وادی پنجشیرکاشیراحمد مسعود: والد کی طرح طالبان سے لڑائی کیلئے تیار۔۔؟۔۔۔۔( کالم؛اندر کی بات:اصغر علی مبارک )………………………..وادی مزاحمت افغانستان میں وادی پنچ شیر کو کہا جاتاہے وادی مزاحمت میں سابق افغان مزاحمتی کمانڈر احمد شاہ مسعود افغان طالبان سے شراکت اقتدار میں مناسب شمولیت نہ ملنے پر مزاحمت کیلئے لڑائی لڑنےکیلئے تیار نظرآتاہےجس طرح ماضی میں احمد مسعود کے والد بھی کئی عشروں تک افغان جنگجوئوں کے ھمراہ سویت یونین کے خلاف برسرپیکار رہے۔ افغانستان میں سوویت یونین اور طالبان کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے مارے جانے والے سابق اتحاد، شمالی اتحاد کے مشہور کمانڈ احمد شاہ مسعود کے بیٹے نے مزاحمت کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی پنج شیر طالبان کے حوالے نہیں کریں گے۔ پنجشیر کے شیر احمد شاہ مسعود افغانستان کے ایک سیاسی و عسکری رہنما تھے، جو 1979ء سے 1989ء کے درمیان سوویت قبضے کے خلاف مزاحمت میں اور بعد ازاں خانہ جنگی کے ایام میں بھی مرکزی حیثیت کے حامل تھے۔ ان پر 11 ستمبر 2001ء کو امریکا پر ہونے والے دہشت گرد حملےسے دو روز قبل ایک خودکش حملہ کیا گیا جس میں وہ جاں بحق ہوگئے۔وادی پنجشیر تاریخی طور پر سکندر اعظم اور امیر تیمور کی فوجوں کی اہم گزرگاہ رہی ہے۔ وادی پنجشیر گوریلا جنگ کے لیے بہترین جگہ ہے وادی پنجشیر کی کل آبادی ڈیڑھ سے دو لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور پوری آبادی تاجک نژاد ہے۔ پنجشیر کے تمام رہائشی فارسی بولنے والے ہیں۔ پنجشیر وادی کو افغانستان کا سب سے محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔اب جبکہ طالبان نے ایک بار پھر افغانستان کے طول و عرض میں قبضہ جما لیا ہے، وادی پنجشیر افغانستان کے 34 صوبوں میں واحد صوبہ ہے جہاں ابھی تک طالبان کا تسلط قائم نہیں ہو سکا کابل سے قریب تین گھنٹے کی مسافت پر صوبہ پنجشیر طالبان کے خلاف مزاحمت کے لیے جانا جاتا ہے۔ سنہ 1996 سے 2001 تک طالبان کے دور میں بھی یہ صوبہ اُن کے کنٹرول میں نہیں رہا تھا۔ وہاں شمالی اتحاد (ناردرن الائنس) نے طالبان کا مقابلہ کیا تھا۔احمد شاہ مسعود کو افغانستان میں ایک ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔ صدر حامد کرزئی نے سنہ 2012 میں انھیں قومی ہیرو قرار دیا تھا اور ان کی وفات کا دن یعنی نو ستمبر افغانستان میں ’یوم شہدا‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔سابق افغان حکومت کے نائب صدر امراللہ صالح انھیں اپنا ہیرو اور رہنما مانتے ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک حالیہ ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ وہ احمد شاہ مسعود کی وراثت سے غداری نہیں کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق احمد شاہ مسعود کے 32 سالہ بیٹے احمد مسعود نے کہا کہ ‘ہم نے سوویت یونین کا مقابلہ کیا تھا اور ہم طالبان کا مقابلہ کریں گے’۔امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ ملک کے صدر کی غیر موجودگی میں وہ قانونی طور ملک کے نگران صدر ہیں۔ایک ایسے وقت پر جب امریکی افواج بالآخر افغانستان سے نکل رہی ہیں، شمالی اتحاد کے مزاحمتی کمانڈر احمد شاہ مسعود کا بیٹا احمد مسعود افغانستان میں بہت سے لوگوں کی امیدوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے احمد مسعود کو’پنجشیر کا شیر‘ کہا جاتا ہے، ان کے والد احمد شاہ مسعودکو گیارہ ستمبر سے دو دن پہلے القاعدہ کے دو خودکش حملہ آوروں نے ایک حملے میں ہلاک کیا تھا.کہا جاتا ہے کہ یہ حملہ القاعدہ نے کروایا تھا جس میں تین حملہ آور صحافیوں کی حیثیت سے ان کے پاس آئے تھے جن کے کیمروں میں بم نصب تھا۔احمد شاہ مسعود کے 32 سالہ بیٹے احمد مسعود نے قومی مزاحمتی فرنٹ (این آر ایف) کے نام سے ایک طالبان مخالف اتحاد قائم کیا ہے۔افغانستان کے مرحوم رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے طالبان کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا ہے پنجشیر وادی افغانستان کے دارالحکومت کابل سے 150 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہےوادیِ پنچشیر کو طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری گڑھ کہا جا رہا ہے۔ ہندوکش کی بلند و بالا اور سنگلاخ چوٹیوں میں گھری وادیِ پنجشیر نے گذشتہ چار عشروں کے دوران کئی مرتبہ بیرونی حملہ آوروں کے حملوں کو ناکام بنایا ہے۔ سوویت یونین نے1979 میں افغانستان پر یلغارکی تو پنجشیر وادی اس وقت بھی مزاحمت کا مرکز تھی اور پنجشیر کے جنگجوؤں نے متعدد مرتبہ سوویت اور افغان فوجوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کو ناکام بنایا۔ طالبان کے پہلے دورِ حکومت (1996-2001) میں اسی خطے سے طالبان کے خلاف بھرپور مزاحمت ہوئی اور پورے افغانستان پر قبضہ کر لینے اور اپنی حکومت قائم کرنے کے باوجود طالبان کبھی بھی پنجشیر وادی پر اپنا قبضہ جمانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان نے احمد مسعود کو کابل کے شمال میں واقع وادی پنج شیر حوالہ کرنے کے لیے 4 گھنٹے کا وقت دیا تھا جہاں احمد مسعود کے علاوہ افغانستان کے نائب صدر امر اللہ صالح بھی موجود ہیں۔احمد مسعود نے کہا کہ میں اپنے زیر کنٹرول علاقے کسی صورت طالبان کے حوالے نہیں کروں گا۔مفاہمت کا عندیہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور سیکیورٹی کی شرط پر طالبان کو اپنے والد کا قتل معاف کرنے کے لیے تیار ہوں۔یاد رہے کہ احمد شاہ مسعود کو 11 ستمبر 2001 سے محض چند روز قبل قتل کردیا گیا تھا اور اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی، جو طالبان مخالف شمالی اتحاد کے لیے بڑا نقصان تھا کیونکہ قومی اور عالمی سطح پر احمد شاہ مسعود کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔کابل میں طالبان کے دوبارہ قبضے کے بعد احمد مسعود نے مطالبہ کیا کہ طالبان کی شراکت سے ملک میں ایک نمائندہ حکومت تشکیل دی جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر طالبان نے مذاکرات سے انکار کیا تو جنگ ناگزیر ہوگی۔قبل ازیں احمد مسعود نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ‘میں آج وادی پنچ شیر سے لکھ رہا ہوں اور اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کو تیار ہوں’۔انہوں نے کہا تھا کہ ‘میں مجاہدین جنگجوؤں کے ساتھ ہوں جو ایک مرتبہ پھر طالبان سے لڑنے کے لیے تیار ہیں’۔احمد مسعود نے اپنے جنگجوؤں کے لیے امریکا سے اسلحے کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمیں مزید اسحلہ، بارود اور دیگر سازوسامان کی ضرورت ہے’۔طالبان نے افغانستان کی وادی پنج شیر کے سوا دیگر تمام علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنج شیر، طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری مرکز ہے جہاں مخالف جنگجو جمع ہوگئے ہیں۔کابل کے شمال میں ہندوکش کے بلند پہاڑوں کے بیچ میں واقع وادی پنج شیر ماضی میں طالبان کے خلاف مزاحمت کی علامت رہی ہے جب احمد شاہ مسعود نے سوویت یونین کے خلاف جنگ اور اس کے بعد 2001 میں قتل تک طالبان اور دیگر فورسز سے محفوظ رکھا۔دوسری جانب طالبان کے خلاف لڑنے والی فورسز نے گزشتہ روز کہا تھا کہ وادی پنج شیر کے قریب تین اضلاع پر طالبان سے قبضہ واپس حاصل کرلیا ہے۔طالبان کا مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کرنے والے وزیر دفاع جنرل بسمہ اللہ محمدی نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ پنج شیز کے شمال میں واقع صوبہ بغلان میں 3 اضلاع دیہہ صالح، بانو اور پل حصار پر قبضہ کرلیا ہے۔مقامی ٹیلی ویژن اسٹیشن طلوع نیوز نے مقامی پولیس کمانڈر کا حوالہ دیاتے ہوئے کہا تھا کہ بغلان میں واقع ضلع بانو مقامی فورسز کے کنٹرول میں ہے اور یہاں بھاری جانی نقصان ہوا ہے جبکہ اس پر طالبان کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔تاحال واضح نہیں ہوسکا کہ اس میں کون سی قوتیں ملوث تھیں لیکن یہ واقعہ طالبان کی مخالفت کی جانب اشارہ کرتا ہے جنہوں نے برق رفتاری سے اقتدار پر قبضہ کرلیااور اس دوران انہوں نے ایک ہفتے میں افغانستان کے مرکزی شہروں کا کنٹرول بھی حاصل کیا تھا۔ افغانستان کی بگڑتی صورتحال سب متاثر ہوں گے۔ افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے نیٹو اور امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغان عوام حالات کے رحم وکرم پر ہیں اور مہذب دنیا ایک اور انسانی المیے کی منتظرہےافغانستان کو تنہا چھوڑا گیا تو اس کا نقصان سب کو ہوگا،ماضی سے ہم سب کو سبق سیکھنا ہے، اس کو دہرانا نہیں چاہیے، امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا ہےکہ افغانستان میں زمینی صورتحال انتہائی خطرناک ہوتی جارہی ہے، داعش خراسان کو ڈرون کا نشانہ بنایا گیا، یہ آخری حملہ نہیں ہےپینٹاگون کے مطابق افغانستان میں ڈرون حملے میں داعش خراسان کے 2 جنگجو مارے گئے جبکہ داعش کا ایک جنگجو زخمی بھی ہوا امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈرون حملے میں ہمارا ہدف داعش جنگجو مارا گیا، ڈرون حملے میں کوئی شہری جاں بحق نہیں ہوا۔طالبان نے کہا کہ ننگر ہار میں امریکی ڈرون حملہ قابل مذمت ہے، افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا کو فضائی حملہ کرنے سے پہلے ہمیں اطلاع دینی چاہیے تھی، اسلامی حکومت میں کسی کو حملے کرنے کی ہمت نہیں ہوگی، یہ حملہ داعش نے کیا تھا، انہوں نے ذمےداری بھی قبول کی، ڈرون حملہ افغان سرزمین پر حملہ ہے، کابل ایئرپورٹ دھماکوں میں امریکی فوجیوں سمیت 170 سے زائد افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کہنا ہے کہ مجاہدین کے پاس تجربہ ہے ہم داعش کا مقابلہ کرسکتے ہیںانہوں نے واضح کیا کہ ہمارا امریکا کے ساتھ کوئی کوآرڈی نیشن نہیں، صرف دوحا معاہدہ ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے عالمی برادری سے افغانستان میں طالبان کی حکومت کی مدد کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ ایک بیان میں وزیر اعظم پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ طالبان سب کو عام معافی دے چکے ہیں اور انسانی حقوق کی پاسداری کا یقین دلا چکےہیں۔عمران خان کا کہنا تھا طالبان کے اعلان کے بعد اب یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ وہ اپنے الفاظ پر قائم رہیں گے یا نہیں، جب قائم نہیں رہیں گے تب کی تب دیکھیں گے، ابھی تو دنیا کو افغانستان میں امن کے لیے ان کی مدد کرنی چاہیے۔وزیراعظم پاکستان کا طالبان کی مدد کا بیان حققیت پر مبنی ہےافغانستان کا تمام بحران امریکا کی وجہ سے ہے۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکا اور اس کے اتحادی ہیں۔ افغانستان پر امریکی قبضے کے 20 برسوں میں کوئی ترقی نہیں ہوئی افغانستان کے مسئلے پر پاکستان کے مؤقف کو دنیا تسلیم کر رہی ہے۔افغانستان میں مستحکم اور مضبوط حکومت خطے کے امن کے لیے ضروری ہے، مستقبل میں پاکستان اورافغانستان کے تعلقات کا انحصار طالبان کے رویے پرہےدنیا کو طالبان کو کام کرنے کا موقع دینا چاہیئے۔ طالبان نے افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد نگراں حکومت بنانے کا فیصلہ کیاہے طالبان شوریٰ کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت میں تمام قبائلی رہنماؤں کو شامل کیا جائے گا۔ملا عبدالغنی برادر بھی کابل میں موجود ہیں جبکہ اس حوالے سے ابتدائی طور پر 12 ناموں پر غور کیا جارہا ہے۔طالبان شوریٰ کے مطابق عدلیہ، داخلی سلامتی، امور خارجہ اور دفاع کے لیے تقرریاں کی جائیں گی۔طالبان شوریٰ کے مطابق دیگر طالبان کمانڈروں کو بھی حکومت میں شامل کیا جائے گا۔دوسری جانب افغانستان کے عالمی شہرت یافتہ طالبان مخالف جنگجو احمد شاہ مسعود مرحوم کے بیٹے نے افغان طالبان کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 9 ستمبر2001 کو جب نائن الیون سے صرف 2 دن پہلے وادی پنجشیر میں احمد شاہ مسعود کو ایک خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا تو اس وقت احمد مسعود کی عمر صرف 12 برس تھی۔ ابتدائی تعلیم ایران سے مکمل کرنے کے بعد وہ 2012 تک برطانوی ملٹری اسکول، رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ میں زیر تعلیم رہے جس کے بعد کنگز کالج لندن سے جنگی امور پر گریجویشن کیا جبکہ 2016 میں سٹی یونیورسٹی لندن سے انٹرنیشنل پولیٹکس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ تب سے وہ احمد شاہ مسعود فاؤنڈیشن کے سی ای او کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیںمغرب میں اعلی تعلیم حاصل کرکے افغانستان واپس لوٹنے والے احمد مسعود نے طالبان کیخلاف مزاحمت کے لیے امریکہ سے عسکری مدد اور اسلحہ مانگتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انکے پاس فورس موجود ہے جو انتہا پسندوں کے خلاف نبرد آزما ہو سکتی ہے۔سوویت یونین کے خلاف جنگ میںاہم کردار ادا۔کرنے والے شمالی اتحاد کے اہم رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون میں کہا ہے کہ انہوں نے امریکا سے افغان طالبان کے خلاف عسکری مدد طلب کر لی ہے اور انہیں جواب کا انتظار ہے۔ احمد مسعود کے مطابق واشنگٹن حکومت ان کی ملیشیا کو اسلحہ بارود مہیا کرے تو وہ انتہا پسند طالبان کے خلاف سخت مزاحمت کر سکتے ہیں۔2019میںجس وقت امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدہ طے پانے کی خبریں آرہی تھیں ٹھیک اسی وقت احمد مسعود نے اے ایف پی کو ایک دھواں دار انٹرویو دے کر افغان سیاست میں اپنی آمد کا بگل بجا دیا۔ انٹرویو میں احمد مسعود کا کہناتھا کہ ”وہ دعاگو ہیں کہ افغانستان میں دوبارہ کوئی خونریزی نہ ہو، اللہ نہ کرے اگر ایسا ہوا تو صرف وہ نہیں، لاکھوں افغان نوجوان ہتھیار اٹھانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔انٹرویو میں احمد مسعود کا کہناتھاکہ امریکا افغانستان سے نکلنے میں جلد بازی سے کام لے رہا ہے اور اس جلد بازی کی وجہ سے افغان قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر طالبان کو حد سے زیادہ رعایت دی جارہی ہے۔ انٹرویو میں احمد مسعود کا کہناتھا کہ کہ مجوزہ امن معاہدے میں افغانوں کا کہیں وجود نہیں ہے، یہ صرف خطے کی طاقتوں کی رضامندی سے امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ہے۔ انٹرویو میں احمد مسعود کا کہناتھا کہ ڈر ہے کہ اچانک امریکی افواج کے انخلاء سے افغان فورسز طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوسکتی ہیں جس کے بعد افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی سے دوچار ہوسکتا ہے۔احمد مسعود نے اس انٹرویو کے صرف ایک ہفتے بعد 5 ستمبر کو پنجشیر وادی میں اپنے والد احمد شاہ مسعود کے مزار پر ہزاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے باقاعدہ سیاسی کیرئیر کا آغاز کردیا۔ اس موقع پر سویت یونین اور بعد میں طالبان کے خلاف احمد شاہ مسعود کے شانہ بشانہ لڑنے والے سابق مجاہدین کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے احمد مسعود کو کمانڈر احمد شاہ مسعود کا جانشین مقرر کرتے ہوئے ہر حال میں ان کا ساتھ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سابق نائب صدر یونس قانونی بھی موجود تھے جو نہ صرف سویت یونین بلکہ طالبان کے خلاف لڑائی میں بھی احمد شاہ مسعود کے انتہائی قریبی اتحادی رہے ہیں۔ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے احمد مسعود کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے افغانستان کی خودمختاری کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔احمد مسعود نہ صرف شکل و صورت میں اپنے مرحوم والد کے ہوبہو نقش ہیں بلکہ اپنے ملک کے لیے لڑنے کا جوش و جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ غیر پختون افغان جو احمد شاہ مسعود کے بعد مرکزی قیادت سے محروم ہوگئے تھے، ان کے بیٹے کی صورت میں ایک اور ”پنجشیر کے شیر“ کو دیکھ رہے ہیں امریکی انخلاء کے بعد طالبان قیادت نے عوام کی رائے کو نمائندگی نہ دی اورعسکری راستہ اختیار کیا گیا تو احمد مسعود طالبان کے لیے اپنے والد احمد شاہ مسعود سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔افغان کا ایرانی فارسی میں مطلب شور مچانے والی قوم ہے یہ بات ہمیں خانہ فرھنگ ایران میں فارسی کلاسز کے دوران برصغیر پاک وہند کے نامور فارسی استاد محترم آقائی علی رضانقوی نے 1989 کےماہ دسمبر میں بتائی تو یہ ھمارے لیےبالکل انوکھی تھی مگراس کے بعد سےجب افغان مسئلہ ابھرتاہے مجھےاستاد محترم کی بات یاد آجاتی ہے