..وزیراعظم سرپرائز دینے; اپوزیشن تبدیلی کامزہ چکھانے کے لیےتیا ر…..(..اندر کی بات..کالم…. اصغر علی مبارک)..’’اندر کی خبر ہے کچھ نہیں ہونے جا رہا‘‘چاہتا ہوں کہ ضمیر فروشوں اور بلیک میلروں کا خاتمہ ہو، سندھ کے حالات خراب ہیں، میں وہاں ایمرجنسی لگانے کا حامی تھا، عمران خان نے میری یہ درخواست مسترد کر دی، ہمیں زبردست بجٹ پاس کرا کے عوام کے پاس جانا چاہیے وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے. کہا کہ جو نتیجہ بھی نکلے، اندر کی خبر ہے کچھ نہیں ہونے جا رہا ہے، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حقیقت ہے کہ ہمارے دور میں مہنگائی ہے، غریبوں کو وہ سہولت نہیں ملی جو ملنا چاہیے تھی، ان لوگوں نے ملک کو اتنا لوٹا کہ عمران خان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، سیاسی کفن فروش کانسٹیٹیوشن ایوینیو میں اپنے سیاسی انجام کو پہنچیں گے، میرے پاس خبر ہے کہ وہ نہیں ہونے جا رہا جو تم سوچ کر بیٹھے ہو، آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اقتدار آپ کی جھولی میں آئے گا، ایسا نہیں ہو گا۔عمران خان چھا جائیں گے، 28 مارچ کو تحریکِ عدم اعتماد پیش ہو گئی تو 3 یا 4 اپریل کو اس پر ووٹنگ ہو گی، عمران خان آخر ی اوور اور آخری بال تک ان کے ساتھ کھیلیں گے، وہ چاہتے ہیں کہ ضمیر فروشوں اور بلیک میلروں کا خاتمہ ہو، حکومت کو زبردست بجٹ پاس کرا کر عوام کے پاس جانا چاہیے۔ نواز شریف کی کسی آرمی چیف سے نہیں بنی، حالانکہ وہ جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 کی پیداوار ہیں، بلاول صاحب! آپ نے حمید گل کا ذکر کیا، وہ تو نواز شریف کے ٹکٹ دیا کرتے تھے، میں نے حمید گل سے الیکشن کا ٹکٹ لیا تھا، اللّٰہ تعالیٰ انہیں جنت نصیب کریں موجودہ حکومت کے خلاف اپوزیشن اتحاد سرگرم عمل ہے اور کوشش میں ہے وزیراعظم پاکستان کو عدم اعتماد کی تحریک سے تبدیلی کامزہ چکھائے ایسے غریب عوام کی اکثریت عمران خان کی حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کی خواہش مند نظر آتی ہےسیاسی پاور شو کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حکمراں جماعت (پی ٹی آئی) کا پنڈال سجایا گیا,لاہور، پشاور، ملتان، مظفر آباد اور مختلف شہروں سے پی ٹی آئی کے قافلے اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ آتے کراچی سے پی ٹی آئی کی اسپیشل ٹرین بھی اسلام آباد پہنچی .پی ٹی آئی کے کارکن اپنے لیڈر عمران خان کے حق میں نعرے بلند کرتے جلسہ گاہ پہنچے پریڈ گراؤنڈ کی جلسہ گاہ میں کنٹینروں کی مدد سے اسٹیج سجایاگیا، جلسہ گاہ میں خواتین کے لیے خصوصی انکلوژر تیار کیا گیا, تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی صورت میں قبل از وقت انتخابات ہوں گے عین ممکن ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی اپوزیشن کو دیئے جانے والاسرپرائز بھی قبل از وقت انتخابات کا اعلان ہو بہر حال یہ طے ہے کہ وزیر اعظم عمران خا ن اب قبل از وقت انتخابا ت کے لیے تیا ر ہیں اور اپو زیشن کو حیران کر نے کے لئے ٹائمنگ کا اختیا ر اپنے پا س رکھنا چاہتے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں پاکستان تحریک انصاف کی سیاست پر اثر پڑے گا۔’اس وقت حزب اختلاف اور تحریک انصاف کے درمیان جو مقابلہ ہو رہا ہے اس کا عوامی مسائل سے ہمیں کوئی تعلق نظر نہیں آتا کیونکہ اگر عوامی مسائل حل کرنے ہوتے تو حزب اختلاف کوئی متبادل حل دیتی۔ان کا مقصد عمران خان کو ہٹانا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تب بھی ان کا جھگڑا چلے گا اور اگر عمران خان عہدے سے ہٹا بھی دیے جاتے ہیں تب عمران خان جھگڑا کریں گے۔ سیاست اسی طرح چلے گی جبکہ عوام کے مسائل اپنی جگہ جوں کے توں قائم رہیں گے۔’مہنگائی۔بےروزگاری۔کرپشن اور دیگر مسائل کے باوجود عوام کی اکثریت کی ھمدردیاں عمران خان کے ساتھ ہیں شوبز ستارے بھی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے سامنے آگئے ہیں اور ایسے میں معروف اداکار شان نے کہا ہے کہ وہ صرف ایک لیڈر چاہتا ہے جو انہیں پاکستان کے روشن مستقبل کی طرف لے جائے اُنہوں نے اپوزیشن سے مخاطب ہوتے ہوئے مزید لکھا کہ آپ پارلیمنٹ تو رکھ سکتے ہیں لیکن ہمارے لیڈر کو کبھی نہیں چھین سکتے۔ اداکار احمد علی بٹ نے سوشل میڈیا پر پیغام میں کہا کہ عمران خان صادق اور امین ہیں۔وزیراعظم نے پاکستان کے مشکل وقت میں بہت کچھ کیاعمران خان صحت اور تعلیم کے شعبے کے لیے بہت کام کیا اور صرف اُن کی وجہ سے ہی ہمارے پاسپورٹ اور پاک فوج کو عزت ملی۔اُن کی وجہ سے ہماری ملکی معیشت میں بہتری آئی ہے، اُنہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے بھی ملک کے لیے بہت کچھ کیا۔اُنہوں نے خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اپنا دورِ حکومت مکمل کریں اور دُعا ہے کہ اگلی حکومت بھی عمران خان کی ہی ہو۔ معروف اداکارہ صبا قمر ٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام میں کہا کہ یہ ایک شخص کی بات نہیں، یہ پاکستان کی بات ہے۔اداکارہ نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے وزیراعظم عمران خان کو کامیابی سے ہمکنار کرے، آمین۔ اداکار عمران عباس نے سوشل میڈیا پر خصوصی پیغام لکھا کہ عمران خان ہی پاکستان کے عوام کے بہتر مستقبل کی آخری اُمید ہیں۔معروف پاکستانی اسٹار ہمایوں سعید نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ’ وہ اس وقت سے عمران خان کے مداح ہیں جب وہ ایک کھلاڑی تھے اور ابھی بھی ان کی لیڈرشپ سے بہت متاثر ہیں‘۔اُنہوں نے مزید لکھا کہ’ان کی خواہش اور دعا ہے کہ عمران خان اپنی مدت پوری کریں‘. تجزیے اپنی جگہ لیکن حالات میں ہر گھنٹے بعد جو تبدیلی آ رہی ہے اس سے کسی کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ چند ایک کو چھوڑ کر کئی سیاست دانوں کو بھی معلوم نہیں۔ تیزی سے بدلتی صورتحال نے قوم کو ذہنی الجھن میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ صبح کا دیا ہوا بیان شام کو تبدیل ہو چکا ہوتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے عدم اعتماد کو سازش قرار دیا۔موجودہ صورتحال سے واضح ہو گیا کہ موجودہ نظام مزید نہیں چل سکتا اس لیے نظام کی تبدیلی بھی ناگزیر ہےوفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ بلاول کو خبردار کر رہا ہوں کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے خاندان کے بارے میں بات نہ کریں۔








