فلسفہ شہادت امام حسینؑ سمجھناوقت کا تقاضہ …………( کالم نگار : اصغرعلی مبارک؛……. اندر کی بات ) …………امام حسین علیہ السلام اباعبد اللہ و سید الشہداء کے نام سے مشہورہیں جو واقعہ کربلا حق وباطل میں روز عاشورا کے شہید ہوئے۔ امام حسینؑ. امام علیؑ و فاطمہ زہراؑ کے دوسرے بیٹے اور پیغمبر اکرم ؐ کے نواسے ہیں۔ امام حسینؑ اپنے بھائی امام حسنؑ مجتبی کے بعد دس سال منصب امامت پر فائز رہے۔ امیرمعاویہ کی وفات کے بعد امام حسینؑ نے یزید کی بیعت کو شریعت کے خلاف قرار دیا بیعت نہ کرنے اور قتل کی دھمکی ملنے پر 28 رجب 60ھ کو مدینہ سے مکہ گئے۔ مکہ میں چار مہینے رہے اور اس دوران کوفہ والوں کی طرف سے لکھے گئے خطوط کی وجہ سے مسلم بن عقیل کو ان کی طرف بھیجا۔ مسلم بن عقیل کی طرف سے کوفہ والوں کی تائید کے بعد 8 ذی‌ الحجہ کو کوفہ والوں کی بے وفائی اور مسلم کی شہادت کی خبر سننے سے پہلے کوفہ کی جانب روانہ ہوئے۔ جب کوفہ کے گورنر ابن زیاد کو امام حسینؑ کے سفر کی خبر ملی تو ایک فوج ان کی جانب بھیجی اور حر بن یزید کے سپاہیوں نے جب آپ کے راستے کو روکا تو مجبور ہو کر کربلا کی جانب نکلے۔ عاشورا کے دن امام حسین اور عمر بن سعد کی فوج کے درمیان جنگ ہوئی جس میں امام حسینؑ اور آپ کے اصحاب و انصار میں سے 72 آدمی شہید ہوئے اور شہادت کے بعد امام سجادؑ جو اس وقت بیمار تھے، سمیت خواتین اور بچوں کو اسیر کرکے کوفہ اور شام لے گئے۔ امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کے جنازے 11 یا 13 محرم کو بنی‌ اسد نے کربلا میں دفن کئے۔ شاعرِ مشرق علاّمہ اقبال نےکیا خوب کہا ہے :غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم”نہایت اس کی حُسینؓ، ابتدا ہے اسمٰعیل”واقعہ کربلا میں حسین بن علیؑ اور ان کے اصحاب و انصار کی شہادت ہوئی؛ یہ واقعہ یزید کی بیعت نہ کرنے کی وجہ سے رونما ہوا۔ امام حسین، کوفہ والوں کی وعوت پر اپنے گھر والے اور اصحاب کے ساتھ کوفہ کی جانب سفر پر نکلے تھے، ذو حسم نامی جگہ پر حر بن یزید ریاحی کے لشکر نے راستہ کوفہ سے کربلا کی جانب تبدیل کرنے پر مجبورکیا.2 محرم‌ کوامام حسین علیہ السلام کربلا پہنچے اور اس سے اگلے دن عمر بن سعد کی سربراہی میں کوفہ سے چار ہزار کا لشکر کربلا پہنچا. اس عرصے میں امام حسینؑ اور عمر سعد کے درمیان کچھ بات بھی ہوئی لیکن ابن زیاد بیعت یزید یا جنگ کے علاوہ کسی اور بات کے لئے تیار نہیں ہوا,9 محرم کے عصر کو عمر سعد کا لشکر جنگ کے لئے تیار ہوا لیکن امام حسین علیہ السلام نے اپنے اللہ تعالی سے مناجات کے لیے اس رات کی مہلت مانگی۔ عاشورا کی رات امامؑ نے اپنے اصحاب سے گفتگو کی اور ان سے بیعت اٹھا لی اور جانے کی اجازت دی؛ لیکن انہوں نے وفاداری اور حمایت کرنے کی تاکید کی۔روز عاشورا صبح کو جنگ شروع ہوئی اور ظہر تک امام حسینؑ کے بہت سارے اصحاب شہید ہوگئے۔ جنگ کے دوران عمر سعد کی فوج کے کمانڈروں میں سے حر بن یزید ریاحی فوج کی کمانڈری چھوڑ کر امام حسینؑ سے ملحق ہوئے۔امام کے اصحاب شہید ہونے کے بعد آپ کے رشتہ دار میدان میں گئے اور ان میں سب سے پہلے جانے والے علی اکبر اور پھر وہ سب ایک ایک کرکے شہید ہوئے اور پھر امام حسینؑ خود میدان میں گئے اور دس محرم کی عصر کو حسین بن علیؑ بھی شہید ہوئے,عمر سعد نے ابن زیاد کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے امام حسینؑ کے بدن پر گھوڑے دوڑانے کا حکم دیا اور آپ کے بدن کی ہڈیاں ریزہ ریزہ کی گئیں۔ بیمار امام سجادؑ، خواتین اور بچے اسیر کرکے پہلے کوفہ پھر وہاں سے شام لے جائے گئے۔امام حسینؑ اور ان کے تقریبا 72 اصحاب کے لاشوں کو بنی اسد کے ایک گروہ نےامام سجادؑ کی ہمراہی میں شہادت پانے والی جگہ میں دفن کیا. روز عاشورا جنگ میں امام حسینؑ، ان کے بھائی عباس بن علی اور شیرخوار علی اصغر سمیت بنی ہاشم کے 17 افراد اور 50 سے زیادہ اصحاب شہید ہوئے۔ عمر بن سعد کے لشکر نے اپنے گھوڑوں کے سموں تلے شہیدوں کے اجساد کو پامال کیا۔ روز عاشور عصر کے وقت سپاه یزید نے امام حسینؑ کے خیموں پر حملہ کر کے انہیں نذر آتش کیا۔ اس رات کو شام غریباں کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ امام سجادؑ نے بیماری کی وجہ سے جنگ میں حصہ نہیں لیا لہذا آپؑ اس جنگ میں زندہ بچ گئے اور حضرت زینبؑ، اہل بیت کی خواتین اور بچوں کے ساتھ دشمن کے ہاتھوں اسیر ہوئے۔ عمر بن سعد کے سپاہیوں نے شہدا کے سروں کو نیزوں پر بلند کیا اور اسیروں کو عبید اللہ بن زیاد کے دربار میں پیش کیا اور وہاں سے انہیں یزید کے پاس شام بھیجا گیا۔واقعہ کربلا مسلمانوں کے نزدیک تاریخ اسلام کا دلخراش ترین اور سیاہ ترین واقعہ ہےواقعہ کربلا حق وباطل کا سب سے بڑا معرکہ ہے جو تاقیامت زندہ وجاوید رہے گا فلسفہ شہادت امام حسین علیہ السلام عالم اسلام کیلئےصبرواستقامت‘ راست بازی‘ ایثار‘ محبت دین اور نظام الٰہی کیلئے سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کر دینے کانام ہے۔وقت کا تقاضہ ہے کہ شہادت حسین کے پیغام کو سمجھیں