مستقبل کے معمار, معاشی استحکام, وزیراعظم یوتھ پروگرام ( اصغر علی مبارک;)
وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنانے ملک میں معاشی استحکام لانے کے لیے ایک کلیدی اقدام اور ترقی کا سفرہے وزیرِاعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق نوجوان ملک کا قیمتی ترین سرمایہ ہیں اور ان کو باصلاحیت اور معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لئے جوانوں کی ترقی پر مرتکز وسیع پیمانے پر مفصل پروگرام کی ضرورت تھی۔ جوانوں کی تعمیر و ترقی کے اس سفر کا آغاز حکومتی سطح پر یوتھ افیئرزونگ کی تشکیل سے ہوا جس کے ذریعے وزیرِاعظم جوان پروگرام کا اجراء کیا گیا تاکہ نوجوانوں کو معاشی اور سماجی طور پرتمام شعبوں میں مضبوط اور خودمختار بنایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے ذریعے نوجوانوں کو کاروبار اور زراعت کے فروغ کے لیے آسان شرائط پر قرضے دیے جا رہے ہیں تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں۔ وزیراعظم یوتھ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید پیشہ ورانہ مہارتیں، فنی تربیت اور سافٹ سکلز فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ملکی و غیر ملکی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کیا جا سکےبیرونِ ملک روزگار کے مواقع کے لیے نوجوانوں کو مختلف بین الاقوامی زبانوں کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور ملک میں معاشی استحکام لانے کے لیے ایک کلیدی اقدام ہے
عزم اور ترقی کا نیا سفرپاکستان کی نصف سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان نہ صرف ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں بلکہ معاشی ترقی کا وہ انجن بھی ہیں جو اگر درست سمت میں چلے تو ملک کو بحرانوں کے بھنور سے نکال سکتا ہے۔ اسی وژن کے تحت گذشتہ روز وزیراعظم آفس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وزیراعظم یوتھ پروگرام (PMYP) اور سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کے درمیان مفاہمت کی ایک اہم یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے۔ چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی زیرِ صدارت منعقدہ اس اجلاس کا بنیادی مقصد ملک بھر میں نوجوانوں کو بااختیار بنانا، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا ہے۔اس باوقار تقریب میں وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، سمیڈا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ نادیہ جہانگیر سیٹھ، جنرل مینیجر پالیسی اینڈ ایکو سسٹم گروپ شہریار طاہر اور جوائنٹ سیکریٹری وزیراعظم یوتھ پروگرام ڈاکٹر محمد علی ملک سمیت دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ یہ محض ایک دستخطی تقریب نہیں تھی، بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل کو نوجوانوں کی صلاحیتوں سے جوڑنے کا ایک جامع عہد تھا۔ادارہ جاتی مہارت کا شاندار ملاپوزیراعظم یوتھ پروگرام کا بنیادی فلسفہ نوجوانوں کو تعلیم، ہنرمندی، روزگار اور خود روزگاری کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے “وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم” جیسے بڑے مالیاتی منصوبے کامیابی سے چل رہے ہیں۔ دوسری طرف، سمیڈا (SMEDA) وزارتِ صنعت و پیداوار کے تحت ایک خود مختار اور نہایت فعال ادارہ ہے، جس کا خاصہ ہی ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے پالیسی سازی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا ہے۔ان دونوں اداروں کا ایک میز پر آنا اس بات کی نوید ہے کہ اب نوجوانوں کے پاس صرف قرض لینے کا ذریعہ ہی نہیں ہوگا، بلکہ اس سرمائے کو ایک کامیاب اور منافع بخش کاروبار میں کیسے بدلنا ہے، اس کے لیے سمیڈا کی مینیجریئل اور تکنیکی مہارت بھی دستیاب ہوگی۔ یہ شراکت داری ادارہ جاتی وسائل اور رسائی کو یکجا کرتے ہوئے ملک میں کاروباری ماحول (Entrepreneurial Ecosystem) کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرے گی۔جامع معاشی ترقی اور پسماندہ طبقات کی شمولیتاس ایم او یو (MoU) کی سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ اس میں “جامع ترقی” (Inclusive Growth) پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ پاکستان کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، لیکن وہاں وسائل اور درست رہنمائی کی شدید قلت ہے۔ اس نئے اشتراک کے ذریعے پسماندہ اور کم سہولیات رکھنے والے طبقات، بالخصوص خواتین کاروباری افراد (Women Entrepreneurs) کو معاشی دھارے میں لانے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام اور مالیاتی پیکیجز وضع کیے جائیں گے۔ جب ملک کی خواتین اور دیہی نوجوان علم، تربیت اور مالی شمولیت تک براہِ راست رسائی حاصل کریں گے، تو اس کے اثرات براہِ راست مقامی معیشت پر مثبت انداز میں مرتب ہوں گے۔روایتی ملازمتوں سے کاروباری ذہنیت کی طرف منتقلی موجودہ دور میں معاشی چیلنجز کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو صرف ‘ملازمت تلاش کرنے والا’ بنانے کے بجائے ‘ملازمت دینے والا’ بنائیں۔ سمیڈا اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کا یہ تال میل اسی سوچ کو عملی جامہ پہناتا ہے۔ جب ایک نوجوان کو جدید کاروباری تربیت, مارکیٹ تک رسائی اور آسان شرائط پر سرمایہ کاری یکجا ملے گی، تو وہ اپنا نیا اسٹارٹ اپ یا مائیکرو بزنس شروع کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ یہ قدم نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا بلکہ ملک میں مینوفیکچرنگ اور سروسز کے شعبے کو بھی نئی توانائی دے گا۔حکومتی وژن کا عکاسیہ سٹریٹجک شراکت داری حکومتِ پاکستان کے اس وسیع تر معاشی وژن کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد پائیدار ترقی، روزگار کی فراہمی اور نچلی سطح تک معاشی فوائد پہنچانا ہے۔ رانا مشہود احمد خان اور ہارون اختر خان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ قیادت نوجوانوں کی ترقی کو ملکی بقا اور خوشحالی کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے۔امید واثق ہے کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام اور سمیڈا کا یہ تاریخی اتحاد کاغذی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر فیلڈ میں کام کرے گا، جس سے نہ صرف مائیکرو، سمال اور میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان کا نوجوان معاشی طور پر مستحکم ہو کر عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے کے قابل ہو سکے گا۔وزیراعظم یوتھ پروگرام اور سمیڈا کے مابین ہونے والا یہ حالیہ معاشی اشتراک دراصل حکومتِ پاکستان کے اس وسیع تر معاشی وژن کا عکاس ہے جس کا محور ملکی بقا، خود انحصاری اور پائیدار معاشی ترقی ہے۔ دورِ حاضر کے کڑے معاشی چیلنجز اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ملک کو بیرونی امداد یا قرضوں کے سہارے چلانے کے بجائے اندرونی وسائل اور افرادی قوت کو متحرک کیا جائے۔ اس تناظر میں رانا مشہود احمد خان اور مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کا یہ اقدام محض ایک وقتی منصوبہ نہیں بلکہ ملکی معیشت کی جڑوں کو مضبوط کرنے کی ایک طویل مدتی سٹریٹجی کا حصہ ہے۔یہ شراکت داری مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں پر مبنی حکومتی سوچ کی عکاسی کرتی ہے:ملازمتیں دینے والے ذہن کی آبیاری: حکومت کا یہ واضح وژن ہے کہ تمام نوجوانوں کو روایتی نوکریوں کی لائن میں کھڑا کرنے کے بجائے انہیں خود روزگاری کی طرف لایا جائے۔ جب ایک ہنرمند نوجوان سمیڈا کی تربیت اور یوتھ پروگرام کے سرمائے سے اپنا کاروبار شروع کرے گا، تو وہ ‘ملازمت تلاش کرنے والا’ (Job Seeker) نہیں بلکہ مارکیٹ میں مزید 5 افراد کو ‘ملازمت فراہم کرنے والا’ (Job Creator) بن جائے گا۔ادارہ جاتی ہم آہنگی (Institutional Synergy): ماضی میں پاکستان کے اندر مختلف محکمے الگ الگ سمتوں میں کام کرتے تھے جس سے وسائل ضائع ہوتے تھے۔ موجودہ حکومتی وژن اس بات پر زور دیتا ہے کہ مالیاتی وسائل رکھنے والے ادارے (PMYP) اور تکنیکی مہارت رکھنے والے ادارے (SMEDA) ایک میز پر آئیں تاکہ نوجوانوں کو فنڈز کے ساتھ ساتھ مکمل کاروباری لائحہ عمل اور رہنمائی بھی یکجا میسر آ سکے۔خواتین اور کم سہولیات یافتہ طبقات کی شمولیت: پسماندہ اضلاع، دیہی علاقوں کے باصلاحیت نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کاروباری افراد (Women Entrepreneurs) کو ملکی معیشت کے مرکزی دھارے میں شامل کیے بغیر جامع ترقی کا خواب ادھورا ہے۔ حکومت کا وژن ہے کہ پائیدار ترقی کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچیں اور معاشی دھارے میں سب کو برابر کے مواقع ملیں۔امید واثق ہے کہ یہ سٹریٹجک شراکت داری کاغذی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر عملی طور پر گراؤنڈ پر اثرات دکھائے گی، جس سے نہ صرف مائیکرو، سمال اور میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان کا نوجوان معاشی طور پر خودمختار ہو کر ملکی معیشت کا سب سے مضبوط ستون بنے گا۔وزیراعظم یوتھ پروگرام اور سمیڈا کے مابین ہونے والا یہ حالیہ معاشی اشتراک دراصل حکومتِ پاکستان کے اس وسیع تر معاشی وژن کا عکاس ہے جس کا محور ملکی بقا، خود انحصاری اور پائیدار معاشی ترقی ہے۔ دورِ حاضر کے کڑے معاشی چیلنجز اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ملک کو بیرونی امداد یا قرضوں کے سہارے چلانے کے بجائے اندرونی وسائل اور افرادی قوت کو متحرک کیا جائے۔ اس تناظر میں رانا مشہود احمد خان اور مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کا یہ اقدام محض ایک وقتی منصوبہ نہیں بلکہ ملکی معیشت کی جڑوں کو مضبوط کرنے کی ایک طویل مدتی سٹریٹجی کا حصہ ہے۔یہ شراکت داری مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں پر مبنی حکومتی سوچ کی عکاسی کرتی ہے:ملازمتیں دینے والے ذہن کی آبیاری: حکومت کا یہ واضح وژن ہے کہ تمام نوجوانوں کو روایتی نوکریوں کی لائن میں کھڑا کرنے کے بجائے انہیں خود روزگاری کی طرف لایا جائے۔ جب ایک ہنرمند نوجوان سمیڈا کی تربیت اور یوتھ پروگرام کے سرمائے سے اپنا کاروبار شروع کرے گا، تو وہ ‘ملازمت تلاش کرنے والا’ (Job Seeker) نہیں بلکہ مارکیٹ میں مزید 5 افراد کو ‘ملازمت فراہم کرنے والا’ (Job Creator) بن جائے گا۔ادارہ جاتی ہم آہنگی (Institutional Synergy): ماضی میں پاکستان کے اندر مختلف محکمے الگ الگ سمتوں میں کام کرتے تھے جس سے وسائل ضائع ہوتے تھے۔ موجودہ حکومتی وژن اس بات پر زور دیتا ہے کہ مالیاتی وسائل رکھنے والے ادارے (PMYP) اور تکنیکی مہارت رکھنے والے ادارے (SMEDA) ایک میز پر آئیں تاکہ نوجوانوں کو فنڈز کے ساتھ ساتھ مکمل کاروباری لائحہ عمل اور رہنمائی بھی یکجا میسر آ سکے۔خواتین اور کم سہولیات یافتہ طبقات کی شمولیت: پسماندہ اضلاع، دیہی علاقوں کے باصلاحیت نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کاروباری افراد (Women Entrepreneurs) کو ملکی معیشت کے مرکزی دھارے میں شامل کیے بغیر جامع ترقی کا خواب ادھورا ہے۔ حکومت کا وژن ہے کہ پائیدار ترقی کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچیں اور معاشی دھارے میں سب کو برابر کے مواقع ملیں۔امید واثق ہے کہ یہ سٹریٹجک شراکت داری کاغذی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر عملی طور پر گراؤنڈ پر اثرات دکھائے گی، جس سے نہ صرف مائیکرو، سمال اور میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان کا نوجوان معاشی طور پر خودمختار ہو کر ملکی معیشت کا سب سے مضبوط ستون بنے گا۔پاکستان کی حقیقی معاشی ترقی اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک ترقی کے ثمرات ملک کے دور دراز، پسماندہ اور محروم طبقات تک نہ پہنچیں۔ ماضی میں معاشی پالیسیاں اکثر بڑے شہروں اور مراعات یافتہ طبقوں تک محدود رہیں، جس کی وجہ سے دیہی علاقوں اور چھوٹے اضلاع میں غربت اور احساسِ محرومی میں اضافہ ہوا۔ تاہم، وزیراعظم یوتھ پروگرام اور سمیڈا (SMEDA) کے مابین حالیہ شراکت داری اس روایتی ڈھانچے کو توڑنے اور ایک “جامع معاشی ماڈل” (Inclusive Economic Model) متعارف کروانے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔اس مشترکہ وژن کے تحت معاشی ترقی اور پسماندہ طبقات کی شمولیت کو مندرجہ ذیل اہم نکات کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا:دیہی ٹیلنٹ کی معاشی دھارے میں شمولیت: پاکستان کے دیہی علاقوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دور افتادہ اضلاع (مثلاً بلوچستان اور جنوبی پنجاب) کے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، لیکن وہ سرمایہ اور تکنیکی رہنمائی نہ ہونے کے باعث پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس نئے اشتراک کے ذریعے سمیڈا ان علاقوں میں موبائل ٹریننگ یونٹس اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز قائم کرے گا، تاکہ وہاں کے نوجوانوں کو مقامی سطح پر ہی جدید کاروباری گُر سکھائے جا سکیں اور انہیں وزیراعظم یوتھ بزنس لون اسکیم کے تحت آسان قرضے فراہم کیے جائیں۔خواتین کاروباری افراد (Women Entrepreneurs) کی سرپرستی: کسی بھی ملک کی 50 فیصد آبادی کو معاشی عمل سے باہر رکھ کر ترقی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔ اس پالیسی کے تحت پسماندہ طبقات کی خواتین، بالخصوص جو گھر بیٹھے دستکاری، لائیوسٹاک یا چھوٹے پیمانے پر مائیکرو انٹرپرائزز چلا رہی ہیں، انہیں مارکیٹ تک براہِ راست رسائی (Market Access) فراہم کی جائے گی۔ سمیڈا ان خواتین کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس کی تربیت دے گا تاکہ وہ اپنے گھروں سے ہی قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا مال بیچ سکیں اور معاشی طور پر خودمختار ہو سکیں۔مالیاتی شمولیت (Financial Inclusion): پسماندہ طبقات کے لیے سب سے بڑا چیلنج بینکنگ نظام تک رسائی اور کاغذی کارروائیوں کی پیچیدگی ہوتی ہے۔ اس تاریخی معاہدے کا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ مالیاتی شمولیت کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے۔ آسان ترین شرائط پر بلا سود اور کم شرحِ سود پر قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنا کر مائیکرو اور اسمال بزنسز (MSMEs) کو وہ آکسیجن فراہم کی جائے گی جس سے دیہی معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومنے لگے گا۔جب نچلے طبقے کا ایک چھوٹا دکاندار، ایک ہنرمند خاتون، یا ایک دیہی کاشتکار معاشی طور پر مستحکم ہوگا، تو ملک میں غربت کی لکیر نیچے جائے گی اور حقیقی معاشی استحکام جنم لے گا۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام اور سمیڈا کا یہ باہمی تعاون اسی پائیدار اور مساوی معاشی ترقی کا ضامن ہے۔اس مشترکہ وژن کے تحت معاشی ترقی اور پسماندہ طبقات کی شمولیت کو مندرجہ ذیل اہم نکات کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا:دیہی ٹیلنٹ کی معاشی دھارے میں شمولیت: پاکستان کے دیہی علاقوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دور افتادہ اضلاع (مثلاً بلوچستان اور جنوبی پنجاب) کے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، لیکن وہ سرمایہ اور تکنیکی رہنمائی نہ ہونے کے باعث پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس نئے اشتراک کے ذریعے سمیڈا ان علاقوں میں موبائل ٹریننگ یونٹس اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز قائم کرے گا، تاکہ وہاں کے نوجوانوں کو مقامی سطح پر ہی جدید کاروباری گُر سکھائے جا سکیں اور انہیں وزیراعظم یوتھ بزنس لون اسکیم کے تحت آسان قرضے فراہم کیے جائیں۔خواتین کاروباری افراد (Women Entrepreneurs) کی سرپرستی: کسی بھی ملک کی 50 فیصد آبادی کو معاشی عمل سے باہر رکھ کر ترقی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔ اس پالیسی کے تحت پسماندہ طبقات کی خواتین، بالخصوص جو گھر بیٹھے دستکاری، لائیوسٹاک یا چھوٹے پیمانے پر مائیکرو انٹرپرائزز چلا رہی ہیں، انہیں مارکیٹ تک براہِ راست رسائی (Market Access) فراہم کی جائے گی۔ سمیڈا ان خواتین کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس کی تربیت دے گا تاکہ وہ اپنے گھروں سے ہی قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا مال بیچ سکیں اور معاشی طور پر خودمختار ہو سکیں۔مالیاتی شمولیت (Financial Inclusion): پسماندہ طبقات کے لیے سب سے بڑا چیلنج بینکنگ نظام تک رسائی اور کاغذی کارروائیوں کی پیچیدگی ہوتی ہے۔ اس تاریخی معاہدے کا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ مالیاتی شمولیت کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے۔ آسان ترین شرائط پر بلا سود اور کم شرحِ سود پر قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنا کر مائیکرو اور اسمال بزنسز (MSMEs) کو وہ آکسیجن فراہم کی جائے گی جس سے دیہی معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومنے لگے گا۔جب نچلے طبقے کا ایک چھوٹا دکاندار، ایک ہنرمند خاتون، یا ایک دیہی کاشتکار معاشی طور پر مستحکم ہوگا، تو ملک میں غربت کی لکیر نیچے جائے گی اور حقیقی معاشی استحکام جنم لے گا۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام اور سمیڈا کا یہ باہمی تعاون اسی پائیدار اور مساوی معاشی ترقی کا ضامن ہے۔ سماجی کارکن اور کاروباری شخصیت زوہیب خان نیازی کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کی معاشی خودمختاری اور مالی شمولیت کے لیے فوکل پرسن مقرر کر دیا گیا ہے۔ زوہیب خان نیازی کی نامزدگی پاکستان کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، مالی شمولیت کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے معاشی و مالی مواقع پیدا کرنے کے عزم کا اعتراف ہے۔اپنے نئے کردار میں زوہیب خان نیازی ایسی سرگرمیوں اور اقدامات میں معاونت کریں گے جن کا مقصد نوجوانوں کے لیے معاشی مواقع میں اضافہ، مالیاتی شعور اور شمولیت کا فروغ اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے، تاکہ پاکستان کی نوجوان نسل ملکی ترقی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے زوہیب خان نیازی نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کی جانب سے اعتماد کے اظہار پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان کے نوجوان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا ایک مضبوط، خود انحصار اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے معاشی مواقع، مالی شمولیت اور بااختیار بنانے کے فروغ کے لیے غیر جانب دارانہ اور مثبت انداز میں کام کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔مختلف حلقوں نے زوہیب خان نیازی کی نامزدگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ وہ نوجوانوں کی ترقی کے لیے اپنے تجربے اور دیرینہ وابستگی کو بروئے کار لاتے ہوئے اس اہم ذمہ داری میں مؤثر کردار ادا کریں گے





