سیکیورٹی فورسز کی انسدادِ دہشت گردی کےلیے جدید ٹیکنالوجی کا موثراستعمال ..
(تحریر: اصغر علی مبارک;) سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی (Counter-Terrorism) کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال موجودہ دور میں انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی کامیاب کارروائیاں (IBOs) کرتے ہوئے حالیہ دنوں میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ “عزمِ استحکام” اور “آپریشن رد الفتنہ” کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سی ٹی ڈی (CTD) کی مشترکہ کارروائیاں پوری شدت سے جاری ہیں حالیہ اہم ترین کارروائیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
مستونگ اور پشین آپریشنز (14 ستمبر 2026)مستونگ کواڈ کاپٹر اسٹرائیک: سیکیورٹی فورسز نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ضلع مستونگ میں دہشت گردوں کی ایک گاڑی کو کواڈ کاپٹر (ڈروون) کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں اہم کمانڈر نقیب سمیت فتنہ الہندوستان کے 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور ان کی گاڑی تباہ ہو گئی
پشین (سرانان) سی ٹی ڈی آپریشن: سی ٹی ڈی نے پشین کے علاقے سرانان میں ایک اور خفیہ کارروائی کی جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے میں 6 مبینہ دہشت گرد مارے گئے جبکہ 4 اہلکار زخمی ہوئے۔ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ خاران اور واشک میں کارروائیاں
خاران روڈ بلاک ناکام: فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاران میں پبلک ٹریفک کو معطل کرنے کے لیے ناکہ بندی کی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 8 دہشت گردوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا
واشک میں ٹھکانے کی تباہی: اگلے ہی دن واشک میں دہشت گردوں کے ایک خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا گیا، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں 3 مزید دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ فورسز نے یہاں سے بارودی مواد کی تیاری میں استعمال ہونے والا 2.9 ٹن دھماکہ خیز مواد اپنے قبضے میں لے لیا کوئٹہ، قلات اور سبی میں بڑے آپریشنز (ستمبر کا آغاز)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ایک مربوط مہم کے تحت کوئٹہ (شعبان)، قلات اور سبی کے علاقوں میں بیک وقت کارروائیاں کیں کوئٹہ کے مضافاتی علاقے شعبان میں دہشت گردوں کے 4 ٹھکانوں کو تباہ کر کے 26 خوارج کو ہلاک کیا گیا۔ قلات اور سبی میں بھی متعدد دہشت گرد مارے گئے سیکیورٹی ذرائع اور عسکری قیادت کا موقف ہے کہ بلوچستان میں امن و استحکام کو ثبوتاژ کرنے کی غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی ہر کوشش کو سختی سے کچلا جائے گا اور صوبے سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ ٹارگیٹڈ کارروائیاں جاری رہیں گی
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے شورش زدہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص ڈرونز (UAVs) اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال حالیہ برسوں میں انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی کا ایک لازمی اور انتہائی موثر حصہ بن چکا ہے۔ ماضی کی روایتی گوریلا جنگ کے برعکس، اب یہ تنازع ایک “ٹیکنالوجی سے لیس جنگ” (Technology-driven warfare) کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال موجودہ دور میں انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔ دہشت گردی کے بدلتے ہوئے طریقوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا بھر کی سیکیورٹی فورسز روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، ڈرونز، اور جدید ترین سرویلنس سسٹمز پر انحصار کر رہی ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی میں جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
. آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور ڈیٹا اینالیٹکسپریڈیکٹو پولیسنگ: اے آئی الگورتھمز پرانے ڈیٹا، مشکوک سرگرمیوں اور جغرافیائی معلومات کا تجزیہ کر کے ان علاقوں کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں دہشت گردی کا خطرہ زیادہ ہو۔
بگ ڈیٹا کا تجزیہ: سیکیورٹی فورسز کروڑوں ڈیٹا پوائنٹس (جیسے بینکنگ ٹرانزیکشنز، سفری ریکارڈ اور کال ڈیٹا) کو سیکنڈوں میں فلٹر کر کے مشکوک نیٹ ورکس کا پتہ لگاتی ہیں۔
. بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں (Drones) اور روبوٹکسفضائی نگرانی (Surveillance): ڈرونز کے ذریعے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں، سرحدی علاقوں اور گھنے جنگلات کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے۔
ٹارگٹڈ آپریشنز: جدید کامبیٹ ڈرونز (Combat Drones) بغیر کسی جانی نقصان کے مخصوص دہشت گرد ٹھکانوں کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں
بم ڈسپوزل روبوٹس: انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر بارودی مواد اور آئی ای ڈیز (IEDs) کو ناکارہ بنانے کے لیے ریموٹ کنٹرول روبوٹس استعمال کیے جاتے ہیں۔
بائیومیٹرک اور فیشل ریکگنیشن (Facial Recognition)محفوظ شہر (Safe City Projects): شہروں کے داخلی و خارجی راستوں اور حساس مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو فیشل ریکگنیشن سافٹ ویئر سے منسلک کیا جاتا ہے، جس سے مطلوبہ دہشت گردوں کی بھیڑ میں فوری شناخت ممکن ہوتی ہے۔
بائیومیٹرک اسکیننگ: نادرا (NADRA) جیسے ڈیٹا بیس کے ساتھ مربوط بائیومیٹرک ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز کے ذریعے فورسز چیک پوسٹوں پر فوری شناختی تصدیق کر سکتی ہیں۔
سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل انٹیلیجنسسوشل میڈیا مانیٹرنگ: دہشت گرد تنظیمیں پروپیگنڈا، بھرتی اور مالی وسائل جمع کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کرتی ہیں۔ سیکیورٹی ایجنسیاں جدید مانیٹرنگ ٹولز کے ذریعے ان کی آن لائن سرگرمیوں، ڈارک ویب اور انکرپٹڈ چیٹس کو ٹریس کرتی ہیں۔
مالیاتی نیٹ ورکس کی ناکہ بندی: بلاک چین اور جدید اینٹی منی لانڈرنگ (AML) سافٹ ویئرز کے ذریعے دہشت گردوں کی مالی معاونت (Terror Financing) کے راستے بند کیے جاتے ہیں۔5. جدید مواصلاتی اور جیو فینسنگ سسٹمزسیٹلائٹ امیجری: لائیو سیٹلائٹ فیڈز کی مدد سے دہشت گردوں کی مشکوک نقل و حرکت اور ان کی پناہ گاہوں کا نقشہ تیار کیا جاتا ہے۔
جیو فینسنگ (Geo-fencing): کسی بھی دہشت گردانہ واقعے کی صورت میں مخصوص علاقے کی جیو فینسنگ کر کے وہاں موجود مشکوک موبائل فونز اور سم کارڈز کا فوری ڈیٹا حاصل کیا جاتا ہے، جس سے ماسٹر مائنڈز تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز، بشمول نیکٹا (NACTA) اور سی ٹی ڈی (CTD)، نے مصنوعی ذہانت (AI)، بائیومیٹرک اور خودکار ٹریکنگ سسٹمز کو یکجا کر کے انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔ مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) مصنوعی ذہانت پر مبنی فیس ٹریس سسٹم کا استعمال کرتا ہے، جو مجرمانہ ریکارڈ کے ڈیٹا بیس سے سی سی ٹی وی فوٹیج کا موازنہ کر کے مطلوبہ افراد کی فوری شناخت کرتا ہے۔ اس ڈیجیٹل نگرانی کو ہوٹل آئی اور ٹریول آئی جیسے سسٹمز سے مزید مضبوط بنایا گیا ہے، جو مسافروں اور ہوٹلوں کا ڈیٹا ریئل ٹائم میں محفوظ کرتے ہیں اور کسی بھی مشکوک شخص کی موجودگی پر کمانڈ سینٹرز کو فوری الرٹ بھیجتے ہیں۔ قومی سطح پر، نیکٹا آن لائن انتہا پسندی کو روکنے کے لیے ڈیجیٹل اسپیس کی فعال نگرانی کرتا ہے، جہاں اس کے خصوصی سائبر مانیٹرنگ یونٹس دہشت گردوں کے پروپیگنڈے اور مالی معاونت (Terror Financing) کے راستوں کو بلاک کرتے ہیں۔ زمینی سطح پر، سیکیورٹی فورسز ان ڈیجیٹل ٹولز کو چیک پوسٹوں پر نادرا سے منسلک بائیومیٹرک ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز کے ذریعے انگلیوں کے نشانات کی فوری تصدیق کے لیے استعمال کرتی ہیں، جبکہ سرحدی اور دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی تلاش اور فضائی نگرانی کے لیے تھرمل امیجنگ سے لیس جدید آئی ایس آر (ISR) ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال اور دفاعی حکمتِ عملی کی تفصیلی تفصیلات درج ذیل ہیں:
جارحانہ اور ٹارگیٹڈ فضائی حملے ;
گاڑیوں اور متحرک اہداف کو نشانہ بنانا: حال ہی میں مستونگ میں ہونے والا آپریشن اس کی واضح مثال ہے، جہاں کواڈ کاپٹر کے ذریعے دہشت گردوں کی چلتی گاڑی کو فضا سے انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔
یہ ٹیکنالوجی دور دراز اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں چھپے دہشت گردوں کو بغیر زمینی دستے بھیجے ہلاک کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
ہیوی کامبیٹ ڈرونز کا استعمال: دفاعی رپورٹس کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نگرانی کے ساتھ ساتھ چینی ساختہ جدید CH-4 ڈرونز اور الحمزہ جیسے خودکار فضائی نظام استعمال کر رہی ہیں، جو میزائل داغنے اور طویل وقت تک فضا میں رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انٹیلی جنس، نگرانی ریئل ٹائم مانیٹرنگ : بلوچستان کے وسیع اور بے آب و گیاہ صحرائی و پہاڑی علاقوں (جیسے نوشکی، آواران اور واشک) میں ڈرونز چوبیس گھنٹے فضائی نگرانی فراہم کرتے ہیں۔ ان کی مدد سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت، ناکہ بندی کی کوششوں اور خفیہ ٹھکانوں کا فوری پتا لگایا جاتا ہے۔ تلاش اور ریسکیو آپریشنز: زمین پر موجود سیکیورٹی فورسز کے قافلوں کو کسی بھی ممکنہ گھات (Ambush) سے بچانے کے لیے آگے چلنے والے ڈرونز “اسکاؤٹس” کا کام کرتے ہیں اور زمینی کمانڈرز کو لائیو ویڈیو فیڈ فراہم کرتے ہیں۔
اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی اور دفاعی اقدامات ;دہشت گرد تنظیموں (جیسے فتنہ الخوارج اور بی ایل اے) کی جانب سے کمرشل اور سستے کواڈ کاپٹرز کو دھماکہ خیز مواد کے لیے استعمال کرنے کے بڑھتے رجحان کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے مضبوط دفاعی لائن قائم کی ہے
ڈرون مار گرانے کا نظام; پاک فوج کے فضائی دفاعی نظام (Air Defence) نے حال ہی میں بلوچستان کی سرحد پر افغانستان کی طرف سے آنے والے متعدد دہشت گرد ڈرونز کو سراغ لگا کر کامیابی سے مار گرایا ہے۔
یوکرینی طرز کے دفاعی جال : سیکیورٹی فورسز نے اپنی اہم تنصیبات، ہیڈ کوارٹرز اور چوکیوں کو دشمن کے ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے یوکرین کی جنگی تزویرات کے طرز پر خصوصی “دفاعی جال” نصب کرنا شروع کر دیے ہیں، جو گرائے جانے والے بارودی مواد کو عمارتوں تک پہنچنے سے روکتے ہیں۔الیکٹرانک وارفیئر اور جیمرز : فورسز پورٹیبل (ہاتھ میں اٹھانے والے) اینٹی ڈرون گنز اور الیکٹرانک جیمنگ سسٹمز کا استعمال کر رہی ہیں جو فضا میں موجود کسی بھی غیر مجاز ڈرون کا کنٹرول روم سے سگنل منقطع کر کے اسے ناکارہ بنا دیتے ہیں ,
سیکیورٹی فورسز کی خصوصی ڈرون ٹریننگ : دہشت گردوں کے تکنیکی پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے باقاعدہ ڈرون ٹریننگ اسکول قائم کیے ہیں (جیسے نوشہرہ میں قائم اسکول)۔
مشترکہ جنگی مشقیں: پاک فوج اور پولیس کے مابین مشترکہ مشقیں (جیسے Maiden Strike) منعقد کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد اہلکاروں کو کواڈ کاپٹرز اور ایف پی وی (FPV) ڈرون چلانے اور ان کے حملوں سے بچنے کی جدید ترین تکنیک سکھانا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس مربوط استعمال نے جہاں سیکیورٹی فورسز کے جانی نقصان کو کم سے کم کرنے میں مدد دی ہے، وہاں دہشت گردوں کے نیٹ ورکس پر ایک شدید نفسیاتی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے کیونکہ وہ اب روایتی پناہ گاہوں میں بھی خود کو محفوظ تصور نہیں کرتے۔
تجارتی ڈرون ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز میں نئے تزویراتی اور تکنیکی چیلنجز کو جنم دیا ہے۔ مختلف غیر ریاستی عناصر اور کالعدم تنظیمیں عام مارکیٹ میں دستیاب کنزیومر گریڈ ڈرونز—بشمول عام کواڈ کاپٹرز، فکسڈ ونگ ماڈلز، اور فرسٹ پرسن ویو (FPV) ریسنگ ڈرونز—کو تبدیل کر کے سیکیورٹی تنصیبات اور اہلکاروں کے خلاف جاسوسی اور غیر روایتی حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔یہ تبدیل شدہ فضائی پلیٹ فارم فضائی نگرانی اور دھماکہ خیز مواد گرانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، کیونکہ یہ چھوٹے اور ہلکے وزنی سویلین الیکٹرانکس روایتی فوجی ریڈاروں کی نظروں سے اوجھل رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مزید برآں، روایتی الیکٹرانک دفاعی نظام اور جیمرز کو چکمہ دینے کے لیے یہ گروہ ڈرونز کے کمیونیکیشن سگنلز اور فریکوئنسیز میں تکنیکی تبدیلیاں بھی کرتے ہیں، جس کی مدد سے وہ کم اونچائی پر اور رات کے اندھیرے میں بھی کارروائیوں کی کوشش کرتے ہیں۔ان ابھرتے ہوئے فضائی خطرات کے جواب میں، سیکیورٹی فورسز اپنے دفاعی طریقہ کار کو مسلسل جدید بنا رہی ہیں۔ موجودہ حکمتِ عملی کے تحت کثیر الجہتی کاؤنٹر یو اے وی (C-UAS) سسٹمز کو تعینات کیا جا رہا ہے، جن میں الیکٹرانک وارفیئر، سگنل میں خلل ڈالنے والی جیمنگ ٹیکنالوجی، اور کواڈ کاپٹرز کو فضا میں ہی تباہ کرنے والے کائنیٹک طریقے شامل ہیں تاکہ حساس انفراسٹرکچر اور فوجی اہلکاروں کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں روایتی انٹیلیجنس اور فوجی طاقت اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن جدید دور میں دہشت گرد تنظیموں نے انٹرنیٹ، انکرپٹڈ مواصلات، اور جدید مالیاتی نیٹ ورکس کا سہارا لے کر اپنے حربے بدل لیے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں، جیسے قومی انسدادِ دہشت گردی اتھارٹی (NACTA)، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD)، اور صوبائی پولیس فورسز نے اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، اور بائیومیٹرکس کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے۔ ٹیکنالوجی کا یہ موثر استعمال نہ صرف دہشت گردانہ حملوں کو قبل از وقت ناکام بنانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے بلکہ ان کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیٹا اینالیٹکس کا کردارپاکستانی سیکیورٹی فورسز کے پاس اب ایسے جدید ترین کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز موجود ہیں جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ پنجاب آئی ٹی بورڈ (PITB) اور دیگر اداروں کے اشتراک سے تیار کردہ فیس ٹریس سسٹم (Face Trace System) اس کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ نظام مختلف شہروں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں (خصوصاً سیف سٹی پروجیکٹس) کی لائیو فوٹیج کا موازنہ کرائم ریکارڈ افس (CRO) کے ڈیٹا بیس سے کرتا ہے۔ جیسے ہی کوئی اشتہاری یا مطلوبہ دہشت گرد کیمرے کی زد میں آتا ہے، یہ سسٹم سیکنڈوں میں اس کا چہرہ پہچان کر سیکیورٹی فورسز کو الرٹ جاری کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، بگ ڈیٹا ٹولز کی مدد سے مختلف مشکوک کالز، پیغامات اور سفری ریکارڈ کا تجزیہ کر کے دہشت گردوں کے پورے نیٹ ورک کا جیو گرافک میپ تیار کیا جاتا ہے۔مانیٹرنگ اور ٹریکنگ کے خودکار نظامسی ٹی ڈی اور پولیس نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور ان کی پناہ گاہوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ہوٹل آئی (Hotel Eye) اور ٹریول آئی (Travel Eye) جیسے سسٹمز متعارف کروائے ہیں۔ یہ سسٹمز تمام ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ اڈوں کے ڈیٹا کو ریئل ٹائم میں مانیٹر کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی مشکوک شخص یا مطلوبہ مجرم شناختی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے کہیں کمرہ بک کرتا ہے یا سفر کی کوشش کرتا ہے، تو ہوٹل آئی سسٹم فوری طور پر متعلقہ سی ٹی ڈی سیل کو مطلع کر دیتا ہے۔ اس خودکار نظام نے دہشت گردوں کے لیے شہروں کے اندر روپوش ہونا یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔سائبر اسپیس اور ڈیجیٹل دہشت گردی کا تدارکآج کل دہشت گرد تنظیمیں پروپیگنڈا پھیلانے، نوجوانوں کی ذہن سازی (Radicalization) کرنے اور فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے سوشل میڈیا اور ڈارک ویب کا استعمال کرتی ہیں۔ نیکٹا (NACTA) کا سائبر مانیٹرنگ ونگ نیشنل ایکشن پلان کے تحت انٹرنیٹ پر موجود ایسے تمام مواد پر کڑی نظر رکھتا ہے۔ جدید ویب کرالرز اور مانیٹرنگ ٹولز کے ذریعے نفرت انگیز، انتہا پسندانہ اور دہشت گردی کی ترغیب دینے والی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا ہینڈلز کو بلاک کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کاؤنٹرنگ ٹیررسٹ فنانسنگ (CFT) یونٹس جدید مالیاتی سافٹ ویئرز کی مدد سے بینکنگ چینلز، موبائل والٹس اور حوالہ ہنڈی کے نیٹ ورکس کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ دہشت گردوں کو ملنے والی مالی امداد کے راستے بند کیے جا سکیں۔بائیومیٹرک انٹیگریشن اور فیلڈ آپریشنزفیلڈ آپریشنز اور ناکہ بندیوں کے دوران درست شناخت کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی فورسز اب نادرا (NADRA) سے منسلک بائیومیٹرک ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز کا استعمال کرتی ہیں۔ ماضی میں دہشت گرد جعلی شناختی کارڈز کا استعمال کر کے سیکیورٹی چیک پوسٹوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے تھے، لیکن اب موقع پر ہی انگلیوں کے نشانات (Fingerprints) کی تصدیق کر کے ان کی اصل شناخت سیکنڈوں میں سامنے آ جاتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) اور سرچ آپریشنز کے دوران معصوم شہریوں کو زحمت سے بچانے اور اصل مجرموں کو پکڑنے میں انتہائی موثر ثابت ہوئی ہے۔فضائی نگرانی اور ڈرون ٹیکنالوجیپاکستان کے سرحدی، پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں (جیسے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کچھ حصے) جہاں زمینی نگرانی مشکل ہوتی ہے، وہاں سیکیورٹی فورسز آئی ایس آر (ISR) ڈرونز کا استعمال کر رہی ہیں۔ یہ بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں جدید تھرمل امیجنگ اور نائٹ ویژن کیمروں سے لیس ہوتی ہیں، جو رات کے اندھیرے اور گھنے جنگلات میں بھی انسانی نقل و حرکت اور چھپے ہوئے ٹھکانوں کا سراغ لگا لیتی ہیں۔ زمینی فوج کسی بھی آپریشن کا آغاز کرنے سے پہلے ان ڈرونز کی لائیو فیڈز کی مدد سے حکمتِ عملی تیار کرتی ہے، جس سے سیکیورٹی اہلکاروں کا جانی نقصان کم سے کم ہو گیا ہے۔پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے نیکٹا اور سی ٹی ڈی کے پلیٹ فارمز پر جدید ٹیکنالوجی کا یہ مربوط استعمال روایتی جنگ کو ایک ذہین اور ڈیجیٹل دفاعی نظام میں بدل چکا ہے۔ اگرچہ چیلنجز اب بھی موجود ہیں، لیکن آرٹیفیشل انٹیلیجنس، بائیومیٹرکس، سائبر مانیٹرنگ اور فضائی نگرانی کے اس موثر امتزاج نے دہشت گردوں کے دائرہ کار کو انتہائی محدود کر دیا ہے اور پاکستان کو محفوظ بنانے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔