف مصنوعات اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
کوئلے کا استعمال کم کرنے کے وعدوں پر عمل کو مضبوط بنانا۔کانفرنس میں ترقی پذیر ممالک کی کم سے کم خواہش یہ ہوگی کہ انھیں قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے مالی مدد کی فراہمی کی بات ضرور ہو۔
اس کے علاوہ ان ممالک کی کوشش یہ بھی ہوگی کہ انہیں مالی امداد کی فراہمی کی کوئی حتمی تاریخ دے دی جائے۔
دوسری جانب، ترقی یافتہ ممالک کوشش کریں گے کہ چین، انڈیا، برازیل، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ جیسے بڑے بڑے ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ زیادہ آلودگی پیدا کرنے والا ایندھن (کوئلہ) استعمال کرنا بند کر دیں۔
اس کے علاوہ اس کانفرنس میں ان اہداف پر بھی بات ہوگی جن کا وعدہ گزشتہ برس کیا گیا تھا۔ ان میں جنگلات کا تحفظ، کوئلہ اور میتھین گیس جیسے موضوعات شامل ہیں اور امید ہے کہ اس برس مزید ممالک ان حوالوں سے اپنی رضامندی کا اظہار کر دیں گے۔
تاہم، کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ عالمی رہنماؤں نے بہت دیر کر دی ہے اور اس کانفرنس میں جس بات پر بھی چاہے اتفاق ہو جائے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ کا ہدف پھر بھی حاصل نہیں ہوگا۔ عالمی ادارے ’جرمن واچ‘ نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے جائزے پر مبنی اپنی جو رپورٹ پیش کی ہے اس کے مطابق، پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جو ان تبدیلیوں کے باعث بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ اسی طرح، برطانیہ کے موسمیاتی ادارے کی تحقیق بتاتی ہے کہ موسموں کی شدت کے پاکستان اور شمال مغربی بھارت میں ریکارڈ ٹوٹنے کے امکانات سو گنا سے بھی زیادہ ہوچکے ہیں۔ ان اداروں کی رپورٹوں اور جائزوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان کے موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے کا سلسلہ رکنے والا نہیں اور مستقبل میں ہمیں مزید قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اندریں حالات، ہماری معیشت بھی بری طرح متاثر ہوگی اور ہمیں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان بھی سہنا ہوگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے مقتدر حلقوں اور پالیسی سازوں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا منصوبہ بندی کی ہے؟ اور بین الاقوامی برادری اور عالمی ادارے اس حوالے سے ہماری کتنی اور کیسے مدد کرسکتے ہیں؟اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اپنے حالیہ دورہ¿ پاکستان کے موقع پر ملک کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گئے اور وہاں ہونے والے جانی و مالی نقصان کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ’پاکستان دوسرے ملکوں کی پیدا کردہ آلودگی سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ سیلاب سے ہونے والے نقصانات پورے کرنا اکیلے پاکستان کے وسائل سے ممکن نہیں، دنیا کی ذمہ داری ہے کہ اس مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دے۔‘ انتونیو گوتریس کا یہ بیان کئی حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے ذریعے جہاں انھوں نے ایک طرف پاکستان سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے وہیں انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کا موسمیاتی تبدیلیوں میں اتنا حصہ نہیں ہے جتنی قیمت انھیں ادا کرنا پڑرہی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک دنیا میں مختلف قسم کی آلودگیوں کے بڑھنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے ذمہ دار ہیں لیکن وہ طاقتور ہیں اس لیے ان کا ہاتھ کوئی نہیں روک سکتا۔پاکستان اگر چاہے تو دنیا کے سب سے بڑے اور اہم ادارے کے سربراہ کے مذکورہ بیان کو مختلف بین الاقوامی فورمز پر اپنے حق میں استعمال کر کے دنیا کو احساس دلانے کی کوشش کرسکتا ہے کہ ہمارے مسائل کا ایک بڑا حصہ وہ ہے جس کی بنیاد ترقی یافتہ ممالک نے رکھی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف آئندہ چند روز میں اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جارہے ہیں، انھیں چاہیے کہ وہاں اس مسئلے پر نہ صرف مذکورہ اجلاس میں بات کریں بلکہ مختلف ممالک اور حکومتوں کے سربراہوں اور ان کے نمائندوں سے ہونے والی ملاقاتوں میں بھی اس کا ذکر کریں۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ کئی اور ممالک کو بھی اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ایسے تمام ممالک اگر پاکستان کے ساتھ مل کر اس مسئلے پر ٹھیک سے آواز اٹھاتے ہیں تو بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کر کے ایک تحریک کا آغاز کیا جاسکتا ہے جس کا مختصر سا ایجنڈا یہ ہوسکتا ہے کہ دنیا کے جو بڑے ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں وہ ان ملکوں کے نقصان کی تلافی بھی کریں جو ان تبدیلیوں سے منفی طور پر متاثر ہورہے ہیں,سیلاب نے پاکستان کے بڑے حصے کو جس بری طرح متاثر کیا ہے اور اس سے جو نقصان ہوا ہے وہ اتنا زیادہ ہے کہ اس سے بحال ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں جو نقصان ہوا وہ اکتوبر 2005ءمیں آنے والے زلزلے سے ہونے والے نقصان سے زیادہ ہے۔ یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ پاکستان کی پارلیمان کے اندر اور باہر موجود تمام سیاسی قیادت اور دیگر سٹیک ہولڈرز اس حوالے سے متفق ہوں کہ پاکستان کو قدرتی آفات کے نقصانات سے بچانے کے لیے ہم نے جلد از جلد ایک جامع اور قابلِ عمل پالیسی وضع کرنی ہے تاکہ ملک کی معیشت کو ہر تھوڑے عرصے بعد لگنے والے بڑے دھچکے سے محفوظ رکھا جاسکے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آنے والی قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کے بارے میں مسلسل بین الاقوامی سطح پر بات کرنا اور مذکورہ پالیسی کی تشکیل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانا ہمارے مقتدر حلقوں کی پسند ناپسند کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ان کا فرض ہے جو انھیں چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے ادا کرنا ہی پڑے گا۔










