علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی علوم اسلامیہ میں اسکالر محسن علی شاہ کا پی ایچ ڈی مقالے کا کامیابی سے دفاع
اسلام آباد(پریس ریلیز)
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں علوم اسلامیہ کے اسکالر محسن علی شاہ کے پی ایچ ڈی مقالے کا کامیاب زبانی امتحان (ڈیفنس) منعقد ہوا، جس میں انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا اہل قرار دے دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے کلیہ عربی و علوم اسلامیہ (بلاک نمبر 12) کے کمیٹی روم میں ایک اہم زبانی امتحان منعقد ہوا، جس کا موضوع “پاکستان میں اسلامی بنکاری: منتخب مصنوعات کے معاشی اثرات” تھا۔ اس موقع پر اسکالر محسن علی شاہ نے اپنے تحقیقی مقالے کا کامیابی سے دفاع کیا اور پینل کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے۔
اس علمی و تحقیقی معرکے کی صدارت ڈین کلیہ عربی و علوم اسلامیہ پروفیسر ڈاکٹر محی الدین ہاشمی نے کی، جو کہ اس مقالے کے نگران (سپروائزر) بھی تھے۔ مقالے کے معاون نگران علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈین کلیہ سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر سید محمد عامر شاہ تھے۔
تحقیقی مقالے کے بیرونی ممتحنین (External Examiners) میں بارانی رحمت اللعالمین یونیورسٹی راولپنڈی سے پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین اور فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی سے ڈاکٹر شہزادی پاکیزہ شامل تھیں، جنہوں نے اسکالر کی تحقیقی کاوش کو سراہا۔ امتحان کے اختتام پر فیکلٹی ممبران اور ممتحنین نے اسکالر محسن علی شاہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے کلیہ عربی و علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی اسکالر محسن علی شاہ کے کامیاب ترین دفاعِ مقالہ کے بعد اساتذہ، ممتحنین اور فیکلٹی ممبران ڈین فیکلٹی پروفیسر ڈاکٹر محی الدین ہاش ممتحنین ڈاکٹر شہزادی پاکیزہ، پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین، اور دیگر معزز اساتذہ کرام گروپ فوٹو۔.اسلامی بینکاری ایران، سعودی عرب، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، ترکیہ، بنگلہ دیش انڈونیشیا، بحرین سمیت پاکستان میں تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ مسلم ملکوں کے علاوہ مغربی ممالک جہاں روایتی بینکاری قائم ہے وہاں بھی اسلامی بینکاری کو فروغ دیا جارہا ہے۔ امریکا، برطانیہ، فرانس، سوئٹزرلینڈ کے علاوہ چین اور جاپان سمیت دنیا کے 80 سے زائد ملکوں میں اسلاممی بینکاری اجازت دی گئی ہے وہاں پر اسلامی مالیاتی ادارے بھی تیزی سے فروغ پارہے ہیں۔ عالمی معیشت کو کنٹرول کرنے والے کثیر ملکی مالیاتی ادارے عالمی بینک، عالمی مالیاتی فنڈ، ایشیائی ترقیاتی فنڈ اور دیگر ادارے بھی اسلامی فنانسنگ کو فروغ دے رہے ہیں۔ مغربی مارکیٹوں میں اسلامی بانڈز یعنی سکوک تیزی سے مقبول ہورہے ہیں اور خود پاکستان نے سکوک کے ذریعے عالمی منڈی سے قرض لیا
مالیاتی اور معاشی بحرانوں سے تنگ سیاستدان، بینکار، صنعت کار، تاجر اور عوام میں متبادل معاشی نظام کی طرف رغبت بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر تیزی سے اسلامی بینکاری یا سود سے پاک بینکاری کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب سے سودی نظام نے دنیا کی معیشت کو سنبھالا ، تب سے معاشی طور پر دنیا میں متعدد مقامی اور عالمی نوعیت کے مالیاتی, معاشی,اقتصادی بحرانوں کا سامنا ہوا ہے۔

اسلامک بینک کی پروڈکٹس دو طرح کی ہو تی ہیں ایک میں پیسہ کو جمع کیاجاتا ہے جس کو عام اصطلاح میں ڈپوزٹ کہا جاتا ہے اور دوسرے میں فنانسنگ کی جاتی ہے
عالمی سطح پر اسلامی مالیاتی صنعت کا مجموعی حجم 2.2 ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے اور تیزی سے مغربی بینکوں کے اسلامی فائنانس کو اپنانے کا رجحان دیکھتے ہوئے اب یہ کہا جارہا ہے کہ سال 2025 کے اختتام تک اسلامی مالیاتی صنعت 4.94 ہزار ارب ڈالر کی ہوجائے گی۔ مگر روایتی بینکاری کے مقابلے میں یہ اعدادوشمار بہت کم ہیں کیونکہ سودی بینکاری کا مجموعی حجم 486 ہزار ارب ڈالر سے زائد ہے۔مسیحی فرقہ کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ کے ترجمان اخبار
Osservatore Romano
نے 4 مارچ 2009 کو ایک مضمون میں لکھا تھا کہ’’اسلامی مالیات کا نظام کاروباری اخلاقیات پر قائم ہے۔ جو بینکوں کو اس کے کلائنٹس قرضہ لینے والے اور کھاتیداروں کو قریب لاسکتا ہے۔ جو کہ مالیاتی خدمات میں ایک نئی اور حقیقی روح کے مترادف ہے۔
مغرب میں بینک اسلامی بانڈزکو سکوک کہتے ہیں، اسکو اپنا سکتے ہیں۔ ان سکوک کے ذریعے کار سازی کی صنعت اور آئندہ ہونے والے اولمپکس کے مالیاتی اخراجات کو پورا کیا جاسکتا ہے‘‘۔ اس سے قبل پوپ بینی ڈکٹ نے بھی مالیاتی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیسہ ایسے غائب ہورہا ہے جیسا کہ تھا ہی نہیں۔اسلامی بینک سے مراد تمام وہ بینک جو شریعہ کے مختص کردہ اصولوں پر اپنے کاروباری معاملات کی لین دین کرے اور تمام لین دین عین شریعہ کے متعین کردہ دائرہ کےمطابق ہو-
موجودہ اسلامی بینکاری کا ماڈل 1963ءکو سب سے پہلے ملایشیاء اور مصر میں پیش کیا گیا بعد ازاں دیگرمسلم دنیا میں اس حوالے سے مسلسل کام ہوتا رہا- 1970ء تک اسلامک بینکنگ کو اتنی پذیرائی نہی حاصل ہو سکی لیکن بیسویں صدی کے بعد سے عالمی دنیا نےاس پر تحقیقی و تنقیدی کام شروع کیا-اس کی تحقیق اور رائج نظام اسلامی نظام حکومت کی مقبولیت 2007ء میں ہوئی جب
’’Economic Recession‘‘
رونما ہوا جس میں امریکہ سمیت مغربی دنیا کے بین الاقوامی مالیاتی ادارے بحران کی وجہ سے فروخت ہو رہے تھے،
جس کے بعد سے اسلامی نظامِ معیشت کو اپنایا گیا- اس نظام کو سمجھنے اور عملی جامہ پہنانے پر بات تب ہوئی جب2010 ء میں یورپ میں یورپین کرنسی کا بحران ’’یورو کرائسز‘‘ آیا –
اس پر یورپ کی یونیورسٹیز میں تحقیق شروع ہوئی اور بالآخر یورپ کی دنیا نے اپنے ممالک میں اسلامی بینکاری سے متعلق عملی اور تعلیمی سطح پر کوشش شروع کر دی جسے بطورایک متبادل نظام کے طورپر شامل کیا گیا-
اسلامک بینکنگ تحقیقی دور سے گزر رہی ہے جس کا تعلق مکمل طور پر علمی تحقیق سے ہے روایتی بینکاری نظام پر تین صدیوں سے تحقیق ہو رہی ہے، لاکھوں پی ایچ ڈی ، ام ایس، ایم فل ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں یہ ایک مالیاتی نظام بنا ہے جبکہ اسلامی بینکاری نظام ابھی اپنے تحقیقی مراحل میں ہے
امریکہ میں 1930 کو ہونے والی عظیم کساد بازاری نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ جس کے اثرات نے طویل عرصے تک عالمی معیشت کو متاثر کیے رکھا۔ ماضی قریب میں معاشی بحران نے پوری دنیا کو متاثر کیا اور اب دنیا آگے بڑھنے کےلیے نئے راستوں کی تلاش میں ہے۔آج ہم کو طلب و رسد کے مسائل کا سامنا ہے اور عام استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس سے معیشتوں میں انفلیشن، زر کا پھیلاؤ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ افراط زر بڑھ رہا ہے۔ جس عام آدمی کےلیے گزارا مشکل ہوگیا ہے۔مسلم دنیا میں پاکستان اسلامی بینکاری میں بھی قائدانہ کردار ادا کررہا ہے تاکہ روایتی بینکاری کو ختم کر کے مکمل اسلامی بینکاری کو اپنایا جائے۔ اس حوالے سے دنیا میں سب سے بڑی کوشش پاکستان میں کی گئی تھی اور پہلے مرحلے پر روایتی بینکوں کے مخصوص آپریشنز کو اسلامی کیا گیا تھا قرضے سودی سے اسلامی پر منتقل کیے گئے۔ پاکستان میں بینکوں کے روایتی سے اسلامی پر منتقل ہونے اور ان بینکوں کے کاروبار میں کمی کے بجائے بہتری آنے سے یہ نظریہ کہ اسلامی بینک منافع بخش نہیں ہوسکتے، یہ بھی ختم ہوگیا
اب اگر دنیا میں کوئی بھی بینک روایتی سے اسلامی پر منتقل ہونا چاہ رہا ہے تو پاکستان اس کو وہ افرادی قوت فراہم کرسکتا ہے جوکہ اس قسم کے کاروباری عمل کرنے کی بہترین مہارت رکھتی ہے۔ امید ہے کہ جلدحکومت بھی اپنا تمام کاروبار سودی سے اسلامی پر منتقل کردے گی اور اس سے حاصل کردہ تجربے کی روشنی میں پاکستان دنیا کو غیر سودی بینکاری نظام کے قیام کےلیےکرادار ادا کرسکے گا۔ سود سے پاک نظام ہی بہترین معاشی نظام ہے جس نے مدینے کو عالمی ریاست بنایا، اور یہی نظام امیہ، عباسی اور عثمانی خلافت کی شان و شوکت کی وجہ بنا۔ اس سے دوری ہمیں بحرانوں سے قریب کرتی رہی۔ اللہ کے بنائے ہوئے اصول ہی انسانی فلاح کےلیے بہترین ہیں۔ اسلامی بینکاری میں وہ تمام خوبیاں ہیں جو آج کو بہتر اور کل کو روشن رکھیں گی۔یاد رہے کہ مروجہ اسلامک بینکنگ فتوی سے یا تقوی سے چل رہی ہے – اس بات کو سمجھنا ضروری ہے اگر فتوی سے اوپر کوئی چیز ہے تو وہ تقویٰ ہے- اکثر احکامات فتوی سے جائز قرار دیئے جاتے ہیں لیکن بعض لوگ اس میں بھی تقوی کی بنیاد پر احتیاط برتتے ہیں – اسی طرح اسلامک بینکاری فتوی سے جائز قرار دی گئی ہے اور بہت سے صاحب تقوی حضرات اپنے لئے کوئی بھی اسلامک پروڈکٹ استعمال نہیں کرتے چاہے وہ تکافل ہو یا مضاربہ، مشارکہ کا کاروبار ہو- اسلام نے ہمیشہ جائز ذرائع سے معاشی طور پر مضبوط ہونے کی ترغیب دی ہے- ہمارے رہنما قائد اعظم محمد علی جناح بہت زیادہ دلچسپی رکھتے تھے کہ ملک میں اسلامک بینکنگ کا نظام متعارف کرایا جائے- اسٹیٹ بنک کا بھی مقصد یہی تھا کہ ملک سے سودی نظام کو ختم کیا جائے-علامہ سید محسن علی شاہ (پی ایچ ڈی اسکالر و کالم نگار)

اسلامی بینکاری کے نظریاتی اور ڈیجیٹل ارتقاء پر لکھنے والے ایک معروف محقق اور کالم نگار ہیں۔

اہم وژن: ان کی تحاریر کا بنیادی محور عالمی سطح پر اسلامی بینکاری کے بڑھتے ہوئے رجحانات، معیشت کو سود (ربا) سے پاک کرنا، اور جدید ٹیکنالوجی (ڈیجیٹل بینکنگ) کے ذریعے شرعی اصولوں کے نفاذ پر روشنی ڈالنا ہے۔

تحقیق و کالم نگاری: انہوں نے “پاکستان میں اسلامی ڈیجیٹل بینکنگ کا ارتقاء” اور “پاکستان میں اسلامی بینکاری کا تاریخی ارتقاء اور دور حاضر کی ضروریات” جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی مقالے اور کالم لکھے ہیں۔پاکستان میں ایک مرتبہ پھر اسلامی بینکاری کا نظام زیرِ بحث ہے۔ آئین پاکستان کی شق 38 (ف) کے تحت ’ربا‘ کا ’جلد از جلد خاتمہ‘ لازم قرار دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے 28 اپريل 2022 کو سود پر مبنی معاشی نظام کو اسلامی شریعت کے برخلاف قرار دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ملک کے بینکاری نظام کو دسمبر 2027 تک مکمل طور پر سود سے پاک کیا جائے۔ شرعی عدالت نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ تمام قرض سود سے پاک نظام کے تحت لیے جائیں۔ سود پر مبنی نظام کے خلاف یہ درخواستیں 19 برس سے زیرِ سماعت تھیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سنہ 1992 میں بھی وفاقی شرعی عدالت حکومتِ پاکستان کو حکم دے چکی تھی کہ ملک کے نظام کو چھ ماہ میں سود سے مکمل طور پر پاک کیا جائے۔ ربا کا عمومی تصور ایسے سود کا ہے جو کسی قرض کے بدلے حاصل کیا جائے۔ اسے اسلامی بینکاری میں استحصال پر مبنی تصور کیا جاتا ہے اور وفاقی شرعی عدالت نے کہا ہےکہ بینکوں کا قرض کی رقم سے زیادہ وصول ربا کے زمرے میں آتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں پاکستان کی نئی وفاقی حکومت عدالتی ہدایت پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے؟ اورکیا اگلے تین برس میں سود سے مکمل طور پر پاک بینکاری رائج کرنا ممکن ہے؟ مالیاتی نظام کواس حوالے سے تبدیل کرنا آسان کام نہیں کیونکہ پاکستان میں فی الوقت قرضوں کے لین دین سے متعلق جو بھی قوانین ہیں وہ روایتی یا کنونشنل بینکاری پر مبنی ہیں۔

اسلامی بینکاری کی فنانسنگ بھی ان ہی قوانین کے تحت جاری کی جاتی ہے، تبدیلی یہ کی جاتی ہے کہ روایتی بینکاری میں اسے قرض قرار دیا جاتا ہے جبکہ اسلامی بینکاری میں اثاثے کی ملکیت بینک اور صارف مشترکہ طور پر کر لیتے ہیں اور شراکت داری کے اصول کو اپنایا جاتا ہے۔ اسلامی بینکاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب بھی کوئی قرض جاری کیا جائے تو اس کی بنیاد پر کوئی اثاثہ بطور گارنٹی موجود ہو۔ اس کی مثال یہ ہےکہ جیسے حکومت کی جانب سے سکوک بانڈز جاری کیے جاتے ہیں جن میں حکومت اپنا کوئی اثاثہ بطور گارنٹی رکھ کر بینکوں اور دیگر قرض خواہوں سے قرض حاصل کرتی ہے۔اس کے بدلے جاری کیے جانے والے ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز یعنی پی آئی بی کی پشت پر صرف حکومت کی ساکھ ہوتی ہے جس کے تحت قرض حاصل کیا جاتا ہے۔ بہت سے عام صارفین کا سوال ہوتا ہے کہ اسلامی بینکاری آخر کتنی اسلامی ہے۔ اسلامی بینکاری جب بھی کسی گاڑی یا کسی گھر کی فنانسنگ کرتی ہے، تو اس کی بنیادی شرحِ منافع انٹربینک آفرڈ ریٹ (کائبور) کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ چاہے کوئی قرض روایتی بینک سے لیا جائے یا پھر کسی اسلامی بینک سے کسی اثاثے کے لیے فنانسنگ کی جائے، صارف بینک کو کتنے پیسے دے گا اس کی شرح انٹربینک آفرڈ ریٹ سے ہی طے ہوتی ہے۔ بینک عموماً انٹربینک آفرڈ ریٹ کے اوپر کچھ فیصد رقم اضافی چارج کرتے ہیں جو صارف کو ہر ماہ ادا کرنے ہوتے ہیں یہاں تک کہ اُن کا قرض مکمل طور پر ادا نہیں ہو جاتا۔اگر بینکاری کو مکمل طور پر اسلامی ہونا ہے تو اگر کوئی شخص اسلامی بینک کی اجارہ پراڈکٹ کے ذریعے لینڈ کروزر خریدتا ہے اور ایک کوئی عام گاڑی خریدتا ہے تو دونوں کا ’رینٹل‘، یعنی وہ ماہانہ رقم جو صارف نے بینک کو ادا کرنی ہوتی ہے اس کی شرح ایک ہی جتنی طے ہوتی ہے حالانکہ اس میں فرق ہونا چاہیےڈمینشنگ مشارکہ کی بنیاد پر اگر گھروں کی فنانسنگ کی جارہی ہے تو مہنگے اور سستے علاقوں میں لیے جانے والے گھروں کے درمیان شرحِ منافع میں فرق ہونا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ڈمینشنگ مشارکہ وہ اصول ہے جس کی بنا پر اسلامی بینکاری میں گھروں کی فنانسنگ کی جاتی ہے۔ فنانسنگ کی قیمت کو اس کے دورانیے پر تقسیم کر کے ’یونٹس‘ تیار کیے جاتے ہیں اور بینک اور صارف مشترکہ مالک بن جاتے ہیں۔ پھر ہر قسط کی ادائیگی پر مذکورہ شخص ایک یونٹ کا مالک بنتا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر میں آ کر صارف گھر کے تمام یونٹس لے لیتا ہے اور یوں گھر اس کے نام ہو جاتا ہے۔ اسلامی بینکاری کا نظام انٹربینک آفرڈ ریٹ کا اسلامی متبادل کتنی جلدی تیار کرے گا اور کتنی جلدی نافذ کرے گا کیونکہ یہی پورے بینکاری نظام کی بنیاد ہے۔ اگر اسلامی بینکاری کرنی ہے تو پھر نیا بینچ مارک یعنی انٹربینک آفرڈ ریٹ کائبور تیار کرنا پڑے گا۔ وفاقی شرعی عدالت 1992 میں بھی حکومتِ پاکستان کو حکم دے چکی تھی کہ ملک کے نظام کو سود سے پاک کیا جائے۔ وفاقی شرعی عدالت کے اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کے فیصلے پر عملدرآمد اس لیےنہیں ہوا تھا کیونکہ اس وقت اسلامی بینکاری اتنی زیادہ نہیں تھی لیکن آج اسلامی بینکاری بہت زیادہ ترقی پا چکی ہے۔نئی وفاقی حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ قرضوں کو نئے خطوط پر کیسے استوار کرے گی۔ اگر سکوک جاری کیے جائیں گے تو ان کے لیے اثاثے درکار ہیں حکومت کے پاس اتنے اثاثے نہیں کہ وہ زیادہ تعداد میں سکوک جاری کر سکے۔شرعی عدالت کے فیصلے کے تناظر میں اسلامی بنیادوں پر معاشی نظام اگر رائج کرنا ہے تو اس کے لیے بینکاری عدالتوں، ثالثی کے قوانین، بینکنگ کمپنیز آرڈیننس اور مرکزی بینک کے نظام میں ترامیم کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ایک قومی پالیسی سازی کرنی ہو گی اور2027 تک اس پر پیش رفت کی جا سکتی ہے۔اسلامی بینکاری نظام روایتی نظام کے اندر کسی حد تک موجود ہے اور اگر مکمل طور پر قانون سازی اور پالیسی سازی کی جائے تو مزید ایسی پراڈکٹس بنائی جا سکتی ہیں جو سود کے بجائے تجارت کے اصولوں پر قائم ہوں کیونکہ اسلامی بینکاری پرعام اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ صرف الفاظ کی تبدیلی ہے اور حقیقت میں اس میں اور روایتی بینکاری میں فرق نہیں ہے, پاکستان معیشت روایتی نظام پر چل رہی ہے تو اس کے اندر مکمل طور پر اپنا الگ تھلگ نظام نہیں بنا سکتے لیکن متبادل پراڈکٹس کی طلب ضرور پیدا کر سکتے ہیں۔ حکومت کو اس حوالے سے فریم ورک میں اصلاحات کرنی پڑیں گی, یہ پیش رفت اگر سو فیصد نہ بھی ہو تب بھی وقت کے ساتھ یہ ارتقا پا کر مزید بہتر ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ اسلامی بینکاری کی ریسرچ کے حوالے سے پاکستان کا شماربانیوں میں ہوتا ہےماضی میں پاکستان میں اسلامی بینکوں کو یہ مشکل درپیش تھی کہ انہیں پاکستان کےقانون کے تحت اپنے اثاثوں کی جو انشورنس کروانا تھی، اس کے لئے پاکستان میں اسلامک انشورنس کمپنیاں وجود میں نہیں آئی تھیں لیکن اب پاکستان میں اسلامی انشورنس کمپنیاں وجود میں آچکی ہیں۔

اسلامی اور سودی بنکاری میں ظاہری طریقہ کار میں یکسانیت کی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں نظام ایک جیسے ہیں، صرف نام بدلنے سے کیا فرق پڑتا ہے لیکن ایسا نہیں بلکہ ان دونوں نظاموں میں واضح فرق ہے۔
اسلام میں سود کو حرام اور اللہ سے جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے اور سودی نظام کے ذریعے چلائے جانے والے بزنس دراصل آخرت کے لئے عذاب اور جہنم کمانے کا ذریعہ ہیں۔

اسلامی بینکاری اور سودی نظام میں اختلاف اس نقطہ پر ہے کہ دولت کا اصل مالک کون ہے۔

اسلام کہتا ہے کہ دولت کا حقیقی مالک صرف اللہ ہے، انسان صرف اس کا امانت دار اور اسے استعمال کرنیوالا ہے،

یہی وجہ اسلامی نظریہ دولت کی منصفانہ تقسیم کا سبب اور طے شدہ منافع کیخلاف ہے جبکہ اس کے برعکس سودی نظام کا مقصد معاشی انارکی، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور طے شدہ منافع کو فروغ دے کر انسانی فلاح و بہبود کو نقصان پہنچانا ہے۔اسلامی مالیاتی نظام دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے اور اگر سود سے مکمل نجات حاصل کرلی جائے تو مسلمان معاشرتی و معاشی ناانصافی اور استحصال سے آزاد ہوجائیں گے۔

پاکستان کے آئین میں سود سے پاک مالیاتی نظام قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے اور اسٹیٹ بینک میں اصلاحات کے باعث کئی بینک اسلامی بینکاری سے منسلک ہوگئے ہیں جس سے ملک میں اسلامی بینکاری کا نظام تیزی سے فروغ پارہا ہے۔

پاکستان میں اسلامی بینکاری کا نظام 1980ء میں قائم ہوا تھا اور اب ملک میں اسلامی بینکاری انڈسٹری 30% سالانہ کی شرح سے ترقی کررہی ہے جبکہ مجموعی بینکاری میں اسلامی بینکاری کا حصہ 10% اور اثاثوں کا حجم 8.5 بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق اس وقت ملک میں 6 اسلامک بینک روایتی پراڈکٹس کے ساتھ خالصتاً اسلامی مالیاتی پراڈکٹس فراہم کررہے ہیں جن کی ملک بھر میں 200 سے زیادہ شاخیں کام کررہی ہیں، اس طرح ملک میں اسلامک بینکاری انڈسٹری کے اثاثے 568ارب روپے اور ڈپازٹ کی مالیت 463 ارب روپے ہوچکی ہے۔ حکام کے مطابق اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو واضح ہدایت کی ہے کہ مخصوص اسلامی بینکاری شاخوں میں فنڈ، سسٹم اور کنٹرول کو روایتی بینکاری سے مکمل طورسے علیحدہ رکھا جائے۔

دنیا بھر میں اس وقت 90 اسلامی بینکوں کی 1200 برانچیں، 27 مضاربہ اور 15 اسلامک میوچل فنڈز ہیں اور اسلامی بینکاری کی مجموعی مالیت 16 کھرب 31 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے،

اسلامی بینکاری انڈیکس میں ایران پہلے، ملائیشیا دوسرے، سعودی عرب تیسرے اور پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی بینکاری میں زراعت اور ایکسپورٹ فنانسنگ میں نئے پروڈکٹس متعارف کرائے جائیں کیونکہ غریب کاشتکار اب بھی مڈل مین سے 30% سے 35% شرح سود پر قرضے لے رہا ہے، اس طرح کاشت کے بعد اس کی تمام آمدنی ایڈوانس میں لئے گئے قرضوں اور سود کی ادائیگی میں ختم ہوجاتی ہے

اسلامی بینکاری نظام انصاف اور برابری کے بنیادی اصولوں کے عین مطابق ہے جبکہ اس کے برعکس سودی بینکاری نظام کے سبب آج امریکہ، یورپ اور یونان جیسے ممالک مالیاتی بحران کا شکار ہیں۔اگر ہم نے اسلامی بینکاری نظام اپنالیا تو اللہ تعالیٰ نہ صرف ہمارے رزق میں خیر و برکت عطا فرمائے گا بلکہ ہمارا یہ عمل اللہ اور رسولﷺ کی خوشنودی کا سبب بھی بنے گا اور اس طرح ہمارا معاشرہ سود جیسی لعنت سے بھی چھٹکارا حاصل کرلے گا ۔