.فلسطین کے حوالے سے اوآئی سی کا کردار متنازعہ کیوں؟…… (اندر کی بات ) …اصغر علی مبارک کالم نگار …….فلسطین کے حوالے سے اوآئی سی کا کردار متنازعہ رھا ہے اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کرنے والے بیشتر ممالک اوآئی سی کا حصہ ہیں اور اسرائیل کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے ہیں اسرائیل اور فلسطیینیوں کے درمیان بگڑتی ہوئی صورت حال ان عرب حکومتوں کے لیے خاصی شرمندگی کا باعت بن رہی ہے جو حال ہی میں اسرائیل سے اپنے تعلقات کو معمول پر لائی ہیں.ایسا ہونا ہی تھا کیونکہ اسرائیل کے ساتھ کیے جانے والے وہ ایبراہم اکارڈز یا ’ابراہیمی معاہدے‘ جنھیں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے بڑے ڈھول ڈھمکے کے ساتھ طے کیا تھا، انہیں ایک نہ ایک دن زمینی حالات و واقعات کا اسیر ہونا ہی تھا۔ اب جبکہ یہ زمینی صورت حال بگڑتے بگڑتے ایک مہلک لڑائی کی شکل اختیار کر چکی ہے، عرب ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی گرمجوشی کے کھلے عام اظہار کو بھی لگام ڈال دی گئی ٹرمپ انتظامیہ کے آخری مہینوں میں ابراہیمی معاہدوں کے نام کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے جن منصوبوں کو بڑے طمراق سے حتمی شکل دی گئی تھی، ان کے نتیجے میں ہم نے دیکھا کہ کئی عرب ممالک نے نہ صرف اسرائیل سے اپنے تعلقات کو باقاعدہ تسلیم کرنا شروع کر دیا تھا، بلکہ سکیورٹی اور انٹیلیجنس سمیت بہت سے دوسرے شعبوں میں اسرائیل کے ساتھ باہمی تعاون کے ایسے منصوبوں کو عملی شکل دینا شروع کر دی تھی جن کی مثال ماضی میں نہیں دکھائی نہیں دیتی۔ان معاہدوں پر دستخط کرنے کے چند ہی ہفتوں میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ کو خلیجی ریاستوں میں جس طرح ایک بہت بڑی شخصیت کے طور پر خوش آمدید کہا گیا، صرف ایک برس پہلے تک کوئی اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔آج صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ ان معاہدوں پر دستخط کرنے والے ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور بحرین، خود کو ایک نہایت ہی مشکل مقام پر کھڑا پاتے ہیں۔کچھ ہی عرصہ پہلے وہ اپنے عوام کو خوش خوشی بتا رہے تھے کہ اسرائیل کے ساتھ دوستی کے بعد انہیں تجارت، سیاحت، طبی تحقیق، ماحول دوست معاشیات اور سائنسی ترقی کے شعبوں میں کتنے فوائد حاصل ہوں گے، لیکن آج وہ خود کو بقول شخصے چوبیس گھنٹے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر پیچ و خم کھاتا پاتے ہیں۔ ان کی نظروں کے سامنے ٹی وی پر غزہ پر اسرائیلی بمباری کے مناظر ہیں، مشرقی یروشلم میں اپنے گھروں سے طاقت کے زور پر نکالے جانے والے فلسطینیوں کی ویڈیوز ہیں، اور وہ مناظر ہیں جن میں اسرائیلی پولیس مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولتی دکھائی دے رہی ہے۔ 1969 ء میں جب او آئی سی قائم ہوئی تو اس کے بنیادی ارکان میں افغانستان،الجزائر، چاڈ، مصر ، جمہوریہ گنی، انڈو نیشیا ،ایران،اردن،کویت ، لبنان، لیبیا، ملائشیا، مالی ، ماریطانیہ، مراکش، نائیجیریا، پاکستان ،ترکی فلسطین، یمن سعودی عرب، سینی گال، سوڈان ، صومالیہ اور تیونس شامل تھے۔ آج او آئی سی کے57 ممبرملک ہیں۔ تنظیم جو 57 ملکوں کی رکنیت کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر قائم ہو نے والی دنیا کی سب سے بڑی عالمی تنظیم ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ 1969 ء میں یہ تنظیم مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی کے سانحہ کے بعد یروشلم کے مفتی کی اپیل پر قائم ہوئی تھی یعنی یہ کسی اسلامی ملک کے سربراہ کی تجویز پر نہیں بنائی گئی اور یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ جب یہ قائم ہوئی تو اسرائیلی مقبوضہ یروشلم میں مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی کے واقعہ پر اسلامی تعاون تنظیم نے سوائے مذمت کے اور کچھ نہیں کیا اور مراکش کے شہر رباط میں بس یہ ایک تاریخی واقعہ تھا کہ او آئی سی تنظیم قائم ہوئی۔گزشتہ روز اوآئی سی کے وزرائے خارجہ کا ورچوئل اجلاس میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مسلم امہ کو متحد ہونے پر زور دیا او آئی سی کے کردار پر ہر مسلمان پریشان نظر آتا ہے خاص کر غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں بے گناہ معصوم بچوں اور عورتوں کی شہادت اور انہیں بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنانے مسلم دنیا اضطراب کا شکار ھےاور اب عالمی سطح پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے جن اسلامی ممالک نے اسرائیل سے تعلقات استوار کیے ان ممالک میں بھی مظاہرے شدت اختیار کر رہے اور اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے.اتوار کو فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے منعقدہ او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ہنگامی اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینیوں کے نصب العین کی حمایت اپنے قیام سے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک واضح اور نمایاں اصول رہا ہے۔بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح ابتداءسے ہی فلسطینی عوام کے جائز ومنصفانہ حقوق کے پرزور حامی رہے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع سے محروم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی قابض فوج کی طاقت کے غیرقانونی، بلاامتیاز اور وحشیانہ استعمال، جبر، مطلق العنانی اور ناانصافی پر حیرت زدہ ہے۔اسرائیلی فوج کی کارروائیاں، اس کی نوآبادیاتی پالیسیز، جارحیت، محاصرے اور اجتماعی آبادی کو سزا دینے کی ظالمانہ روش کی بناءپر مقبوضہ فلسطین کی بگڑتی ہوئی صورت حال ناقابل برداشت ہے۔اسرائیلی فوج کی جانب سے بے کس اور اپنے دفاع سے محروم فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا بے رحمانہ اور بلاامتیاز استعمال، عالمی انسانی و بنیادی حقوق سمیت عالمی قوانین اور اصولوں کی سنگین اورکھلی خلاف ورزی ہے۔فلسطینی عوام کو درپیش اس سنگین صورتحال پروزیراعظم عمران خان نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور فلسطین کے صدر محمود عباس سے بات کی ہے۔حالیہ اسرائیلی جارحیت کا کوئی جواز نہیں،اس افسردہ اور تاریک موقعے پر ہم فلسطین کے عوام اور حکومت کے ساتھ اپنی بھرپور یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں جو جرآت اور بہادری سے اپنے جائز حقوق کا دفاع کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان غزہ پر جاری اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں بے گناہ فلسطینیوں کی شہادتیں ہو رہی ہیں اور ان کی بڑی تعداد زخمی ہے۔پاکستان مسجد اقصٰی کے تقدس کی پامالی اور اس میں عبادت کرنے والے بے گناہوں پر حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی آباد کاری میں مسلسل توسیع اور فلسطینیوں کو ان کی جائیدادوں سے بے دخل کرنے پر بھی ہمیں شدید تشویش ہے۔ القدس الشریف کے پڑوس شیخ الجراح سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، منظم انداز میں آئینی و تاریخی حیثیت اور “آبادیاتی تناسب” میں تبدیلی، القدس الشریف کے عرب اسلامی اورمسیحی کلچر کو تبدیل کرنے کی تازہ ترین مثالیں ہیں جو قطعی طورپر غیرقانونی، غیر اخلاقی اور ناقابل قبول ہے، ہمیں فلسطینی عوام اور ان کی املاک کے خلاف جاری جارحیت رکوانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔وزیر خارجہ نے عالمی مطالبہ کیا کہ عالمی برادری فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے غیرقانونی ، بے رحمانہ استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری رکوائے اور فلسطینیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ عالمی برادری فوری مداخلت کرتے ہوئے غزہ میں شہری آبادی کے خلاف اسرائیلی مظالم رکوانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے اور غزہ میں بمباری کو فی الفور روکا جائے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی منظور کردہ قراردادوں پر فی الفور عمل کرایاجائے، یہ نہ صرف فوری بلکہ نہایت ناگزیر امر ہے۔انسانیت کے خلاف جرائم پر اسرائیل کو جوابدہی سے راہ فرار اختیار نہ کرنے دی جائے۔ عالمی قوانین بشمول چوتھے جنیوا کنونشن اور انسانی حقوق کے متعدد معاہدات کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو استثناء نہیں ملنا چاہئے۔ جارحیت کے مرتکب اسرائیل اور مظلوم فلسطینیوں کو ناجائز طور پر ایک ہی پلڑے میں تولنے اور دونوں کو ایک ہی صف میں برابر کھڑا کر نے کی کوششیں بلاجواز ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ امت مسلمہ کی اجتماعی نمائندہ آواز ’اوآئی سی‘ کو متحد ہوکر، فریب کاری پر مبنی اس تاثر کو مسترد کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔گزشتہ روز اسرائیل کے فضائی حملے میں غزہ میں بلند و بالا عمارت کو تباہ کرنا، جبر کے ذریعے میڈیا کو خاموش کرانے اور رپورٹنگ سے روکنے کا ثبوت ہے۔ او آئی سی کا قیام مسئلہ فلسطین سے ہوا تھا۔ ضرورت کی اس گھڑی میں امت مسلمہ کو اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ بھرپور یک جہتی اور ان کی حمایت کیلئے آگے بڑھنا ہوگا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ خطے میں فلسطینی عوام کے انسانی حقوق، انسانی عزت ووقار کی بحالی اور جاری خون ریزی رکوانے کے لئے پاکستان بطور رکن ایگزیکٹو کمیٹی اور وزرا خارجہ کونسل کے اگلے سربراہ کے طورپر ’اوآئی سی‘ کے رکن ممالک کی طرف سے اٹھائے جانے والے ہر قدم میں ان کے ہمرکاب اور شریک کار ہونے کے لئے آمادہ و تیارہے۔وزیر خارجہ نے فلسطینی عوام کے منصفانہ اور جائز حقوق خاص طورپر ان کے استصواب رائے کے ناقابل تنسیخ حق کے حصول کی جدوجہد میں پاکستان کی دائمی حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ اور ’او۔آئی۔سی‘ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کی حمایت کا بھی اعادہ کرتا ہوں جن میں 1967 سے پہلے کی سرحدات اور القدس الشریف دارالحکومت کی حامل ایک قابل عمل، خودمختار اور وحدت رکھنے والی فلسطینی ریاست تسلیم کی گئی ہے۔ ایسے حل کے بغیر انسانی وقار کی کوئی بھی بات نہ صرف نامکمل اور ادھوری رہے گی بلکہ علاقائی امن ایک خواب رہے گا اور عالمی سلامتی خطرات سے دوچار رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس نازک مرحلے پر فلسطینی عوام کا ساتھ ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔یہ حقیقت ہے کہ اسرائیل کے خلاف پوری دنیا کے مسلمانوں میں غم و غصہ تھا اور خلافت عثمانیہ کے بعد ایک مر تبہ پھر دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت یہ چاہتی تھی کہ دنیا بھر کے مسلمان ممالک کسی ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں۔ 1918 ء میں پہلی جنگ عظیم کے بعد ترک خلافت ختم ہوئی تھی تو اس کے نتیجے میں جب سعودی عرب کو آزاد ملک کے طور پر دنیا میں متعارف کروایا گیا تو یہاں حکمران کے لیے خلیفہ کا لقب نہیں اپنایا گیا بلکہ بادشاہت کا اعلان کیا گیا پھر کہیں بہت بعد میں اسی کی دہائی میں خادمین حرمین شریفین کا لقب بھی عمومی طور پر اختیار کیا گیا اور سرکاری طور پر اور اقوام متحدہ میں بھی سعودی عرب کے لیےسعودی سلطنت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے اُس وقت سے اب تک او آئی سی کی قیادت کا وژن مستقبل بینی کی بنیاد پر حکمت ِعملی اور منصوبہ بندی کے لحاظ سے مدبرانہ نہیں رہا بلکہ یہ لیڈر شپ ذاتی مفادات کی بنیادوں پرعقائد و نظریات اور ملت ِ اسلامی کے اتحاد سے بھی انحراف کرتی رہی ہے1973 ء کی عرب اسرائیل جنگ جس میں مصر اور شام کی پوزیشن ماضی کی تین جنگوں کے مقابلے میں بہتر رہی تھی اِس جنگ کے بعد اسلامی دنیا کے اُس وقت کے تین ر ہنماؤں سعودی عرب کے شاہ فیصل پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور لیبیا کے صدر کرنل معمر قدافی نے اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ اُس وقت دیگر اسلامی ملکوں کے رہنماؤں نے بھی اِن کا بھر پور ساتھ دیا لیکن جرات اور بیباکی ابتدا میں ان ہی تین رہنماؤں نے کی کیونکہ اُس وقت سرد جنگ کے عروج پر تھی۔مراکش کے شہر رباط میں 22 ستمبر سے 25 ستمبر 1969 ء کو پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی اور اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی تشکیل پائی , اسلامی تعاون تنظیم دنیا بھر کے اسلامی ملکوں کے آپس میں تعاون اور ایک دوسرے کی امداد کے بنیادی نظریے پر قائم ہوئی تھی اور اس حوالے سے ا و آئی سی کے قواعد کے مطابق اس کے سربراہ اجلاس تین سال بعد ہوتے ہیں ، اِن اجلاس میں طے شدہ پالیسیوں اور منصوبوں پر کارکردگی اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے رکن ملکوں کے وزراء خارجہ کے سالانہ اجلاس ہوتے ہیں جن میں طے پالیسیوں اور منصوبوں پر عملدر آمد کے لیے او آئی سی کی پانچ قائمہ کمیٹیاں ہیں, عرب قوم پرستی جو پہلے عرب امیروں، شیوخ اور باشاہوں کے نظریے کے مطابق تھی اور اس کے بعد مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے نظریے کے مطابق تھی اب مسلم اتحادکی صورت مسجدِ اقصٰی میں آتشزدگی کے سانحہ کے بعد عالم اسلام کے مسئلے کے طور پر سامنے آئی اور اس میں عر ب ممالک بھی اسی جوش وخروش سے شامل ہوئے جس جوش و جذبے سے عجم یعنی غیر عرب مسلم مما لک شامل ہو ئے تھے۔جولائی 1948 ء میں اسرائیل قائم ہو گیا اور اس کے بعد پہلی عرب اسرائیل جنگ ہوئی جس میں عرب ملکوں کو شکست ہوئی۔ اُس وقت قائد اعظم محمد علی جناح ٹی بی کے مرض کے باعث دونوں پھیپھڑوں کے مکمل ناکارہ ہوئے جانے پر بغرض علاج بلوچستان زیارت میں تھے قائد اعظم نے فلسطین کے انگریزی منصوبے کی شروع ہی سے مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ برطانوی دولت مشترکہ اور برطانوی حکومت اس خوفناک منصوبے کو روکے ورنہ یہ مسئلہ مستقبل میں طویل عرصے تک تباہی کا سبب بنا رہے گا۔پہلی عرب اسرائیل جنگ کے تھوڑے عرصے بعد مصر ، عراق ، شام اور بعد میں لیبیا میں بادشاہتوں کا خاتمہ ہو گیا اور یہاں عرب نیشنل ازم کے ساتھ سوویت یونین کی حامی سوشلسٹ جمہوریائیں قائم ہو گئیں، مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے عرب قوم پرست نظریے نے عرب ملکوں میں ایک طرف تو سعودی عرب، بحرین ، عمان، کویت، قطر اور عرب امارت کے حکمرانوں کو ڈرا دیا۔ دوسری جانب ناصر عرب قوم پرستی اور سوشلست نظریات میں اتنا آگے نکل گئے کہ اسلامی نظریات اور عقائد کو بھلا دیا لیکن یہ عرب قومی پرستی عرب امیروں، شیوخ اور بادشاہوں کی اُس عرب قوم پرستی سے مختلف تھی جس نے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا تھا۔ یہ عرب قوم پرستی سوویت یونین کی حمایت اور سوشلسٹ نظریات کے ساتھ عرب دنیا میں بادشاہتوں اور اسلامی نظریات و عقائد کے خلاف تھی۔1967 ء میں تیسری عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کو بد ترین شکست ہوئی۔ مصر ، شام ، اردن اور لبنان کے کئی علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا ، اس شکست کی وجہ سے اس سوشلسٹ عرب قوم پرستی کو بھی نقصان پہنچا۔ پھر 21 ستمبر1969 ء کو اسرائیلی مقبوضہ یروشلم میں مسجد اقصٰی کو جب صیہونی سازش کے تحت آگ لگائی گئی تو یروشلم کے مفتی نے عرب لیگ کو دعوت نہیں دی بلکہ عالم اسلام کے سربراہوں کو ایک مشترکہ کانفرنس کرنے کی اپیل کی۔یوں مراکش کے شہر رباط میں 22 ستمبر سے 25 ستمبر 1969 ء کو پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی اور اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی تشکیل پائی یعنی عرب قوم پرستی جو پہلے عرب امیروں، شیوخ اور باشاہوں کے نظریے کے مطابق تھی اور اس کے بعد مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے نظریے کے مطابق تھی اب مسلم اتحادکی صورت مسجدِ اقصٰی میں آتشزدگی کے سانحہ کے بعد عالم اسلام کے مسئلے کے طور پر سامنے آئی اور اس میں عر ب ممالک بھی اسی جوش وخروش سے شامل ہوئے جس جوش و جذبے سے عجم یعنی غیر عرب مسلم مما لک شامل ہو ئے تھےاوآئی سی میں شامل ممالک کا کل رقبہ 3 کروڑ 16 لاکھ 60 ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی تقریباً ایک ارب 86 کروڑ ہے۔ اِ ن کا مجموعی جی ڈی پی ا فراد قوت خرید کے اعتبار سے 27.949 ٹریلین ڈالر اور فی کس سالانہ آمدن 9361 ڈالر ہے اور اگر اِن ملکوں میں واقعی اتحاد اور تعاون بڑھ جائے تو یہ جی ڈی پی اور فی کس آمدن تھوڑے عرصے میں چار گنا بڑھ جائے اور یہ بلاک دنیا میں اقتصادی ، معاشی ، سیاسی اور عسکری اعتبار سے دنیا کا ایک مضبوط ترین بلاک بن جائے۔چوتھی عرب اسرائیل جنگ 1973 ء میں ہوئی، اس جنگ میں عرب لیگ سے کہیں زیادہ اہم کردار اسلامی تعاون تنظیم OIC نے ادا کیا اور پاکستان سمیت بہت سے ملکوں نے فوجی اعتبار سے در پردہ اور سیاسی خارجی محاذوں پر خصوصاً اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اعلانیہ فلسطینیوں اور عربوں کی بھر پو ر حمایت کی۔ 1974 ء میں پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کئے جا نے کے بعد چین نے اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کی رکنیت پر اعتراضات واپس لے لیے اور بنگلہ دیش اُس وقت آبادی کے اعتبار سے انڈو نیشیا کے بعد دوسرے بڑے اسلامی ملک کی حیثیت سے اسلامی تعاون تنظیم کا رکن بن گیا۔ دیکھا جائے تو 103 برس کے طویل عرصے بعد عالمی اسلامی اتحاد کی بنیاد پر 1974 ء میں لاہور میں ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم کی یہ دوسری اسلامی کانفرنس سب سے کامیاب کانفرنس تھی جب کہ اس کے بعد او آئی کی سربراہ کانفرنسیں قواعد کے مطابق ہر تین سال بعد تواتر سے منعقد ہوتی رہیں۔ یوں یہ باقاعدہ اجلاس سعودی عرب میں دو مرتبہ ، مراکش میں دو مرتبہ ترکی میں دو مرتبہ اور ،کویت ، سینی گال، مراکش، تہران ، قطر،ملائیشیا،مصر، ایک ایک دفعہ منعقد ہو چکے ہیں۔ اس قاعدے کے مطابق آخری اسلامی کانفرنس 31 مئی 2019 ء کو سعودی عرب کے شہر مکہ معظمہ میں منعقد ہوئی جب کہ اسلامی تعاون تنظیم اوآئی سی کے سات خصوصی اجلاس بھی 1997 ء سے 2018 ء منعقد ہو چکے ہیں ، اس سلسلے کا پہلا خصوصی اجلاس 23 اور 24 مارچ1997 ء کو اسلام آباد پاکستان میں، دوسرا اجلاس 2003 ء میں قطر میں ، تیسرا اور چوتھا خصوصی اجلاس 2005 ء اور 2012 ء میں سعودی عرب مکہ مکرمہ میں، پانچواں خصوصی اجلاس انڈو نیشیا 2016 ء میں ہوا اور چھٹا اور ساتواں خصوصی اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں 2017 ء اور2018 ء کو منعقد ہوئے ۔2014 ء سے خصوصاً اوآئی سی پر عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب ، کویت، عمان، بحرین ، قطر اور عرب امارات کا کنٹرول رہا ہے۔ اس دوران عرب دنیا میں عراق ، شام ، لیبیا ، شدید نوعیت کی خانہ جنگیوں کا شکار ہوئے ۔افغانستان مستقل جنگ کا میدان بنا رہا اور پاکستان میں ہر طرح سے مداخلت کی گئی۔ 2016 ء سے امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دور شروع ہوا تو اُس نے اقوام متحدہ کے سامنے 73 برسوں سے رکھے گئے دنیا کے دو بڑے مسئلے یعنی کشمیر اور فلسطین کو طاقت کے زور پر نا انصافی سے حل کرنے کی کافی حد تک کامیاب کوشش کی، اس دوران امر یکہ نے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کر دیا، اس کے تھوڑے عر صے بعد ہی عرب امار ات ، بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے، باقی عرب ممالک کے تعلقات بھی اسرائیل سے قائم ہیں اور اسرائیلی حکمران اِن ملکوں کے دورے بھی کر رہے ہیں اسی طرح 2019 ء سے بھارت کا رویہ بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے انتہائی شدت پسندانہ ہے۔370 آرٹیکل کو بھارتی آئین سے ختم کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کو نہ صرف بھارت کا صوبہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے بلکہ دفعہ 35 کو ختم کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔ تقریباً سوا سال سے مقبوضہ بھارتی جموں وکشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور علاقے میں بد ترین انداز سے انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے ۔ بدقسمتی سے پا کستان نے اس دوران جب بھی اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے اس صورتحال پر آواز بلند کر نے کے لیے کوشش کی تو عرب ممالک نے بھارت کے مقابلے میں پا کستان کو اہمیت نہیں دی گئی اس وقت خصوصاً عرب ممالک کے تعلقات امریکی حمایت کی وجہ سے بھارت سے زیادہ بہتر ہیں.بیسویں صدی کی دوسری دہا ئی میںعرب اور عجم کا مسئلہ یہ رہا کہ عجم خصوصا ً برصغیر کے مسلمان یہ چاہتے تھے کہ دنیا بھر کے مسلمان اسلامی عقیدے کے مطابق حقیقت میں بھائی بھائی ہو کر متحد ہو جائیں مگر دوسری جانب عرب کے امیر و شیوخ بادشاہ بننے کے تمنائی عرب نیشنلزم پر زور دیتے تھے اور ترکی کی خلافت عثمانیہ کے خلاف تھے جب کہ ترکی بھی اُس وقت اپنی کمزوریوں کی وجہ سے مردِ بیمار کہلاتا تھا اور مرکزی مشرقی یورپ سمیت مشرق وسطیٰ میں بھی وسیع رقبوں کے کئی علاقے گنوا چکا تھا۔یوں جب 1914 ء میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی تو ترکی برطانیہ ، روس ، فرانس، امریکہ اور دیگر ملکوں کے اتحاد کے مقابلے میں ترکی اس لیے جرمنی کے ساتھ مل کر جنگ لڑا تھا کہ ایک جانب تو فتح کی صورت میں اُسے اُس کی سابق مقبوضات دوبارہ مل سکتی تھیں تو ساتھ ہی وہ مستقبل میں برطانیہ ، فرانس ، اٹلی اور روس کے مقابلے میں مستحکم ہو سکتا تھا مگر پہلی عالمی جنگ کے اختتام 1918 ء پر جرمنی اور ترکی کو شکست ہوگئی۔لیکن شکست کے باوجود ترک فوج کے جنرل مصظفٰی کمال پاشا نے بڑی جدوجہد سے 1923-24 ء تک ترکی سے انگریزوں کو نکال دیا مگر اتاترک مصطفٰی کمال پاشا نے بھی ترک قوم پرستی اور سیکولرازم کی پالیسی اپنائی یہ عربوں کے خلا ف ردعمل بھی تھا کیونکہ جنگ عظیم اوّل کے دوران عرب دنیا میں مشہور انگریز ایجنٹ لارڈ لارنس المعرف لارنس آف عریبیہ کے ساتھ مل کر عرب امیر اورشیوخ نے بادشاہتیں حاصل کرنے کے لیے ترکوں کو جنگ کے دوران ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جو ترک خلافت کی مکمل شکست کا سبب بنا جب کہ اس کے مقابلے میں برصغیر کے مسلمانوں نے جنگ کے دوران اور جنگ کے فوراً بعد ترکی کی بہت مدد کی یہاں تک کہ بچیوں کے جہیز اور زیورات تک چندے میں دیئے۔1918 ء میں ترک خلافت سلطنت ِ عثمانیہ کی شکست کے بعد ہندوستان میں تحریک خلافت چلائی کہ انگریزوں پر دباؤ ڈال کر ترکی کی خلا فت کو بحال کر وایا جا سکے مگر جب خود مصطفٰی کمال پا شا نے خلافت کی بجائے ترکی کو سیکو لر اور جمہوریہ بنا دیا تو پھر برصغیر میں بھی یہ تحریک ٹھنڈی ہوگئی مگر مسلمانوں میں عالمی سطح پر اسلامی اتحاد کی خواہش باقی رہی۔ پہلی عالمی جنگ اور اس کے بعد عرب قوم پرستی قبائلیت کی گروہی قیادتوں میں سرداروں، امیروں اور شیوخ کے ساتھ بر طانوی فرانسسی اوراٹلی کی نو آبادیات میں بعض ملکوں میں کٹھ پتلی بادشاہتوں کی صورت نیم آزاد تصور کے ساتھ چلتی رہیں جنگ عظیم اوّل میں یہودی سرمایہ داروں نے انگریزوں کی بہت مالی مدد کی تھی۔اس لیے بر طانیہ اُن اِس کا بدلہ دینا چاہتا تھا جس کا وعدہ انگریز نے پہلے سے کر رکھا تھا یہاں اِن عرب رہنماؤں میں سے بہت کم کو یہ معلوم ہو سکا کہ برطانیہ کے وزیر خارجہ بالفور عالمی صیہونی تنظیم کو عرب دنیا کے قلب فلسطین میں طاقتور یہودی ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلامیہ دے چکا تھا یا اگر چند بادشاہوں کو یہ معلوم بھی تھا تو اُنہوں نے اس کو ایک راز ہی رہنے دیا۔ یہ حکمران پہلی جنگِ عظیم میں مغربی طاقت اور اس کے جدید ہتھیاروں ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں کی کار کردگی دیکھ چکے تھے اس لیے انہوں نے کسی طرح کی جرات مندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔اب ایک جانب ترکی اہل مغرب سے شکست کھانے کے بعد مغربی طرزِ معاشرت اور تہذیب کو اپنائے ہوئے ترک قوم پرستی کا لبادہ اوڑھے سیکو لرازم کے ساتھ غیر جانبدار رہتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتا تھا تودوسری جانب پہلی جنگ عظیم کے اٹھارہ برس بعد ہی دنیا دوسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی۔اس دوران افغانستان اور ترکی کے علاوہ سعودی عرب ہی آزاد اسلامی ممالک رہ گئے تھے۔ دوسری عالمی جنگ 1939 ء سے 1945ء تک جاری رہی۔ اس جنگ میں ’’ہالو کاسٹ‘‘ یعنی یہودی قتلِ عام میں جرمنی نے عالمی اطلاعات کے مطابق 6000000 یہودیوں کو قتل کیا ۔ 1942 کے آخر تک جرمنی ، اٹلی اور پھر جا پان کا پلڑا بھاری رہا۔اس جنگ کا ایک بڑا اور تاریخی محاذ مصر ، سینا ، لیبیا اور شام ، عراق کا علا قہ بھی رہا، یہاں مشہور جرمن جنرل رومیل جسے صحرائی لومڑی کہا جاتا ہے اس کے مقابلے میں مشہور انگریز جنرل منٹگمری تھا، دیگر محاذوں کی طرح اس محاذ پر بھی انگریزی فوج کے ہندوستانی فوجی ہزاروں کی تعداد میں لڑے۔ اسی طرح یہاں دنیا بھر کے یہودی اور خصوصاً فسلطین میں نو آباد یہودی صیہونی لیڈروں کے کہنے پر ہزاروں کی تعداد میں اتحادی فوج خصوصاً انگریز فوج کے ساتھ مل کر یہاں جرمنی کی فوجوں کے خلا ف لڑے۔ مشرق وسطیٰ خصوصاً فلسطین میں دوسری جنگ عظیم کے وقت صورت یہ تھی یہاں تیس ہزار یہودی فوج نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔اسی طرح دیگر عرب رہنماؤں کے کہنے پر بارہ ہزار عرب فوج بھی انگریزوں کے حق میں یہاں جرمنی کے خلاف لڑی مگر یروشلم کے مفتی محمد امین الحسینی نے نازی جرمنی کا ساتھ دیا۔ مفتی محمد امین الحسینی نے اپنے موقف کو فلسطین اور اسلام کے حق میں بہتر جانا۔ دوسری جنگ عظیم میں مجموعی طور پر یہودیوں کی جانب سے پوری دنیا سے پندرہ لاکھ یہودیوں نے صیہونی قیادت کے کہنے پر اتحادیوں کا بھرپور ساتھ دیا اور تقریباً دو لاکھ یہودی روس اور امریکہ کی طرف سے لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے۔دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے چند مہینے قبل یہ صورت تھی جب 22 مارچ 1945 ء میں عرب لیگ قائم ہوئی تھی۔ اگرچہ یہ عرب نیشنلزم کی بنیاد پر تشکیل پانے والا اتحاد تھا اور اس میں بنیادی رکن ملکوں کے سربراہ وہ تھے جو ترک خلافت کے خلاف پہلی جنگ عظیم میں عرب نیشنل ازم کی بنیاد پر ترکوں کے خلاف اور مغربی اتحاد کے حق میں لڑے تھے۔جولائی 1948 ء میں اسرائیل قائم ہو گیا اور اس کے بعد پہلی عرب اسرائیل جنگ ہوئی جس میں عرب ملکوں کو شکست ہوئی۔ اُس وقت قائد اعظم محمد علی جناح ٹی بی کے مرض کے باعث دونوں پھیپھڑوں کے مکمل ناکارہ ہوئے جانے پر بغرض علاج بلوچستان زیارت میں تھے قائد اعظم نے فلسطین کے انگریزی منصوبے کی شروع ہی سے مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ برطانوی دولت مشترکہ اور برطانوی حکومت اس خوفناک منصوبے کو روکے ورنہ یہ مسئلہ مستقبل میں طویل عرصے تک تباہی کا سبب بنا رہے گا۔پہلی عرب اسرائیل جنگ کے تھوڑے عرصے بعد مصر ، عراق ، شام اور بعد میں لیبیا میں بادشاہتوں کا خاتمہ ہو گیا اور یہاں عرب نیشنل ازم کے ساتھ سوویت یونین کی حامی سوشلسٹ جمہوریائیں قائم ہو گئیں، مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے عرب قوم پرست نظریے نے عرب ملکوں میں ایک طرف تو سعودی عرب، بحرین ، عمان، کویت، قطر اور عرب امارت کے حکمرانوں کو ڈرا دیا۔ دوسری جانب ناصر عرب قوم پرستی اور سوشلست نظریات میں اتنا آگے نکل گئے کہ اسلامی نظریات اور عقائد کو بھلا دیا لیکن یہ عرب قومی پرستی عرب امیروں، شیوخ اور بادشاہوں کی اُس عرب قوم پرستی سے مختلف تھی جس نے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا تھا۔ یہ عرب قوم پرستی سوویت یونین کی حمایت اور سوشلسٹ نظریات کے ساتھ عرب دنیا میں بادشاہتوں اور اسلامی نظریات و عقائد کے خلاف تھی۔1967 ء میں تیسری عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کو بد ترین شکست ہوئی۔ مصر ، شام ، اردن اور لبنان کے کئی علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا ، اس شکست کی وجہ سے اس سوشلسٹ عرب قوم پرستی کو بھی نقصان پہنچا۔ پھر 21 ستمبر1969 ء کو اسرائیلی مقبوضہ یروشلم میں مسجد اقصٰی کو جب صیہونی سازش کے تحت آگ لگائی گئی تو یروشلم کے مفتی نے عرب لیگ کو دعوت نہیں دی بلکہ عالم اسلام کے سربراہوں کو ایک مشترکہ کانفرنس کرنے کی اپیل کی۔
یوں مراکش کے شہر رباط میں 22 ستمبر سے 25 ستمبر 1969 ء کو پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی اور اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی تشکیل پائی یعنی عرب قوم پرستی جو پہلے عرب امیروں، شیوخ اور باشاہوں کے نظریے کے مطابق تھی اور اس کے بعد مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے نظریے کے مطابق تھی اب مسلم اتحادکی صورت مسجدِ اقصٰی میں آتشزدگی کے سانحہ کے بعد عالم اسلام کے مسئلے کے طور پر سامنے آئی اور اس میں عر ب ممالک بھی اسی جوش وخروش سے شامل ہوئے جس جوش و جذبے سے عجم یعنی غیر عرب مسلم مما لک شامل ہو ئے تھے۔
آج او آئی سی کے57 ممبرملک ہیں۔ 1969 ء میں جب یہ قائم ہوئی تو اس کے بنیادی ارکان میں افغانستان،الجزائر، چاڈ، مصر ، جمہوریہ گنی، انڈو نیشیا ،ایران،اردن،کویت ، لبنان، لیبیا، ملائشیا، مالی ، ماریطانیہ، مراکش، نائیجیریا، پاکستان ،ترکی فلسطین، یمن سعودی عرب، سینی گال، سوڈان ، صومالیہ اور تیونس شامل تھے۔آج او آئی سی کے57 ممبرملک ہیں۔ 1969 ء میں جب یہ قائم ہوئی تو اس کے بنیادی ارکان میں افغانستان،الجزائر، چاڈ، مصر ، جمہوریہ گنی، انڈو نیشیا ،ایران،اردن،کویت ، لبنان، لیبیا، ملائشیا، مالی ، ماریطانیہ، مراکش، نائیجیریا، پاکستان ،ترکی فلسطین، یمن سعودی عرب، سینی گال، سوڈان ، صومالیہ اور تیونس شامل تھے۔1970 ء میں بحرین ، کویت ،اومان ، قطر، شام ، متحدہ عرب امارات 1972 ء میں سیرالیون، 1974 ء میں بنگلہ دیش گیمبون ، گیمبیا، گنی بساؤ، یو گنڈا، 1975 ء میں بر کینا فاسو، کیمرون، 1976 ء میں جزائر قمر، عراق، مالدیپ، جبوتی، 1982 ء میں بینن، 1984 ء بر ونائی، 1986 ء میں نائجیریا ، 1991 ء کر غزستان ، تاجکستان ، البانیہ، ترکمانستان موزمبیق، 1995 ء میں قازقستان ، ازبکستان، 1996 ء میں سورینام، 1997 ء میں ٹوگو، 1998 ء میں گیانا، 2001 ء آئیوری کوسٹ او آئی سی میں شامل ہوئے جب کہ مبصر ممالک میں بوسینیا ہرزیگونیا ، 1994 ء میں وسطیٰ افریقہ 1997 ء میں ترک قبرص 1979 ء میں تھائی لینڈ، 1998 ء میں اور روس 2005 ء میں اسلامی تعاون تنظیم کا مبصر بنا.اوآئی سی میں شامل ممالک کا کل رقبہ 3 کروڑ 16 لاکھ 60 ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی تقریباً ایک ارب 86 کروڑ ہے۔ اِ ن کا مجموعی جی ڈی پی ا فراد قوت خرید کے اعتبار سے 27.949 ٹریلین ڈالر اور فی کس سالانہ آمدن 9361 ڈالر ہے اور اگر اِن ملکوں میں واقعی اتحاد اور تعاون بڑھ جائے تو یہ جی ڈی پی اور فی کس آمدن تھوڑے عرصے میں چار گنا بڑھ جائے اور یہ بلاک دنیا میں اقتصادی ، معاشی ، سیاسی اور عسکری اعتبار سے دنیا کا ایک مضبوط ترین بلاک بن جائے۔واضح رہے کہ اِن رکن ملکوں کے علاوہ ہندوستان کی کل آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 18% سے 20% کے درمیان ہے اور روس کی آبادی میں مسلم آبادی کا تناسب اب بھی 10% سے زیادہ ہے ، روس او آئی سی کا مبصر ہے جس سے روس اور او آئی سی دونوں کو فائد ہ ہے جب کہ بھارت بارہا او آئی سی میں رکنیت اور مبصر کے لیے درخواست کر چکا ہے اور اس کی شدید مخالفت پاکستان نے ہمیشہ کشمیر میں مسلم اکثریت پر ظلم و جبر اور اِن کو اقوم متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قراردادوں کے مطابق آزادی نہ دینے کی بنیادوں پرکی ہے۔او آئی سی کا صدر دفتر سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہے۔ ا و آئی سی کے سیکرٹر ی جنرل کی فہر ست یوں ہے۔ نمبر 1 ۔ ملائیشیا کے تنکو عبدالرحمن 1971 ء سے 1973ء تک سیکرٹری جنرل رہے۔ نمبر2 ۔ مصر کے حسن التہومی 1974-75ء نمبر3 ۔ سینی گال کے ڈاکٹر مادو کریم گائے 1975ء سے 1979ء نمبر 4 ۔ تیونس کے حبیب شیتی1979 ء تا1984 ء نمبر5 ۔ پاکستان کے شریف الدین پیر زادہ 1984 ء سے1989 ء نمبر6 ۔ نائجیریا کے ڈاکٹر حامد الغابد 1989ء سے1996 ء نمبر7 ۔ مراکش کے ڈاکٹر عزالدین لراکی 1997 ء سے2000 ء نمبر8 ۔ مراکش ہی کے ڈاکٹر عبد لاحد بلکغریر 2001 ء سے 2004 ء نمبر9 ۔ ترکی کے ڈاکٹر اکمل الدین احسان اوغلو 2004 ء سے 2014 ء، سعودی عرب کے عیاد بن امین مدنی 2014 ء سے2016 ء اور اس کے بعد سے اب تک سعودی عرب ہی کے یوسف الوتایمین اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ہیں۔1969 ء میں جب او آئی سی قائم ہوئی تو یہ وہ دور تھا جب دنیا سرد جنگ کے اعتبار سے ایک اہم مر حلہ طے کر رہی تھی۔ 1970 ء میں عرب دنیا کے انقلابی لیڈر صدر کرنل جمال عبدالناصر کا انتقال ہو گیا۔ 1971-72 تک عرب امارات ، قطر، بحرین اور عمان آزاد ملک اور اقوام متحدہ کے رکن بن گئے ۔چین بھی نہ صرف اقوام متحدہ کا رکن ملک بن گیا بلکہ اس کو تائیوان کی جگہ حقیقی مین لینڈ چین تسلیم کرتے ہوئے سکیورٹی کونسل میں مستقل نشست اور ویٹو پاور دے دیا گیا ۔ چوتھی عرب اسرائیل جنگ 1973 ء میں ہوئی، اس جنگ میں عرب لیگ سے کہیں زیادہ اہم کردار اسلامی تعاون تنظیم OIC نے ادا کیا اور پاکستان سمیت بہت سے ملکوں نے فوجی اعتبار سے در پردہ اور سیاسی خارجی محاذوں پر خصوصاً اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اعلانیہ فلسطینیوں اور عربوں کی بھر پو ر حمایت کی۔ 1974 ء میں پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کئے جا نے کے بعد چین نے اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کی رکنیت پر اعتراضات واپس لے لیے اور بنگلہ دیش اُس وقت آبادی کے اعتبار سے انڈو نیشیا کے بعد دوسرے بڑے اسلامی ملک کی حیثیت سے اسلامی تعاون تنظیم کا رکن بن گیا۔اسی سال اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کی دوسر ی اسلامی کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی۔ یہ اسلامی کانفرنس جنگ ِ عظیم اوّل اور خلافتِ عثمانیہ کے اختتام کے76 سال بعد اور جنگ عظیم دوئم کے خاتمے اور اقوام متحدہ کی تشکیل کے 29 سال بعد منعقد ہوئی تھی، اس کانفرنس میں سعودی عرب کے شاہ فیصل اور لیبیا کے انقلابی رہنما کرنل معمر قد افی سمیت عرب دنیا بلکہ عالمِ اسلام میں آپس میں نظریاتی تضاد رکھنے والے رکن ملکوں کے بہت سے رہنما شریک ہوئے تھے۔دیکھا جائے تو 103 برس کے طویل عرصے بعد عالمی اسلامی اتحاد کی بنیاد پر 1974 ء میں لاہور میں ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم کی یہ دوسری اسلامی کانفرنس سب سے کامیاب کانفرنس تھی جب کہ اس کے بعد او آئی کی سربراہ کانفرنسیں قواعد کے مطابق ہر تین سال بعد تواتر سے منعقد ہوتی رہیں۔ یوں یہ باقاعدہ اجلاس سعودی عرب میں دو مرتبہ ، مراکش میں دو مرتبہ ترکی میں دو مرتبہ اور ،کویت ، سینی گال، مراکش، تہران ، قطر،ملائیشیا،مصر، ایک ایک دفعہ منعقد ہو چکے ہیں۔ اس قاعدے کے مطابق آخری اسلامی کانفرنس 31 مئی 2019 ء کو سعودی عرب کے شہر مکہ معظمہ میں منعقد ہوئی جب کہ اسلامی تعاون تنظیم اوآئی سی کے سات خصوصی اجلاس بھی 1997 ء سے 2018 ء منعقد ہو چکے ہیں ، اس سلسلے کا پہلا خصوصی اجلاس 23 اور 24 مارچ1997 ء کو اسلام آباد پاکستان میں، دوسرا اجلاس 2003 ء میں قطر میں ، تیسرا اور چوتھا خصوصی اجلاس 2005 ء اور 2012 ء میں سعودی عرب مکہ مکرمہ میں، پانچواں خصوصی اجلاس انڈو نیشیا 2016 ء میں ہوا اور چھٹا اور ساتواں خصوصی اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں 2017 ء اور2018 ء کو منعقد ہوئے ۔اسلامی تعاون تنظیم دنیا بھر کے اسلامی ملکوں کے آپس میں تعاون اور ایک دوسرے کی امداد کے بنیادی نظریے پر قائم ہوئی تھی اور اس حوالے سے ا و آئی سی کے قواعد کے مطابق اس کے سربراہ اجلاس تین سال بعد ہوتے ہیں ، اِن اجلاس میں طے شدہ پالیسیوں اور منصوبوں پر کارکردگی اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے رکن ملکوں کے وزراء خارجہ کے سالانہ اجلاس ہوتے ہیں جن میں طے پالیسیوں اور منصوبوں پر عملدر آمد کے لیے او آئی سی کی پانچ قائمہ کمیٹیاں اطلاعات و ثقافتی معاملات. اقتصادی وتجارتی معاملات. سائنس و ٹیکنا لوجی تعاون . اسلامی کمیٹی برائے اقتصادی ،ثقافتی و سماجی معاملات . مستقل تجارتی کمیٹی ہیںاگر او آئی سی کے تنظیمی ڈھانچے کو دیکھیں تو یہ دنیا کی دیگر بڑی فعال عالمی تنظیموں سے کسی طرح مختلف اور کم نہیںہے۔ یہ رقبے ،آبادی ، وسائل ہر لحاظ سے یورپی یونین سے کہیں زیادہ ہے۔یورپی یونین کے 27 ممالک کا رقبہ 4233225 مربع کلومیٹر آبادی 447 ملین یعنی 44 کروڑ 70 لاکھ اور جی ڈی پی 19.397 ٹریلین ڈالر اور فی کس سالانہ آمدن 43615 ڈالر ہے، یوں فی کس سالانہ آمدن کے علاوہ اب بھی یورپی یونین سے اسلامی تعاون تنظیم آگے ہےلیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ او آئی سی مکمل طور پر اپنے مقاصد سے ہٹ کر بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔اسلام میں مکہ اور مدینہ کے بعد مقدس ترین سمجھا جانے والا شہر بیت القدس یا یروشلم، دنیا بھر کے مسلمانوں اور عربوں کے دل میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اسی لیے مسجد اقصیٰ میں ہونے والے حالیہ واقعات نے نہ صرف سعودیوں بلکہ خطے کے دوسرے لوگوں کی دکھتی ہوئی رگ کو چھیڑ دیا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کی طرح بحرین کی حکومت نے اس ہفتے ایک بیان میں فلسطینی مقاصد کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔دوسری جانب سعودیوں نے سکون کا سانس لیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے شدید دباؤ کے باوجود وہ اسرائیل کے ساتھ پینگیں بڑھانے والی گاڑی پر سوار نہیں ہوئے، شاید انہیں بھی خوف تھا کہ کہیں حالات اتنے خراب نہ ہو جائیں جتنے آج واقعی ہو چکے ہیں۔لندن کے ایک تھِنک ٹینک، رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ سے منسلک مائیکل سٹیفن بتاتے ہیں کہ عربوں کا یہ دعویٰ کھوکھلا ثابت ہو گیا ہے کہ ابراہیمی معاہدوں کے بعد متحدہ عرب امارات جیسی ریاستیں اسرائیل پر دباؤ ڈال سکیں گی کہ وہ فلسطینی خواہشات کا لحاظ کرے۔ لیکن اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ صدر بائیڈن کی اس درخواست کی بھی شنوائی نہیں دکھائی دے رہی کہ اسرائیل اپنے تابڑ توڑ حملوں میں کمی کرے۔اکثر خلیجی ریاستوں کو ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروہ حماس سے کچھ زیادہ لگاؤ نہیں ہے جو اب تک اپنے اہداف میں تمیز کیے بغیر اسرائیلی قصبوں پر ایک ہزار سے زیادہ راکٹ اور میزائل داغ چکا ہے.لیکن خلیجی ممالک کے عرب عوام کی ہمدردیاں فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ اور کئی عشروں کی سرد مہری کے بعد اگر وہ اسرائیل کی ساتھ نئی نئی دوستی کو بادل ناخواستہ قبول کرنے کو تیار ہو گئے تھے تو حالیہ واقعات نے اسرائیل کے حوالے سے ان کے شکوک کو بھی مزید گہرا کر دیا ہے۔ابھی تک ان ممالک کے سرکاری ذرائع ابلاغ پر اس لڑائی کی خبریں جس انداز سے پیش کی جا رہی ہیں وہ اس طرح مکمل یکطرفہ نہیں ہے جیسا کہ ماضی میں اسرائیل اور عربوں کے درمیان جھڑپوں کے دنوں میں ہوا کرتا تھا۔ سعودی عرب کے العربیہ ٹی وی پر دکھائی جانے والی ویڈیوز میں غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے شہ سرخیوں میں دکھائے جا رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسی فوٹیج بھی دکھائی جا رہی ہے جس میں اسرائیلی قصبوں میں حماس کی طرف سے داغے جانے والے راکٹوں کے خوف سے عام لوگ پناہ کی تلاش میں بھاگ رہے ہیں اور سائرن بج رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں قائم سکائی نیوز عریبیہ پر بھی اگرچہ غزہ کی صورت حال دکھائی جا رہی ہے لیکن اسرائیلی حکام کے بیان بھی دکھائے جا رہے ہیں جن میں حکام کہہ رہے ہیں کہ ان کا اصل نشانہ حماس کے سینیئر کمانڈر ہیں۔دوسری جانب قطر، جو اردن اور مصر کی طرح اس لڑائی کو ختم کرانے میں ثالثی کا خواہاں ہے، اور اس کے حماس کے ساتھ قریبی تعلقات بھی ہیں، اس کے ہاں یہ چیز ٹی وی پر جاری خبروں میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ لڑائی اسرائیل اور اس کے عرب ساتھیوں کے درمیان مستقبل کے تعلقات پر کیسے اثر انداز ہو گی؟اس سوال کے جواب کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے یہ لڑائی مزید کتنا عرصہ جاری رہے گی اور آیا اس میں اموات کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا۔جو عرب ریاستیں اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لے آئی ہیں وہ یہ جانتی ہیں کہ ان کی اس نئی دوستی سے انہیں بہت کچھ ملے گا، خاص طور پر جدید ترین ٹیکنالوجی کے شعبے میں۔ لیکن ان ممالک کو ان فوائد کی قیمت اپنے ہاں بدامنی کی صورت میں چکانا پڑ سکتی ہے جو کہ گھاٹے کا سودا ہے۔ چاہے حماس اسرائیل کو کتنا بھی طیش کیوں نہ دلائے، فی الحال یہ ممالک نہیں چاہیں گے کہ وہ ایک ایسی ریاست کے ساتھ کھڑے نظر آئیں جو فلسطینیوں کو ہلاک کر رہی ہے۔مائیکل سٹیفن کے بقول ’اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات ابراہیمی معاہدے سے باہر ہو جائے، لیکن جب تک لڑائی تھم نہیں جاتی اس خلیجی ریاست اور اسرائیل کے درمیان تعلقات جہاں ہیں اسی جگہ ٹھہر جائیں گے۔اس ٹھہراؤ کی عملی شکل یہ ہو گی گذشتہ کئی برسوں کی طرح متحدہ عرب امارات اور اسرائیل پس پردہ اپنے رابطے برقرار رکھیں گے، لیکن فی الحال وہ دن گزر گئے جب دونوں ملکوں کے سفیر مشترکہ پریس کانفرنسیں کیا کرتے تھے اور دونوں میں لوگوں کے سامنے مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا کرتا تھا۔مشرق وسطیٰ بدل رہا ہے۔ اسرائیل نے بہت سے ایسے عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کر لیے ہیں جنھوں نے سنہ 1948 میں اس کے قیام کے بعد کبھی بھی اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔یہ درست ہے کہمشرق وسطیٰ بدل رہا ہے۔ اسرائیل نے بہت سے ایسے عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کر لیے ہیں جنھوں نے سنہ 1948 میں اس کے قیام کے بعد کبھی بھی اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔ایران کے خلاف اسرائیل کے لیے مرکزی کردار کے حامی ممالک کے اتحاد کو تقویت ملی ہےان سب کے درمیان فلسطین کا وہ سوال جو کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ کی سیاست کا مرکز و محور رہا ہے کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ’دو ملک‘ والا حل دفن کیا جا چکا ہے اور اب بہت سے ماہرین ایک ملک میں دو قومیتوں کے نظریے کو فروغ دے رہے ہیں۔سعودی عرب، مصر اور دوسرے خلیجی بادشاہت والے ممالک نے اشارہ دیا ہے کہ فلسطین کو الگ ملک بنانے کا مطالبہ اب ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور وہ مستقبل میں ایسا ہونے کا امکان بھی نہیں دیکھ رہے ہیں۔ فلسطینی معاشرہ کئی حصوں میں منقسم ہے۔ اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں 20 لاکھ فلسطینی آباد ہیں اور وہ 167 مختلف علاقوں میں رہتے ہیں۔ جبکہ تقریباً 20 لاکھ افراد غزہ میں رہتے ہیں۔1948 اور 1967 کی جنگوں میں 50 لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور وہ علاقے کے مختلف کیمپوں میں مقیم ہیں۔مغربی کنارے میں محمود عباس کی ایک غیر تسلیم شدہ حکومت ہے جو اسرائیل اور بین الاقوامی مدد پر انحصار کرتی ہے۔ غزہ میں سیاسی عسکری گروپ حماس کی انتظامیہ ہے جس کو قطر، ترکی اور ایران کی حمایت حاصل ہے۔اسرائیل نے سنہ 1967 کی چھ روزہ جنگ میں مغربی کنارے، گولان کی پہاڑیوں اور غزہ پر قبضہ کر لیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے بار بار مذمتی قراردادوں کے بعد، اسرائیل 2005 میں غزہ سے دستبردار ہو گیا۔اسی دوران اسرائیل نے چار لاکھ 63 ہزار 353 افراد کو قریبی شہروں میں آباد کیا ہے۔ ان میں زیادہ تر مذہبی قوم پرست ہیں جنھوں نے کھیتوں اور آبی وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اسرائیل نے ان علاقوں میں فوج کی موجودگی میں اضافہ کیا اور مشرقی یروشلم میں تین لاکھ افراد کو آباد کیا۔سنہ 1993 میں اوسلو معاہدے میں یہ طے ہوا کہ مغربی کنارے اور غزہ کے کچھ حصوں میں فلسطین کی اپنی حکومت ہو گی۔ اس کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ دونوں فریق مستقل حل کی طرف بڑھیں گے جس کے مطابق سنہ 1948 تک برطانوی حکومت کے زیر نگیں آنے والے فلسطین کے 22 فیصد حصے میں ایک ملک بنے گا جو کہ فلسطین کہلائے گا۔لیکن اسرائیل کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس ملک میں ساری حکومتیں فلسطین کے مطالبات کے معاملے میں رخنہ ڈالتی ہیں تاکہ اوسلو معاہدے کو بھی ناکام بنا دیا جائے۔ان مطالبات میں سنہ 1948 اور 1967 کی جنگوں میں بے گھر ہونے والوں کو واپسی کا حق، مشرقی یروشلم اور اس کے مقدس مقامات پر ان کا غلبہ، مغرب کنارے اور غزہ کی نوآبادیاتی سرگرمیوں پر روک ایک دفاعی نظام شامل ہیں۔
اسرائیل کے سرکاری نقطہ نظر سے فلسطینیوں کے مطالبات بہت زیادہ ہیں اور حقیقت پسندانہ نہیں ہیں۔ فلسطین کے مختلف دھڑوں کا ایک جیسا سیاسی موقف نہیں ہے اور بہت سی تنظیمیں دہشت گردی کا سہارا لیتی ہیں۔ سنہ 2020 میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ وہ مغربی کنارے کا ایک تہائی حصہ اسرائیل میں ضم کر دیں گے۔ وہ اس میں تاخیر کرتے رہے شاید اس لیے کہ عرب ممالک ایک کے بعد ایک اسرائیل کو تسلیم کر رہے تھے۔جولائی میں امریکی یہودی مصنف پیٹر بینارٹ نے نیو یارک ٹائمز میں لکھا: ’اب وقت آگیا ہے کہ ’دو ملکوں‘ کے حل کو ترک کیا جائے۔ یہودیوں اور فلسطینیوں کے مساوی حقوق کے مقصد پر توجہ دی جانی چاہیے۔‘ان کا کہنا ہے کہ یہ ایسا ملک ہو سکتا ہے جس میں اسرائیل ہو، مغربی کنارہ ہو، غزہ اور مشرقی یروشلم ہو یا یہ دونوں ممالک کا اتحاد بھی ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز میں مبصر گیڈین لیوی نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایسے کسی حل کے متعلق سوچیں اور ایسی شروعات کریں جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا کیونکہ دوسرا کوئی آپشن نہیں ہے۔ماضی میں بھی ایسی تجویز دی گئی تھیدو قومیتوں والے ملک کا خیال نیا نہیں ہے۔ سنہ 1948 میں فلسفی حنا ارینڈ نے فلسطین کی تقسیم کے بجائے یہودی، عرب اور دیگر اقلیتوں کے اتحاد کے ساتھ دو قومیتوں والے ملک کا نظریہ پیش کیا تھا۔
اسرائیلی مصنف اوری ایوینری نے سنہ 2013 میں ایسا ہی خیال پیش کیا تھا۔ ان کے علاوہ فلسطینی ایڈورڈ اور یہودی نژاد برطانوی ٹونی جڈ نے بھی ایسی تجویز پیش کی تھی۔جنوبی افریقہ کے اینتھروپولوجیکل ریسرچ کونسل کی پروفیسر ورجینیا ٹیلی نے بھی اپنی کتاب ’فلسطین،اسرائیل: اے کنٹری‘ میں اس کا مشورہ دیا ہے۔گذشتہ ایک دہائی میں فلسطین کو اسرائیل میں ضم کرنے کے متعدد ماڈلز کے بارے میں اسرائیل کے سیاسی دائرے میں، خاص طور پر دائيں بازو کے حامیوں میں خدشات پائے جارہے ہیں۔
تمام ماڈلز میں ان کے حقوق محدود کر دیے گئے ہیں یا یہ بہت طویل مدتی منصوبے ہیں جن میں آہستہ آہستہ انھیں کئی نسلوں کے بعد مساوی حقوق ملیں گے۔پیٹر بینارٹ کی اس تجویز کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی یوسی ایلفر نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔ سلامتی اور معاہدوں کے ماہر یوسی کے مطابق دو قومیتوں والے ملک کی تجویز مشرق وسطیٰ کے تنازعات، اسرائیل کی انتہا پسندانہ فضا اور فلسطینی اتھارٹی کی کمزوری کی حقیقت سے دور ہے۔
ان کے خیال میں اس تجویز سے امریکہ کے لبرل یہودی سرکل اور اسرائیل کی حقیقت کے درمیان فرق ظاہر ہوتا ہے۔
ایلفر کے مطابق دو قومیتوں والا ملک اصل تنازعے کو حل نہیں کر سکتا۔ بلکہ دونوں طرف سے انتہا پسندوں کے مابین پرتشدد تصادم بڑھ سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب اسرائیل کو تباہی کی اس راہ پر جانے سے روکنے کی ضرورت ہے جو وہ مغربی کنارے میں کرنے جا رہا ہے۔ یہ قدم نسل پرستی کے بحران کا باعث بنے گا۔
دوسرے ناقدوں کا کہنا ہے کہ دو قومیتوں والے ملک میں لوگ قیادت کے لیے لڑیں گے اور اسرائیل اور فلسطین میں بسنے والے بہت کم اسرائیلی اور غیر فلسطینی اس تجویز کے حق میں ہیں۔سنہ 2014 میں مساوی ممالک کی تجویز دی گئی تھی اور یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ دو ممالک فلسطین اور اسرائیل ایک ہی سرزمین پر موجود ہوں اور اپنے شہریوں کے لیے تقریباً ایک جیسی معاشی، دفاعی اور فلاحی پالیسیاں ہوں۔ سویڈش حکومت نے بھی اس تجویز کی حمایت کی تھی۔ فلسطینیوں کو اقلیت کی حیثیت سے ثقافتی خود مختاری اور اجتماعی حقوق کے ساتھ ساتھ مساوی شہری اور سیاسی حقوق بھی حاصل ہونا چاہیے۔ یہ کہنا غلط ہو گا کہ اس کا حل ایک یا دو ممالک کی تشکیل میں مضمر ہے کیونکہ اہم سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے نوآبادیاتی قبضے کو کس طرح روکا جائے اور فلسطینیوں کے حقوق کا احترام کیا جائے۔کولمبیا یونیورسٹی کے فلسطینی پروفیسر راشد خالدی زور دیتے ہیں کہ اس تنازعے میں نو آبادیاتی کردار بھی ہے جس کی بنیادی خصوصیت غیر مساوی حقوق ہیں۔
50 لاکھ فلسطینی فوج کے زیرِ اثر مقبوضہ عہدوں پر رہتے ہیں جنھیں کوئی حقوق حاصل نہیں ہیں اور دوسری طرف پانچ لاکھ اسرائیلی نوآبادیاتی حقوق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے کے باوجود آج فلسطین میں دو طرح کے لوگ آباد ہیں۔






