علامہ اقبال کے تصورِ خودی کا متحرک پلیٹ فارم;پرائم منسٹر یوتھ پروگرام
(اصغر علی مبارک )
علامہ اقبال کے تصورِ خودی اور شاہین کے فلسفے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا ایک اہم اور متحرک پلیٹ فارم پرائم منسٹر یوتھ پروگرام ہے,۔
اقبال کا پیغام محض فلسفہ نہیں بلکہ عمل، مسلسل جدوجہد اور خود انحصاری کا درس ہے، اور موجودہ دور میں یہ پروگرام نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھار کر ملکی ترقی میں ان کا حصہ یقینی بنا رہا ہے۔
وزیراعظم پاکستان کے اقدامات اس عزم کا اعادہ ہیں کہ ملک کا روشن مستقبل صرف اسی صورت ممکن ہے جب نوجوان اقبال کے خوابوں کی تعبیر بن کر ملک و قوم کا نام روشن کریں۔
۔
نوجوانوں کے لیے ترقی کے اقدامات:

- اڑان پاکستان اور ہنرمندی کا فروغ: پرائم منسٹر یوتھ پروگرام نوجوانوں کو جدید تکنیکی اور ڈیجیٹل مہارتیں سکھا کر انہیں روزگار کے جدید مواقع فراہم کر رہا ہے۔ یہ اقدامات اقبال کے اس شاہین کی تخلیق کے مترادف ہیں جو اپنی پرواز کے لیے خود راستے بناتا ہے۔
- وزیراعظم یوتھ بزنس لون : نوجوانوں کو بلا سود اور آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا مقصد انہیں نوکری ڈھونڈنے والوں کے بجائے نوکری دینے والا بنانا ہے۔
یہ علامہ اقبال کے خودی کے اس نظریے سے ہم آہنگ ہے جہاں انسان کسی دوسرے کا محتاج ہونے کے بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرتا ہے۔ - تعلیمی اور کھیلوں کی سرگرمیاں: گرین یوتھ موومنٹ اور یوتھ ٹیلنٹ ہنٹ جیسے پروگرامز کے ذریعے نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو نکھارا جا رہا ہے تاکہ وہ ایک صحت مند اور مثبت معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
حکومتِ پاکستان کے یہ اقدامات اس عزم کا اعادہ ہیں کہ ملک کا روشن مستقبل صرف اسی صورت ممکن ہے جب نوجوان اقبال کے خوابوں کی تعبیر بن کر ملک و قوم کا نام روشن کریں۔اڑان پاکستان حکومتِ پاکستان کا ایک جامع اور انقلابی فریم ورک ہے جس کا بنیادی مقصد ملک کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور انہیں قومی سماجی و اقتصادی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا ہے۔ یہ پروگرام ایک خاص قومی ترقیاتی حکمتِ عملی کے تحت کام کرتا ہے جس کے بنیادی محور برآمدات میں اضافہ، ڈیجیٹل ای-پاکستان کا قیام، ماحولیاتی تحفظ، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور معاشرے کے تمام طبقات کو مساوی حقوق کے ساتھ بااختیار بنانا ہیں۔
اس اقدام کا ایک بڑا اور اہم سنگِ میل ایک کروڑ نوجوانوں کو سوشل اویئرنس ایمبیسیڈرز کے طور پر متحرک کرنا ہے جو نچلی سطح پر بچوں کی صحت، غذائیت اور ابتدائی تعلیم جیسے اہم موضوعات پر آگاہی مہمات چلا رہے ہیں۔ مقامی سطح پر کمیونٹی کی تعمیر کے ساتھ ساتھ یہ فریم ورک بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نوجوانوں کو “مٹی کی پکار” سمر اسکالرز پروگرام کے ذریعے وطن واپس لا کر اہم وزارتوں، سرکاری اداروں اور پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر تزویراتی پالیسی سازی میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ملک کے درجنوں شہروں میں قائم یوتھ پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ چیپٹرز کے ذریعے نوجوانوں میں قیادت اور شہری ذمہ داریوں کا شعور بیدار کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ملکی نظام کا فعال حصہ بن سکیں۔ مزید برآں، یہ پورا نظام وزیرِاعظم کے دیگر بڑے فلیگ شپ پروگراموں کے ساتھ مربوط ہے جس کی بدولت نوجوانوں کو پی ایم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم، نیشنل انٹرنشپ فیلوشپس، ڈیجیٹل مہارتوں کے بوٹ کیمپس اور کاروباری و زرعی قرضوں کے پروگراموں تک براہِ راست رسائی حاصل ہوتی ہے تاکہ وہ مالی طور پر خود مختار ہو کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ وفاقی حکومت اور وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی نے پاکستان بھر کے نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے متعدد انقلابی پروگرام شروع کیے ہیں جن کا مقصد ملک کی اس بڑی آبادی کو تعلیم، جدید ڈیجیٹل ہنر، روزگار اور شہری قیادت کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ ان جامع اقدامات کے ذریعے نوجوان نسل کو اس قابل بنایا جا رہا ہے کہ وہ قومی معیشت میں اپنا فعال کردار ادا کر سکیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا سبب بنیں۔
اس سلسلے میں “اڑان پاکستان” نیٹ ورک ایک مرکزی ستون کی حیثیت رکھتا ہے جو نوجوانوں کو بااختیار بنانے، تعلیم دینے اور روزگار فراہم کرنے کے سہ نکاتی ماڈل پر کام کرتا ہے۔ اس اقدام کے تحت حکومت ایک وسیع قومی نیٹ ورک کو متحرک کر رہی ہے جس کے ذریعے تقریباً دس لاکھ نوجوانوں کو “سوشل اویئرنس ایمبیسیڈرز” کے طور پر نچلی سطح پر تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ بچوں کی غذائیت، منشیات کے خاتمے، صفائی ستھرائی کے اصولوں اور اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیم کی طرف لانے جیسے اہم مسائل پر آگاہی مہمات چلا سکیں۔ اس کے ساتھ ہی “ینگ پیس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپس” (YPDC) کے تحت ملک کے 42 سے زائد شہروں اور یونیورسٹیوں میں 131 سے زیادہ چیپٹرز قائم کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ اور قومی پالیسی سازوں کے درمیان مکالمے کے ذریعے نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کی جا سکیں۔
اسی طرح پرائم منسٹر یوتھ پروگرام نے یونیسیف کے تعاون سے تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات کے اصولوں پر مبنی بڑے فلیگ شپ منصوبے شروع کیے ہیں، جن میں نویں اور دسویں جماعت کے ہونہار طلبہ کے لیے “کروم بک اسکیم” شامل ہے جس کے تحت چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں میرٹ پر لیپ ٹاپس تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ مالی خود مختاری اور انٹرپرینیورشپ کے فروغ کے لیے وزیرِاعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت اربوں روپے کے بلا سود اور آسان قرضے جاری کر کے ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد نوجوانوں کو اپنے کاروبار اور زرعی منصوبے شروع کرنے کے قابل بنایا گیا ہے، جبکہ آئی ٹی اور فری لانسینگ جیسے جدید شعبوں میں اب تک 99 ہزار سے زائد اسکلز اسکالرشپس بھی دی جا چکی ہیں۔ ان ملکی کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر جوڑنے کے لیے “مٹی کی پکار” سمر اسکالرز پروگرام کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نوجوانوں کو وفاقی وزارتوں، نادرا اور پارلیمنٹ کے ساتھ تزویراتی فیلوشپس کے مواقع دیے جا رہے ہیں تاکہ عالمی تجربات کو ملکی پالیسی سازی کا حصہ بنایا جا سکے۔وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) کے زیرِ انتظام وزیرِاعظم یوتھ کروم بک اسکیم 2026 کے تحت ملک بھر کے سرکاری اسکولوں کے پوزیشن ہولڈرز اور ہونہار طلبہ کو 5 لاکھ مفت گوگل کروم بکس ) فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد غریب اور متوسط طبقے کے باصلاحیت طلبہ کو جدید ترین ڈیجیٹل آلات اور انٹرنیٹ سروسز تک رسائی دینا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر تعلیمی و تکنیکی میدان میں مسابقت کے قابل بن سکیں۔
علاقائی معیارِ اہلیت کے مطابق پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے تعلیمی بورڈز کے تحت صرف نویں جماعت کے وہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ درخواست دینے کے اہل ہیں جنہوں نے سالانہ امتحانات 2026 میں نمای نمایاں اور ٹاپ پوزیشنز حاصل کی ہوں، جبکہ اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے فیڈرل و مقامی بورڈز کے نویں اور دسویں جماعت دونوں کے ٹاپ پوزیشن ہولڈرز سرکاری طلبہ کو اہل قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اور دیگر سرکاری تکنیکی اداروں میں میٹرک ٹیک پروگرام کی نویں جماعت میں زیرِ تعلیم وہ طلبہ بھی اہل ہیں جن کے حاصل کردہ نمبر 50 فیصد سے زائد ہوں، تاہم بنیادی شرط یہ ہے کہ یہ اسکیم صرف سرکاری اسکولوں کے ان ریگولر طلبہ کے لیے ہے جن کے نام متعلقہ تعلیمی بورڈز نے شارٹ لسٹ کر کے IBCC کو بھیجے ہیں۔
آن لائن اپلائی کرنے کے لیے طلبہ کو تازہ ترین پاسپورٹ سائز رنگین تصویر، تعلیمی بورڈ کی طرف سے جاری کردہ سالانہ امتحان 2026 کا آفیشل رزلٹ کارڈ، طالب علم کے ب فارم کی تصدیق شدہ کاپی اور والد یا سرپرست کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی تصدیق شدہ کاپی تیار رکھنی چاہیے رجسٹریشن کے لیے طلبہ کو سب سے پہلے آفیشل پورٹل پر جانا ہوگا جہاں انہیں اپنے متعلقہ تعلیمی بورڈ کا انتخاب کرنے کے بعد ب فارم نمبر، امتحانی رول نمبر یا رجسٹریشن نمبر اور تاریخِ پیدائش درج کرنی ہوگی۔ سرچ کرنے پر ڈیٹا ظاہر ہونے کے بعد اپنے نام، اسکول اور نمبروں کی اچھی طرح تصدیق کر کے تمام مطلوبہ دستاویزات اپلوڈ کرنی ہوں گی اور فارم کو فائنل سبمٹ کرنے پر ایک ریفرنس نمبر جاری ہوگا جس کے بعد رجسٹریشن کی رسید ڈاؤن لوڈ کی جا سکے گی۔وزیرِاعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم (PMYB&ALS) حکومتِ پاکستان کا ایک فلیگ شپ پروگرام ہے جس کا مقصد ملکی نوجوانوں کو اپنے نئے کاروبار کے آغاز، موجودہ بزنس کی توسیع اور جدید زرعی منصوبوں کے لیے آسان شرائط اور انتہائی کم مارک اپ پر مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ یہ اسکیم ملک بھر کے 15 سے زائد نامزد کمرشل، اسلامی اور ایس ایم ای (SME) بینکوں کے اشتراک سے چلائی جا رہی ہے جس میں 25 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے مخصوص کیا گیا ہے تاکہ خواتین کی معاشی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسکیم کے تحت قرضوں کو تین مختلف درجوں (Tiers) میں تقسیم کیا گیا ہے جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں: - ٹیئر 1 (Tier I): اس درجے کے تحت 1 لاکھ سے لے کر 5 لاکھ روپے تک کا قرضہ دیا جاتا ہے جو کہ مکمل طور پر بلا سود (0% مارک اپ) ہوتا ہے اور اس کی واپسی کی مدت 3 سال تک ہے۔
- ٹیئر 2 (Tier II): اس درجے کے تحت 5 لاکھ سے زائد اور 15 لاکھ روپے تک کا قرضہ فراہم کیا جاتا ہے جس پر سالانہ مارک اپ کی شرح صرف 5 فیصد ہے، اور یہ قرضہ ذاتی ضمانت (Personal Guarantee) پر بغیر کسی سخت سیکیورٹی کے دیا جاتا ہے۔
- ٹیئر 3 (Tier III): اس درجے کے تحت 15 لاکھ سے زائد اور زیادہ سے زیادہ 75 لاکھ روپے تک کا بڑا قرضہ حاصل کیا جا سکتا ہے جس پر سالانہ مارک اپ کی شرح 7 فیصد ہے جبکہ اس کی سیکیورٹی بینک کی پالیسی کے مطابق طے ہوتی ہے۔
اسکیم میں طویل مدتی یا ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرض کی واپسی کی زیادہ سے زیادہ مدت 8 سال تک ہے جس میں 1 سال کا رعایتی پیریڈ (Grace Period) بھی شامل ہوتا ہے، جب کہ ورکنگ کیپیٹل اور زرعی پیداواری اخراجات کے لیے قرض کی واپسی کی مدت 5 سال تک ہے۔ اہلیت کے معیار کے مطابق تمام پاکستانی رہائشی جن کی عمر 21 سے 45 سال کے درمیان ہو وہ اس اسکیم میں اپلائی کر سکتے ہیں، تاہم آئی ٹی اور ای کامرس سے وابستہ کاروباری منصوبوں کے لیے کم از کم عمر کی حد 18 سال رکھی گئی ہے بشرطیکہ وہ کم از کم میٹرک پاس ہوں۔ سرکاری ملازمت کرنے والے افراد اس اسکیم کے تحت فنانسنگ حاصل کرنے کے اہل نہیں ہیں۔
خواہشمند اور اہل نوجوان اس اسکیم کے لیے کسی بھی کاغذی کارروائی کے بغیر صرف اور صرف ڈیجیٹل یوتھ ہب کی وزیراعظم یوتھ لون اسکیم آفیشل ویب سائٹ پر جا کر آن لائن درخواست جمع کروا سکتے ہیں، جس کا پراسیسنگ وقت بینکوں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ 45 دن مقرر کیا گیا ہے۔وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت “ہنرمندی اور وظائف” کا اقدام نیشنل ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ کمیشن کے اشتراک سے ملک کے لاکھوں نوجوانوں کو جدید دور کی مارکیٹ کے مطابق بالکل مفت فنی و ڈیجیٹل کورسز اور تعلیمی وظائف فراہم کر رہا ہے۔ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تعلیمی نیٹ ورک کے تحت اب تک 99,000 سے زائد نوجوانوں کو ہنرمندی کے وظائف دیے جا چکے ہیں، جبکہ اس کے فلیگ شپ پروگرام “Skills of Tomorrow” کے ذریعے سال 2027 تک مجموعی طور پر 7 لاکھ 95 ہزار سے زائد نوجوانوں کو جدید ترین شعبوں میں عالمی معیار کی سرٹیفیکیشنز فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس پروگرام کے تحت فراہم کیے جانے والے کورسز، وظائف کے فوائد اور اہلیت کا معیار درج ذیل ہے:
اسکیم کے تحت نوجوانوں کو ہائی ٹیک (High-Tech) اور روایتی دونوں طرز کے شعبوں میں تربیت دی جاتی ہے جن میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، شاپائف ای کامرس (Shopify eCommerce)، پاور بی آئی (Power BI)، سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO)، اپ ورک و فری لانسنگ، اور گرافک ڈیزائننگ جیسے جدید ترین کورسز شامل ہیں۔ یہ تمام کورسز 3 سے 6 ماہ کی مدت پر مشتمل ہوتے ہیں جو مکمل طور پر 100 فیصد مفت سکھائے جاتے ہیں اور حکومت کی جانب سے نہ صرف کوئی فیس نہیں لی جاتی بلکہ طلبہ کو ماہانہ تعلیمی وظیفہ (Stipend) بھی دیا جاتا ہے۔ کورس مکمل کرنے پر نیشنل فریم ورک (NVQF) اور بین الاقوامی اداروں سے تسلیم شدہ اسناد فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ کامیاب طلبہ کو روزگار کی فراہمی کے لیے جاب پلیسمنٹ سپورٹ بھی دی جاتی ہے اور سعودی عرب جیسے ممالک کے لیے “تکامل” (Takamal) جیسے مشترکہ منصوبوں کے تحت بیرونِ ملک ملازمت کے سرٹیفکیٹس بھی جاری کیے جاتے ہیں۔
اسکیم کا فائدہ اٹھانے کے لیے درخواست گزار کی عمر 18 سے 35 سال کے درمیان اور اس کا پاکستانی شہری ہونا لازمی ہے، جبکہ تعلیمی قابلیت کم از کم میٹرک یا اس سے زائد ہونی چاہیے اور ایسے نوجوانوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو فی الحال بے روزگار ہوں اور روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ کلاسز لینے کے لیے وقت نکال سکیں۔ معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت کے لیے اس پروگرام میں 30 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے جبکہ 5 فیصد کوٹہ معذور افراد (Persons with Disabilities) کے لیے مخصوص رکھا گیا ہے تاکہ وہ بھی ہنرمند بن کر ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں پرائم منسٹر یوتھ پروگرام اور اڑان پاکستان کے انقلابی اقدامات دراصل حکومتی سطح پر علامہ اقبال کے فلسفہٴ خودی اور شاہین کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کی ایک جدید ترین سائنسی اور معاشی کوشش ہیں۔ اقبال کا شاہین محتاجی کے بجائے خود انحصاری، بلند پروازی، اور مسلسل جدوجہد کا استعارہ ہے، اور یہی فکر اڑان پاکستان کے بنیادی نظریے میں جھلکتی ہے جہاں نوجوانوں کو نوکری ڈھونڈنے والوں کے بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے والے کاروباری رہنما (Entrepreneurs) اور ہنرمند بنانے پر پوری توجہ دی جا رہی ہے۔اس فریم ورک کے تحت نوجوانوں کی فکری، معاشی اور ڈیجیٹل پرواز کے لیے ایسے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں جو اقبال کے خوابوں کی تعبیر بن رہے ہیں جس میں سب سے نمایاں “اڑان پاکستان” کا سوشل موبلائزیشن نیٹ ورک ہے جو ملک بھر کے تقریباً دس لاکھ نوجوانوں کو “سوشل اویئرنس ایمبیسیڈرز” کے طور پر متحرک کر رہا ہے تاکہ وہ نچلی سطح پر جا کر بچوں کی غذائیت، تعلیم اور منشیات کے خاتمے جیسی مہمات کی قیادت کر کے معاشرے میں مثبت تبدیلی کا سبب بنیں۔ اس کے ساتھ ہی “ینگ پیس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپس” کے تحت ملک کے 42 سے زائد شہروں میں قائم 131 سے زیادہ چیپٹرز طلبہ کو قومی پالیسی سازوں کے ساتھ براہِ راست مکالمے اور قیادت کے مواقع فراہم کر کے ان کے فکری افق کو وسعت دے رہے ہیں جو اقبال کے نوجوانوں میں تزویراتی سوچ بیدار کرنے کے عین مطابق ہے




