سپاہ سالار کا کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی, سفارتی حمایت جاری رکھنےکاعزم ……کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک…… …..بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم برداشت کی حدوں سے تجاوز کر چکے ہیں۔ بچے، بوڑھے، جوان، مرد وخواتین غرض کوئی بھی بھارتی جارحیت سے بچ نہیں سکا۔ انسانی حقوق کی پامالی کی شاید ہی ایسی کوئی اور نظیر کہیں ملتی ہو
سپاہ سالار پاک فوج کا کہنا ہے کہ ”ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ پاکستان کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے ان کی تاریخی جدوجہد اور حَقِ خود ارادیت کے لیے اُن کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا۔عالمی برادری کو جان لینا چاہیےکہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے بغیر، علاقائی امن ہمیشہ مبہم رہےگا۔ یاد رکھنا چاہئے کہ کشمیری عوام اپنے جن بنیادی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، ان حقوق کو سلب کرنے کی ابتدا تقسیم ہند کے موقع پر کشمیری عوام کی رائے کو اہمیت نہ دینے کے باعث پیدا ہوئی تھی۔ ایک غالب مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر اپنی تقدیر پاکستان کے ساتھ وابستہ کرنا چاہتی تھی لیکن کشمیری عوام کی رائے کونظرانداز کرتے ہوئے بھارت نے اس پر غاصبانہ قبضہ کر لیا ۔ لگ بھگ بہتر برس گزرنے کے باوجود بھی بھارت کے ظلم کا ہر ہتھکنڈا کشمیریوں کے دلوں سے پاکستان کی محبت نہیں نکال سکا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اس محبت میں مزید اضافہ ہوا ہے، اللہ تعالیٰ قائد اعظم محمد علی جناح رحمة اللہ علیہ کی قبر پر اپنی کروڑہا رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرمائے جنہوں نے جس دو قومی نظریئے کے تحت مملکت خداد اسلامی جمہوریہ پاکستان قائم کی تھی آج تک وہ نظریہ زندہ وتابندہ ہے اور آج کشمیری عوام اسی نظریئے کی جنگ لڑ رہے ہیں کشمیری عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ان کامستقبل انتہاپسند ہندوجنونی ریاست بھارت کے ساتھ قطعاً محفوظ نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی نئی نسل کی نظریہ الحاق پاکستان کے ساتھ وابستگی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ آج بھارت نے کشمیر میں ایسے حالات پیدا کر دئیے ہیں کہ بھارت نواز کشمیری سیاستدان بھی اب ڈنکے کی چوٹ پر یہ بات تسلیم کر رہے ہیں کہ ان کی جانب سے پاکستان کے بجائے بھارت کا ساتھ دینا ایک سنگین غلطی تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں دو ماہ سے زائد عرصے کے کرفیو میں بھی جوں ہی کشمیری نوجوانوں کو سٹرکوں پر نکلنے کا موقع ملتا ہے وہ سب سے پہلے پاکستانی پرچم لہرا کر اور ”ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے” کے نعرے لگا کر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں، ان کے جنازوں اور قبروں پر بھی پاکستانی پرچم ہوتے ہیں۔بھارت میں وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے مسلم دشمن نظریئے کی علمبردار نریندر مودی کی حکومت نے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو برقرار رکھنے کی اپنے ہی آئین کی دفعات ختم کر کے کشمیریوں پر ظلم کا آخری وار بھی کر دیا ہے۔ بھارت اس اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریتی آبادی کے تناسب کو بدلنے کے لئے یہاں بھارت سے ہندو لاکر آباد کررہا ہے۔ اس سلسلے میں فوج کے روپ میں آر ایس ایس کے دہشت گردوں کو بھی کشمیر بھیجا گیا ہے لیکن ان سنگین ترین حالات میں بھی بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔ ہر نئے دن کے ساتھ کشمیریوں میں آزادی کا جذبہ تیز سے تیز تر ہو رہا ہے اور بھارت کو سوائے ذلت کے کشمیر میں کچھ بھی نہیں حاصل نہیں ہو رہا
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیرکا پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 147ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دشمن عوام اور مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی سازشوں میں سرگرم ہے۔ ریاست کا محور پاکستان کے عوام ہیں، ہماری پہلی اور اہم ذمہ داری ریاست سے وفاداری اور پاکستان کی مسلح افواج کے آئینی کردار سے وابستگی ہے۔ کوئی فرض مادر وطن کی حفاظت سے زیادہ اہم نہیں ہے۔‘آرمی چیف کا اپنی تقریر کے دوران کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان اپنے مضبوط قوتِ ارادی ، وعدہِ پروردگار اور اُسی کے تابعِ فرمان ہیں”آرمی چیف نے قرانِ مجید کی سورہِ بقرہ کی آیہِ کریمہ کے ایک حصے کی تلاوت کی، جسکا ترجمہ ہے کہ :
” کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ اللہ کی مرضی سے چھوٹی قوت نے بڑی طاقت کو شکست دی”
دہشتگردی کے خلاف جنگ، افغانستان میں امن اور مسئلہ کشمیر پر آرمی چیف جنرل کا کہنا تھا کہ ’امن کے لیے ہماری کوششوں کو کسی صورت کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم اپنے وطن کے دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔‘ جنرل عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ ’دشمن ریاستی اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنا چاہتا ہے، دہشت گردی کی جنگ میں عوام اور ریاست کا کلیدی کردار ہے۔ ’افواج پاکستان دشمن کی تعداد یا وسائل سے مرعوب نہیں ہوتی، ظاہری اور چھپے دشمن کو پہچاننا ہو گا اور اس ضمن میں حقیقت اور ابہام میں فرق رکھنا ہو گا۔‘
سپاہ سالارکا کہنا تھا ’دشمن عوام اور مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی سازشوں میں سرگرم ہے، عوام اور پاکستان فوج کے باہمی رشتے کو قائم و دائم رکھا جائے گا۔‘ افغانستان میں امن کے حوالے سے بات کرتے ہوئےسپاہ سالار کا مزید کہنا تھا کہ ’افغانستان میں استحکام ہماری سلامتی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔‘جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا دشمن ریاستی اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنا چاہتا ہے، پاکستان میں دہشتگردی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، دہشتگردی کی جنگ میں عوام اور ریاست کا کلیدی کردار ہے، افواج پاکستان کے غیور اور سربکف سپاہی دشمن کی تعداد یا وسائل سے مرعوب نہیں ہوتے، ظاہری اور چھپے دشمن کو پہچاننا ہو گا اور اس ضمن میں حقیقت اور ابہام میں فرق رکھنا ہو گا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ روز وزیراعظم شہبازشریف نے بھی پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان رسالپور میں پاسنگ آؤٹ تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھارت کےخلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا ، وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ تمام ملکوں سے دو طرفہ مفادات کی بنیاد پر مثبت تعلقات چاہتے ہیں لیکن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ناممکن ہے عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے اگست 2019 کے بعد کی جانی والی تبدیلیوں کا نوٹس لے۔ خطے میں امن کے لیے ہمسائیہ ملکوں کے ساتھ مل کرکوشش جاری رکھیں گے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قیام امن کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ تمام ملکوں سے دو طرفہ مفادات کی بنیاد پر مثبت تعلقات چاہتے ہیں، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ناممکن ہے، یہ یاد رہے کہ 6 اپریل 2023 کوآرمی چیف جنرل عاصم منیر نےایل او سی پر اگلے مورچوں کا دورہ کیا، آرمی چیف کو ایل اوسی کی صورتحال اورفارمیشنزکی آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی گئی،آرمی چیف جنرل عاصم منیر کہنا تھا کہ پاک فوج ملکی خود مختاری، علاقائی سالمیت کے دفاع کیلیے پرعزم ہے،پاک فوج کشمیریوں کے منصفانہ کاز کی حمایت کیلیے پرعزم ہے ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔ پاک فوج ملکی خود مختاری، علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے پرعزم ہے،پاک فوج کشمیریوں کے منصفانہ کاز کی حمایت کیلیے پرعزم ہے ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور صدر سلامتی کونسل نے دورۂ پاکستان کے دوران اپنے بیانات میں کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔ ہیومن رائٹس کونسل کی یکے بعد دیگرے دو رپورٹس بھی آچکی ہیں، ہاؤس آف کامنز سمیت بین الاقوامی پارلیمان میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو بھارت کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا نوٹس لے کر تحقیقات کرانی چاہیے۔ حکومت پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی رکوانے کے لئے بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطے بڑھانے چاہیں اور عالمی ضمیر کو جگانا چاہیے ۔ واضح رہے کہ 5اگست2019ء مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں ”سیاہ دن” کی حیثیت رکھتا ہے جب مودی سرکار نے آئین کے آرٹیکل 370اور 35اے کے تحت مقبوضہ کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی۔ بھارت نے یہ قدم مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لئے اٹھایا ہے۔ پاکستان نے دنیا کے ہر فورم پر بھارت کے ظالمانہ اقدام کے خلاف آواز بلند کی لیکن عالمی برادری بھارت کے ساتھ اپنے مالی مفادات کی وجہ سے” خاموش تماشائی” کا کردار ادا کر رہی ہے۔پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 147ویں پاسنگ آوٹ پریڈ ہوئی جس کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر مہمان خصوصی تھے
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس میں عراق، قطر، سری لنکا، فلسطین اور بحرین کے کیڈٹس بھی شامل تھے۔ آرمی چیف نے پریڈ کا جائزہ لیا اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس کو ایوارڈز دیے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اعزازی تلوار اکیڈمی کے سینئر انڈر آفیسر عبداللہ بن طارق کو دی گئی، بٹالین کے سینئر انڈر آفیسر علی عامر کو صدر کا گولڈ میڈل دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف کین 13ویں مجاہد کورس کے کورس انڈر آفیسر محمد عدنان کو دی گئی، کمانڈنٹ کین 66 ویں انٹیگریٹڈ کورس کے انڈر آفیسر عادل علی کو دی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق21ویں لیڈی کیڈٹ کورس کی سارجنٹ میجر فاطمہ خالد کو بھی کمانڈنٹ کین دی گئی، چھٹے بیسک ملٹری ٹریننگ کورس کے انڈر آفیسر سلمان خان کو کمانڈنٹ کین سے بھی نوازا گیا۔
آرمی چیف نے پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس اور ان کے والدین کو مبارکباد دی






















