کرکٹ کمنٹیٹر .جاوید خان ; اردو انگریزی اور پشتو زبان میں کمنٹری کرنے والے واحد پاکستانی کمنٹیٹر ………………………. اسلام آباد ( اصغر علی مبارک سے ) کرکٹ کی بات ہو تو کمنٹری کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کرکٹ ایک دل چسپ کھیل ہے لیکن یہ کمنٹری کے بغیر ادھورا ہے اسلام آباد میں انٹرمیڈیا کرکٹ مقابلوں کی کمنٹری براہ راست سننے کا اتفاق ہوا اور میرے ذہن میں ماضی یادیں تازہ ہو گئیں .. کھیل کی لمحہ با لمحہ تصویر کشی کرنے والے نوجوان کرکٹ کمنٹیٹر .جاوید خان ; اردو انگریزی اور پشتو زبان میں کمنٹری کرنے والے واحد پاکستانی کمنٹیٹر ہے شاندار الفاظ کے استعمال کی وجہ سے جداگانہ حیثیت رکھنے والے کمنٹیٹر جاوید خان نےپاکستان اپنی پہچان بنائی ہے، بہترین یادداشت کی بدولت کرکٹ اور کرکٹرز کے حوالے سے معلومات کا خزانہ کمنٹیٹر .جاوید خان کےپاس ہونے کی وجہ سے کسی کیلئے ان کے رواں تبصرے کو نظر انداز کرنا آسان نہیں کیا زمانہ تھا جناب ‘ جب اردو کرکٹ کمنٹری بھی سننے کے قابل ہوتی۔ منیر حسین، حسن جلیل اور محمد ادریس‘ ریڈیو پر کھیل کے اتار چڑھاؤ کو اس قدر سنسنی خیز انداز میں بیان کرتے کہ دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگتیں۔کرکٹ کا بخار جب عروج پر ہوتا تھا تو ریڈیو کے ساتھ ساتھ چھوٹا بڑا ٹرانزسٹر‘ کانوں پر لگائے راہ گیر گزر رہے ہوتے تو کرکٹ کے شیدائی انہیں روک کر بس یہی ضرور دریافت کرتے ’سکور کیا ہوا؟‘ اور وہ موصوف سکور بتانے کے بعد آندھی طوفان کی طرح اپنی راہ اس لیے بھی پکڑ لیتے کہ کہیں مزید سوالوں کی بوچھاڑ نہ ہوجائے کہ کون آؤٹ ہوا‘ کتنے رنز چاہیے‘ فلاں نے کیا سکور کیا اور اگر کوئی دل جلا ہوتا تو سکورسننے کے بعد کھلاڑیوں کے رشتے داروں کو یاد کرکے دل کی بھڑاس نکال لیتا۔

بہترین اردو کمنٹری صرف ریڈیو پر ہی نہیں ٹی وی سے بھی نشر ہوتی اور عام طور پر ہر پانچ اوورز کے بعد اردو یا انگریزی کمنٹری کا دور چلتا۔ انگریزی کے لیے بھلا کون بھول سکتا ہے جمشید مارکر‘ عمر قریشی، افتخار احمد، چشتی مجاہد، ریحان نواز اور سلیم الطاف کوکھیل کے دلچسپ لمحات میں کمنٹری کا اپنا رنگ سننے کو ملتا۔ مرحوم منیر حسین کی کمنٹری کی خاص بات یہ رہتی کہ وہ ٹھہر ٹھہر کر ایک ایک جملے کو بڑے دلچسپ انداز میں بیان کرتے، مثلاً قاسم عمر کے بلے سے نکلے ہوئے شاٹ پر ان کا یہ تبصرہ کہ اگر قاسم عمر ریت میں بھی یہ شاٹ مارتے تو چوکا ہی ہوتا‘ آج تک ذہن سے چپکا ہوا ہے اور پھر جناب حسن جلیل کی کمنٹری کا کیا کہنا۔ موسم کا حال، تماشائیوں کے سٹینڈ میں کیا ہورہا ہے، کہاں سکور بورڈ ہے، کس ٹیم کے تماشائی زیادہ ہیں اور بالر جب گیند کرانے کے بھاگنا شروع کرتا تو ایسا ماحول بنادیتے کہ لگتا یہ سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہی ہو رہا ہے۔جبکہ محمد ادریس تو مزے لے لے بلکہ چسکیاں لیتے ہوئے کھیل کا رواں تبصرہ سناتے۔ ہر ایک گیند کا نقشہ ایسا کھینچا جاتا کہ راہ چلتے بھی رک کر اس سحر میں کھو سا جاتا۔ کون سی فیلڈنگ پوزیشن کیا ہوتی ہے‘ اس کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جاتا۔ سلی مڈآن، گلی اورڈیپ اسکوائر لیگ غرض ہر فیلڈ کے بارے میں اسی ریڈیو اردو کمنٹری کی وجہ سے ہم بہت کم عمری میں واقف ہوگئے تھے۔راولپنڈی اسلام آباد سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن رسجا کے زیر اہتمام آزادی کپ کے دوران کمنٹری سے سماں بندھ دینے والے جاوید خان میں یہ خاصیت ہے کہ وہ اردو انگریزی اور پشتو زبان میں کرکٹ کمنٹری کرنے والے واحد کمنٹیٹر ہیں ریڈیو پاکستان ایف ایم 101 پریزینٹر. آر جے. کمنٹیٹر جاوید خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کمنٹری کی بدولت پاکستان میں کرکٹ کو فروغ حاصل ہوا جاوید خان بلاشبہ اس دور کے ایسے نوجوان کرکٹ کمنٹیٹر ہیں جنہیں اگر مواقع ملے تو بھارتی بالا دستی کو توڑ سکتے ہیں جو ایشیا میں کرکٹ کمنٹری میں نمبر ون ہونے کا دعویدار ہےجاوید خان ایسے کمنٹیٹر ہیں جن میں ماضی لیجنڈ کمنٹیٹر کی جھلک نظر آتی ہے ایک خصوصی گفتگو میں انکا کہنا تھا کہ میں کسی کو کاپی نہیں کرتا کرکٹ کی معلومات اور کھلاڑیوں کے ریکارڈ سے ہمیشہ دلچسپی رہی اس لیے یہ انداز جداگانہ ہے جاوید خان پاکستان کرکٹ بورڈ سے ایمپائرنگ اور دیگر کورسز میں نمایاں حیثیت سے کامیابی حاصل کرکے خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ بطور کرکٹ ایکسپرٹ اور سپورٹس کالم نگار کی حیثیت سے بھی پہچانا جاتا ہے انہوں نے بتایا کہ کرکٹ میرے خون میں رچی بسی ہے اور میری کوشش ہوگی کہ کرکٹ کی خدمت کرتا رہوں انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان سے متعدد کھلاڑیوں کے انٹرویو کیے جن میں اکثریت غیر ملکی کھلاڑیوں کی رہی پاکستان میں کرکٹ کی بحالی سے نیا ٹیلنٹ تیزی سے سامنے آنے گا جاوید خان نے کہا کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے اس کھیل میں نکھار پیدا ہو جاتا ہے اور یہ فن ایک کرکٹ کمنٹری کرنے والے سے زیادہ کوئی نہیں جانتا وہ کھیل کے دوران کھلاڑیوں کی باڈی لینگویج دیکھ بتا دیتا ہے کہ کھلاڑی کا آئندہ حکمت عملی کیا ہےجاوید خان نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان ہمارے لیے اکیڈمی ہے خوش قسمتی سے مجھے ایف ایم ون او ون کے انتہائی قابل احترام عبدالوحید شیخ صاحب۔میڈیم صدف رانی ۔سر عقیل ملک کی زیر نگرانی بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ایف ایم ریڈیو 101 پر کرکٹ لیجنڈ کمنٹیٹر حسن جلیل اور دلچسپ انداز میں کمنٹری کرنے والے احتشام الحق ۔اے آر زیدی ۔پرویز اصغر میاں اور دیگر کے ساتھ کرکٹ کے کھیل پر تبصرہ کرنے کا موقع ملا انہوں نے بتایا کہ کرکٹ کورسز میں پہلی بار ماضی نامور ٹیسٹ ایمپائر شاہ صاحب نے متعارف کرایا2004 سیف گیمز میں پاکستان بمقابلہ بھارت والی بال میچ کی برائے کمنٹری کی جاوید خان نے کہا کہ اگر میں کمنٹیٹر نہ ہوتا تو انٹرنیشنل کرکٹر ہوتا الحمدللہ پی ایس ایل کے پانچویں ایڈیشن میں اسلام آباد یونائیٹڈ کا ریزووکٹ کیپر تھا 1996 سے 1999 تک ہاکس ٹیم ۔الیون سٹار میں خدمات انجام دیں. قارئین کرام کو یاد ہو گا کہ1987-88میں جب عمران خان کی قیادت میں ٹیم نے ویسٹ انڈیز کا دورہ کیا تو اُ ن دنوں آج کی طرح ویسٹ انڈیز سے میچز دکھانے کا رواج تو تھا نہیں۔ اسی لیے کھیل کی تازہ بہ تازہ صورتحال جاننے کے اکلوتا سہارہ ریڈیو ہی تھا۔ منیر حسین سمیت دیگر کمنٹیٹر زکھیل کی صورت حال پر رواں تبصرہ پیش کرتے اور کم و بیش رات کے دو ڈھائی بجے میچ ختم ہوتا جب تک کرکٹ دیوانے‘ سر سے سر جوڑے بیٹھ کر کمنٹری سے مستفید ہوتے رہتے۔ٹیسٹ میچوں میں کھانے یا چائے کا وقفہ ہوتا تو اُس زمانے میں ریڈیو کے پروڈیوسرز سید محمد نقی، عظیم سرور اور پھر بعد میں اسلم بلوچ، سامعین کو ریڈیو سیٹ سے جوڑے رکھنے کے لیے کرکٹ کے دلچسپ واقعات اور ریکارڈز پر کوئی نہ کوئی مختصر نوعیت کاپروگرام نشر کرتے۔صرف کرکٹ کمنٹری ہی نہیں جناب ہاکی کے مقابلوں میں ایس ایم نقی اور ذاکر حسین سید کی اردو کمنٹری دلوں کے تار چھیڑ دیتی۔سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کی آمد ہوئی تو اردو کمنٹری کا وجود دھیرے دھیرے غائب ہونے لگا‘ جن ممالک سے میچز نشر نہیں ہوسکتے تھے اب وہاں سے بصری صلاحیتوں کی بنا پر یہ مشکل بھی آسان ہوگئی۔نشریاتی حقوق اور سازو سامان ’گوروں‘ کے پاس آتے گئے جبھی کمنٹری ٹیموں میں بھی واضح تبدیلیاں ہوئیں۔ رچی بینیو‘ ٹونی گریگ‘ ایان چیپل‘ بل لاری‘ مائیکل ہولڈنگ‘ ٹونی کوزئیر ’ہاؤس ہولڈ نیم‘ بن گئے اور بھلا کون بھول سکتا ہے ہنری بلوفلڈ کی شارجہ میں انگریزی زبان میں کی گئی کمنٹری کو جس میں وہ خواتین کے جھمکوں کے دیوانے ہوگئے تھے۔جاوید خان بلاشبہ اس دور کے ایسے نوجوان کرکٹ کمنٹیٹر ہیں جنہیں اگر مواقع ملے تو بھارتی بالا دستی کو توڑ سکتے ہیں جو ایشیا میں کرکٹ کمنٹری میں نمبر ون ہونے کا دعویدار ہےہمارے یہاں وہ دور بھی آیا ‘ جب اردو کمنٹری کو غیر اعلانیہ طور پر ختم کرہی دیا گیا لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ بھارت میں اب بھی ہندی زبان میں کھیل کا حال بیان کیا جاتا ہے بلکہ ایک ٹی وی چینل تو مخصوص ہندی کمنٹری کے لیے ہی ہے۔اب ریڈیو پر شارٹ ویو کے بجائے مختلف ایم ایف چینلز پر اردو کمنٹری ہورہی ہے۔ ایف ایم تو ہر سستے ترین سیل فون موجود ہے۔کرکٹ کا جب ماحول عروج پر ہوتا ہے تو کبھی گاڑی میں تو کبھی پیدل چلتے ہوئے ہینڈ فری لگاکر میچ کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہی حاصل کی جاتی ہے۔ جاوید خان میں یہ خاصیت ہے کہ وہ اردو انگریزی اور پشتو زبان میں کرکٹ کمنٹری کرنے والے واحد کمنٹیٹر ہیں. کمنٹری بھی کمرشلائزڈ ہوچکی ہے۔ ا س کا اندازہ یوں لگائیں کہ اب میچ کی کی ہر گیند کسی نہ کسی طرح سے سپانسر ہوچکی ہے۔ چھکا، چوکے اور آؤٹ تک بک گئے ہیں۔ حال ہی میں جب پی ایس ایل میچز سے پہلے یہ نوید سنائی گئی کہ ٹی وی پر میچ کے دوران اردو کمنٹری بھی نشر ہوگی تو دل خوش ہوگیا چلو اس بہانے کچھ پرانے کمنٹیٹرز کا خوبصورت انداز بیان پھر سے سننے کو ملے گا لیکن سارے ارمانوں پر اس وقت اوس پڑگئی جب سابق کھلاڑی ہی گلابی اردو بولتے ہوئے سنائی دیے اور یہ سلسلہ بلکہ ستم تو حالیہ قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے دوران بھی سہنا پڑا. ایک سابق اوپنر تو ایسے پھنس پھنس کر مشکل سے اردو بول رہے ہوتے ہیں جیسے وہ کم از کم اس دیس کے باسی نہ ہو‘ یا پھر انہوں نے کبھی اردو بولی ہی نہ ہو۔ ایک موصوف عرصہ دراز سے اردو کمنٹری کررہے ہیں لیکن آج تک خود کا انداز متعارف کرانے کی بجائے حسن جلیل کی ہی کاپی میں مگن رہتے ہیں۔ سچ پوچھئے تو دل یہ چاہتا ہے کہ اردو میں کھیل کا حال بیان کیا جائے تاکہ جو چاشنی اور شائستگی ہمارے ذہنوں میں محفوظ رہے‘ جاوید خان ایسے کمنٹیٹر ہیں جن میں ماضی لیجنڈ کمنٹیٹر کی جھلک نظر آتی ہے.کرکٹ ایک دل چسپ کھیل ہے لیکن یہ اسیڈیم کے اندر اور اس سے کوسوں دور بیٹھے شائقین کو ہر پل سے باخبر رکھنے کے لیے رننگ کمنٹری کے بغیر ادھورا ہے۔ ریڈیو پر کرکٹ کمنٹری کا آغاز 1930ء میں ہوا جب کہ ٹیلی ویژن پرپہلی کمنٹری 1938ء میں ایک ٹیسٹ میچ کو ٹیلی کاسٹ کرکے شروع کی گئی اور شائقین اپنے گھروں میں ریڈیو سیٹ اور ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر اس کھیل سے محظوظ ہونے لگے۔ا س سلسلے میں بی بی سی اور ریڈیو آسٹریلیا نے انتہائی شاندارکارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔پاکستان میں ساٹھ کی دہائی تک ریڈیو کو واحدالیکٹرونک میڈیا کی حیثیت حاصل رہی۔ 1950ء میں ریڈیو پاکستان کی ریڈیائی لہروں کے ذریعے کرکٹ کمنٹری نشر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ۔کرکٹ کی براہ راست کوریج اور کمنٹری کے حوالے سے ریڈیو پاکستان کا تاریخی حوالہ اور معیار کسی بھی غیرملکی الیکٹرونک میڈیا سے کم نہیں۔جاوید خان ایسے کمنٹیٹر ہیں جن میں ماضی لیجنڈ کمنٹیٹر کی جھلک نظر آتی ہےجاوید خان بلاشبہ اس دور کے ایسے نوجوان کرکٹ کمنٹیٹر ہیں جنہیں اگر مواقع ملے تو بھارتی بالا دستی کو توڑ سکتے ہیں جو ایشیا میں کرکٹ کمنٹری میں نمبر ون ہونے کا دعویدار ہےجاوید خان میں یہ خاصیت ہے کہ وہ اردو انگریزی اور پشتو زبان میں کرکٹ کمنٹری کرنے والے واحد کمنٹیٹر ہیں.