قومی اداروں کےخلاف توہین آمیز تقریر ۔۔ ای بلاگراسدعلی طور کی ایف آئی اے میں طلبی کا نوٹس جاری ۔۔۔۔۔۔کالم نگار اصغرعلی مبارک (کالم؛ “اندر کی بات “)…..صحافتی تنظیموں آل پاکستان نیوز پیپرز اینڈ ایڈیٹر فورم ۔پاکستان جرنلسٹ فاونڈیشن ۔نیشنل جرنلسٹ پینل کے چئیرمین رانا عمران لطیف نے حکومت اور حساس اداروںکے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر شدید الفاظ میں مذمت کی ھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے سینئر صحافی اور چیئرمین رانا عمران لطیف نے جاری بیان میں کہا ھےکہ اینکر پرسن کی تقریر انتہائی قابل مذمت فعل ہے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں .فوری ایکشن لیں تاکہ عامل صحافیوں کے درمیان پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ممکن ہو سکےدریں اثناءوفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ بلاوجہ اداروں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں، بے بنیاد الزام تراشی سے پاکستان کا تشخص مجروح ہو رہا ہے اسد طور پر حملہ کرنے والوں کے فنگر پرنٹس سے متعلق کل تک نتائج سامنے آنے کا امکان ہے اور فنگر پرنٹس کا نتیجہ سامنے نہ آنے پر اخبارات میں اشتہار دیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسد طور پر حملہ کرنے والوں تک جلد پہنچ جائیں گے اور نادرا بھی نشاندہی کے قریب ہے۔ریسیپشن والے لڑکے نے کہا اس نے حملہ آوروں کو اس لیے نہیں روکا کہ یہ لوگ پہلے بھی آتے رہتے ہیں۔ اسد طور 3 نامعلوم حملہ آوروں میں سے ایک کی شناخت کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں. دریں اثناء پاکستانی قومی سلامتی کے اداروں کےخلاف گھٹیا الزامات عائد کرنے پر(ڈیجیٹل بلاگر ) غیرصحافی اسد علی طور ولد محمد افضل طور موبائل فون نمبر 03335119547 سکنہ فلیٹ نمبر 105 فرسٹ فلور الشفا ھائیسٹ ٹو 2 اسلام آباد کو فیڈرل انویسٹگیشن ایجنسی ایف آئی اے سائبر کرائم نے 4 جون 2021 کو صبح دن 11 بجے طلب کر لیاھے .واضح رہے کہ چند دن پہلے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ایک غیر صحافی نجی بلاگر کے ساتھ نام نہاد سیاسی رہنما اور کرائے کے لوگوں نے موجودہ حکومت اور حساس اداروں کے خلاف پاکستان دشمن ایجنسیوں کی ایماء پر الزام تراشی کرتے ہوئے توہین آمیز زبان استعمال کی.۔ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر راولپنڈی نے ضابطہ فوجداری کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز شہری فیاض محمود راجہ ولد محمود خان سکنہ دھمیال ڈاکخانہ خاص تحصیل وضلع راولپنڈی کی درخواست پرکرنے کا فیصلہ کیا ہے مستغیث/ مدعی نے اسدعلی طور کے خلاف سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر راولپنڈی میں اس حوالے سے تحقیقاتی ادارے کو قانونی کارروائی کرنے کی درخواست دے رکھی تھی.جس پر گزشتہ روز ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر راولپنڈی نے سمن/نوٹس جاری کیا ۔ شہری نے بمعہ ثبوت کے سائبر کرائم ونگ کو شکایت کی تھی کہ ملزم اسدعلی طور نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ شوشل میڈیا پر قومی اداروں کے خلاف الزام تراشی اور بہتان پر مبنی پروپیگنڈے پر قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے اسدعلی طور نے تضحیک آمیز لہجے میں قومی سلامتی کے اداروں کےخلاف گھٹیا الزامات کیے جس کے ایک ایک لفظ سے بدنامی اور توہین جھلکتی ھے جس پر انسپکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر راولپنڈی نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت باقاعدہ نوٹس جاری کرتے ہوئے ملزم اسدعلی طور کو اصالتا طلب کرنے کا پہلا نوٹس گزشتہ روز جاری کردیا ہے ۔ اسدعلی طور کو فیڈرل انویسٹگیشن ایجنسی ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر راولپنڈی کی طرف طلبی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر حکم/ نوٹس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 Cr.P.Cکے تحت کارروائی کی جائے گی مزید تاکید کی گئی ہے کہ اپنے دفاع کے لیے ثبوتوں اور اصل شناختی کارڈ کے ساتھ مذکورہ بالا تاریخ پر تحقیقات کے لئے انسپکٹر محترمہ شمائلہ سعید سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر راولپنڈی پروفیشنل پلازہ 7Aویسٹ روڈ نیو گلزار قائد راولپنڈی میں پیش ہوں۔واضح رہے کہ چند دن پہلے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ایک غیر صحافی نجی بلاگر کے ساتھ نام نہاد سیاسی رہنما اور کرائے کے لوگوں نے موجودہ حکومت اور حساس اداروں کے خلاف پاکستان دشمن ایجنسیوں کی ایماء پر الزام تراشی کرتے ہوئے توہین آمیز زبان استعمال کی جو انتہائی قابل مذمت فعل تھی.صحافتی تنظیموں آل پاکستان نیوز پیپرز اینڈ ایڈیٹر فورم ۔پاکستان جرنلسٹ فاونڈیشن ۔نیشنل جرنلسٹ پینل کے چئیرمین رانا عمران لطیف نے کہا کہ توہین آمیز زبان انتہائی قابل مذمت فعل ہے محب وطن صحافیوں پر ہونے والے وحشیانہ حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔غیر ملکی ایجنسیوں کے ایجنڈے پر بات کرنے والے اینکر پرسن کی تقریرانتہائی قابل مذمت ہے حقیقی صحافیوں اور قلم کے مزدوروں کا حق ھمیشہ سے ایسے غداروں نے ماراھےانہوں نے کہا کہ حقیقی صحافیوں اور قلم کے مزدوروں کا حق ھمیشہ سے ایسے غداروں نےے ماراھےاینکر پرسن نے اپنی تقریر کے ذریعہ خود کو غدار بنا لیا ہم انہیں انتباہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے وطن کا محب وطن بنیں اور فورا تقریرکے الفاظ پر معافی مانگ کر آئندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کریں ۔بصورت دیگر اصلی صحافی اور قلم کے مزدور پورے ملک سے ہماری چھتری تلے جمع ہو کر ڈی چوک کے سامنے احتجاج کی کال دیں گے۔حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے جعلی صحافیوں کے خلاف کارروائی کی جائےسوشل میڈیا پر اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی شاہ متیلا نے کہا کہ غداری سے کبھی عزت نہیں ملتی سچائی سے عزت مل جاتی ہےیہ اقدام قابل مذمت ہے . چند دن پہلے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ میں حامد میرنےتوہین آمیززبان استعمال کی اوراسدعلی طور کے حق میں ہونے والے مظاہرے سے خطاب میں کہا کہ ” تم نے اسد طور سے ‘اسرائیل مردہ باد’ کا نعرہ لگوایا کیونکہ تمہاری داڑھی میں تنکا ہے۔ تمہیں پتہ ہے کہ تم ہم لوگوں کے سامنے بیٹھ کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی وکالت کرتے ہو”خیال رہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹلی جنس (آئی ایس آئی ) نے اسلام آباد میں معروف صحافی اسد علی طور پر ہونے والے حالیہ حملے سے خود کو مکمل طور پر علیحدہ کیا.پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ اعلیٰ ترین سطح پر وزارت اطلاعات اور پاکستان کی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے درمیان رابطہ ہوا جس میں آئی ایس آئی نے معروف صحافی اسد علی طور پر اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ حملے اور مبینہ تشدد سے مکمل لاتعلقی ظاہر کی .جاری بیان میں کہا گیا کہ اس واقعے پر وزارت اور آئی ایس آئی کے مابین ایک ’اعلی سطح کا رابطہ‘ قائم ہوا تھا جس میں اسلام آباد میں ڈیجیٹل میڈیا کے صحافی پر ’مبینہ طور پر حملے‘ کے حوالے سے بات چیت ہوئی اور آئی ایس آئی نے بیان دیا تھا کہ اس کا اس واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں۔بیان میں کہا گیا تھاکہ ’آئی ایس آئی کے خلاف اس طرح کے لگاتار الزامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت فیتھ جنریشن وار کا نشانہ بنایا جارہا ہے.آئی ایس آئی کی جانب سے وضاحتی بیان ملک میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف اسلام آباد میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے ایک روز بعد جاری ہوا۔یان میں کہا گیا کہ ’آئی ایس آئی کا خیال ہے کہ جب سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ حملہ آوروں کی شناخت کی جاسکتی ہے تو ان کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔خیال رہے کہ اسد علی طور کو 25 مئی کو سیکٹر ایف 10 میں واقع ان کی رہائش گاہ کے باہر نامعلوم حملہ آوروں نے زدوکوب کیا تھا۔پولیس کے مطابق کچھ لوگ ایک اپارٹمنٹ کی عمارت میں واقع اسد طور کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہوئے اور اس دوران جھگڑا ہوا جس کے بعد نامعلوم افراد نے تشدد کیا اور فرار ہوگئے.اس حملے کے بعد اسد علی طور نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ان پر تشدد کرنے والے افراد مسلح تھے اور انھیں پستول کے بٹ اور پائپ سے مارا پیٹا گیا اور انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ تشدد کرنے والے نامعلوم افراد نے اپنا تعلق پاکستان کی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے ظاہر کیا تھا.اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزارت اطلاعات اس سلسلے میں اسلام آباد پولیس سے رابطے میں ہے اور امید ہے کہ ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔وزارت اطلاعات کے مطابق بغیر ثبوت اداروں پر الزامات کی روش ختم ہونی چاہیے، منفی روایات ملکی اداروں کے خلاف سازش کا حصہ ہیں اور جلد اصل کردار بے نقاب ہوں گے۔یاد رہے کہ وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے یہ اعلامیہ ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب جمعے کی شام 28جون کو یوٹیوب ولاگر اسد طور پر تین نامعلوم افراد کی جانب سے ان کے گھر میں گھس کر تشدد کے بعد ان کی حمایت میں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جیو نیوز سے منسلک سینئیر صحافی حامد میر نے ریاستی اداروں کو تنبیہ کی تھی اب آئندہ کسی صحافی پر ایسے تشدد نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ ‘گھر کی باتیں بتانے پر مجبور ہوں گے۔مظاہرے کے دوران حامد میر کی تقریر میں کہی گئی کئی باتوں سے واضح تھا کہ ان کی تنقید کا نشانہ ملٹری اسٹیبلشمینٹ ہے,یاد رہے کہ اپریل 2014 میں حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں ان کو چھ گولیاں لگی تھیں۔ انھوں نے اس حملے کا الزام پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام پر عائد کیا تھا۔حامد میر نے اپنی تقریر میں اسد طور پر ہونے والے حملے کے بارے میں کہا کہ ایک ایسے گھر میں گھس کر حملہ کیا گیا جہاں اسد طور کی مدد کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔انھوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ‘اتنے بہادر ہو تو سینہ تان کر کہو کہ میں اس کے گھر میں گھسا ہوں۔ لیکن تم اتنے بزدل ہو۔۔۔کہ تم یہ تو نہیں مان رہے کہ میں ان کے گھر میں گھسا تھا، تم کہتے ہو، اوہو، وہ کوئی لڑکی کا بھائی تھا جس نے مارا ہے۔’یاد رہے کہ اسد طور پر حملے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی افواہیں گردش کرنے لگی تھیں جس میں کہا گیا کہ اسد طور کو کسی ذاتی معاملے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا حامد میر نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دشمن ‘سمجھتا ہے کہ میرا پتا نہیں چلے گا، میں نامعلوم ہوں۔اسد علی طور پر حملے کی خبر عام ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں ان پر ہونے والے حملے کی مذمت کا سلسلہ شروع ہوا وہیں ان پر طرح طرح کے الزمات بھی لگائے گئے۔ الزامات کے تناظر میں حامد میر نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسد طور پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ سیاسی پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ تو وطن میں ہی موجود ہیں۔وزیر داخلہ شیخ رشید کا کویت کے ایک روزہ دورے پر جانے سے قبل جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ ‘اسد طور کے مسئلے میں بعض لوگ ہماری حساس ترین ایجنسیوں کو بلاوجہ ملوث کرنا چاہتے ہیں۔’ویڈیو بیان میں مزید کہنا تھا کہ ‘اس معاملے پر ایف آئی اے اور آئی جی اسلام آباد کو ہدایات کر دی ہیں کہ دونوں ادارے مل کر کام کریں اور صحافی اسد طور کے ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں.دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی اتحاد پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے بھی اسد علی طور کی رہائش گاہ پر جا کر ان پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی عیادت کی۔ پی ڈی ایم رہنماؤں کے وفد میں مولانا فضل الرحمان، میاں شہباز شریف، مریم نواز شریف، مولانا غفور حیدری، محمود خان اچکزئی، شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب اور دیگر سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم بھی شامل تھے۔وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اس واقعے کا نوٹس لیا ہے اور ایک سینیئر پولیس افسر کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ موقع سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے جس میں یہ افراد دکھائی دے رہے ہیں، جلد ہی وہ پکڑے جائیں گے۔ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘یہ مغربی میڈیا کے لیے ایک فیشن ہے کہ جب بھی ایسا کوئی واقعہ ہو تو وہ پاکستان کی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر الزام عائد کرے اور میں جانتا ہوں کہ ماضی میں لوگوں کے اس طرح کے الزامات لگا کر بیرون ملک امیگریشن لینے کی ایک تاریخ موجود ہے۔حامد میر نے ملٹری اسٹیبلشمینٹ کو کئی دوسرے معاملوں میں بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔تقریر کے آخر میں حامد میر نے، جو کہ اس موقع پر شدید غصے میں نظر آ رہے تھے، ایک بار پھر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اگر صحافیوں کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ کیا گیا اور ان پر گھروں میں گھس کر تشدد کیا گیا تو ‘گھر کے اندر کی باتیں آپ کو بتائیں گے۔’حامد میر کی تقریر سے قبل منیزے جہانگیر نے بھی اپنی تقریر میں اسی طرح سخت لہجہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد صحافیوں پر اس طرح گھروں میں گھس کر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔انھوں نے آئین کے آرٹیکل 19 کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ہمارا ملک ہے اور ہم یہاں بولیں گے۔جہاں نہ فوج کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے نہ عدلیہ کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے۔ اگر آپ اس ملک میں سیاست کریں گے تو ہم آپ پر بات کریں گے اور کرتے رہیں گے۔’یاد رہے کہ پاکستانی آئین کے مطابق شق 19 آزادی اظہار رائے سے متعلق ہےآرٹیکل 19 کے مطابق ’اسلام کی عظمت، یا پاکستان یا اس کے کسی حصہ کی سالمیت، سلامتی یا دفاع، غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، تہذیب یا اخلاق کے مفاد کے پیش نظر یا توہین عدالت، کسی جرم کے ارتکاب یا اس کی ترغیب سے متعلق قانون کے ذریعے عائد کردہ مناسب پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو تقریر اور اظہار خیال کی آزادی کا حق ہوگا اور پریس کی آزادی ہوگی۔‘سوشل میڈیا پر رد عمل رائے منقسم نظر آئی ناقدین نے تقریر پر تنقید کی اور ان پر غلط بیانی کے الزامات لگائےایک صارف ‘آئی کراچی والا’ نے حامد میر کی تقریر کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘حامد میر نے ریاستی ادارے پر دو بڑے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ وہاں سے جواب آنا چاہیے کیونکہ الزامات ہر جگہ سنے گئے ہیں۔ جواب نہ آنے کی صورت میں ادارے کے خلاف لوگوں میں نفرت پیدا ہو سکتی ہے۔’سوشل میڈیا پر اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی شاہ متیلا نے کہا کہ غداری سے کبھی عزت نہیں ملتی سچائی سے عزت مل جاتی ہےیہ اقدام قابل مذمت ہے ۔ صارف نے حامد میر کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے والد کہا کرتے تھے کہ ‘حامد میر اپنے والد وارث میر کی طرح ریاست اور اس کے اداروں کو جمہوریت اور آزادی صحافت کے نام پر نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ میں کبھی اپنے والد کی بات نہیں سمجھ سکی تھی تاوقتیکہ آج میں نے یہ (تقریر) دیکھ لی۔’حامد میر کی حمایت میں ٹویٹ کرتے ہوئے سماجی کارکن عمار علی جان نے حامد میر کی تعریف کرتے ہوئے کہا ان کو پر داد پیش کرتے ہیں۔’ علم زیب محسود نے حامد میر کی تقریر پر کہا کہ وہ حامد میر کے ساتھ مکمل طور پر اتفاق کرتے ہیں اور صحافت کے دشمنوں کو پردے کے پیچھے نہیں چھپنا چاہیے۔ایک صارف خورشید پٹھان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ‘میں خورشید پٹھان اپنی حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ حامد میر کو فوج پر بغیر ثبوت الزام لگانے، دھمکیاں و گالیاں دینے، دشمن ملک کو مذاق اڑانے کا موقع دینے، ان کے بیانیے کو فروغ دینے کہ جرم میں فوری گرفتار کر کے غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔’حامد میر نے خود اپنی تقریر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث پر رات گئے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘اب آپ دیکھیں گے کہ پچاس ہزار روپے مہینے پر بھرتی کیے گئے کئی وی لاگرز میدان میں آئیں گے ہم پر الزامات لگا کر اپنی تنخواہ حلال کریں گے لیکن پاکستان کے عوام کو سب پتہ چل چکا ہے کہ فارن ایجنڈے پر عمل درآمد کرانے والے کون ہیں؟’حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کے لیے حکمران جماعت یا برسرِ اقتدار رہنماؤں کی جانب سے ناپسندیگی کا اظہار دنیا میں کوئی نیا چلن نہیں.پاکستان میں بھی آئے روز سوشل میڈیا پر صحافیوں کے خلاف کوئی منفی مہم یا مخالفت پر مبنی ہیش ٹیگ گردش کرنا بھی کوئی نئی خبر نہیں۔حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دو ٹویٹس کی گئیں۔ پہلی ٹویٹ میں ان صحافیوں کی فہرست چسپاں کی گئی جو حکمراں جماعت کے مطابق ’وہ اینکرز اور میڈیا کے لوگ ہیں جو بدعنوان لوگوں کا بیانیہ چلاتے ہیں۔‘ اس اکاؤنٹ کو فالو کرنے والوں کو ہدایت کی گئی کہ ’چلیں ان کے نام بلند اور واضح انداز میں لیں۔‘جبکہ دوسری ٹویٹ میں چند صحافیوں کے نام شامل کیے گئے اور لکھا گیا ’فہرست میں شامل صحافی کے بجائے ہمیں ایسے بہادر اور بے باک صحافیوں کی حمایت کرنی چاہیے جو سچ اور انصاف کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہ ٹویٹس جلد ہی ڈیلیٹ کر دی گئیں اور تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے ایک عہدے دار نے ٹوئٹر پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کے نوٹس میں آتے ہیں ان ٹویٹس کو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔خیال رہے کہ جب ہم نے صحافت کی تو کہا جاتا تھا کہ صحافیوں کو غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ اس کی خبر سے کسی بھی طرح یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ وہ ایک معاملے پر کسی کی حمایت یا مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن اب پورے پاکستان میں انداز بدل گیا ہےخیال رہے کہ قومی اداروں کےخلاف توہین آمیز تقریرجنگ، جیو گروپ نے مؤقف میں کہا کہ سول سوسائٹی اورمیڈیا حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اسد طور پر نامعلوم افراد کے حملے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں جیو کے سینئر اینکر حامد میر نے تقریر کی جس کے نتیجے میں معاشرے کے مختلف حلقوں کا شدید ردعمل سامنے آیا۔جنگ، جیو گروپ نے کہا ہےکہ ہم ایڈیٹوریل کمیٹی اور وکلاء کے ساتھ اس صورتحال کا جائزہ لیں گے کہ پالیسی یا قانون کی کوئی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔اس دوران کیپٹل ٹاک کی میزبانی عارضی میزبان کے سپرد کی جارہی ہے۔ ہم اپنے ناظرین اور قارئین کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ملک میں کسی بھی دوسری میڈیا آرگنائزیشن کے مقابلے میں کرپشن، توہین رسالت اور غداری جیسے سیکڑوں جھوٹے الزامات پر جنگ جیو گروپ کو بند کیا گیا، ہمارے صحافیوں کو مارا پیٹا گیا، اپنے ناظرین اور قارئین کو حالات سے باخبر رکھنے میں آرگنائزیشن کو 10 ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔تاہم گروپ اور اس کے ایڈیٹرز کے لیے مشکل ہوگیا کہ وہ اپنے دائرہ اختیار سے باہر کی گئی تقریر یا تحریر کے مواد کی ذمہ داری کیسے لیں، جو واقعتاً ایڈیٹوریل ٹیم نے دیکھا ہو اور نہ ہی اس کی منظوری دی ہو۔حامد میر اور دوسرے صحافی اپنے ساتھی صحافی پر حملے کے حوالے سے جس غم و غصے یا مایوسی کا شکار ہوئے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تاہم صحافت اور صحافیوں کے تحفظ کیلئے بہتر طریقے اور ذرائع موجود ہیں.پاکستان میں صحافیوں کی بہت بڑی تعداد عوام کے جاننے کے حق کے لیے لڑتے ہوئے جانوں اور آزادی سے محروم ہوئی۔پی ایف یو جے، ایچ آر سی پی، اے پی این ایس سی، اے ایم ایم ای ڈی اور سی پی این ای اس کے ساتھ ساتھ میڈیا حقوق کی عالمی تنظیمیں حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ صحافیوں کو ایسے اقدامات کے خلاف تحفظ دیا جائے مگر اب تک کسی حکومت نے ایسا نہیں کیا۔