پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس;شہباز شریف کی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت
(اصغر علی مبارک)
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے غیر رسمی ملاقات کی اور انہیں سیاسی و آئینی امور پر دوبارہ مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔ مذاکرات کی اس نئی پیشکش کے اہم نکات اور پس منظر درج ذیل ہیں:

- اہم آئینی تعطل پر تشویش: وزیرِ اعظم نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر ارکان کی تقرری میں ایک سال سے جاری تعطل پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ایک انتہائی اہم آئینی ضرورت ہے، جسے سیاست سے بالاتر ہو کر حل کیا جانا چاہیے۔
- خوشگوار ماحول میں سرگوشیاں: پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی اس غیر رسمی گفتگو کے دوران دونوں رہنما ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی کے انداز میں بات چیت کرتے نظر آئے، جبکہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی خاموشی سے ان کی بات سنتے اور اثبات میں سر ہلاتے دکھائی دیے۔ وزیرِ اعظم کی روانگی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز نے بھی محمود اچکزئی کی نشست پر جا کر ان سے خوشگوار موڈ میں گفتگو کی۔
- حکومتی مؤقف: وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری کا کہنا ہے کہ ملکی مفاد اور آئینی معاملات کو سلجھانے کے لیے بیٹھنے کی جگہ اہمیت نہیں رکھتی۔ انہوں نے قائدِ حزبِ اختلاف کو دوبارہ اسپیکر چیمبر میں باضابطہ ملاقات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر چیمبر کسی ایک کا نہیں بلکہ ریاستی اور غیر جانبدار جگہ ہے۔ یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے مبینہ طور پر اس سے قبل وزیرِ اعظم کے دفتر یا چیمبر میں ملاقات کرنے سے معذرت کی تھی۔ تاہم، اب دونوں رہنماؤں کے درمیان مستقبل قریب میں پارلیمانی، سیاسی اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر ایک باضابطہ بیٹھک کرنے پر اتفاق پایا گیا
اس سے قبل صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان کے بعد آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے اس صدارتی فیصلے کی توثیق کے لیے قرارداد کی منظوری حاصل کی تھی۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدارتی اعلان جاری کیا گیا جب کہ آرٹیکل 234 کے تحت جاری صدارتی اعلان بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قرارداد پیش کی، جس پر وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تفصیلی بحث مکمل ہو چکی ہے۔ طارق فضل چوہدری کی پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 214 جبکہ مخالفت میں 57 ووٹ آئے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے غیر رسمی ملاقات کی اور انہیں سیاسی و آئینی امور پر دوبارہ مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔جمعرات کے روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران ایوان میں ہونے والی اس غیر رسمی ملاقات میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی کے انداز میں گفتگو کرتے نظر آئے۔ وزیرِاعظم نے الیکشن کمشنر اور کمیشن کے دیگر ارکان کی تقرری میں ایک سال سے جاری تعطل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم آئینی ضرورت ہے، جس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ وزیرِاعظم نے محمود اچکزئی پر چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر اہم ارکان کی تقرری کے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر زور دیا۔ وزیرِاعظم کی گفتگو کے دوران محمود اچکزئی خاموشی سے ان کی بات سنتے رہے اور اثبات میں سر ہلاتے نظر آئے۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی توثیق سے متعلق صدارتی فرمان پر مبنی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی ہے۔ قرارداد کے حق میں 214 جبکہ مخالفت میں 57 ووٹ آئے۔صدرِ مملکت کی جانب سے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان کے بعد آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علیحدہ اجلاسوں میں بھی الگ الگ توثیقی قراردادیں کثرتِ رائے سے منظور کی جا چکی تھیں۔مشترکہ اجلاس کا آغاز پشاور اسکول حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے لیے دعائے مغفرت سے کیا گیا، جس کی قیادت مولانا عطا الرحمان نے کی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے صدارتی فرمان پیش کیا، جس پر وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تفصیلی بحث مکمل ہو چکی ہے۔گزشتہ روز قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق توثیقی قراردادیں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کیں۔ بعد ازاں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کاصدارتی فرمان پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا، دونوں فرمان وفاقی وزیربرائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کیے۔ اپوزیشن ارکان نے ایمرجنسی کے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی اور ایوان میں نعرے بازی کرتے ہوئے زبردست احتجاج کیا۔سینیٹ کے اجلاس میں بھی حکومت اور اپوزیشن کے مابین سخت تلخ کلامی اور نعرے بازی کے بعد اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا، تاہم ایوانِ بالا نے بھی آئینی توثیق کر دی۔قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ قرارداد ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں پیش کی گئی، جہاں وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کی پیش کردہ اس تحریک پر اپوزیشن اور حکومت کے مابین تلخ کلامی اور سخت نعرے بازی دیکھنے میں آئی۔دونوں جانب کے ارکان کے احتجاج سے سینیٹ کا ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا اور اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ تاہم سینیٹ نے بھی کثرتِ رائے سے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کی توثیق کر دی۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی توثیق سے متعلق صدارتی فرمان پر مبنی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی ہے۔ قرارداد کے حق میں 214 جبکہ مخالفت میں 57 ووٹ آئے۔ اس سے قبل صدرِ مملکت کی جانب سے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان کے بعد آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علیحدہ اجلاسوں میں بھی الگ الگ توثیقی قراردادیں کثرتِ رائے سے منظور کی جا چکی تھیں۔
مشترکہ اجلاس کا آغاز پشاور اسکول حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے لیے دعائے مغفرت سے کیا گیا، جس کی قیادت مولانا عطا الرحمان نے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے صدارتی فرمان پیش کیا، جس پر وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تفصیلی بحث مکمل ہو چکی ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق توثیقی قراردادیں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کیں۔ اپوزیشن ارکان نے ایمرجنسی کے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی اور ایوان میں نعرے بازی کرتے ہوئے زبردست احتجاج کیا۔سینیٹ کے اجلاس میں بھی حکومت اور اپوزیشن کے مابین سخت تلخ کلامی اور نعرے بازی کے بعد اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا، تاہم ایوانِ بالا نے بھی آئینی توثیق کر دی۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ قرارداد ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں پیش کی گئی، جہاں وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کی پیش کردہ اس تحریک پر اپوزیشن اور حکومت کے مابین تلخ کلامی اور سخت نعرے بازی دیکھنے میں آئی۔ دونوں جانب کے ارکان کے احتجاج سے سینیٹ کا ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا اور اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ تاہم سینیٹ نے بھی کثرتِ رائے سے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کی توثیق کر دی۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج میں توسیع کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر راج میں 3 سے 6 ماہ تک توسیع ہوسکتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں فی الحال 6 ماہ کے لیے گورنر راج لگایا گیا ہے، ہوسکتا ہے اس میں دو، تین یا چھ ماہ کی توسیع ہوجائے۔ خیبرپختونخوا میں احتجاج کے آثار نظر نہیں آئے اور صوبے میں لوٹ مار کرنے والے غائب ہوگئے ہیں۔ مذاکرات کے حوالے سے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے اپنی پوری کوشش کی اور بات چیت کو مناسب وقت دیا۔
یاد رہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت سمری کی منظوری دیتے ہوئے دستخط کیے تھے۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورت حال، دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور صوبائی حکومت کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر اختلافات کو اس فیصلے کی وجہ قرار دیا تھا۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 11 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ گورنر راج کے تحت صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کردیے گئے ہیں، جو 11 رکنی مشاورتی کونسل کی مدد سے صوبے کے امور چلائیں گے۔ اس انتظام کے لیے ابتدائی طور پر چھ ماہ کی مدت بتائی گئی تھی۔اس کے بعد 14 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی جب کہ 15 اکتوبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے گورنر راج کی توثیق کی قرارداد منظور کرلی۔خواجہ آصف کے تازہ بیان میں گورنر راج کی مدت میں مزید توسیع کا امکان ظاہر کیا گیا ہے تاہم ان کے مطابق اس وقت صوبے میں چھ ماہ کے لیے گورنر راج نافذ ہےوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن سے مذاکرات میں سب سے پہلے دہشت گردی پر بات ہوئی، یہ نہ کہیں کہ دہشت گردی کے مسئلے کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خدا گواہ ہے، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا دل نہیں تھا، آخری لمحے تک کوشش کی کہ ایسا نہ کرنا پڑے اور کوشش کی صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف تعاون کرے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے درجنوں واقعات ہوئے اور وفاقی حکومت نے مسلسل کوشش کی کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ لے کر چلا جائے تاہم اس مقصد کے لیے اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلوانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔محسن نقوی نے بتایا کہ فروری میں پشاور میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس کے انعقاد کے لیے بھی مشکلات پیش آئیں۔ اجلاس کے بعد پریس ریلیز جاری ہونا تھی، جس میں لکھا گیا تھا کہ دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق پریس ریلیز جاری کرنے کی درخواست کے باوجود دہشت گردی کی مذمت نہیں کی گئی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ پاکستان کے لیے کرنا ہے اور اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا تاثر درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسد قیصر نے دہشت گردی کے خلاف بات کی تاہم انہیں بتایا کہ ان کی بات اور صوبائی حکومت کے مؤقف میں بڑا فرق ہے، کہیں نہ کہیں کچھ غلط ہوا ہے۔ مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا حکومت سے بات چیت کرنے اور اسے اعتماد میں لینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ وہ کئی مرتبہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ذاتی طور پر بھی ملے اور جس طریقے سے مذاکرات ممکن تھے کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر مرتبہ مذاکرات میں پہل کی گئی، حتیٰ کہ 26 نومبر سمیت مختلف معاملات سامنے آنے پر بھی حکومت نے بات چیت کا راستہ اختیار کیا۔ اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن سے مذاکرات میں سب سے پہلے دہشت گردی کے معاملے پر بات ہوئی، یہ نہ کہیں کہ دہشت گردی کے مسئلے کا غلط استعمال کیا گیا، اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن سے مذاکرات میں سب سے پہلے دہشت گردی کے معاملے پر بات ہوئی، یہ نہ کہیں کہ دہشت گردی کے مسئلے کا غلط استعمال کیا گیا، ان کے مطابق سہیل آفریدی کے ساتھ بیٹھ کر پانچ اضلاع کے لیے منصوبہ تیار کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ان اضلاع میں پولیس کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اداروں اور فوجیوں کے خلاف بات کرتے تھے جب کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں بھی ہو رہی تھیں۔ ان کے بقول سہیل آفریدی کہتے تھے کہ وہ آپریشن کو سیاسی طور پر برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صوبائی قیادت سے گزارش کی کہ وہ مل بیٹھ کر جائزہ لے کہ کہاں غلطی ہوئی ہے۔ محسن نقوی نے سوال اٹھایا کہ سہیل آفریدی کو کون ہدایات دیتا تھا، یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ ان کے مطابق شفیع جان دہشت گردوں کی مذمت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے جب کہ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار نہ کرنے پر تحفظات رہے۔ مزید کہا کہ خدا گواہ ہے، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا حکومت کا دل نہیں تھا۔ آخری منٹ تک کوشش کی گئی کہ ایمرجنسی نافذ نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے مسئلے کو استعمال نہیں کیا اور یہ کہنا درست نہیں کہ اس معاملے کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ بتایا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبیعت ٹھیک نہیں تو وہ اسی رات ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے چیک اپ کی غرض سے جانے والے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتیں ہو رہی تھیں اور آئندہ بھی ہوتی رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے بڑے رہنماؤں کو اپنے ہی رہنماؤں پر اعتماد کیوں نہیں۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت کو ساتھ لے کر چلنے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانے کی مسلسل کوشش کی گئی لیکن معاملات مطلوبہ انداز میں آگے نہ بڑھ سکے۔ محسن نقوی نے ایک بار پھر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی مسئلہ ہے، جس کا مقابلہ مل کر کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات، رابطوں اور تعاون کے تمام ممکنہ راستے اختیار کیے تاہم آخری وقت تک کوششوں کے باوجود خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی نوبت آئی۔




